
جراثیم کا نظریہ اور اس کی تاریخ: طبی دنیا میں انقلابی تبدیلیاں
بیماریوں کا جراثیمی نظریہ: مفہوم اور تاریخی ارتقا
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی
بیماریوں کا جراثیمی نظریہ (Germ Theory of Disease) علمِ طب کی تاریخ کا ایک ایسا انقلابی سنگِ میل ہے جس نے متعدی امراض کے تدارک، تشخیصی اصولوں اور علاجی فلسفے کو جڑ سے بدل کر رکھ دیا 1。 اس نظریے کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ مخصوص وبائی اور متعدی بیماریاں ایسے مخصوص طفیلی خردبینی جانداروں (parasitic microorganisms) یعنی جراثیم (بیکٹیریا، وائرس، فنگس اور پروٹوزوا) کے جسم پر حملہ آور ہونے اور ان کی کثرتِ نسل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں جو بیرونی ماحول سے میزبان کے جسم میں داخل ہوتے ہیں 1。
اس سائنسی سچائی کی قبولیت سے قبل، طبی دنیا صدیوں تک فرسودہ مفروضوں کے زیرِ اثر رہی 1。 قدیم یونان سے لے کر انیسویں صدی کے وسط تک یورپی اور امریکی طبی نظاموں پر “مائسما نظریہ” (Miasma Theory) حاوی تھا، جس کا دعویٰ تھا کہ ہیضہ، طاعون اور ملیریا جیسی ہلاکت خیز وبائیں گلی سڑی نامیاتی اشیاء اور گندگی سے خارج ہونے والی زہریلی ہوا یا بدبودار تعفن (miasmas) کے ذریعے جنم لیتی ہیں 1。 اس کے متوازی، ایک اور قدیم مفروضہ “خود بخود پیدائش کا نظریہ” (Theory of Spontaneous Generation) تھا، جس کے تحت یہ مانا جاتا تھا کہ جراثیم یا کیڑے مکوڑے بے جان نامیاتی مادے سے خود بخود تخلیق پا جاتے ہیں 1۔ اگرچہ پندرہویں اور سولہویں صدی عیسوی میں مائیکرو آرگنائزمز کے بیماری پیدا کرنے کے نظریات پیش کیے گئے تھے، لیکن اس وقت تک مائیکرو اسکوپ کی تکنیکی پسماندگی کی وجہ سے ان مفروضوں کو سائنسی پذیرائی حاصل نہ ہو سکی 4。 انیسویں صدی کے اوائل میں جدید اور بہتر خوردبینوں کی ایجاد نے بالآخر جراثیمی نظریے کو ایک توانا حریف کے طور پر ابھارا اور مائسما کے متبادل کے طور پر اس کے ثبوت فراہم کرنا شروع کیے 4。
اس عبوری دور میں فرانسیسی کیمیا دان لوئی پاسچر (Louis Pasteur) اور جرمن معالج رابرٹ کوخ (Robert Koch) کی تجرباتی کاوشوں نے اس سائنسی جنگ کا فیصلہ جراثیمی نظریے کے حق میں کیا 1。 لوئی پاسچر نے خمیر سازی (fermentation) کے دوران مائع کے کھٹے ہونے اور سڑنے کا مطالعہ کرتے ہوئے ثابت کیا کہ یہ عمل بیرونی ہوا میں معلق خردبینی جانداروں کے داخلے کی وجہ سے ہوتا ہے، نہ کہ کسی خود بخود پیدائش کا نتیجہ 1۔ اپنے دعوے کی تصدیق کے لیے انہوں نے صراحی دار مڑی ہوئی گردن والے فلاسک (swan-necked flask) تیار کیے 1۔ انہوں نے مائع کو ابال کر فلاسک کو ہوا کے لیے کھلا رکھا، لیکن گردن کے مڑے ہوئے حصے نے ہوا میں موجود جراثیم کو اندر جانے سے روک دیا، جس کے نتیجے میں مائع سالہا سال تک جراثیم سے پاک رہا 1۔ اس تجربے نے خود بخود پیدائش کے نظریے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا 2۔ پاسچر نے اس کے بعد جنوبی فرانس میں ریشم کے کیڑوں کو ہلاک کرنے والی ایک مہلک وبا پر تحقیق کی اور یہ ثابت کیا کہ ایک خاص طفیلی جراثیم ریشم کے انڈوں کو متاثر کر رہا ہے 1۔ بیمار انڈوں کو تلف کر کے فرانس کی ریشم کی صنعت کو بچایا گیا، جس سے پاسچر کا یہ یقین پختہ ہو گیا کہ ماحولیاتی جراثیم ہی امراض کا اصل سبب ہیں 1۔ اسی سائنسی بنیاد پر انہوں نے مائعات کو ایک خاص حد تک گرم کر کے ان میں موجود نقصان دہ جراثیم کو مارنے کا طریقہ ایجاد کیا، جسے اجنبی مائکروبز کے خاتمے کے لیے اج کل “پاسچرائزیشن” (pasteurization) کہا جاتا ہے 3۔
رابرٹ کوخ کے تجربات اور حیاتیاتی ثبوت

رابرٹ کوخ نے پاسچر کی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ سائنسی گتھی سلجھائی کہ آیا مخصوص جراثیم واقعی مخصوص امراض کے ذمہ دار ہیں 1۔ کوخ نے انتھراکس (Bacillus anthracis) کے جراثیم کو الگ کر کے ان کا لائف سائیکل دریافت کیا اور ثابت کیا کہ یہی بیکٹیریا انتھراکس کی وجہ ہے 1۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہیضہ اور تپِ دق (Tuberculosis) کے امراض آور جراثیم بھی کامیابی سے دریافت کیے 2۔ تپِ دق، جسے اس دور میں “کنزمپشن” (Consumption) کہا جاتا تھا، امریکہ اور یورپ میں ہر سات میں سے ایک انسان کی جان لے لیتا تھا، اور اس کا واحد علاج مریض کو سینیٹوریمز (sanatoriums) میں الگ تھلگ رکھ کر گرمائش اور اچھی غذا فراہم کرنا تھا 4۔ کوخ نے اس بیماری کے جراثیم کو الگ کر کے پیتھالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا 2۔ کسی بھی پیتھوجن اور بیماری کے مابین حتمی سبب اور اثر کا رشتہ قائم کرنے کے لیے کوخ نے چار سخت قوانین وضع کیے جنہیں سائنسی دنیا میں “کوخ کے مفروضات” (Koch’s Postulates) کے نام سے جانا جاتا ہے 2۔
| نمبر | کوخ کا مفروضہ (Postulate) | حیاتیاتی تشخیصی اہمیت |
| مفروضہ 1 | مخصوص جراثیم کو ہمیشہ بیمار جاندار میں موجود ہونا چاہیے اور تندرست افراد میں اس کا کوئی وجود نہیں ہونا چاہیے 2۔ | بیماری اور مخصوص جراثیم کے باہمی تعلق کی پہلی لازمی کڑی قائم کرتا ہے 2۔ |
| مفروضہ 2 | اس جراثیم کو بیمار جسم سے الگ کر کے لیبارٹری میں کامیابی سے خالص کلچر (pure culture) میں اگایا جا سکے 2۔ | جراثیم کے ماحولیاتی مکسچر سے بچ کر انفرادی بائیولوجیکل خصوصیات کے مطالعے کا موقع دیتا ہے 2۔ |
| مفروضہ 3 | لیبارٹری میں اگائے گئے جراثیم کو جب کسی صحت مند اور حساس تجرباتی میزبان میں منتقل کیا جائے، تو اس میں بعینہ وہی بیماری پیدا ہونی چاہیے 2۔ | یہ تجربہ جراثیم کے براہِ راست بیماری پیدا کرنے کی پیتھوجینک صلاحیت کا عملی ثبوت فراہم کرتا ہے 2۔ |
| مفروضہ 4 | اس نئے بیمار کیے گئے تجرباتی میزبان سے دوبارہ اسی جراثیم کو کامیابی سے الگ کیا جا سکے اور اس کی شناخت اصل جراثیم سے مطابقت رکھتی ہو 2۔ | اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ تجرباتی میزبان میں بیماری کسی دوسرے عامل کی بجائے صرف اسی متعارف کردہ جراثیم کی وجہ سے ہوئی تھی 2۔ |
وبائیات کا آغاز اور سینیٹیشن کا سماجی انقلاب
