Saturday, June 13, 2026
Home Blog نظریہ مفرد اعضاء اور جراثیم

نظریہ مفرد اعضاء اور جراثیم

by admin
نظریہ مفرد اعضاء اور جراثیم
نظریہ مفرد اعضاء اور جراثیم
نظریہ مفرد اعضاء اور جراثیم

اور ام اور جراثیم
اور ام میں جراثیم کا اندازہ صرف اس امر سے لگائیں کہ فرنگی طب اور ماڈرن سائنس میں اور ام کا تصور بغیر جراثیم کے نہیں پایا جاتا۔ یہ تصور بالواسطہ ہو یا بلا واسطہ، ہر حال میں جراثیم کے بغیر وہ کبھی بھی اور ام کا تصور نہیں کر سکی یعنی عصر به وسقطہ اور ہر ماحول سے بالواسطہ اور ام میں جراثیم پیدا ہو جا ئیں یا جراثیم سے بلا واسطہ اور ام پیدا ہو جائیں ۔ بہر حال اس کے نزدیک دو چیزیں لازم و ملزوم ہیں بلکہ یوں سمجھ لیں کہ جراثیم کے بغیر ورم کو ورم ہی نہیں سمجھا جاتا۔ ان کے بغیر اور ام کا علاج ہی ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علم جراثیم اور فرنگی طلب اور ماڈرن سائنس میں ایک جدا گا نہ مستقل فن بن گیا ہے بلکہ اس کی اس قدر شاخیں بن گئی ہیں کہ ان سے کسی ایک پر مکمل عبور حاصل کرنے کے لئے ایک پوری انسانی زندگی درکار ہے لیکن ہم کوشش کریں گے کہ علم جراثیم کو اس انداز اور اختصار سے بیان کریں کہ مکمل طور پر اس کی حقیقت واہمیت سامنے آ جائے اور حسن و قبح سے استفادہ حاصل کیا جا سکے۔
جہاں تک اورام میں جراثیم کا تعلق ہے ان کے پائے جانے اور ان کے اعمال کا کچھ نہ کچھ تو پتہ چلتا ہے اور اسی طرح ان امراض میں بھی ان کا سراغ ملتا ہے جو اور ام سے پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن فرنگی طلب اور ماڈرن سائنس نے ان کو ہر مرض میں تلاش کرنا شروع کر دیا ہے اور اس امید میں گرفتار اور سرگرداں ہیں کہ جلد ہی ان کے جراثیم مل جائیں گے۔ ان کی دیکھا دیکھی جدید طبیب اور فرنگی حکیم و ماڈرن ویدہ ہو میو پیتھے جن کے طریق علاج کی بنیاد بالکل جدا قوانین اور اصولوں پر ہے۔ انہوں نے بھی جراثیم تھیوری کو بے معنی طریق پر اپنا لیا ہے۔ جس کے ساتھ ہی اپنے طریق علاج کو بر باد و فنا کر دیا ہے۔
نظریہ مفرد اعضاء اور جراثیم
نظریہ مفرد اعضاء کے تحت کسی حصہ جسم میں اس وقت تک کوئی مرض پیدا نہیں ہوتا ۔ جب تک کسی حصہ جسم یا عضو میں کم و بیش تحریک پیدا نہ ہو اور یہی تحریک پھر دوران خون کو اس عضو یا حصہ جسم کی طرف تیز کر دیتی ہے اور جب تحریک زیادہ تیزی اختیار کر لیتی ہے تو اس کو ہم سوزش کہتے ہیں اور یہی سوزش ہی بڑھ کر ورم بن جاتا ہے اور پھر باقی علامات بھی ظہور میں آ جاتی ہیں۔ جن کا ذکر اور ام کے سلسلہ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح امراض و علامات کی پیدائش ہوتی ہے۔
ابتدائی سوزش قاتل جراثیم ہے۔
جاننا چاہئے کہ جس مقام پر تحریک یا ابتدائی سوزش پیدا ہوتی ہے اس مقام پر ہر قسم کی رطوبات کا فقدان ہوتا ہے، وہاں پر اگر رطوبات تسلیم کی جائیں تو اس جگہ پر صیح معنوں میں تحریک تسلیم نہیں کیا جاسکتی۔ اس تحریک سے وہاں پر ریاح ( گیسٹر ) تو تسلیم کی جاسکتی ہیں جن میں کار با تک ایسڈ کا اثر کم و بیش ضرور ہوتا ہے اور خشکی کا غلبہ ہوتا ہے اس ریاح کے ساتھ طبیعت وہاں پر حرارت پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے۔
اس حقیقت سے ثابت ہوا کہ جب کسی مقام پر تحریک اور ابتدائی سوزش ہوگی وہاں پر خشکی اور حرارت کا غلبہ ہوگا۔ پھر یہ امر مسلمہ ہے کہ گرمی خشکی قاتل جزائیم ہے، اگر طب قدیم کی رو سے بھی غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ گرم خشک مزاج صفراء کا ہے جو قاتل جراثیم ہے۔ اس لئے جہاں پر تحریک یا ابتدائی سوزش ہوگی ، وہاں جراثیم نہیں ہوں گے۔ اگر کوئی اس حقیقت کو غلط ثابت کر دے تو ہم چیلنج کرتے ہیں۔
