
قhttps://tibbilife.com/رآن مجید میں انسانی تخلیق کا تصور
اور آیت “یَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ” کی وضاحت
یہ آیت سورۃ الطارق (86:5-7) سے ہے:
فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ
ترجمہ: “پس انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا۔ ایک پانی کے جھٹکے سے پیدا کیا گیا جو نکلتا ہے پیٹھ کی ہڈی (صلب) اور سینے کی ہڈیوں (ترائب) کے درمیان سے۔”
آیت کا بنیادی مفہوم
- ماءٍ دَافِقٍ: جهنے والا، پھٹنے والا پانی (نطفہ یا منی کا مایع)۔
- صلب (Sulb): پیٹھ، کمر، یا loin/backbone (مرد کی طرف اشارہ)۔
- ترائب (Tara’ib): سینے کی ہڈیاں، collarbones/ribs کا علاقہ (بعض تفاسیر میں عورت کی طرف بھی)۔
قرآن اس سے انسانی تخلیق کی ابتداء (نطفہ) کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو اللہ کی قدرت کی نشانی ہے، اور قیامت کے دن دوبارہ اٹھنے کی دلیل دیتا ہے۔ یہ آیت 7ویں صدی میں نازل ہوئی جب جدید سائنس نہ تھی۔
مختلف تفسیریں (Tafsirs)

علماء کی رائے مختلف ہے:
- مرد اور عورت دونوں سے متعلق: نطفہ مرد کا “صلب” (کمر/پیٹھ) سے اور عورت کا “ترائب” (سینے کے علاقے) سے نکلتا ہے۔ (بعض قدیم تفاسیر جیسے ابن کثیر)۔
- ایک ہی شخص (مرد) کا: منی کا مایع جسم کے اندرونی حصوں سے نکلتا ہے جو پیٹھ اور سینے کے درمیان ہیں۔
- تخلیقی/embryological origin: نطفہ بنانے والے اجزاء (germ cells) کا آغاز جنین میں پیٹھ (vertebral column) اور ribs کے قریب سے ہوتا ہے۔
سائنسی پہلو (Scientific Discussions)
یہ آیت سائنس اور قرآن کے “معجزاتی” موازنہ میں بہت زیر بحث رہی ہے۔ کچھ اہم نکات:
- منی کا مایع (Semen): Sperm تو testes میں بنتا ہے، لیکن semen (کل مایع) کا بڑا حصہ (70% سے زیادہ) seminal vesicles اور prostate gland سے آتا ہے، جو pelvic region میں backbone (sacrum) کے قریب اور ribs سے نیچے واقع ہیں۔ یہ “between the loins/backbone and ribs” والے علاقے سے مطابقت رکھتا ہے۔
- Embryology (جنینیاتی ارتقاء): جنین کی ابتدائی مراحل میں gonads (testes/ovaries) kidneys کے قریب (lumbar region، backbone کے پاس) بنتے ہیں اور بعد میں نیچے descend کرتے ہیں۔ Primordial germ cells بھی اسی علاقے (backbone اور ribs کے درمیان) سے migrate کرتے ہیں۔ یہ تفسیر بہت مشہور ہے۔
- تنقید: کچھ ناقدین کہتے ہیں کہ آیت testes کو backbone/ribs سے جوڑتی ہے، جو غلط ہے (قدیم یونانی نظریات سے ملتی جلتی)۔ تاہم، defenders کہتے ہیں کہ آیت “ماء دافق” (کل fluid) کی بات کرتی ہے، نہ کہ صرف sperm کی، اور “یخرج” خروج/منشأ دونوں پر लागو ہو سکتا ہے۔
یخرج من بین الصلب والترائب: تفسیر، طبِ قدیم اور جدید میڈیکل سائنس کا ایک تقابلی اور تحقیقی جائزہ
قرآنِ کریم کی سورہ الطارق کی آیات 5 تا 7 انسانی تخلیق کے ایک ایسے پہلو کو بیان کرتی ہیں جو صدیوں سے مفسرین، ماہرینِ لغت، اطباء اور حال ہی میں جدید میڈیکل سائنس کے ماہرین کے درمیان بحث اور تحقیق کا مرکز رہا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ (5) خُلِقَ مِنْ مَاءٍ دَافِقٍ (6) يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ (7)”۔ ان آیات کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ غور کرے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے؟ وہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے 1۔ اس قرآنی بیان کی تشریح میں جہاں قدیم مفسرین نے اپنے عہد کے لسانی اور طبی علم کو بروئے کار لایا، وہاں جدید سائنس نے جنین (Embryo) کے ارتقاء اور انسانی اناٹومی کے ذریعے اس کی ایسی تہوں کو واضح کیا ہے جو ماضی میں پوشیدہ تھیں 4۔ یہ رپورٹ اس آیت کے مفہوم کو علمِ تفسیر، حدیثِ نبوی، طبِ یونانی اور جدید طب کی روشنی میں تفصیل سے واضح کرنے کی ایک کوشش ہے۔