جراثیمی نظریے کے ارتقاء نے وبائیات (epidemiology) کو جنم دیا، جس کا مقصد انسانی آبادیوں میں بیماریوں کے ماخذ اور ان کے پھیلاؤ کا سراغ لگانا ہے 1۔ اس علم کا پہلا تاریخی اور کلاسک مظاہرہ معالج جان سنو (John Snow) نے سال 1854ء میں لندن کے علاقے سوہو (Soho) میں ہیضے کی ہولناک وبا کے دوران پیش کیا 1۔ جان سنو، جو 1813ء میں یارک کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور 14 سال کی عمر ہی سے میڈیکل اپرنٹس کے طور پر کوئلے کی کانوں میں ہیضے کی وبا کا مشاہدہ کر چکے تھے، مائسما کے فضائی نظریے کے شدید مخالف تھے 5۔ 1854ء میں جب سوہو میں صرف 10 دنوں کے اندر ہیضے سے 600 ہلاکتیں ہوئیں، تو سنو نے مرنے والوں کے گھروں کا جغرافیائی نقشہ (spot map) تیار کیا 5۔ ان کے نقشے نے واضح کیا کہ ہیضے کے کیسز براڈ اسٹریٹ (Broad Street) پر موجود ایک عوامی پانی کے پمپ کے گرد گنجان شکل میں موجود تھے 6۔
جان سنو کی اس ماحولیاتی و جغرافیائی تحقیق نے پبلک ہیلتھ کے میدان میں نئی تاریخ رقم کی جب انہوں نے یہ مشاہدہ کیا کہ قریبی بیئر بنانے والی فیکٹری کے ملازمین اور غریب خانے کے لوگ جو اپنا الگ کنواں رکھتے تھے، وہ اس بیماری سے بالکل محفوظ رہے 5۔ انہوں نے مقامی کونسل کو قائل کر کے اس پمپ کا ہینڈل نکلوا دیا، جس کے بعد یہ وبا فوراً ختم ہو گئی 5۔ بعد میں کی جانے والی کھدائی سے معلوم ہوا کہ ایک بیمار بچے کا لیکیج زدہ ڈائپر قریبی سیس پول (cesspool) کے ذریعے براڈ اسٹریٹ پمپ کے زیرِ زمین کنویں کے پانی میں شامل ہو کر ہیضے کے جراثیم (Vibrio cholerae) پھیلا رہا تھا 6۔ سنو نے مزید برآں لندن کے ان گھروں کا تقابلی مطالعہ کیا جو دو مختلف واٹر کمپنیوں سے پانی حاصل کر رہے تھے؛ ایک کمپنی دریا کے گندے اور سیوریج زدہ حصے سے پانی سپلائی کرتی تھی جبکہ دوسری صاف اور بالائی پانی فراہم کرتی تھی 5۔ گندے پانی کے صارفین میں ہیضے کی شرح صاف پانی پینے والوں سے کہیں زیادہ تھی 5۔ جان سنو کے ان شواہد نے سینیٹیشن موومنٹ (sanitation movement) کو جلا بخشی، جس کے تحت شہروں میں سیوریج سسٹمز اور واٹر فلٹریشن کے جدید نیٹ ورکس قائم کیے گئے 5۔ آج کے جدید دور میں جان سنو کی اسی میراث کو آگے بڑھاتے ہوئے بائیوفائر فلم اری جی آئی پینل (BIOFIRE FILMARRAY GI Panel) جیسی جدید تشخیصی ٹیکنالوجی محض ایک گھنٹے کے اندر پاخانے کے نمونے سے ہیضے کے جراثیم اور 21 دیگر پیتھوجنز کی شناخت کر سکتی ہے 6۔ ہیضے کا خطرہ آج بھی قدرتی آفات اور جنگی حالات میں برقرار ہے، جیسا کہ 2010ء میں ہیتی میں آنے والے ہولناک زلزلے اور 2017ء میں یمن کے جنگی حالات کے بعد ہیضے کے وبائی حملے اس سائنسی حقیقت کے گواہ ہیں 5۔ جان سنو کی زندگی یہ اخلاقی سبق سکھاتی ہے کہ ڈاکٹروں کا فرض صرف مریض کے اندرونی نظام کا علاج کرنا ہی نہیں بلکہ اس کے بیرونی ماحولیاتی پیتھو فزیولوجی (external pathophysiology) پر نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر پبلک ہیلتھ کے لیے آواز اٹھانا ہے 7۔
