
کعبہ کی جانب دنیا کے چند ممالک کا رخ،ایک ایمانی و سائنسی جائزہ
حکیم المیوات قاری محمد یونس شہاد میو
سعد ورچوئل پاکستان اور سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
کے زیرِ اہتمام تیار کردہ یہ معلوماتی نقشہ عالمِ اسلام اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک عظیم اور خوبصورت تحفہ ہے۔ یہ نقشہ اس بنیادی اور ایمان افروز حقیقت کی وضاحت کرتا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں اور ممالک میں رہنے والے مسلمان جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، تو کعبہ شریف کی نسبت سے ان کا رخ کس سمت میں ہوتا ہے۔ اس معلوماتی کاوش کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے حکیم المیوات قاری محمد یونس شہاد میو کے نام اور فکر کے تناظر میں ایک تفصیلی اور جامع مضمون درج ذیل ہے:
کعبہ کی جانب دنیا کے چند ممالک کا رخ: ایک ایمانی و سائنسی جائزہ
تمہید اور پس منظر
اللہ تبارک و تعالیٰ نے روئے زمین پر مسلمانوں کی عبادت کے لیے ایک ایسا مرکز مقرر فرمایا ہے جو نہ صرف ظاہری اتحاد کی علامت ہے بلکہ باطنی و روحانی وابستگی کا سرچشمہ بھی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “پس اپنا رخ مسجدِ حرام (کعبہ) کی طرف پھیر لو۔” اسی الٰہی حکم کے تحت دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان روزانہ پانچ مرتبہ ایک ہی مرکز، یعنی بیت اللہ کی طرف منہ کر کے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ زیرِ نظر نقشہ اسی عالمگیر سجدہ ریزی کی جغرافیائی اور کائناتی ترتیب کو انتہائی خوبصورت اور سادہ انداز میں واضح کرتا ہے۔
فکرِ میوات کے عظیم داعی اور مصلح، حکیم المیوات قاری محمد یونس شہاد میو کی تعلیمات بھی ہمیشہ مسلمانوں کو اسی مرکزیت اور دینِ حنیف کی بنیادی سمجھ بوجھ سے جوڑنے پر مرکوز رہی ہیں۔ یہ نقشہ دراصل اسی فکری سلسلے کی ایک کڑی ہے جو عام مسلمان کو اس بات کا شعور دیتا ہے کہ وہ کائنات کے کس کونے میں بیٹھ کر اپنے رب کے حضور کس رخ پر سجدہ کر رہا ہے۔
کعبہ کی مرکزیت اور چہار اطراف (کومپاس) کا نظام
نقشے کے وسط میں خانہ کعبہ کی متبرک تصویر بنائی گئی ہے، جس کے گرد ایک قطب نما (Compass) دکھایا گیا ہے۔ اس میں چاروں بنیادی سمتوں کو واضح کیا گیا ہے:
شمال (North): کعبہ کا بالائی رخ
جنوب (South): کعبہ کا زیریں رخ
مشرق (East): کعبہ کا دائیں جانب کا رخ، جہاں حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم واقع ہیں
مغرب (West): کعبہ کا بائیں جانب کا رخ، جہاں حطیم اور رکنِ یمانی موجود ہیں
یہ دائرہ اور سمتیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ کعبہ زمین کا وہ مرکزِ ثقل ہے جس کے چاروں طرف پوری دنیا پھیلی ہوئی ہے اور ہر سمت سے تیروں کے نشانات کعبہ کی طرف آ کر ختم ہوتے ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کائنات کا ہر راستہ بالاآخر اسی مرکزِ انوار پر آ کر رکتا ہے۔
جغرافیائی تقسیم اور ممالک کا رخ
نقشے میں دنیا کے اہم ممالک کو ان کی جغرافیائی پوزیشن کے لحاظ سے کعبہ کے گرد ترتیب دیا گیا ہے، جو درج ذیل گروہوں میں منقسم ہیں:
1۔ مشرق کی جانب سے رخ کرنے والے ممالک (شرقی ممالک):
