Friday, October 2, 2026
Home Blog صحابیاتِ طبیباتؓ

صحابیاتِ طبیباتؓ

by admin
صحابیاتِ طبیباتؓ عہدِ نبوی ﷺ میں خواتین کی طبی خدمات

عہدِ نبوی ﷺ میں خواتین کی طبی خدمات

صحابیاتِ طبیباتؓ

عہدِ نبوی ﷺ میں خواتین کی طبی خدمات

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی ﷺ

سعد ورچوئل سکلز پاکستان

حرفِ اوّل

تمام تعریفیں اس ذاتِ بابرکت کے لیے ہیں جس نے انسان کو علم و حکمت سے نوازا اور بصیرت کی راہ دکھائی۔ وحی کا پہلا سبق ہی علم کا تھا: ﴿خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ﴾، پھر حکم ہوا کہ اپنے رب کے نام سے پڑھ، جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔

انسانی ساخت کچھ ایسی ہے کہ اگر بے اعتدالی نہ کی جائے تو جسم اپنی ضرورتیں خود پوری کرتا ہے اور ٹوٹ پھوٹ کی مرمت بھی خودکار طریقے سے جاری رکھتا ہے۔ امراض کے اسباب بے شمار بیان کیے گئے ہیں، مگر سب سے بڑا سبب غذا و خوراک میں بے اعتدالی ہے۔ بعض امراض عمر کے ساتھ آتے ہیں، بعض حادثاتی ہوتے ہیں اور بعض موسمی اثرات سے جنم لیتے ہیں۔

عہدِ نبوی ﷺ میں صحابیاتؓ نے جن طبی شعبوں میں خدمات انجام دیں، ان کی ایک مختصر جھلک اس تحریر میں پیش کی جا رہی ہے۔ اس موضوع پر مکمل اور مرتب ذخیرہ دستیاب نہیں؛ البتہ جو معلومات ملتی ہیں ان کے مطابق ان کی خدمات جراحت، مرہم پٹی، دایہ گری، امراضِ چشم کے علاج اور غذا و خوراک کی مہارت جیسے میدانوں میں تھیں۔ یہ وہ امور ہیں جو صدیوں پہلے بھی اہم تھے اور آج بھی اسی طرح اہم ہیں۔

زخم سے بہتے خون کو روکنا آج بھی ہر طبی ہنگامی امداد کا بنیادی جزو ہے۔ غزوۂ احد میں سیدہ فاطمہؓ بنتِ رسول ﷺ نے چٹائی کا ایک ٹکڑا جلا کر اس کی راکھ زخم میں بھری تو خون بہنا بند ہو گیا۔

اُس دور کی طبی ضرورتیں دوسرے معاشروں کی طرح مسلمانوں میں بھی گھریلو اور فطری طریقوں سے پوری کی جاتی تھیں۔ ہمارا اپنا تعلق دیہات سے ہے؛ ہم نے طبی ضرورتیں گھریلو ٹوٹکوں سے پوری ہوتے دیکھی ہیں اور اپنی طبی زندگی میں بے شمار ٹوٹکوں اور مفردات سے علاج کیا ہے۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ طب لمبے چوڑے نسخوں اور فلسفیانہ موشگافیوں کا نام نہیں، بلکہ ایک فطری چیز ہے۔ انسان کتنی ہی تنہا زندگی گزارے، اپنی صحت کے بارے میں بنیادی معلومات ضرور رکھتا ہے۔

اصل مسئلہ ضابطوں اور قاعدوں کو رٹنے کا نہیں، انسانی ضرورت کی تکمیل کا ہے۔ بھوکے کو اس سے غرض نہیں کہ کھانا غریب کی کٹیا سے ملا یا کسی فائیو اسٹار ہوٹل سے؛ نوالہ حلق سے اترتے ہی یہ امتیاز ختم ہو جاتا ہے۔

ہماری مشکل اس وقت بڑھی جب ہم نے اپنی صحت کے فیصلے مکمل طور پر دوسروں کے سپرد کر دیے۔ آج کا طبی نظام بڑی حد تک تجارتی مفادات کے تابع ہے، اور دوا ساز صنعت کے لیے مریض ایک مستقل منڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ فطری غذاؤں سے ہمیں بدگمان کیا گیا اور مصنوعی و کیمیائی اشیا پر اندھا اعتماد بڑھتا گیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہر دعوے کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھیں، خواہ وہ کسی بھی سمت سے آئے۔

