بال بڑھانے کا لاجواب نسخہ
زمانہ طالب علمی میں سفر میں تھا۔ ایک اسٹیشن پر بغرض تفریح اترا، مسافر خانہ میں دیکھا کہ چند عورتیں اوران کے ہمراہ ایک صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، میں نے دیکھا کہ ان عورتوں کے بال سینچک سے اور بہت سیاہ نہایت خوشنما معلوم ہوتے ہیں دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ دکن کے رہنے والے ہیں پھر بالوں کے متعلق دریافت کیا تو فرمانے لگے،
کہ عموماً ہمارے
یہاں عورتیں سیکا کائی سے بال دھوتی ہیں اور اوپر سے خفیف سا نارایل کا تیل سرمیں لگاتی ہیں،
(سیکا کائی کی آنکھ میں پڑنی نہ چھٹنک چاہیے پرنی چاہیۓ بہت تیز جھڑکتی ہے نقصان رساں مطلق نہیں ہیں اس سے اطمینان رکھیں)
اس سے بالوں میں مشل ریشم چمک پیدا ہوجاتی ہے اور بال بہت بڑھتے ہیں
ایک خاص بات اس میں یہ بھی ہے کہ اگر بدن میں پرخوبصورت غسل کیا جائے تو تمام جسم کا میل کچیل کاٹ دیتی ہے۔
اس کو ایک بار پیس کر بھگودیتے ہیں اور پھر بالوں کو اس سے دھوتے ہیں۔
میں نے سیکا کائی کا استعمال ہزاروں پر کرایا تو مبالغہ آپ سمجھیں گے خودتھوڑے روز تجربہ کر کے دیکھئے،
یا گھروں میں اپنی عورتوں کو یہ ہدایت فرمادیجئے کہ ہفتے میں دوبارہ اسی سے سر کو صاف کریں

اور پھر دیکھیں کہ کس طرح ان کے بال بڑھنے لگتے ہیں
*سکاکائی*
سکاکائی ایک مشہور جڑی بوٹی اور صفائی کرنے والا قدرتی پھل ہے جسے بالوں اور جسم کی صفائی کے لیے صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے سکاکائی بالوں کو لمبا گھنا چمکدار اور مضبوط بناتی ہے اس سے خشکی ختم ہوتی ہے سر کی جلد کو صاف کرتی ہے اور بال گرنے کا مسئلہ کم کرتی ہے سکاکائی بالوں کے روایتی شیمپو کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے یہ بالوں کو چکنا رکھتی ہے لیکن چپچپاہٹ پیدا نہیں کرتی سکاکائی جسمانی صفائی میں بھی استعمال ہوتی ہے اور جلد کو نرم کرتی ہے سکاکائی ہاضمے کے لیے بھی مفید ہے معدے میں موجود گیس اور قبض کے مسائل میں فائدہ دیتی ہے
سکاکائی زیادہ تر گرم علاقوں میں پائی جاتی ہے خاص طور پر جنوبی ایشیا میں سکاکائی کی کاشت ہندوستان پاکستان نیپال بنگلہ دیش سری لنکا اور جنوبی چین میں ہوتی ہے یہ گرم اور نیم گرم علاقوں کا پودا ہے اور عام طور پر موسم بہار اور گرمیوں میں پھل پکنے لگتے ہیں
سکاکائی کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے بعض علاقوں میں اسے سکاکئی کہا جاتا ہے کہیں اسے شکاکائی کہا جاتا ہے ہندی میں اسے شی کا کائی بھی کہا جاتا ہے بعض جگہ اسے ریٹھہ کی قریبی قسم سمجھا جاتا ہے
سکاکائی کا درخت بیل نما یا جھاڑی کی شکل کا ہوتا ہے بعض اقسام درخت کی طرح بھی بڑھتی ہیں اس کی اونچائی عموما دس سے پندرہ فٹ تک پہنچ سکتی ہے اس کی شاخیں کانٹوں والی ہوتی ہیں اور اس پر پھلیاں لگتی ہیں انہی پھلیوں کو خشک کر کے استعمال کیا جاتا ہے ان پھلیوں میں قدرتی جھاگ بنانے والے عناصر ہوتے ہیں جو بغیر کسی کیمیکل کے بالوں اور جلد کی صفائی کرتے ہیں
سکاکائی کی تاثیر معتدل مائل بہ سردی ہوتی ہے اس لیے یہ بالوں کی گرمی اور خارش کے مسائل میں مددگار ثابت ہوتی ہے یہ قدرتی طور پر بالوں کو مضبوط بناتی ہے اور نئے بال اگنے میں بھی مدد دیتی ہے