اسی دور میں فلورنس نائٹ اینگیل (Florence Nightingale) نے برطانوی فوجی ہسپتالوں میں صفائی کے اعلیٰ معیار قائم کر کے ہسپتال سینیٹیشن کے میدان میں انقلاب برپا کیا 8۔ جنگِ کریمیا کے دوران جب فروری 1855ء میں فوجی ہسپتالوں میں گندگی اور گنجان پن کی وجہ سے شرحِ اموات تک پہنچ گئی، تو نائٹ اینگیل نے ریاضیاتی اعداد و شمار کا سہارا لیا 8۔ انہوں نے “کاکس کامب ڈایاگرام” (coxcomb/polar-area diagram) ایجاد کیا جس نے برطانوی پارلیمنٹ کو تصویری طور پر سمجھایا کہ محاذِ جنگ کے زخموں سے کہیں زیادہ فوجی ہسپتال کی گندگی اور انفیکشنز کے باعث ہلاک ہو رہے ہیں 9۔ ان کی سینیٹیشن اصلاحات نے ہسپتالوں میں اموات کی شرح کو یکسر گرا دیا 9۔ اس کے متوازی، انگریز سرجن جوزف لسٹر (Joseph Lister) نے جراحی کے شعبے کو نئی سمت دی 2۔ انہوں نے پاسچر کے جراثیمی نظریے سے متاثر ہو کر کاربولک ایسڈ کا استعمال شروع کیا اور جراحی کے اوزاروں، ہاتھوں اور زخموں کو صاف کرنے کی اینٹی سیپٹک تکنیک متعارف کرائی 2۔ تاہم، طبی دنیا کے قدامت پسندانہ رویوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جراثیمی نظریے کی سائنسی تصدیق کے باوجود، سرجنز 1870ء کی دہائی کے اواخر تک آپریشن تھیٹر میں خون آلود کوٹ پہننا اپنی پیشہ ورانہ مہارت کی نشانی سمجھتے تھے اور 1890ء کی دہائی تک بغیر ماسک اور سر ڈھانپے سرجری کرتے رہے 2۔ یہ سائنسی تاریخ کا ایک اہم سبق ہے کہ نئے تصورات کی قبولیت میں صرف سائنسی ثبوت ہی نہیں بلکہ سماجی اور فکری تبدیلیاں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں 2۔
حفاظتی ٹیکوں (ویکسینز) کی تاریخ اور سائنسی سنگ میل
حفاظتی ٹیکوں کی بنیاد زمانہ قدیم ہی میں رکھ دی گئی تھی 12۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ 400 قبل مسیح میں ہپوگریٹس نے خناق اور ممپس کی کلینیکل تفصیلات تحریر کیں، جبکہ 1100 عیسوی کے لگ بھگ چیچک سے بچاؤ کی ابتدائی تکنیکیں بیان کی گئیں 12۔ تاہم، جدید امیونولوجی کا باقاعدہ آغاز 1796ء میں ایڈورڈ جینر (Edward Jenner) کے ہاتھوں ہوا 13۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ گوالنیں جو ہلکی بیماری کاؤ پاکس (cowpox) کا شکار ہوتی ہیں، وہ خطرناک چیچک (smallpox) سے محفوظ رہتی ہیں 13۔ جینر نے ایک بچے کو کاؤ پاکس کا مواد لگایا اور چھ ہفتوں بعد جب اسے چیچک کا ٹیکہ لگایا گیا تو بچہ اس کے جان لیوا اثرات سے محفوظ رہا 13۔ اس بنیاد پر جینر نے لاطینی لفظ vaccinus (جس کا مطلب گائے ہے) سے “vaccine” کی اصطلاح وضع کی 13۔
اس کے تقریباً اسّی سال بعد، لوئی پاسچر نے جراثیم کو لیبارٹری میں کنٹرول کرنے کی تکنیک کے ذریعے ویکسین کے نظریے کو ایک آفاقی سائنسی حقیقت بنا دیا 13۔ پاسچر نے چکن کالرا پر تحقیق کرتے ہوئے دریافت کیا کہ جب جراثیم کے کلچر کو گرمی اور آکسیجن کی موجودگی میں طویل عرصے تک رکھا جائے، تو وہ اپنی ہلاکت خیزی کھو دیتے ہیں لیکن ان کے اندر مدافعت پیدا کرنے کی صلاحیت برقرار رہتی ہے 13۔ یہ کمزور جراثیم (attenuated pathogens) جب مرغیوں میں داخل کیے گئے تو وہ مستقبل کے شدید حملوں کے خلاف محفوظ ہو گئیں 13۔ اسی طریقے کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے انتھراکس کی ویکسین تیار کی اور 1885ء میں باؤلے پن کی بیماری رابیز (Rabies) کے خلاف دنیا کی پہلی لائیو اٹیینیوئیٹڈ (live-attenuated) وائرل ویکسین بنانے کا معجزہ سرانجام دیا، جس کے لیے انہوں نے رابیز سے متاثرہ خرگوشوں کے حرام مغز کی ہڈیوں کو خشک کرنے کا انقلابی فارمولا استعمال کیا 4۔ بیسویں صدی میں جینیاتی انجینئرنگ، وائرولوجی اور خلوی حیاتیات کی بے پناہ ترقی نے ویکسین سازی کو سائنسی عروج تک پہنچا دیا 12۔