لسانی تحقیق اور کلاسیکی مفسرین کی آراء
آیت کے حقیقی مفہوم تک پہنچنے کے لیے سب سے پہلے “صلب” اور “ترائب” کے الفاظ کی لسانی بنیادوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ عربی لغت میں “الصلب” (Sulb) سے مراد کوئی بھی سخت اور مضبوط چیز ہے، اور اصطلاحی طور پر یہ انسانی جسم میں ریڑھ کی ہڈی یا پشت کے علاقے کے لیے استعمال ہوتا ہے 4۔ دوسری طرف “الترائب” (Tara’ib) “تریبہ” کی جمع ہے، جس کے معنی سینے کی ہڈیاں یا وہ مقام ہے جہاں ہار پہنا جاتا ہے 9۔
کلاسیکی مفسرین کے ہاں ان الفاظ کی تشریح میں تین بنیادی مکاتبِ فکر پائے جاتے ہیں:
- مرد اور عورت کا مشترکہ نطفہ: مفسرین کی ایک بڑی جماعت، جن میں ابن عباس، عکرمہ، سعید بن جبیر اور قتادہ شامل ہیں، کا خیال ہے کہ “صلب” سے مراد مرد کی پشت ہے اور “ترائب” سے مراد عورت کا سینہ یا اس کی پسلیاں ہیں 5۔ ان کے نزدیک انسان کی تخلیق مرد اور عورت دونوں کے پانی کے ملاپ سے ہوتی ہے، جس میں مرد کا حصہ صلب سے اور عورت کا ترائب سے آتا ہے 10۔
- صرف مرد کی اناٹومی: بعض مفسرین، جیسے ابن القیم، اس بات کی طرف مائل ہیں کہ “ماءِ دافق” (اچھلتا ہوا پانی) کی صفت صرف مرد کی منی کے لیے موزوں ہے، لہٰذا صلب اور ترائب دونوں کا تعلق مرد کے جسم ہی کے ایک مخصوص حصے سے ہے جو اس کی پیٹھ اور پسلیوں کے درمیان واقع ہے 5۔
- کنایہ اور استعارہ: بعض علماء نے اسے ایک کنایہ قرار دیا ہے جس کا مقصد انسان کو اس کی عاجزانہ ابتدا کی یاد دلانا ہے، یعنی وہ جسم کے اندرونی حصوں سے نکلنے والے ایک حقیر قطرے سے بنا ہے 14۔
کلاسیکی تفسیری اقوال کا تقابلی جائزہ
| مفسر / صحابی | صلب کا مفہوم | ترائب کا مفہوم | مراد |
| ابن عباس (رض) | مرد کی ریڑھ کی ہڈی | عورت کا وہ مقام جہاں ہار پہنا جاتا ہے (سینہ) | مرد اور عورت دونوں کا تولیدی مادہ 9 |
| سعید بن جبیر | پشت کا حصہ | سینے کی چار پسلیاں | انسانی تخلیق کا منبع 9 |
| عکرمہ | ریڑھ کی ہڈی | ہاتھ، پاؤں اور آنکھوں کے درمیان کا حصہ (مختلف روایت) | پورے جسم کا نچوڑ 9 |
| ابن القیم | مرد کی پشت | مرد کے سینے کی نچلی پسلیاں | صرف مرد کا مادہ منویہ 5 |
| معمر بن ابی حبیبہ | – | دل کا نچوڑ (عصارة القلب) | قلب سے تعلق 9 |
اس لسانی تنوع سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم مفسرین نے اس آیت کو انسانی وجود کے مرکز اور اس کے جوہر کی علامت کے طور پر دیکھا۔ ان کے نزدیک یہ محض ایک اناٹومیکل بیان نہیں تھا بلکہ اللہ کی قدرت کا ایک شاہکار تھا کہ کس طرح ہڈیوں کے درمیان سے زندگی کا چشمہ پھوٹتا ہے 16۔
طبِ قدیم (یونانی اور اسلامی طب) کا نقطہ نظر
قدیم اطباء، جیسے جالینوس (Galen) اور بقراط (Hippocrates)، کے نظریات نے قرونِ وسطیٰ کے اسلامی مفسرین کے طبی فہم پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ طبِ یونانی میں یہ نظریہ عام تھا کہ منی (Semen) پورے جسم سے کشید ہو کر آتی ہے، لیکن اس کا بنیادی مرکز دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کا گودا ہے 7۔