جراثیم کی پیدائش
اس حقیقت کو کبھی بھی نظر انداز نہ کریں کہ کسی قسم کا جرثومہ کی خشکی گرمی کے مقام پر زندہ رہ سکتا ہے۔ جب بھی اور جہاں بھی جراثیم پائے جائیں گے چاہے وہ بالواسطہ پائے جائیں یا بلا واسطہ بالواسطہ صورت یہ ہوتی ہے کہ کسی قسم کے جراثیم کسی طرح اس مقام پر پہنچ جائیں جہاں پر رطوبات یا نمی پائی جائے اور وہاں پر اپنی نشو نما بڑھا دیں اور بلا واسطہ صورت یہ ہوتی ہے کہ کسی مقام پر رطوبات یا نمی رک کر قانون قدرت کے مطابق متعفن ہوگئی ہے اور وہاں پر جراثیم کی پیدائش اور نشو و نما ہوگئی۔ بس انہی دو صورتوں کے علاوہ جراثیم پیدا ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے اور یہ دونوں صورتیں بھی اسی وقت عمل میں آتی ہیں جب رطوبت اور نمی ہوتی ہے۔
ورم میں جراثیم کی آمد
جاننا چاہئے کہ ابتدائی سوزش کے بعد جب دوران خون کی وہاں تیزی ہو جاتی ہے تو طبیعت مدیرہ بدن اس عضو کی قوت مدافعت کے تحت وہاں پر زیادہ رطوبات گراتی ہے۔ جیسے کہ تندرستی کی حالت میں وہ اعتدال کے ساتھ گزر رہی ہوتی ہے، تا کہ اس مقام کی سوزش اور بے چینی و خشکی کو ختم کر دے اور معمولی سوزش میں وہ اکثر کامیاب ہو جاتی ہے لیکن جب سوزش زیادہ ہوتی ہے تو رطوبت مسلسل گرتی رہتی ہے اور اس قدر زیادہ ہو جاتی ہے کہ غدد جاذبہ اس کو وہاں سے جلد از جلد ختم نہیں کر سکتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہاں پر بالواسطہ یا بلا واسطہ جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں اور پھر وہاں پر ان کی نشو و نما شروع ہو جاتی ہے۔
تغفن قاتل جراثیم
قانون قدرت ہے کہ جس مقام پر کوئی رطوبت یا نمی اپنے مقررہ وقت سے زیادہ عرصہ تک قیام کرے تو قطر تا اس میں حرارت اثر کرنے لگتی ہے اور وہاں پر خمیر ہونا شروع ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ جراثیم ہوتے ہیں یا باہر سے اگر جراثیم اس پر اثر انداز ہو کر وہاں پر خمیر پیدا کر دیتے ہیں اور پھر جراثیم کی نشو و نما شروع ہو جاتی ہے۔ ان جراثیم کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہاں پر رطوبت یا نمی خصوصاً اس رطوبت اور نمی کے مواد ختم ہو جاتے یامرجاتے ہیں۔
ترشی قاتل جراثیم ہے
ہر خمیر ترشی سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک طرف تو خمیر تعفن اور جراثیم کے بعد اول مادہ متعفنہ اور جراثیم کوختم کر دیتا ہے۔ اگر رطوبات زیادہ ہوں تو ان کو پھر تیزابیت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ تیزابیت ہر قسم کے جراثیم کوختم کر دیتی ہے جیسے سرکہ میں جراثیم پیدا نہیں ہو سکتے ۔ بلکہ شراب میں بھی جراثیم نہیں ہوتے اور دونوں جراثیم سے تیار ہوتے ہیں ۔ ان تیزابات میں ہر قسم کے جراثیم نا ہو جاتے ہیں۔ گویا اگر قدرت کسی جگہ جراثیم پیدا کرتی ہے تو اپنے فطری اصولوں پر ان کو فنا بھی کر دیتی ہے۔ ہمیں انہی فطری اصولوں کو جاننا چاہئے جو جراثیم کو نا اور برباد کر دیتے ہیں یہ فطری اصول وہی ہیں جو اعضاء کے افعال کو تیز کر کے وہاں پر اس کی قدرتی امیونٹی کو تیز کرتا ہے۔ یہ وہی طریق کار ہے جس سے طبیعت مد برو بدن خود جراثیم کو ہلاک کر دیتی ہے۔


تاکید