| دور / سال | تیار کنندہ / محقق | ویکسین اور مرض | حیاتیاتی خاصیت اور تاریخی تفصیل |
| 1897ء | الیگزینڈر یرسن اور محققین | طاعون (Bubonic Plague) 12 | پیتھوجن کی شناخت کے بعد تیار کی گئی ابتدائی بیکٹیریل ویکسینز میں سے ایک 12۔ |
| 1915ء-1926ء | طبی لیبارٹریز | کالی کھانسی (Pertussis) 12 | بچوں کے پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچانے والے مرض کے خلاف مہم کا آغاز 12۔ |
| جنگِ عظیم اول-1927ء | عسکری طبی معالجین | تشنج (Tetanus Toxoid) 12 | تشنج کے زہر کو بے اثر کر کے بنائی گئی حفاظتی ٹاکسائیڈ ویکسین 12۔ |
| 1945ء | طبی تحقیقی ادارے | انفلوئنزا (Influenza) 12 | جنگِ عظیم دوم کے اختتام پر وائرل نمونیا کے خطرات کو ٹالنے کے لیے متعارف کی گئی 13۔ |
| 1952ء | جوناس سالک اور ٹیم | فالج (Polio) 12 | غیر فعال (Inactivated) وائرس پر مبنی ویکسین؛ ڈبلیو ایچ او نے 1988ء میں پولیو خاتمے کی تاریخی مہم شروع کی 12۔ |
| 1954ء-1963ء | جان اینڈرز (“جدید ویکسین کے بانی”) | خسرہ (Measles) 12 | ایڈمنسٹن سٹرین کی علیحدگی؛ 1963ء میں روبیواکس لائیو ویکسین کا لائسنس؛ 1989ء میں دوسری خوراک کی سفارش 12۔ |
| 1959ء-1967ء | موریس ہلی مین | ممپس (Mumps) 12 | بیٹی جیرل لن کے حلق سے حاصل کردہ سٹرین سے بنائی گئی لائیو ویکسین جس کی افادیت |
| 1970ء کی دہائی | موریس ہلی مین | روبیلا (Rubella) 12 | محفوظ ترین RA 27/3 سٹرین کی تیاری؛ 1971ء میں اسے خسرہ اور ممپس کے ساتھ ملا کر ایم ایم آر (MMR) بنایا گیا 12۔ |
| 1986ء | جینیاتی محققین | ہیپاٹائٹس بی (HBV) 12 | پہلی ریکومبیننٹ ڈی این اے (Recombinant DNA) ٹیکنالوجی سے تیار کردہ ویکسین 12۔ |
| 1995ء-1996ء | پرووسٹ اور دیگر محققین | ہیپاٹائٹس اے (HAV) 12 | مارکیٹ میں ہیورکس (Havrix) اور واکٹا (Vaqta) کے ناموں سے لانچ کی گئیں 12۔ |
| 2006ء | جدید کینسر ریسرچ سینٹرز | ایچ پی وی (HPV) 12 | کینسر جیسے خطرناک مرض (رحم کے سرطان) سے بچاؤ کے لیے تیار کی گئی پہلی ویکسین 12۔ |
اینٹی بائیوٹکس کا ظہور اور طبی علاج میں سائنسی جست
اگرچہ ویکسینز نے متعدی امراض کے خلاف حفاظتی ڈھال کا کام کیا، لیکن پہلے سے بیمار مریضوں کو بچانے کا سائنسی معجزہ اینٹی بائیوٹکس (Antibiotics) کی دریافت کے بعد ہی ممکن ہوا 16۔ اس نئے طریقہ علاج کی داغ بیل جرمن مائیکرو بائیولوجسٹ پال اہرلخ (Paul Ehrlich) نے ڈالی 16۔ اہرلخ نے مشاہدہ کیا کہ اینیلین اور دیگر مصنوعی رنگ صرف مخصوص جراثیمی خلیوں کو رنگتے ہیں اور انسانی ٹشوز کو چھوئے بغیر گزر جاتے ہیں 16۔ اسی اصول پر انہوں نے “جادوئی گولی” (Magic Bullet) کا تصور دیا، جو انسانی جسم کو نقصان پہنچائے بغیر صرف نقصان دہ جراثیم پر حملہ آور ہو سکے 17۔ اہرلخ نے 600 سے زائد آرسینک مرکبات کی اسکریننگ کی اور بالآخر 1909ء میں اپنا 606 واں مرکب دریافت کیا، جسے “سالوارسن” (Salvarsan/Arsphenamine) کا نام دیا گیا 16۔ یہ دنیا کی پہلی مصنوعی اینٹی بائیوٹک تھی جو آتشک (Syphilis) پیدا کرنے والے جراثیم کا خاتمہ کرتی تھی اور اس نے “کلیمپ ڈاکٹروں” (venereal disease doctors) کی جراحی میزوں کو بدل کر رکھ دیا 16۔ اہرلخ نے اس طریقہ کار کو “کیموتھراپی” (chemotherapy) کا نام دیا 17۔ سالوارسن کے بعد گیرہارڈ ڈوماگ نے سلفونامائڈ پرونٹوسل (Prontosil) دریافت کی جو بیکٹیریا کے خلاف انتہائی موثر ثابت ہوئی 16۔
طبی تاریخ کا سب سے بڑا غیر متوقع معجزہ 1928ء میں لندن کی سینٹ میریز ہسپتال میں الیگزینڈر فلیمنگ (Alexander Fleming) کے ہاتھوں رونما ہوا 16۔ فلیمنگ اپنی لیبارٹری میں کچھ لاپرواہ تھے اور انہوں نے اسٹیفیلوکوکس (Staphylococcus) بیکٹیریا کی ایک پیٹری ڈش کو کھلا چھوڑ دیا 16۔ چھٹیوں سے واپسی پر انہوں نے دیکھا کہ ڈش کے ایک کونے پر پینسیلیئم نوٹیٹم (Penicillium notatum) فنگس اگ آئی ہے اور اس کے گرد موجود تمام بیکٹیریا مکمل طور پر تحلیل ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں 16۔ فلیمنگ نے اس فنگل رطوبت کو الگ کیا اور اسے “پینسلین” (Penicillin) کا نام دیا 17۔ ان کے تجربات نے ثابت کیا کہ پینسلین 800 گنا پتلا کرنے پر بھی اسٹیفیلوکوکس جراثیم کو ختم کر سکتی ہے اور اس دور کے زہریلے جراثیم کش مادوں کی نسبت انسانی جسم کے لیے انتہائی بے ضرر ہے 17۔ تاہم، پینسلین کو خالص حالت میں حاصل کرنا اور بڑے پیمانے پر بنانا انتہائی کٹھن کام تھا 20۔
1930ء کی دہائی کے اواخر میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے دو پیتھالوجسٹس ہاورڈ فلوری (Howard Florey) اور ارنسٹ چین (Ernst Chain) نے فلیمنگ کی اس فراموش شدہ رپورٹ پر دوبارہ کام شروع کیا 20۔ تجرباتی آلات کی شدید قلت کے باعث انہوں نے بیڈ پینز (bedpans) میں فنگس کے کلچر اگائے اور 1941ء میں یہ ثابت کیا کہ پینسلین انسانی انفیکشنز کو جادوئی طریقے سے ختم کر سکتی ہے 20۔ پینسلین کی پیداوار کو تیز کرنے کی مہم کو اس وقت شدید مہمیز ملی جب 1942ء میں امریکہ کے شہر بوسٹن میں ایک ہولناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جس میں تقریباً 500 افراد ہلاک ہو گئے 17۔ زندہ بچ جانے والے جھلسے ہوئے مریضوں کی جلد شدید انفیکشنز کا شکار ہو رہی تھی 17۔ پینسلین کے ہنگامی استعمال سے ان مریضوں کو بچا لیا گیا، جس کے بعد امریکی حکومت نے پینسلین کی پیداوار کو عسکری ترجیح قرار دیا 17۔ 1944ء میں ڈی ڈے (D-Day) کے موقع پر اتحادی افواج کے تمام ہسپتالوں میں پینسلین وافر مقدار میں موجود تھی جس نے لاکھوں فوجیوں کو ہلاکت خیز انفیکشنز سے محفوظ رکھا اور پینسلین کو “کرشماتی دوا” (Wonder Drug) کا خطاب ملا 17۔