کعبہ کے بالکل مشرق (East) کی طرف واقع ممالک جب نماز پڑھتے ہیں، تو ان کا رخ مغرب کی طرف ہوتا ہے۔ ان ممالک میں ہمارا پیارا وطن پاکستان، چائنا، بھارت، بنگلہ دیش، ملدیپ، ملیشیا، سنگاپور، سری لنکا، افغانستان، یو اے ای (متحدہ عرب امارات) اور دور دراز واقع آسٹریلیا و نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ یہ تمام ممالک کعبہ کے مشرقی افق پر واقع ہیں۔
2۔ شمال کی جانب سے رخ کرنے والے ممالک (شمالی ممالک):
کعبہ کے شمال (North) میں واقع ممالک جب سجدہ کرتے ہیں، تو ان کا رخ جنوب کی طرف ہوتا ہے۔ اس فہرست میں یورپی اور بحیرہ روم کے خطے کے اہم ممالک شامل ہیں، جیسے برطانیہ، فرانس، اٹلی، سیریا (شام)، ترکی، جارجیا، فلسطین، اسپین، تیونسیا، عراق، آذربائیجان، مصر، الجیریا، موروکو (مراکش)، لیبیا، کویت، ایران، ازبکستان اور قزاقستان۔ یہ نقشہ ہمیں بتاتا ہے کہ یورپ اور وسطی ایشیا کے مسلمان کس طرح شمال سے جنوب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
3۔ مغرب کی جانب سے رخ کرنے والے ممالک (مغربی ممالک):
کعبہ کے مغرب (West) میں واقع ممالک کا رخ نماز کے دوران مشرق کی طرف ہوتا ہے۔ ان میں زیادہ تر افریقہ اور بحرِ اوقیانوس کے پار کے ممالک شامل ہیں، جیسے میکسیکو، مالی اور سینیگل۔
4۔ جنوب کی جانب سے رخ کرنے والے ممالک (جنوبی ممالک):
کعبہ کے جنوب (South) میں واقع ممالک جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، تو ان کا رخ شمال کی طرف ہوتا ہے۔ ان میں زیادہ تر افریقی اور لاطینی امریکی ممالک شامل ہیں، جیسے یمن، کینیا، ایتھوپیا، موزمبق، یوگنڈا (نقشے میں دو مقامات پر سمت کی مناسبت سے درج ہے)، جنوبی افریقہ، سوڈان، کانگو، ارجنٹینا، نائیجیریا اور برازیل۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شہاد میو کی فکر اور پیغامِ اتحاد
حکیم المیوات قاری محمد یونس شہاد میو کی زندگی ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، دینی تعلیمات کی ترویج اور مسلمانوں کو اپنی اصل سے جوڑنے کے لیے وقف رہی۔ یہ نقشہ ان کی اسی فکر کا عکاس ہے کیونکہ:
امت کا اتحاد: یہ نقشہ ظاہر کرتا ہے کہ رنگ، نسل، زبان اور جغرافیائی سرحدوں کے اختلاف کے باوجود، جب عبادت کا وقت آتا ہے تو دنیا کے تمام کونوں سے دل اور چہرے ایک ہی مرکز کی طرف جھک جاتے ہیں۔ یہ اتحادِ امت کی سب سے بڑی عملی مثال ہے۔
فکری و سائنسی شعور: قاری محمد یونس شہاد میو ہمیشہ علم اور شعور پر زور دیتے تھے۔ یہ نقشہ عام مسلمانوں کو اندھی تقلید کے بجائے سائنسی اور جغرافیائی حقیقت سے روشناس کراتا ہے کہ وہ کائنات کے نقشے پر کہاں موجود ہیں اور ان کا قبلہ کس طرف ہے۔
حاصلِ کلام
ہماری جانب سے پیش کردہ یہ گرافک اور معلوماتی خاکہ محض ایک نقشہ نہیں، بلکہ ایمان کو تازگی بخشنے والا ایک ضابطہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں—چاہے پاکستان کے میدان ہوں، ترکی کے پہاڑ ہوں، افریقہ کے جنگلات ہوں یا آسٹریلیا کے ساحل—ہمارا خدا ایک ہے، ہمارا رسول ایک ہے اور ہمارا قبلہ ایک ہے۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کے مشن کو زندہ رکھتے ہوئے، ہمیں ایسے علمی اور دعوتی کاموں کو عام کرنا چاہیے تاکہ نئی نسل دین کی عالمگیریت کو سمجھ سکے اور اس پر فخر کر سکے۔