یہ کتاب اسی فطری طرزِ زندگی کی نشان دہی کرتی ہے جس میں صحت کی حفاظت پہلے اور علاج بعد میں تھا۔ میدانِ جنگ میں زخمیوں کی مرہم پٹی کا انتظام ہوتا، انھیں خیموں میں منتقل کیا جاتا، اور دستیاب جڑی بوٹیوں اور آلات سے طبی ضرورتیں پوری کی جاتیں۔ معالج مخلص تھے اور غذائیں خالص، اس لیے صحت جلد بحال ہو جاتی تھی۔

افسوس یہ ہے کہ روایات اور کتبِ تواریخ میں طبی اجزا کا ذکر بہت کم ملتا ہے، اور جو ملتا ہے وہ بھی زیادہ تر مفردات کی صورت میں۔ حالانکہ مرکبات کا استعمال بھی ناگزیر رہا ہوگا، مگر انھیں غیر اہم سمجھ کر قلم بند نہیں کیا گیا۔ یہ کمی صرف طب میں نہیں؛ معیشت، معاشرت، تمدن اور ثقافت جیسے کئی میدانوں میں معلومات کی تشنگی موجود ہے۔ اس کا ایک بڑا سبب یہ رہا کہ جن علوم و فنون کو اہلِ فن کی ضرورت تھی، ان پر اکثر وہ حضرات قلم اٹھاتے رہے جو مخلص تو تھے مگر اس فن کے ماہر نہ تھے۔ علوم و فنون کو بھی جب محض اعتقادی پیمانوں پر تولا جانے لگا تو تحقیق کی راہ تنگ ہوتی گئی۔

طب ایک ایسا میدان ہے جس کا دائرہ کسی بھی مشترک انسانی شعبے سے وسیع ہے۔ جس طرح لباس اور خوراک کو کافر و مسلمان کے خانوں میں بانٹا نہیں جا سکتا، اسی طرح طب بھی کسی ایک گروہ کی میراث نہیں۔ ادیان کی عمر کا کچھ نہ کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے، مگر طب کی تاریخ ایک نامعلوم قدیم دور سے چلی آ رہی ہے؛ کوئی معاشرہ ایسا نہیں جو طب سے بے نیاز رہا ہو۔ میری رائے میں اہلِ طب کو اس باب میں اپنی تحقیق کا آغاز کرنا چاہیے اور کسی کے فتوے یا غلط فہمی کے اندیشے سے اپنی جدوجہد میں کمی نہیں کرنی چاہیے۔

دنیا کا اصول ہے کہ جو جس فن کا ماہر ہو، اسی کی بات اس میں معتبر ہوتی ہے۔ زمین کی تاثیر اور فصل کے رموز میں ایک کاشتکار کی رائے، جس نے عمر بھر زمین سے رشتہ رکھا، کسی عالم یا مفتی کی رائے سے زیادہ وزن رکھتی ہے؛ اور کھڈی اور پارچہ بافی کے اسرار ایک جولاہا جتنے جانتا ہے، وہ عالمِ دین کے دائرۂ کار سے باہر کی بات ہے۔

قرآنِ کریم کا دعویٰ ہے کہ اس نے نصیحت کے لیے اسے آسان کر دیا ہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے اس کی فہم کو مسلکی تراجم و تفاسیر کا محتاج بنا دیا ہے۔ مجھے تفاسیر کی علمی قدر سے انکار نہیں، لیکن ان میں ہر مفسر کا اپنا ذہنی رجحان اور زمانہ بھی بولتا ہے، اس لیے انھیں آخری لفظ سمجھ لینا درست نہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ قرآن اور حدیث کو ہم نے اپنے اپنے زاویے سے دیکھا اور اپنے اپنے مقاصد کے سانچے میں ڈھال لیا۔

ایک پہلو اور بھی توجہ طلب ہے۔ ہم اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ کسی غیر مسلم محقق نے داڑھی، وضو، یا کلونجی پر تحقیق کر کے اس کے فوائد بیان کیے۔ سوال یہ ہے کہ یہ تحقیق ہم مسلمانوں نے خود کیوں نہ کی؟ خطیب منبر پر ﴿وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ﴾ پڑھتا اور «لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ» سناتا ہے، مگر طب کے میدان میں نئی تحقیق کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ علومِ نبوت کی نگہبانی کا مطلب محض یہ بتانا نہیں کہ کسی انگریز محقق نے اسلام کی حقانیت کی تائید کی۔