بقراط کا نظریہ “پین جینیسس” (Pangenesis) یہ کہتا تھا کہ تولیدی مادہ جسم کے ہر حصے سے، خاص طور پر دماغ اور ریڑھ کی ہڈی سے رگوں کے ذریعے گردوں اور پھر خصیوں (Testes) تک پہنچتا ہے 7۔ اسی طرح جالینوس کا خیال تھا کہ ریڑھ کی ہڈی اور گردوں کا علاقہ منی کی تیاری میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ وہاں خون کو حرارتِ غریزی کے ذریعے منی میں تبدیل کیا جاتا ہے 12۔
اسلامی دور کے عظیم طبیب، جیسے ابنِ سینا (Avicenna) اور رازی (Rhazes)، نے ان نظریات کو مزید مستحکم کیا 18۔ طبِ یونانی (Unani Tibb) کے مطابق:
- منی کی پیدائش میں اعضائے رئیسہ (دل، جگر، دماغ) کا بڑا عمل دخل ہے 8۔
- ریڑھ کی ہڈی (صلب) کو دماغ کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا کیونکہ حرام مغز (Spinal Cord) اسی کے اندر واقع ہے 8۔
- قدیم اطباء کے نزدیک مادہ منویہ کا ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیانی علاقے سے تعلق ایک مسلمہ طبی حقیقت تھی 12۔
یہ تاریخی پس منظر ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کیوں قدیم مفسرین نے “صلب” کو مرد کی پشت سے تعبیر کیا؛ ان کے نزدیک یہ محض ایک روایتی بات نہیں تھی بلکہ اس وقت کی سب سے ترقی یافتہ طبی تحقیق کے مطابق تھی 12۔
جدید میڈیکل سائنس اور جنین کا ارتقاء
جدید طب، خاص طور پر علمِ جنین (Embryology)، نے اس آیت کی تشریح کے لیے بالکل نئے افق کھولے ہیں۔ جب ہم جدید میڈیکل سائنس کی روشنی میں “صلب اور ترائب کے درمیان” کے فقرے کو دیکھتے ہیں، تو چند انتہائی حیرت انگیز حقائق سامنے آتے ہیں جو براہِ راست تولیدی نظام کے آغاز سے متعلق ہیں 4۔
تولیدی غدود (Gonads) کی ابتدا
انسان کے تولیدی غدود، یعنی مرد میں خصیے (Testes) اور عورت میں بیضہ دانی (Ovaries)، حمل کے ابتدائی ہفتوں میں اپنی مستقل جگہ (کمر کے نیچے یا پیلویس) پر موجود نہیں ہوتے 4۔
- ابتدائی مقام: جنین کے ارتقاء کے پانچویں ہفتے میں یہ غدود پیٹ کے اوپری حصے میں، گردوں کے قریب بننا شروع ہوتے ہیں 4۔
- صلب اور ترائب کے درمیان: یہ مقام ریڑھ کی ہڈی (صلب) اور نچلی پسلیوں (ترائب) کے بالکل درمیان میں واقع ہے، جسے طبی اصطلاح میں “یورو جینیٹل رج” (Urogenital Ridge) کہا جاتا ہے 4۔
- ورٹیبرل لیول: اناٹومی کے مطابق یہ مقام دسویں تھوراسک ورٹیبرا (
) سے لے کر دوسری لمبر ورٹیبرا (
) تک پھیلا ہوا ہوتا ہے 4۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ چاہے بالغ انسان میں خصیے جسم سے باہر ہوں یا بیضہ دانی پیلویس میں، ان کی اصل پیدائش اور خلیاتی بنیاد اسی مقام پر ہے جسے قرآن نے صلب اور ترائب کے درمیان سے تعبیر کیا ہے 4۔
خون اور اعصاب کی فراہمی (Vascular and Nerve Supply)
تولیدی غدود اپنے ارتقائی سفر کے دوران نیچے کی طرف ہجرت (Descent) کرتے ہیں، لیکن وہ اپنا خون کا کنکشن اور اعصابی رشتہ اپنے اصل مقام (صلب اور ترائب کے درمیان) سے ہی برقرار رکھتے ہیں 4۔
| ساختی پہلو | جدید طبی حقیقت | قرآنی مطابقت |
| شریانیں (Arteries) | خصیوں اور بیضہ دانی کو خون پہنچانے والی شریانیں (Testicular/Ovarian Arteries) پیٹ کی بڑی شریان (Abdominal Aorta) سے | یہ مقام صلب اور نچلی پسلیوں کے درمیان ہے 4۔ |
| اعصابی نظام (Nerves) | تولیدی افعال کو کنٹرول کرنے والے اعصاب ریڑھ کی ہڈی کے | اعصابی مرکز صلب (Spinal Cord) کے اندر اور ترائب کے سائے میں ہے 3۔ |