اگر ہم کسی خمیر کو ادویات سے فنا کریں تو وہ صرف وقتی بات ہوگی ، جب تک وہاں رطوبتی مادہ پڑا ہے، وہاں پر پھر خمیر پیدا ہو کر جراثیم کی پیدائش اور نشو و نما شروع ہو جائے گی، اس لئے وافع تعفن ادویات کا استعمال نہ صرف غیر مفید ہے بلکہ بعض اوقات نقصان رساں ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دافع تعفن ادویات سے جہاں پر جراثیم مر جاتے ہیں وہاں مفید جراثیم اور انسجہ بھی کمزور ہو جاتے ہیں یا مر جاتے ہیں پھر دوبارہ ان میں طاقت نہیں ہوتی کہ مرض کا مقابلہ کریں۔ اس لئے دافع تعفن کی بجائے وہاں قدرتی طور پر قانون فطرت کے عمل کو پورا کرنا چاہئے جو اعضاء اور قوت مدافعت کے عمل سے پورا ہوتا ہے۔ یعنی اعضاء کے افعال کو تیز کر کے وہاں کی رطوبات اور نمی کوختم کر دینا چاہئے ۔ جس سے قوت مدافعت ( امیونٹی ) بڑھ جائے گی۔ اس طرح ایک طرف تمام جراثیم فنا ہو جائیں گے اور دوسری طرف انسجہ میں قوت پیدا ہو جائے گی۔ اور مرض نہ صرف آسانی سے ختم ہو جائے گا، بلکہ جڑ سے چلا جائے گا اور طاقت بھی قائم ہو جائے گی۔ فرنگی طب نظر یہ جراثیم کو اپنا کمال خیال کرتی ہے جو ہم نے ختم کر دیا ہے اور اس کا جادو توڑ دیا ہے۔ تفصیل آئندہ ملاحظہ کریں۔
جراثیم کی ماہیت
جراثیم کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ نہایت باریک اور چھوٹی حیوانات ہیں جو صرف ایک حیوانی ذرہ سے بنے ہوتے ہیں۔ جیسے امیبا بنا ہوتا ہے۔ جراثیم کی ساخت نہایت بسیط اور سادہ ہوتی ہے۔ وہ ایک نہایت نازک اور بار یک دل ہوتا ہے جس کے اندر مادہ حیات پایا جاتا ہے۔ مادہ حیات کے اندر ایک دو بلبلے اور کچھ دانے ہوتے ہیں۔ دیوار کے باہر لیسدار مادہ کا غلاف ہوتا ہے۔ جراثیم کے اوپر علی روئیں ہوتے ہیں جن کو اہداب کہتے ہیں جو دراصل مادہ حیات کے باہر کی طرف لیے لیے بڑھاؤ ہیں۔ جیسے انسان کے جسم پر بال ہوتے ہیں جن میں ذاتی احساس اور حرکت ہوتی ہے اور یہ اہداب تین سے چھ تک ہوتے ہیں جن جراثیم پر یہ نہیں ہوتے ان میں حرکت نہیں پائی جاتی ۔
ذاتی حرکت سے مراد


وہ حرکت ہے جو بلا ارادہ با ارادہ ظاہر ہو۔ جس سے جسم ایک مقام سے دوسرے مقام تک حرکت کر سکے یادہ جسم کے کسی حصہ کو بلا سکے جن پر پیغملی روئیں نہیں ہوتیں ان میں ذاتی حرکت نہیں پائی جاتی ۔ البتہ وہ دیگر مادوں سے حرکت میں رہتے ہیں۔
جراثیم کی افزائش نسل
جراثیم میں افزائش نسل کے طریقے نہایت سادہ اور بسیط ہے کیونکہ ان میں آلات تولید و تناسل کی کوئی علامت نہیں ہوتی ۔ چنانچہ ان میں افزائش نسل معمولی اقسام یعنی خود بخود تقسیم در تقسیم سے ہوتی ہے۔ یہ بعض قسموں میں اندرون خیلی تخم اور بیچ کے بنے سے بڑھتی ہے جس کو تکوین بزر کہتے ہیں۔
اول قسم بسیط ۔ اس کی دو صورتیں ہیں:
خانہ یا جھلی بڑھ جاتی ہے اور پھر وہ دو خانوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ پھر دونوں خانے بڑھ کر ہفتہ جراثیم بن جاتے ہیں، پھر جدا ہو جاتے ہیں۔
ایک خانہ یا جھلی میں کئی بڑھاؤ ہو جاتے ہیں ۔ پھر وہ مستقل جراثیم بن جاتے ہیں اس طرح چند گھنٹوں کے اندر بے شمار جراثیم بن جاتے ہیں۔
دوسرا طریقہ خلیہ کے اندر سموں کا پیدا ہوکر بڑھنا اور جراثیم کا بنتا ہے اس کو کوین بزر کہتے ہیں۔ یہ پہلے طریقہ کی نسبت کسی قدر پیچیدہ ہے اور اس طرح ان جراثیم کی پیدائش ہوتی ہے جو نڈا نما ہوتے ہیں جن کو “علی” کہتے ہیں۔ جراثیم کے تخم گول یا بیضوی شکل کے ہوتے ہیں اور خانہ جرثومہ کی دیوار کے اندر اس طرح پیدا ہوتے ہیں کہ ایک جرثومہ کا مادہ حیات اپنے غلاف کے اندر ایک یا زیادہ حصوں میں سکڑ جاتا ہے اور پھر ہر ایک حصہ ایک علیحد و غلاف میں ملفوف ہو کر ایک مستقل جرثومہ بن جاتا ہے۔
اقسام جراثیم
