Friday, June 12, 2026
Home Blog زہریلی ادویات اور پارے کا استعمال

زہریلی ادویات اور پارے کا استعمال

by admin
زہریلی ادویات اور پارے کا استعمال
زہریلی ادویات اور پارے کا استعمال
زہریلی ادویات اور پارے کا استعمال

زہریلی ادویات اور پارے کا استعمال
از: صابر ملتانی
ناقل۔حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
پہلی بات — احتیاط لازم ہے
برادران! میں نے ہمیشہ یہی کہا ہے اور آج بھی یہی کہتا ہوں کہ زہریلی ادویات سے جہاں تک ہو سکے، بچو۔ یہ دوائیں ہیں تو بڑی کارگر، مگر ان کا معاملہ آگ جیسا ہے — تاپنے کے کام آئے تو نعمت، ہاتھ لگ جائے تو عذاب۔ جب کوئی چارہ نہ ہو، تبھی انہیں استعمال کرو، اور تب بھی مقدار کم سے کم رکھو۔ اکسیرات اور تریاقات میں زہروں کی آمیزش ہوتی ہے، اس لیے ان میں ذرا سی لاپروائی بھاری پڑ سکتی ہے۔
پارہ — ایک عجیب و غریب دوا
پارے کو آتشک کے علاج میں آیورویدک، طب یونانی اور ہومیوپیتھی — تینوں طریقہ ہائے علاج نے آزمایا ہے اور تینوں نے اسے مفید پایا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ اس دوا کی اپنی خاصیت ہے۔
کیمیا کی زبان میں پارے کو
خام چاندی” کہتے ہیں۔ چاندی اور پارہ — دونوں اپنی خام حالت میں بلغم پیدا کرتے ہیں اور اعصاب پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ البتہ جب چاندی کا کشتہ بنایا جائے تو اس کا اثر عضلات کی طرف چلا جاتا ہے۔

پارے کی ایک خاصیت جو مجھے سب سے زیادہ حیران کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ جس دوا میں بھی ملے، اس کے اثر کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ یہ خوبی بہت کم ادویات میں ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے آیورویدک اور فرنگی طب میں اس کے ان گنت مرکبات ملتے ہیں۔

پارے کے چند مشہور مرکبات
پہلا مرکب — کجلی:
پارہ اور گندھک کو ہم وزن لے کر آدھ گھنٹہ کھرل کریں تو کجلی تیار ہو جاتی ہے، جسے بعض لوگ “بجلی” بھی کہتے ہیں۔ اس کے اثرات غدی اور عضلاتی ہوتے ہیں۔
میں نے اس نسخے میں ایک تبدیلی کی ہے جو میرے تجربے میں بہتر ثابت ہوئی ہے — پارہ ایک حصہ اور گندھک سات حصے۔ اس نسبت سے بنی کجلی نہ صرف زیادہ مفید ہے بلکہ منہ بھی نہیں آتا، جو پرانے نسخے میں ایک شکایت رہتی تھی۔
دوسرا مرکب — شنگرف:
گندھک اور پارے کو تانبے کے برتن میں پختہ کیا جاتا ہے۔ اس کے اثرات عضلاتی اور غدی ہیں۔
تیسرا مرکب — دارچکتا:
پارہ، نمک اور دیگر کیمیائی ادویات سے بنتا ہے۔ اس کے اثرات غدی اور اعصابی ہیں۔
چوتھا مرکب — سنگچھ:
پارہ اور سنکھیا کا ملاپ — عضلاتی اور اعصابی اثرات رکھتا ہے۔
پانچواں مرکب — کیلومل:
فرنگی طب کا مشہور مرکب۔ اس میں پارے کے اثرات کے ساتھ مسہل اور ملین خواص بھی ہیں۔ یاد رکھو، اسے دیتے وقت ساتھ کوئی ملین ضرور دو ورنہ فوراً تکلیف ہو گی۔
پارے کے رنگ اور اثرات
پارے کی ایک اور دلچسپ بات — اس کا رنگ بدلتا رہتا ہے اور ہر رنگ کے اثرات بھی الگ ہوتے ہیں:

  • گندھک میں ملے تو سیاہ ہو جاتا ہے
  • پختہ کریں تو شنگرفی سرخ بن جاتا ہے
  • نمک ملاؤ تو زردی مائل ہو جاتا ہے
  • نیلے تھوتھے میں ڈالو تو سلیٹی رنگ اختیار کر لیتا ہے
    ہر رنگ اپنے اندر ایک الگ طاقت رکھتا ہے — ضرورت پڑے تو اکسیر کا کام دیتا ہے۔

یاد رکھو: جس نسخے میں پارہ نہ ہو، وہ اکسیر کا کام نہیں کر سکتا، کیونکہ پارہ برق رفتاری سے عمل کرتا ہے۔