قرآن فہمی ہر طبقے کے لیے ایک الگ جہت رکھتی ہے: فقیہ کے لیے الگ، باغبان کے لیے زراعت اور کھیتی کی آیات، ماہرِ حیوانات کے لیے مویشیوں کا ذکر، اور معدنیات، فلکیات، موسمیات، نباتات، غذائیات، علمِ صحت، زچہ و بچہ، اور بچوں، خواتین اور بڑوں کے امراض سے متعلق اہلِ فن کے لیے اپنے اپنے مباحث۔ تَتَفَكَّرُونَ، يَعْقِلُونَ، يَعْلَمُونَ، تَدَبَّرُونَ اور يَفْقَهُونَ جیسے الفاظ محض قبر و حشر کے لیے نہیں آئے۔ یہ پورا ذخیرہ اگر کسی ایک حلقے تک محدود رہ جائے تو باقی اہلِ علم اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔

اسی لیے میں اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ سمجھتا ہوں کہ جن کتابوں پر مذہبی یا حکومتی سطح پر پابندیاں لگیں، انھیں بھی کھلی آنکھ سے پڑھنا چاہیے۔ ضروری نہیں کہ ہر بات قبول کی جائے، مگر ان میں علم کی کئی شاخیں اور سوالات ملتے ہیں جن کا جواب دینا لازم ہوتا ہے، اور مطالعہ ذہنی وسعت بخشتا ہے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ عام لوگ دین یا تحقیق کے بارے میں کسی کی رائے سے کم ہی سروکار رکھتے ہیں، مگر جب مسلکی مباحث چھڑتے ہیں تو اختلاف رکھنے والے کو اکثر شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کتاب کا موضوع اور ادارے کی ذمہ داری

زیرِ نظر کتاب «صحابیاتِ طبیباتؓ: عہدِ نبوی ﷺ میں خواتین کی طبی خدمات» اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ خواتین کے وہ کارنامے، جو یا تو نظر انداز ہو گئے یا کسی سبب سے پسِ پردہ چلے گئے، اس کتاب کا موضوع ہیں۔ میرا تعلق طب و حکمت سے ہے اور ہمارے ادارے کا نام بھی «سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی ﷺ» ہے؛ اس مناسبت سے ایسے موضوعات پر لکھنا اور تحقیق کرنا ادارے کی ذمہ داری بھی ہے۔

صحابیاتؓ کی طبی خدمات: چند جھلکیاں

سیرت اور حدیث کی کتب میں صحابیاتؓ کی طبی خدمات کے جو شواہد ملتے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں (ان کی تخریج و تحقیق اگلے ابواب میں تفصیل سے پیش کی جائے گی):

سیدہ فاطمہؓ: غزوۂ احد میں چٹائی جلا کر اس کی راکھ سے زخم کا خون بند کیا۔ یہ واقعہ صحیحین میں مذکور ہے۔

سیدہ رُفَیدہ اسلمیہؓ: مدینہ منورہ میں ان کا خیمہ زخمیوں کے علاج کے لیے مشہور تھا۔ سیرت کی کتب کے مطابق غزوۂ خندق میں سیدنا سعد بن معاذؓ کو علاج کے لیے انھی کے خیمے میں رکھا گیا۔

سیدہ رُبَیِّع بنتِ معوذؓ اور سیدہ ام عطیہ انصاریہؓ: غزوات میں شریک ہو کر پانی پلاتیں، زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں، بیماروں اور زخمیوں کی دیکھ بھال کرتیں اور انھیں مدینہ منتقل کرنے میں مدد دیتیں۔ یہ بیانات صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں آئے ہیں۔

سیدہ شفاء بنتِ عبداللہؓ: رقیہ کے ذریعے جلدی پھنسیوں (نملہ) کا علاج کرتی تھیں، اور ام المومنین سیدہ حفصہؓ کو بھی یہ سکھایا۔ یہ روایت سنن ابی داود میں ہے۔