تپِ دق (TB) کے خلاف آخری فیصلہ کن وار 1943ء میں رٹگرز یونیورسٹی کے محقق سیلمین ویکس مین (Selman Waksman) اور ان کے شاگرد البرٹ شاٹز نے مٹی کے ایک بیکٹیریا سے “سٹریپٹو مائسن” (Streptomycin) نامی اینٹی بائیوٹک الگ کر کے کیا 17۔ 1944ء کے کامیاب کلینیکل ٹرائلز کے بعد اس دوا نے تپِ دق کے خلاف ناقابلِ تسخیر ہتھیار کا درجہ حاصل کر لیا 22۔ سٹریپٹو مائسن کے آنے کے بعد امریکہ میں تپِ دق کی شرحِ اموات 1945ء میں 39.9 فی لاکھ سے گر کر 1955ء میں محض 9.1 فی لاکھ رہ گئی 22۔
آبادیاتی تبدیلیاں، متوقع عمر کا پھیلاؤ اور جدید سماجی عدم مساوات
جراثیمی نظریے اور اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے سینیٹیشن، ویکسینز اور اینٹی بائیوٹکس کے انقلابات نے انسانی تاریخ کی آبادیاتی ساخت (demographic structure) کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے 23۔ بیسویں صدی کے آغاز پر اوسط انسانی زندگی محض 32 سال تھی، جو 2023ء تک بڑھ کر 73 سال تک پہنچ گئی 23۔ امریکہ میں متوقع عمر میں 30 سال سے زائد کا اضافہ ہوا، جس میں سے 25 سال کا ڈرامائی فائدہ خالصتاً پبلک ہیلتھ کے اقدامات اور متعدی امراض پر کنٹرول کی بدولت حاصل ہوا 24۔
اس آبادیاتی انقلاب کا سب سے بڑا اثر بچپن کے اموات کے خلا (Childhood Mortality Gap) کے خاتمے کی صورت میں دیکھا گیا 25۔ سال 1900ء میں پیدا ہونے والے بچے کی اوسط عمر محض 48 سال تھی، لیکن اگر وہ بچہ کسی طرح بچپن کی متعدی بیماریوں سے بچ کر پانچ سال کی عمر عبور کر لیتا، تو اس کی متوقع عمر فوری طور پر بڑھ کر 61 سال ہو جاتی تھی 25۔ یعنی پچپن کے جراثیمی حملے بقا کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے 25۔ سال 1980ء تک آتے آتے بچپن کی بیماریوں پر مکمل کنٹرول پانے کے بعد پیدا ہونے والے بچے اور بچپن گزارنے والے فرد کی متوقع عمر برابر ہو گئی، جس نے اس تاریخی خلا کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا 25۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق، امریکہ میں 1994ء سے 2023ء کے درمیان پیدا ہونے والے بچوں کے لیے لازمی ویکسینیشن پروگراموں نے 11 لاکھ اموات، 3.2 کروڑ ہسپتال کے کیسز اور 50.8 کروڑ امراض کو روکا، جس سے معاشرے کو 3.7 ٹریلین ڈالر کی خطیر معاشی بچت حاصل ہوئی 25۔
| تقابلی پیرامیٹر | سال 1900ء کی تاریخی حالت | جدید دور (اواخر بیسویں اور اکیسویں صدی) | سائنسی و طبی محرکات |
| امریکہ میں اوسط متوقع عمر | ~48 سال 25 | 78 سال سے زائد (30 سال کا مجموعی اضافہ) 22 | متعدی امراض پر قابو، اینٹی بائیوٹکس، واٹر ٹریٹمنٹ 24۔ |
| زیر 5 سال بچوں کی اموات کا حصہ | کل اموات کا | کل اموات کا محض | بچپن کی لازمی ویکسینز، سینیٹیشن، اور جراثیم کش قوانین 24۔ |
| تپِ دق (TB) کی شرح اموات | 194 فی لاکھ افراد (صرف امریکہ میں) 22 | 9.1 فی لاکھ تک کمی (سٹریپٹو مائسن کی دریافت کے بعد) 22 | سٹریپٹو مائسن (1943ء) اور کثیر الادویاتی کورس 22۔ |
| بچپن کی اموات کا تفاوت (Mortality Gap) | پیدائش پر متوقع عمر 48 تھی، جو بچپن پار کرنے پر 61 ہو جاتی تھی 25۔ | پیدائش پر متوقع عمر اور بچپن کے بعد کی عمر برابر ہو گئی (1980ء کے بعد سے) 25۔ | لازمی حفاظتی ٹیکوں کا عالمی نظام 24۔ |