تقسیم کے لحاظ سے جراثیم کی بنیاد اگر چہ ان کی شکل وصورت اور پیدائش امراض پر رکھی گئی ہے۔ لیکن ان کے وہ خواص بھی شامل کر لئے جاتے ہیں جو ان کے افعال اور کاشت سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی بعض اقسام تو محض بوجہ خصوصیات شکل کے دوسرے اقسام سے ممتاز ہوتے ہیں۔ مگر بعض اقسام اگر چہ شکل میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں مگر اپنے خصائص وافعال جدا رکھتے ہیں۔
اسی طرح بعض اقسام اپنے طریق کاشت کے لحاظ سے دوسروں سے الگ ہیں۔ اس وجہ سے شکل کے علاوہ تقسیم کے وقت ان دونوں باتوں کا لحاظ کیا جاتا ہے۔ اس لئے ان کی تین اقسام کی جاتی ہیں:
(۱) عضی – ونڈ انما
(۲) کرو یہ گیند نما
(۳) حلزونی – پیچدار گھونگھا کی شکل کے ہوتے ہیں۔ تفصیل درج ذیل ہے۔
جراثيم عصہ
ان جراثیم کی شکلیں ڈنڈوں کی مانند ہوتی ہیں۔ انگریزی میں ان کو جیسی لائی کہتے ہیں جس کا واحد ہے۔ یہ عام طور پر سیدھے سیدھے ہوتے ہیں لیکن گاہے گا ہے کسی قدر خیدہ بھی ہوتے ہیں۔ بعضی قسم کے جراثیم عام طور پر بندی سے بنتے ہیں اور ان پر اہداب ( بال ) بھی پائے جاتے ہیں۔ اس وجہ سے ان میں ذاتی حرکت بھی ہوتی ہے۔ یعنی ان کی حرکت انہی اہداب کی وجہ سے ہوتی ہے۔
جراثیم عصی کی امراض کے لحاظ سے تقسیم
اس لحاظ سے جراثیم عصی کی تین اقسام کی گئی ہیں:
(1) مقامی:
یہ جراثیم جسم کے خاص حصہ میں داخل ہو کر وہیں ساکن رہتے ہیں اور اس مقام پر اپنے سمیات بناتے ہیں اور پھر یہی سمیات جذب ہو کر علامات پیدا کر دیتے ہیں۔ اس قسم کے جراثیم تمام جسم میں نہیں پائے جاتے ۔ ان کی مثال ہیضہ، کز از عناق و ہائی اور پیچش وغیرہ کی ہے۔
(۲) مقامی منتقل:
اس قسم کے جراثیم وہ ہیں جو اؤل ایک مقام پہ ہوتے ہیں اور بعد میں اسی مقام سے منتقل ہو کر جسم کے مختلف مقامات پر پھیل جاتے ہیں اور جہاں پر جا کر سکونت اختیار کرتے ہیں وہیں پر نو آبادیات قائم کر لیتے ہیں۔ جن کے اثرات سے زہر یلے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ ان کی مثال نیو برکل (مادہ دق و سل ) کی ہے۔
(۳) منتقل عامہ :
اس قسم کے جراثیم بدن پر حملہ کرتے ہی تمام جسم میں پھیل جاتے ہیں اور خون ورطوبت میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ ان کی مثال آتشک، جذام، طاعون، ملیریا، انقر یکیں ، آپ محرقہ اور تمام تمیات و امراض عامہ کے جراثیم اس قسم کے ہوتے ہیں، البتہ یہاں پر یہ یاد رکھیں کہ بدری ، حصہ وجع المفاصل اور سرخ باد و غیرہ بھی امراض عامہ ہیں۔ لیکن ان کے جراثیم ابھی تک معلوم نہیں ہوئے ۔
جراثيم کرويہ
یہ جراثیم بالکل یا قریب قریب گیند کی طرح گول ہوتے ہیں۔ ان کو انگریزی میں کا کائی کہتے ہیں جس کا واحد کا کیس ہے۔ یہ تمام اقسام میں زیادہ سادہ ہوتے ہیں ان میں سے بہت ہی کم ہوتے ہیں جن پر اداب پائے جاتے ہیں۔ ان میں بزرنہیں بنتے ۔ بلکہ تقسیم در تقسیم سے بڑھتے ہیں۔ گویا جراثیم گول گول نقطوں کی طرح ہوتے ہیں۔ بحیثیت جماعت جراثیم کرو یہ ریم اور سدہ پیدا کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس لئے مختلف اقسام کے پیدا کردہ امراض ایک دوسرے کے ساتھ مبدل ہو جاتے ہیں جیسے سوزاک کا ورم سطح کے اتصال سے بڑھتا خصیتین میں منتقل ہو جاتا ہے۔ یا تمام جسم میں اس کا زہر پیدا ہو جاتا ہے۔ جراثیم کرو یہ سے جو اور ام پیدا ہوتے ہیں۔ وہ کئی قسم کے ہوتے ہیں:
بعض تو فقط مقامی ہوتے ہیں اور ایک جگہ پر ہمیشہ محدود رہتے ہیں، جیسے خراج ، دنبل اور د بیلہ وغیرہ۔
ایسے درم بھی ہوتے ہیں جو مقدم مقامی ہوتے ہیں۔ مگر اتصال سطح کے ساتھ ساتھ درم متعدی ہو کر پھیلتے جاتے ہیں اور پیپ بنتی جاتی ہے جس کے سبب سے اعضاء کھائے جاتے ہیں اور مردہ ہوتے ہیں۔ جیسے گوشت خورہ اور آکلہ وغیرہ۔
