Saturday, June 13, 2026
Home Blog طاقت کی اہمیت ،جو دکھتی نہیں، محسوس ہوتی ہے

طاقت کی اہمیت ،جو دکھتی نہیں، محسوس ہوتی ہے

by admin
طاقت کی اہمیت ،جو دکھتی نہیں، محسوس ہوتی ہے
طاقت کی اہمیت ،جو دکھتی نہیں، محسوس ہوتی ہے
طاقت کی اہمیت ،جو دکھتی نہیں، محسوس ہوتی ہے

طاقت کی اہمیت ،جو دکھتی نہیں، محسوس ہوتی ہے
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
زندگی میں ایک عجیب بات ہے طاقت کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب وہ چھن جاتی ہے۔ جب تک موجود ہو، آدمی بے پروا رہتا ہے۔ اور جب رخصت ہو جائے، تب سمجھ آتی ہے کہ یہ کتنی قیمتی نعمت تھی۔
میں نے اپنے طویل معالجاتی تجربے میں ایسے بے شمار لوگ دیکھے ہیں جو وزن کم کرنے کی دھن میں خوراک اس قدر گھٹا لیتے ہیں کہ جسم کا ڈھانچہ تو باقی رہتا ہے، مگر اندر سے وہ خالی ہو جاتے ہیں۔ تین روٹیوں کی جگہ دو، پھر ایک ،اور نتیجہ یہ کہ وزن تو کم ہوا لیکن ساتھ میں طاقت بھی رخصت ہو گئی۔ خاص طور پر لڑکیاں اس معاملے میں بہت آگے ہیں ۔ پتلا ہونے کی چاہ میں وہ اپنے جسم کے ساتھ جو سلوک کرتی ہیں، اس کا خمیازہ انہیں سالوں بھگتنا پڑتا ہے۔
جب دوا کام نہیں کرتی، اصل وجہ کیا ہے؟
معالج کے لیے سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب آزمودہ نسخے بھی بے اثر ثابت ہوں۔ مریض دوائیں کھاتا رہے، تدابیر اختیار کرتا رہے، مگر فائدہ نہ ہو۔ ایسے میں بے بس ہو کر کہہ دیا جاتا ہے کہ “یہ مرض لاعلاج ہے” یا “اس کی قسمت میں آرام نہیں۔
لیکن حقیقت اکثر اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔
اصل مسئلہ مرض نہیں، بلکہ کمزوری ہوتی ہے۔
جب جسم کے اعضاء میں اتنی سکت نہ رہے کہ وہ اپنے فرائض سرانجام دے سکیں، تو دوا چاہے کتنی ہی اعلیٰ ہو کام نہیں کرتی۔ دوا اثر دکھانے کے لیے بھی ایک صحت مند زمین چاہتی ہے۔
عملی مثالیں ، جب کمزوری بیماری بن جاتی ہے
پہلی مثال، بڑھاپے کی قبض
ساٹھ سال سے زائد عمر کے بزرگوں میں اکثر ایسی شدید قبض دیکھنے میں آتی ہے جو دو تین دن تک نہیں ٹوٹتی۔ تیز قبض کشا دوائیں دیں تو بیمار برداشت نہیں کر سکتا، ہلکی دوائیں دیں تو کام نہیں کرتیں۔ معالج بے بس ہو جاتا ہے۔