| طبی پبلک ہیلتھ انفراسٹرکچر | 45 میں سے صرف 40 امریکی ریاستوں میں صحت کے محکمے قائم تھے 22۔ | ہر کاؤنٹی اور ریاست میں مضبوط مانیٹرنگ اور وبائیات کا باقاعدہ فریم ورک موجود ہے 22۔ | کاؤنٹی صحت کے محکموں کا باقاعدہ قیام (1908ء) اور قانون سازی 22۔ |
تاہم، بیسویں صدی کی ان شاندار کامیابیوں کے بعد حالیہ دہائیوں میں ایک تشویشناک صحت کا تفاوت (Socioeconomic Mortality Gap) ابھر کر سامنے آیا ہے 25۔ نامور ماہرینِ معاشیات این کیس (Anne Case) اور اینگس ڈیٹن (Angus Deaton) کے مطالعے کے مطابق، 2010ء کے بعد سے امریکہ میں تعلیمی اور سماجی بنیادوں پر متوقع عمر میں تفاوت بڑھ رہا ہے 25۔ وہ افراد جن کے پاس چار سال کی کالج ڈگری موجود نہیں ہے، ان کی اوسط عمر تیزی سے گر رہی ہے، یہاں تک کہ سال 2021ء کے اواخر تک ڈگری ہولڈرز اور نان ڈگری ہولڈرز کی متوقع عمر کا یہ ہولناک فرق 8.5 سال تک پہنچ چکا ہے 25۔ غریب ریاستوں میں جہاں عوامی صحت کے فنڈز مسلسل کم کیے گئے، وہاں زندگی کی اوسط عمر جمود کا شکار ہے یا اس میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جراثیموں کے خلاف جنگ صرف دوا ایجاد کرنے تک محدود نہیں بلکہ اسے ہر عام شہری تک سستی رسائی فراہم کرنے سے مشروط ہے 25۔
حاصل کلام اور مستقبل کے پبلک ہیلتھ چیلنجز
بیماریوں کے جراثیمی نظریے نے نہ صرف انسانی نسل کی اوسط بقاء کو طول دیا بلکہ اس نے طبی معالجے کو جادوئی، روحانی اور فضائی وہموں سے نکال کر مائیکرو بائیولوجی کی ٹھوس سائنسی بنیادوں پر کھڑا کر دیا 1۔ جراثیموں کے میکانزم کی تفہیم نے ہمیں یہ سکھایا کہ کس طرح پیتھوجنز کے مدافعت پیدا کرنے والے حصوں کو چن کر محفوظ ویکسینز بنائی جاتی ہیں اور کس طرح خلیاتی دیواروں کو نشانہ بنا کر اینٹی بائیوٹکس کے مہلک وار کیے جاتے ہیں 12۔
لیکن یہ حیاتیاتی جنگ اب بھی جاری ہے اور جراثیم مستقل ارتقاء کے عمل سے گزر رہے ہیں 2۔ اینٹی بائیوٹکس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال، مریضوں کی طرف سے کورس ادھورا چھوڑنا، اور معالجین کی غلط نسخہ نویسی جراثیموں کو ادویات کے خلاف ناقابلِ تسخیر بنا رہی ہے 4۔ تپِ دق (TB) آج بھی ختم نہیں ہو سکی ہے؛ یہ دنیا بھر میں متعدی امراض سے ہونے والی اموات کا دوسرا بڑا سبب ہے اور ایچ آئی وی (HIV) کے مریضوں میں موت کا پہلا محرک ہے، جبکہ اس کے جراثیم نے تپِ دق کی دو سب سے مؤثر ادویات کے خلاف شدید مزاحمت پیدا کر لی ہے 4۔ قدرتی آفات، طوفان یا جنگ زدہ علاقوں میں سینیٹیشن کے سسٹمز برباد ہوتے ہی ہیضے کا دوبارہ پھیل جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جراثیم کے خلاف حاصل کی گئی فتوحات کو کبھی دائمی نہیں سمجھا جا سکتا 5۔ طبی دنیا کو آج جان سنو کی جرات اور فلورنس نائٹ اینگیل کے حسابی مطالعے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم جراثیم کے خلاف بائیولوجیکل علاج کے ساتھ ساتھ اپنے ماحول، صحت کی منصفانہ فراہمی اور سماجی مساوات جیسے بیرونی عوامل کا علاج بھی ہم آہنگی کے ساتھ کر سکیں 7۔