ایک اور قسم کا درم ہوتا ہے جو مقامی تو ہوتا ہے مگر بعد میں اس کا اثر تمام جسم پر تیزی سے پھیل جاتا ہے۔ اس کے جسم میں سرایت کرنے کے دو طریقے ہیں۔ پہلی صورت تو یہ ہے کہ متورم مقام پر جراثیم کے موذی اثرات سے سمیات پیدا ہوتے ہیں، یہ سمیات جذب ہو کر تمام جسم میں پھیل کر اس کو اپنے موڈی اثرات سے متاثر کر دیتے ہیں۔ چونکہ جراثیمی سمیات کیمیاوی مرکبات ہوتے ہیں اس لئے اس کا موذی اثر جذب شدہ زہر کی مقدار پر منحصر ہوتا ہے۔ اس طرح پر جس طرح سکھیا اور پارہ سے ہوتا ہے۔ یعنی جذب شدہ زہر کی مقدار کم ہوتی ہے تو علامات بھی خفیف ہوتی ہیں۔ ان علامات کو اصطلاح میں تمیم یا سپک انشا کی کیشن (Septic Intoxication) کہتے ہیں۔ تپ دق، پر موت کا تپ اور خفیف بخار جو پھوڑے پھنسی کے ہمراہ ہوتا ہے ایسے تسلیم کی مثالیں ہیں، جب جذب شدہ زہر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے تو بیمار بہت جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔ اس کو پی سیمیا (Septiccamis) یا تپ عفیفہ کہتے ہیں۔ دوسری صورت وہ ہوتی ہے کہ جراثیم خود متورم مقام سے کسی نہ کسی حیلہ سے منتقل ہو کر تمام جسم میں پھیل جاتے ہیں اور باعث نقصان ہوتے ہیں ۔
منتقلی جراثیم
ایک صورت تو یہ ہے کہ جراثیمی زہر جسم میں جذب ہو کر باعث نقصان اور فنا ہو۔ جس کا ذکر کر دیا گیا ہے۔ دوسری صورت وہ ہوتی ہے کہ جراثیم خود متورم مقام سے کسی نہ کسی طرح منتقل ہو کر تمام جسم میں پھیل جاتے ہیں۔ یہ بھی دو طریق سے ہوتا ہے۔
پہلا طریقہ یہ ہے کہ متورم مقام میں سے نکل کر جراثیم خود خون میں ایک ہی وقت میں منتشر ہو جاتے ہیں۔ اس کو اصطلاح میں انتشار عامہ (سکائی سیمیا) کہتے ہیں۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جراثیم مقام سے منتقل ہو کر کسی مقام میں اسی قسم کے ورم و التہاب پیدا کر دیتے ہیں۔ اس کی مثال وجع المفاصل ریحی ہے جو سوزاک سے پیدا ہو جاتے ہیں یا کیمیا سلک انڈو کار ڈائٹس ہے۔ ورم منتقل اس طور پر ہوتا ہے کہ مقامی ورم کے حوالے سے درید میں بھی متورم ہو جاتی ہیں اور ان کے اندر خون منجمد ہو جاتا ہے، اس انجماد خون کو اصطلاح میں سیدہ وریدی ( ترامبوس ) کہتے ہیں۔ اتفاقی یا صدمہ سے منجمد شدہ خون کا ذرا سا ٹکڑا نوٹ جاتا ہے۔ اور خون کے ساتھ بہتا ہوا دور تک چلا جاتا ہے۔ اور بار یک عروق میں جا کر اٹک جاتا ہے اور اس سے سدرہ پیدا ہو جاتا ہے اور چونکہ اس کے اندر موذی جراثیم موجود ہوتے ہیں، اس لئے وہاں پر بھی اس قسم کا درم پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کا نام پائی ریمیا ہے۔
جراثیم کرویہ کے اقسام
جراثیم کردیہ ( کا کائی) کی کئی جماعتیں ہیں۔
ایک جماعت تو وہ ہے جس میں نقاط ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے ہیں، اس کے جراثیم کرو یہ واحد یہ (مائیکر و کا کائی ) یا فقہ کا کائی کہلاتے ہیں۔ اور ان کے اثرات سے کئی قسم کے اور ام اور انتہاب پیدا ہو جاتے ہیں۔
دوسری جماعت وہ ہے جس میں نقاط جوڑا جوڑ ابن کر رہتے ہیں۔ ان کا نام جرا ثیم زوجہ کو یہ ( ڈپلومہ کا کائی ہے۔ اس جماعت کے جراثیم
سوزاک، ذات الریہ اور سرسام میں پائے جاتے ہیں۔ تیسری جماعت دو ہے جو چار چارمل کر رہتے ہیں۔ یہ مربع جراثیم کرو یہ سکوائر کا کائی) ہیں جو امراض معدہ میں پائے جاتے ہیں۔
چوتھی جماعت کے جراثیم قطار در قطار زنجیر بنالیتے ہیں۔ جوز نجیری کردیہ (سٹر پنوکا کائی) کہلاتے ہیں۔
پانچویں جماعت کے جراثیم انگور کی طرح خوشہ در خوشہ ہوتے ہیں ۔ اس سبب سے ان کو جراثیم منمی کرو یہ (سٹیلو کا کائی) کہتے ہیں۔ یہ جراثیم مختلف اقسام کے اور رام بلور اور خراج وغیرہ میں ملتے ہیں۔