ام المومنین سیدہ عائشہؓ: ان کے بھانجے عروہ بن زبیرؓ سے منقول ہے کہ انھوں نے طب میں ان سے بڑھ کر کسی کو جاننے والا نہیں پایا؛ وہ آنے والے وفود سے سنے ہوئے نسخے یاد رکھتی تھیں۔

یہ ایک ابتدائی فہرست ہے، مکمل نہیں۔ ہر روایت کی اسنادی حیثیت کی جانچ تخریج کے ساتھ لازم ہے۔

طبِ نبوی پر قدیم مستقل تصانیف

طبِ نبوی کے نام سے چند کتب بہت معروف ہیں، مثلاً ابن قیم اور ذہبی وغیرہ کی تصانیف۔ ان میں زیادہ تر روایتی انداز اختیار کیا گیا ہے کہ فلاں چیز کے یہ فوائد ہیں اور فلاں مرض کی یہ دوا ہے۔ ابن قیم نے جالینوس اور بقراط جیسے اطبا کی تحقیقات پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے نظریات نقل کیے اور آیات و احادیث کو پرانے طریقے ہی سے شاملِ بحث رکھا۔ ان میں اہم مصنّفین یہ ہیں:

ابو بکر ابن السنیؒ (م 364ھ): «الطب النبوی» — طب سے متعلق مرفوع احادیث کا مجموعہ، طبی تشریحات نسبتاً کم۔ طبِ نبوی کے قدیم ترین مستقل مجموعوں میں شمار ہوتی ہے۔

ابو نعیم اصفہانیؒ (م 430ھ): «الطب النبوی» — احادیث، آثار اور علاجی روایات کا ذخیرہ۔ بعض روایات کی اسنادی حیثیت مختلف ہے، اس لیے تخریج ضروری ہے۔

ابو العباس المستغفریؒ (م 432ھ): «الطب النبوی» — نبی کریم ﷺ سے منقول علاج، ادویہ اور طبی ہدایات۔

حافظ ذہبیؒ (م 748ھ): «الطب النبوی» — تین حصوں میں منقسم: طب کے قواعد، ادویہ و اغذیہ، اور امراض کا علاج۔ موضوعات میں طاعون، استسقا، زخم، عرق النسا، سر درد و شقیقہ، حجامہ، رقیہ اور حنا وغیرہ شامل ہیں۔

حافظ ابن قیم الجوزیہؒ (م 751ھ): «الطب النبوی» — دراصل «زاد المعاد فی ہدی خیر العباد» کا طبی حصہ ہے جو الگ سے بھی شائع ہوا۔ جسمانی و روحانی امراض، غذا و صحت، شہد، کلونجی، حجامہ، مسواک، بخار، طاعون، زہر، مرگی، رقیہ، زخم اور خون بندی اور حفظانِ صحت جیسے موضوعات اس میں آتے ہیں۔ اہلِ سنت میں یہ سب سے زیادہ معروف ہے۔

حافظ سخاویؒ (م 902ھ): طب سے متعلق احادیث اور ان کی تشریح، تخریج کے پہلو کے ساتھ۔

امام سیوطیؒ (م 911ھ): «المنہج السوی والمنہل الروی فی الطب النبوی» — نبی ﷺ کی طبی ہدایات کے ساتھ قدیم اطبا کے اقوال بھی، اور ترتیب وہی: قواعدِ طب، ادویہ و اغذیہ، علاجِ امراض۔

اہلِ تشیع کا طبی ذخیرہ

اہلِ تشیع کے ہاں بھی طب کو دینی رنگ دیا گیا ہے اور «طبِ ائمہ» کے عنوان سے کتب ملتی ہیں۔ «بحار الانوار» میں اس باب کا بہت سا مواد جمع ہے، اور بہت سی باتیں ائمہ اور اہلِ علم سے منسوب کی گئی ہیں۔ یہ ذخیرہ اس لائق ہے کہ اس پر غور و تدبر کیا جائے اور اسے علمی انداز میں امت کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس ضمن میں اہم کتب یہ ہیں:

طبّ الائمہ — ابنِ بسطام

طبّ الرضا / الرسالۃ الذہبیۃ — امام علی بن موسیٰ الرضاؑ سے منسوب

بحار الانوار — علامہ مجلسی (خصوصاً جلد 59 اور 62)

الکافی — شیخ کلینی (کتاب الاطعمۃ والاشربۃ اور متعلقہ ابواب)