آتشک کے بارے میں کچھ ضروری باتیں
میری تحقیق یہ ہے کہ آتشک اگرچہ چھوت کا مرض ہے، مگر اس کی ابتداء بعض اوقات ایسی غذاؤں اور دواؤں سے بھی ہو سکتی ہے جو اعصاب میں تحریک بڑھائیں یا بلغم و رطوبت میں اضافہ کریں۔
پرہیز جو لازمی ہے:
جن لوگوں کو اعصابی تحریک یا بلغم کی شکایت ہو، انہیں ان چیزوں سے بچنا چاہیے:

  • ٹھنڈا پانی اور ٹھنڈی غذاؤں کی زیادتی
  • دریائی اور سمندری ماحول میں مسلسل رہنا
  • مچھلی اور سمندری جانوروں کا طویل استعمال
  • نمی اور رطوبت والی جگہوں میں پڑے رہنا
    معالج کے لیے ضروری ہدایات
    ۱۔ میل جول میں احتیاط:
    آتشک کے مریضوں کے ساتھ کھانے پینے اور میل جول سے پرہیز کریں۔
    ۲۔ شادی کا مسئلہ:
    جب تک مرض سے مکمل افاقہ نہ ہو، شادی نہ کی جائے۔ ورنہ یہ مرض بیوی کو، پھر بچوں کو، پھر ان کے دوستوں اور ہم جولیوں کو لگتا چلا جاتا ہے۔ سکول اور کالجوں میں ایسے بچوں کو داخلہ دینے سے پہلے معالج کی تصدیق ضروری ہونی چاہیے۔
    ۳۔ بیرونی زخموں کا معاملہ:
    اگر جسم پر زخم نہ ہوں تو مریض کو گھر سے باہر جانے سے نہ روکو۔ لیکن اگر زخموں میں تعفن آ جائے تو ہسپتال داخل کراؤ یا گھر میں رکھو تاکہ دوسرے محفوظ رہیں۔
    ۴۔ پیپ اور تعفن:
    جیسے ہی بدبودار پیپ اور جلن پیدا ہو، فوری علاج کرو۔ یہ پیپ جہاں لگے وہیں زخم بناتی ہے اور دوسروں میں بھی مرض پھیلاتی ہے۔
    ۵۔ پھوڑے اور زخم والے محتاط رہیں:
    جس کے جسم پر پھوڑے، زخم یا خارش ہو، اس پر آتشک کا حملہ جلدی ہوتا ہے — ایسوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
    ۶۔ غدود کا معاملہ:
    جب آتشک سے غدود متاثر ہوں اور تحلیل کے بعد کھچاؤ پیدا ہو، تو جسم میں فوری حرارت پیدا کرو۔ علاج کا مقصد یہ ہو کہ زخم، درد اور بہتی رطوبت جلد سے جلد ختم ہو۔ اور ایک بات خاص طور پر یاد رکھو — مکمل شفا تک قبض ہرگز نہ ہونے دو۔
    ۷۔ مقامی علاج بھی ضروری:
    اگر مرض صرف مخصوص اعضاء تک محدود ہو تو مقامی ادویات کا استعمال بھی ضروری ہے۔
    ۸۔ ہمت نہ ہارو:
    چاہے گوشت گلنے سڑنے لگے، علاج سے گھبراؤ نہیں۔ اکسیرات اور تریاقات کے ساتھ حرارت بڑھانے والی دوائیں بھی ساتھ دیتے رہو۔
    ۹۔ تشخیص پہلے، علاج بعد میں:
    ہمیشہ پہلے یہ جانو کہ زخم آتشک کے ہیں یا کسی اور مرض کے۔ نبض اور قارورہ سب سے بڑا ذریعہ تشخیص ہے۔ فرق یہ ہے کہ آتشک کے زخم سطح پر ہوتے ہیں، جبکہ دوسرے امراض کے زخم اندر سے باہر کی طرف آتے ہیں۔
    ۱۰۔ گلٹیوں کا علاج:
    جب جسم میں جگہ جگہ گلٹیاں بن جائیں تو سمجھو کہ حرارت کی کمی سے الحاقی مادے میں تختی پیدا ہو گئی ہے۔ یہ گلٹیاں بڑھ کر پھٹ جاتی ہیں اور بعض اوقات کئی گلٹیوں کے زخم مل کر ایک بہت بڑا زخم بنا دیتے ہیں۔
    ۱۱۔ بیماری کیسے بڑھتی ہے:
    پہلے الحاقی مادے میں تختی، پھر عضلات میں کھچاؤ اور زخم، پھر سوجن، اور آخر میں مرض ہڈیوں کی جھلی کو بھی نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے۔
    ۱۲۔ کمزور مریض کا خیال:
    اگر مریض بہت کمزور ہو گیا ہو تو علاج میں مقوی غذاؤں کا اضافہ کرو اور اسے صاف ستھرا رکھو۔ صفائی اور طاقتور غذا سے جسم میں توانائی آتی ہے اور مرض خود بخود کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

ماخوذ از: کلیات صابر، جلد دوم — جلد و دم

Related Articles

Leave a Comment

Contact Now

Get New Updates to Take Care Your Pet

Discover the art of creating a joyful and nurturing environment for your beloved pet.

Will be used in accordance with our  Privacy Policy

@2025 – All Right Reserved. Designed and Developed by Dilshad Bhai