جراثیم حلزونیہ
تیسری بڑی قسم کے جراثیم حلزونیہ کہلاتے ہیں۔ حلزون گھونگھا کو کہتے ہیں۔ جو سمندری جانور کا گھر ہوتا ہے۔ اس کو انگریزی میں امر لا” کہتے ہیں۔ جس کا واحد اسپرس ہوتا ہے۔ یہ جراثیم جو اصل میں لیے لیے بلدار عضی ( ڈنڈے) کی شکل کے ہوتے ہیں اور تین جانب بیچ کھاتے ہیں۔ انہی میں سے بڑے بڑے اور لیے لیے جراثیم بل کھا کر بیچ کش ( پیرم) کی طرح لہردار اور بلدار ہو جاتے ہیں۔ ان کی بعض قسمیں چھوٹی اور بھی ہوتی ہیں جو کم بل کھاتی ہیں۔ ان کو شرطیہ (ویر یو ) کہتے ہیں لیکن جراثیم علونیہ در اصل لیے لیے جراثیم ہی ہوتے ہیں۔ جن میں گھونگھا کی طرح چل پڑے ہوتے ہیں۔ جراثیم حلزونیہ کی اکثر قسمیں فن جراحت میں کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں اور اس کے امراض پیدا کرنے والی بھی صرف دو اقسام زیادہ مشہور ہیں۔
اول شرطیہ بیضہ ایشیائی (ویرو کا کرائی ایشیا کی دوسرے حلو ونی ملی راجعہ (اسپرس ریلیپ سنگ فیور ) اس کی آخری قسم کو ادنی رتبہ کا حیوان ( پرٹوزون ) کہتے ہیں ۔ یعنی اس کو جراثیم سے الگ خیال کرتے ہیں۔
جراثیم اور اعضاء کی تطبیق
علم جراثیم کو مختصر طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس میں ضروری علم کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔ مندرجہ بالا جو صورتیں ہیں ہم نے صرف انہی کو بیان کیا ہے۔ کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ان جراثیم کو بھی اعضاء سے تطبیق دے دیں تا کہ فرنگی طلب کی تحقیقات کی وہ غلطیاں جو اس نے جراثیم کے افعال اور تدقیق اور امراض و علامات کو پورے طور پر سمجھایا جا سکے۔
جہاں تک علم الجراثیم کا تعلق ہے اس میں اس قدر طوالت پیدا ہو چکی ہے جس کا انداز و اس امر سے لگا لیں کہ وہ اپنی جگہ ایک مکمل سائنس اور شعبہ بن چکا ہے جس کے حصول کے لئے اگر ایک انسان اپنی ساری زندگی صرف کر دے تو مشکل سے اس کو ضرورت کے مطابق حصول اور شعبوں کو حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن تمام علم پر حاوی ہوتا اگر نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ جہاں تک علم الجراثیم کی اس وسعت کا تعلق ہے اس میں جن شعبوں پر بحث ہوتی ہے، وہ مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) جراثیم کی حقیقت
(۲) جراثیم کے اقسام اور اقسام در اقسام
(۳) جراثیم کے افعال النا سے نہ ہروں اور امراض کی پیدائش
(۴) جراثیم سے اغذیہ وادویہ اور اشیاء میں تبدیلی اور پیدائش جیسے خمیر و تیز اب اور الکومل اسی طرح اس سے مختلف اقسام کے کیمیاوی تریاق اور اکسیری مقاصد کے لئے زہر بنانا جیسے پینسلین اور ویکسین وغیرہ
(۵) جراثیم کی کاشت اور پیدائش اور پرورش کے طریقے ۔
(6) جراثیم کی غذائیت ، ان کو رکھنا اور ان کی نسلیں تیار کرنا
۔ (۷) جراثیم سے مناعت پیدا کرنا اور انہی سے ادویات خاص طور پر حفظ صحت کے لئے ادویات بنانا۔ جیسے چیچک کے لیکے وغیرہ ۔ غرض اس کی وسعت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اس کا اندازہ بھی طوالت کا باعث ہے اور پھر مزید وسعت روز بروز بڑھ رہی ہے، پتہ نہیں کہاں جا کر ختم ہو۔
جراثیم اور شفایابی
علم الجراثیم کی اس قدر وسعت کے باوجود جہاں تک شفا امراض کا تعلق ہے اس میں آیور ویدک اور طب یونانی کے مقابلے میں فرنگی طلب کو کوئی کامیابی نہیں ہوئی اور حقیقت یہ ہے کہ ان کے مقابلے میں عشر عشیر کا میابی بھی نہیں ہوئی بلکہ اگر ماہیت امراض و اصول علاج اور مزاج و کیفیات کو سامنے رکھا جائے تو کہا جائے گا کہ فرنگی طب نے اپنے آپ کو اندھیرے وگمراہی میں دھکیل دیا ہے۔ اگر جراثیم کو جن بھوت قرار دے دیا جائے تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ فرنگی طب جہالت میں داخل ہوگئی ہے۔