وسائل الشیعہ — حرّ عاملی (کتاب الاطعمۃ والاشربۃ اور ابوابِ علاج)

مستدرک الوسائل — محدث نوری (طبی روایات کے اضافی مصادر)

طبّ الامام الصادقؑ — محمد کاظم قزوینی؛ یہ جدید موضوعاتی مجموعہ ہے، اصل قدیم ماخذ نہیں

علمی احتیاط کا تقاضا ہے کہ ان کتب کی ہر روایت کو خود بخود صحیح یا امام کی قطعی تعلیم نہ سمجھا جائے۔ خصوصاً «طبّ الائمہ»، «الرسالۃ الذہبیۃ» اور «فقہ الرضا» کی نسبت اور اسانید پر خود اہلِ تشیع کے محققین نے بھی کلام کیا ہے۔ جب سے ہم نے تحقیق کی جگہ عقیدت کو اوڑھنا بچھونا بنایا، علوم و فنون ہماری دنیا سے رخصت ہوتے گئے۔ یہ موضوع اتنا وسیع ہے کہ اس کے لیے عمرِ نوح درکار ہے۔

علومِ قرآن و حدیث کی نئی تدوین

آج ضرورت ہے کہ علومِ قرآن و حدیث کو نئے سرے سے مرتب و مدوّن کیا جائے۔ جب ان عنوانات پر کتابیں لکھی گئیں تو ان میں وہی علوم شامل ہوئے جو مصنف کے ذہن میں آئے یا اس وقت تک وجود میں آ چکے تھے۔ آج ان میں سے بہت سے علوم عملی افادیت کھو چکے ہیں اور بہت سے ایسے فنون ہیں جن کا نام بھی اب لوگ نہیں جانتے؛ ان کی جگہ تازہ علوم اور نئی ضرورتوں کے فنون نے لے لی ہے۔ اعتقادیات کو چھیڑے بغیر بھی ہم ان علوم میں تحقیق کر سکتے ہیں جن کا تعلق زندگی کے دیگر شعبوں سے ہے۔

جو شعبے عام طور پر مذہبی حلقوں کے دائرۂ کار میں نہیں آتے، ان میں آگے بڑھ کر بصیرت پیدا کی جا سکتی ہے: ﴿عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي﴾۔ قرآن و حدیث میں بیان کردہ علوم کا احاطہ تو دشوار ہے، لیکن اپنی ضرورت کے مطابق ان سے استفادہ ممکن ہے۔

ان علوم و فنون کی ایک چھوٹی سی جھلک یہاں پیش کی جاتی ہے۔ یہ حتمی فہرست نہیں بلکہ ہمارے مبلغِ علم کے مطابق ہے: باغبانی، صحت و زندگی، عائلی قوانین، زچہ و بچہ، رضاعت، امراض، جراحت، امراض سے پہلے حفاظتِ صحت کا انتظام اور امراض کے بعد بحالیِ صحت کا نظام۔

اگر طب کو اس معنی میں لیا جائے کہ وہ انسانی ضرورتوں کی تکمیل کا نام ہے تو طبِ نبوی ﷺ کے موضوع پر موجود مواد اور اصول اتنے جامع ہیں کہ جو شخص فطری انداز میں زندگی بسر کرے گا، اس کی طبی ضرورتوں کے لیے یہ کافی ہو سکتے ہیں۔

انسانی صحت اور طبِ نبوی ﷺ

انسان کی تخلیق اور جسم کی ساخت وہی ہے جو روزِ اوّل سے متعین ہے اور اس کی بنیادی ضرورتیں بھی وہی ہیں جو صدیوں پہلے تھیں۔ صحت کا دارومدار غذا پر ہے؛ دوا بامرِ مجبوری اختیار کی جاتی ہے۔ جس نے غذا کا راز پا لیا، اس نے طب کو اپنے قابو میں کر لیا۔ قرآن نے یہ اصول واضح انداز میں بیان کر دیا ہے: ﴿كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾ (الاعراف: 31)۔ کھانا پینا صحت کی بنیادی ضرورت ہے، مگر ساتھ ہی اسراف سے منع کیا گیا ہے۔