اس کی اصل وجہ سمجھیں۔ پاخانہ کو خارج کرنے کے لیے آنتوں کے عضلات کو حرکت کرنی پڑتی ہے۔ جسم انسانی میں تمام حرکات کا نظام عضلات کے ہاتھ میں ہے۔ معدہ خود ایک عضلاتی عضو ہے۔ جب یہ عضلات کمزور ہو جائیں تو نہ دوا کام کرے، نہ تدبیر۔ ایسے میں قبض کشا دوائیں دینے سے پہلے عضلات کو طاقت دینا ضروری ہے۔
دوسری مثال۔ بلغم اور بڑھاپے کی کمزوری
ایک جوان اور طاقتور آدمی کے گلے یا سینے میں بلغم جمع ہو تو وہ ایک ہی بار کھنکارے میں اسے دور پھینک دیتا ہے۔ لیکن ایک بوڑھے کے پاس بلغم کی مقدار شاید اتنی بھی نہیں ہوتی ۔ مگر وہ سارا دن زور لگاتا رہتا ہے اور بلغم نکلتا نہیں۔ کیونکہ نکالنے کے لیے جس طاقت کی ضرورت ہے، وہ موجود ہی نہیں۔
ایسے میں بلغم خارج کرنے والی دوائیں دینے کے ساتھ ساتھ طاقت بحال کرنے کی تدابیر لازمی کی جانی چاہئیں، ورنہ علاج ناکام ہو جائے گا۔
تیسری مثال، خون کی کمی اور بلڈ پریشر
جب خون میں ہیموگلوبن انتہائی کم ہو جائے تو بلڈ پریشر خود بخود گر جاتا ہے۔ ایسے مریض کو چاہے جتنا نمک کھلائیں یا انڈے دیں کچھ فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ خون ہی اتنا کم ہے کہ اس کا دباؤ بن ہی نہیں سکتا۔
یہاں بلڈ پریشر بڑھانے کی دوائیں دینا بے معنی ہے — پہلے خون پیدا کرنے کا بندوبست کرنا ہوگا۔
علاج کا اصل راستہ۔ غذا سے طاقت
اب سوال یہ ہے کہ طاقت کہاں سے آئے؟
یاد رکھیں — طاقت دوا سے نہیں آتی، غذا سے آتی ہے۔
دوا مرض دور کرتی ہے، غذا جسم بناتی ہے۔ اور غذا بھی وہ جو جسم کی اس وقت کی ضرورت کے مطابق ہو۔ جو چیز خون میں کم ہو، وہ پوری کی جائے۔ جو زیادہ ہو، اسے بند کیا جائے۔
عضلاتی کمزوری کے لیے
جب عضلات کمزور ہوں تو انہیں تقویت دینے والی غذائیں استعمال کرائی جائیں، جیسے:
حلوہ بیضہ مرغ
چٹنی مقوی قلب و مولد خون
کشمش اور بھنے چنے
مربہ آملہ
غدی کمزوری کے لیے
غدود کی تسکین دور کرنے کے لیے غدی مقویات استعمال ہوں، جیسے
ادرک کے پانی کا حلوہ
مقوی جگر و مولد خون
آم کا مربہ
دیگر غدی مقویات
اعصابی کمزوری کے لیے
اعصاب کو تقویت دینے کے لیے اعصابی مقویات بہترین ہیں، جیسے:
حلوہ بادام
حریرہ بادام
ہڈی کی یخنی یا سری پائے
چٹنی مقوی اعصاب و مولد خون
آج کی دنیا — غذائی سائنس کا انقلاب
دنیا آج فوڈ سپلیمنٹ اور غذائی اجزاء کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نیوٹریشن کی دنیا میں انقلاب آ چکا ہے۔ خشک پھلوں اور سبزیوں سے غذائی ضروریات پوری کرنا اب ایک مانی ہوئی سچائی بن چکی ہے۔
ہمارے دیسی معالجین اور حکماء کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ بھی اس میدان میں آگے بڑھیں اور اپنے قدیم علم کو جدید غذائی تحقیق کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔
آخری بات
بڑی بڑی دواؤں سے پہلے یہ سوچیں کہ مریض کے جسم میں طاقت ہے بھی یا نہیں۔ اگر نہیں ہے تو پہلے وہ بحال کریں — پھر دوا کام کرے گی، پھر علاج کامیاب ہوگا۔

غذائی مقویات کوئی معمولی چیز نہیں — یہ وہ بنیاد ہے جس پر علاج کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔

Related Articles

Leave a Comment

Contact Now

Get New Updates to Take Care Your Pet

Discover the art of creating a joyful and nurturing environment for your beloved pet.

Will be used in accordance with our  Privacy Policy

@2025 – All Right Reserved. Designed and Developed by Dilshad Bhai