یاد رکھیں کہ
جراثیم کش ادویات کا استعمال امراض میں شفا پیدا نہیں کر سکتا ۔ جراثیم مر سکتے ہیں لیکن مقام میں طاقت و امیونٹی اور قوت مدافعت پیدا نہیں کر سکتے۔ جس کی کمی اصل باعث تھی وہاں پر جراثیم کا اثر انداز ہونا اور پیدا ہونا اور جبکہ اصل سبب درست نہ ہو مرض ہرگز ہرگز نہیں جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ فرنگی معالج کی جراثیم کش ادویات جہاں نا کام ہوتی ہیں وہاں پر مخدرات سے کام لیتے ہیں۔ اس طرح الفیون و مارفیا، بھنگ، دھتورہ، اجوائن خراسانی اور کوکین وغیرہ سینکڑوں ادویات استعمال کر کے مریضوں کے اعصاب سُن کر رہے ہیں تا کہ احساس مرض ڈکار ہے۔ لیکن کب تک پھر جب ری ایکشن ہوتا ہے تو مریض موت کے غار میں چلا جاتا ہے۔ فرنگی ڈاکٹر افسوس کرتا رہتا ہے کہ فرنگی طب کی ایسی اکسیر ادویات بھی مریض کو بچا نہ سکیں۔
جراثیم کا تعلق اعضاء
فرنگی طلب نے تقسیم کے لحاظ سے جراثیم کی بنیادان کی شکل وصورت اور پیدائش امراض پر رکھی ہے۔ البتہ وہ خواص بھی شامل کر لئے ہیں جوان کے افعال و کاشت سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی بعض اقسام تو محض خصوصیات شکل کے دوسرے اقسام سے ممتاز ہوتے ہیں۔ لیکن بعض اقسام اگر چہ شکل میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں مگر اپنے خصائص افعال جدا رکھتے ہیں۔ اسی طرح بعض اقسام اپنے طریق کاشت کے لحاظ سے دوسروں سے الگ ہیں ۔ اسی وجہ سے شکل کے علاوہ تقسیم کے وقت ان دونوں باتوں کا بھی لحاظ کیا جاتا ہے۔ اس لئے فرنگی طب میں ان کی تین اقسام کی جاتی ہیں۔
(1) میسی لائی ( ونڈا نما) جن کو ہم علی کا نام دیتے ہیں ۔
(۲) کا کائی ( گیند نما) جن کو ہم کر دی کہتے ہیں۔
(۳) سپر لائی ( گھونگھا نما) جن کوحلزون یہ کہا جاتا ہے۔
لیکن فرنگی طب نے ان کی تقسیم بالاعضاء نہیں کی۔ اس وجہ سے ان کو جراثیم کے افعال واثرات اور ماہیت امراض وتخصیص علامات کے مجھنے میں بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے انہوں نے ایک ہی قسم کے جراثیم کو مختلف مقامات پر مختلف امراض کی شکل میں صرف امراض اور علامات کے نام سے تخصیص کر کے ماہیت امراض کو بیان کیا ہے۔ مثلا نمونیا کا کس اور گونو کا کس وغیرہ کو ذات الریہ اور سوزاک میں ایک ہی قسم کے جراثیم کا ذکر کیا ہے۔ اگر انہوں نے جراثیم کو بالاعضاء تحقیق کیا ہوتا تو وہ امراض و علامات کے ناموں سے موسوم کرنے کی بجائے اعضاء سے موسوم کرتے جن میں ان کے لیے سہولتیں بھی ہو تیں اور غلط فہمیاں بھی پیدا نہ ہوتیں۔ جیسے نمونیا کے لئے کا کس جراثیم کا نام دیا گیا ہے حالانکہ کا کائی پلوری پیدا کرتے ہیں۔ میمونیا پیدا نہیں کرتے۔ یوں سمجھ لیں کہ جو جراثیم ندود پراثر کرتے ہیں، اس قسم کے جراثیم تمام جسم میں غدود پر ہی اثر انداز ہوں گے۔ اور ان کی شکل بھی غدود سے مشابہت رکھتی ہوگی۔ یہی صورت اعصابی اور عضلاتی انسجہ ( ٹشوز ) میں پائی جانی لازمی ہے۔ اگر بعض جراثیم میں کم و بیش کچھ انیس ہیں کا فرق ہوگا تو اس کی وجہ سے وہاں کے اعصاب و عضلات میں اور غدد کی بناوٹ میں کمی بیشی لازی پائی جائے گی۔ ایسا ہونا یقینی ہے۔
جراثیم بالاعضاء
ماڈرن میڈیکل سائنس ( فرنگی طب ) نے جراثیم کی تین بڑی اقسام بیان کی ہیں۔ جیسا کہ ہم اوپر لکھ چکے ہیں، اگر آپ ان پر غور کریں تو اس کی تحقیق کے مطابق باتیں ایسی ہیں جو ان کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں:
(۱) شکل
(۳) خواص