اسراف کا مطلب ہے ضرورت سے زیادہ استعمال، یعنی جائز چیزوں میں بھی حدِ اعتدال سے بڑھ جانا۔ یہیں سے بیماری کی ابتدا ہوتی ہے۔ ایک شخص کی خوراک دو روٹیاں ہے؛ اگر کوئی لذیذ پکوان سامنے آ جائے اور وہ تین چار کھا لے تو یہ اس کے جسم کی ضرورت نہیں بلکہ حرص ہے۔ جو شخص فطری قوانین توڑنے کی کوشش کرتا ہے، فطرت اسے توڑ کر رکھ دیتی ہے۔

اس آیت کو درجِ ذیل حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو طب کا فلسفہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔

پیٹ کے تین حصے

حضرت مقدام بن معدی کربؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«آدمی نے اپنے پیٹ سے برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ ابنِ آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھیں۔ اگر زیادہ کھانا ناگزیر ہو تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے رکھے۔»

یہ حدیث سنن ترمذی (حدیث: 2380) اور سنن ابن ماجہ (حدیث: 3349) میں آئی ہے، اور امام ترمذیؒ نے اسے «حسن صحیح» کہا ہے۔

پہلا حصہ (ایک تہائی): کھانا، ضرورت کے مطابق خوراک۔

دوسرا حصہ (ایک تہائی): پانی اور مشروبات، پیاس اور ہاضمے کے لیے۔

تیسرا حصہ (ایک تہائی): سانس، یعنی پیٹ کو پوری طرح بھرنے سے بچنا تاکہ سانس لینا آسان رہے اور صحت متاثر نہ ہو۔

اس تقسیم کا مقصد اعتدال، صحت اور عبادت میں چستی ہے۔ پیٹ بھر کر کھانا سستی، کمزوری اور بعض بیماریوں کا سبب بنتا ہے، جب کہ ہلکی غذا انسان کو چاق و چوبند رکھتی ہے۔

اسے گاڑی کے ایندھن کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ جتنا ایندھن انجن کے چلنے کے لیے ضروری ہے، اس سے معمولی زیادتی بھی کارکردگی میں خلل ڈال دیتی ہے۔ موٹر سائیکل کے کاربوریٹر میں پٹرول ضرورت سے زیادہ چلا جائے تو وہ اسٹارٹ نہیں ہوتی؛ جو پٹرول اس کی جان ہے، اس کی زیادتی وبالِ جان بن جاتی ہے۔ انسانی غذا کا بھی یہی حال ہے۔ نظامِ ہضم اور نظامِ اخراج اپنے اصولوں پر کام کرتے ہیں؛ انھیں ہماری لذت سے کوئی سروکار نہیں، انھیں صرف اپنی ضرورت درکار ہے، خواہ وہ سادہ غذا سے پوری ہو یا مرغن غذا سے۔

ایک مشہور حکایت

کھانے میں اعتدال اور صحت کے تعلق پر ایک مشہور حکایت بیان کی جاتی ہے۔ اس کے مطابق مدینہ منورہ میں ایک غیر مسلم (بعض روایات میں عجم کے عیسائی بادشاہ کی طرف سے بھیجا گیا) طبیب آیا۔ اس نے مطب کھولا، مگر کئی دن گزر گئے اور کوئی مریض نہ آیا۔ اس نے خیال کیا کہ شاید لوگ اس کے عیسائی ہونے کی وجہ سے دور رہتے ہیں، چنانچہ اس نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں شکایت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بات نفرت کی نہیں؛ اصل صورت یہ ہے کہ یہ لوگ بیمار ہی کم ہوتے ہیں، کیونکہ جب تک بھوک نہ لگے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے اور جب بھوک ابھی باقی ہو تو دسترخوان سے اٹھ جاتے ہیں۔

علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ یہ بات واضح رہے: یہ واقعہ بعض کتبِ سیرت و اخلاق میں بغیر سند کے نقل ہوا ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ ثابت شدہ حدیث نہیں، بلکہ تعلیمی و اخلاقی نوعیت کی حکایت ہے۔ اس سے اصولِ اعتدال کی تائید ضرور ہوتی ہے، لیکن اسے حدیث کے طور پر نقل نہیں کرنا چاہیے۔

Related Articles

Leave a Comment

Contact Now

Get New Updates to Take Care Your Pet

Discover the art of creating a joyful and nurturing environment for your beloved pet.

Will be used in accordance with our  Privacy Policy

Most read

@2025 – All Right Reserved. Designed and Developed by Dilshad Bhai