(۳) اثرات ۔
یعنی شکل سے ان کی وضع و صورت ہے۔ خواص سے ان کی پیدائش سے لے کر آخر زندگی تک ان کی خصوصیات ہیں اور اثرات میں ان کے زہر ہیں اور قانون فطرت کی روشنی میں دیکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہر شکل وصورت واضح نہیں کبھی جاسکتی۔ سوائے قدرت کی فطرت کے اس قانون میں تبدیلی نہیں آسکتی۔ اس قدرت کے فطری قانون کے تحت جب جراثیم کی شکل وصورت اور وضع پر غور کریں تو اعضاء کی مناسبت کے مد نظر ان کے اقسام کی اس طرحبالاعضاء تطبیق ہوتی ہے:
(۱) مضی ۔
جن کو میسی لائی کہتے ہیں، اور ڈنڈا نما ہوتے ہیں بالکل اعصابی شکل و جسم اور کیفیات و ماحول رکھتے ہیں۔
(۲) حلزونیہ
جن کو اسپر لائی کہتے ہیں۔ گھونگھا نما ہوتے ہیں۔ وہ عضلاتی شکل و جسم اور کیفیات و ماحول رکھتے ہیں۔ البتہ جہاں جہاں اعصاب و غدد اور عضلات کے انجہ میں حالات کے مطابق چیز میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر خواص کو مد نظر رکھیں جو تینوں میں پیدائش سے آخر زندگی تک ان کے افعال و اعمال بالکل جدا جدا ہیں جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں اور جہاں تک اثرات زہر وامراض اور علامات پیدا کرنے کا تعقل ہے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ:
1.۔جوانیم عصی (Bacilli) ایسے ہی زہر و امراض اور علامات پیدا کرتے ہیں جن میں اعصابی انسجہ میں تحریک و تیزی پیدا ہو جاتی ہے۔ چاہے وہ جسم کے کسی حصہ میں کیوں نہ ہو۔ وہاں پر رطوبات کی زیادتی بلغم اور ریشہ (سکریشن ولمف ) کا جو غلبہ ہوگا جن کا اثر منہ سے لے کر مقعد تک اور تھوک سے لے کر اور ارتک زیادتی ہو گی۔ اگر اس تحریک میں بال برابر فرق ہو تو ہم ذمہ دار ہیں۔
جراثیم کرویہ (Cocci) ایسے زہر و امراض اور علامات پیدا کرتے ہیں جن میں غدی انسجہ میں تحریک و تیزی پیدا ہو جاتی ہے، چاہے وہ جسم کے کسی حصہ میں کیوں نہ پائے جائیں ، وہاں پر سوزش و جلن اور حرارت و صفراء کی زیادتی ہوگی۔ ناک و منہ سے لے کر پیشاب و پاخانہ تک جلسن و صفراء کا اثر نظر آئے گا۔ کوئی بھی ان حقائق سے انکار نہیں کر سکتا۔
یہی صورت جراثیم علونیہ (Spirula) کے زہر و علامات پیدا کرتے ہیں جن سے عضلاتی انسجہ میں

تحریک و تیزی رونما ہو جاتی ہے۔ چاہے وہ جسم کے کسی حصہ میں کیوں نہ ہوں۔ وہاں پر ترشی دریاح اور خشکی کی زیادتی ہوگی جن کا اثر

سر سے لے کر پاؤں تک ظاہر ہوگا۔ ذائقہ سے لے کر پیشاب تک میں ترقی پائی جائے گی۔ جس طرح اعصاب و عضلات اور غدد کی تحریکات یا بخم و سودا اور صفراء کے کیمیاوی اثرات ایک عضو یا اپنے مقام سے دوسرے عضو یا مقام تک پہنچ جاتے ہیں۔ اسی طرح جراثیم اور ان کے اثرات بھی ایک عضو یا مقام سے دوسرے عضو یا مقام تک چلے جاتے ہیں ۔ لیکن اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہ کریں کہ امراض اور علامات کبھی جراثیم اور ان کے زہر سے اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتے جب تک کسی مفرد عضو کے فعل میں تحریک و تسکین اور تحلیل میں زیادتی پیدا نہ ہو۔
یہ میں جراثیم کے متعلق ہماری تحقیقات ، جن کے متعلق ہمارا دعوی ہے کہ فرنگی طب اس سے بالکل ناواقف اور تہی دست ہے اور نہ ہی اس نہج پر اس نے اپنی تحقیقات کی ہیں۔

Related Articles

Leave a Comment

Contact Now

Get New Updates to Take Care Your Pet

Discover the art of creating a joyful and nurturing environment for your beloved pet.

Will be used in accordance with our  Privacy Policy

@2025 – All Right Reserved. Designed and Developed by Dilshad Bhai