| لمفیٹک ڈرینیج | خصیوں کا لمفیٹک نظام واپس گردوں کے پاس صلب کے علاقے میں جاتا ہے 4۔ | اپنی اصل کی طرف واپسی 4۔ |
یہ طبی حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگرچہ مادہ منویہ کا اخراج بالغ جسم میں ایک مختلف مقام سے ہوتا ہے، لیکن اس کی تمام تر حیاتیاتی توانائی، خوراک (خون) اور احکامات (اعصاب) اسی “صلب اور ترائب” کے درمیانی علاقے سے صادر ہوتے ہیں 3۔
حدیثِ نبوی اور قدیم مفسرین کے تناظر میں تخلیق کا عمل
حدیثِ مبارکہ میں بھی انسانی تخلیق کے ان مراحل کا ذکر ملتا ہے جو قرآن کی ان آیات کی مزید وضاحت کرتے ہیں۔ ایک مشہور حدیث میں ذکر ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سے ایک یہودی عالم نے بچے کی پیدائش کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے مرد اور عورت کے پانی کے ملاپ کا ذکر فرمایا 17۔
مفسرین کا نکتہ نظر: مرد اور عورت کا حصہ
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ “ماءِ دافق” میں مرد اور عورت دونوں کا پانی شامل ہے 5۔ قدیم تفاسیر میں یہ تصور ملتا ہے کہ مرد کا مادہ صلب (ہڈیوں اور اعصاب) کی بنیاد بنتا ہے، جبکہ عورت کا مادہ ترائب سے نکل کر گوشت اور خون کی تشکیل کرتا ہے 9۔ اگرچہ جدید جینیات (Genetics) نے ثابت کیا ہے کہ دونوں والدین کے کروموسومز ہر خلیے کی بنیاد بنتے ہیں، لیکن قرآن کا “ماءِ مخلوط” (Surah Al-Insan 76:2) کا تصور اس “ماءِ دافق” کے تصور کی تکمیل کرتا ہے جو صلب اور ترائب سے نکلتا ہے 3۔
سید قطب “فی ظلال القرآن” میں لکھتے ہیں کہ یہ آیات انسان کو ایک ایسے حیرت انگیز سفر کی یاد دلاتی ہیں جو ایک بے عقل خلیے سے شروع ہو کر ایک پیچیدہ انسان پر ختم ہوتا ہے 16۔ وہ اس “دستِ قدرت” کا ذکر کرتے ہیں جو ان خلیات کی رہنمائی کرتا ہے کہ وہ کہاں سے نکلیں گے اور کس طرح ایک کامل ڈھانچہ تیار کریں گے 16۔
میڈیکل سائنس کی روشنی میں انزال (Ejaculation) کا عمل
آیت 7 میں لفظ “يخرج” (نکلتا ہے) کا استعمال ہوا ہے۔ بعض جدید محققین نے اسے انزال کے عصبی میکانزم سے جوڑا ہے۔
- عصبی مراکز (Nerve Centers): منی کے اخراج کا حکم ریڑھ کی ہڈی (صلب) کے ان مراکز سے ملتا ہے جو نچلی پسلیوں (ترائب) کے متوازی واقع ہیں (
) 3۔
- سمپیتھٹک سپلائی: انزال کے لیے ذمہ دار سمپیتھٹک اعصاب (Sympathetic Nerves) اسی علاقے سے نکل کر جنسی اعضاء تک پہنچتے ہیں 3۔
- طبی مطابقت: اگر اس ریڑھ کی ہڈی کے علاقے (
سے
) میں کوئی چوٹ لگ جائے تو انسان تولیدی صلاحیت سے محروم ہو سکتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ “نکلنے” کا اصل نظام وہیں موجود ہے 6۔
اس لحاظ سے “یخرج من بین الصلب والترائب” کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ ‘قوت’ یا ‘حکم’ جو اس مائع کو حرکت دیتا ہے، وہ صلب اور ترائب کے درمیان سے صادر ہوتا ہے 3۔
جدید میڈیکل بمقابلہ قدیم تفسیری تصورات
جدید میڈیکل سائنس اور قدیم تفاسیر کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے مندرجہ ذیل جدول انتہائی مفید ہے:
| موضوع | قدیم تفسیری تصور | جدید میڈیکل حقیقت | ہم آہنگی کا نکتہ |
| نطفہ کا منبع | ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان سے جسمانی طور پر نکلنا 12 | جنین میں تولیدی غدود کی پیدائش | قرآن نے ‘اصل’ اور ‘ابتدا’ کو بیان کیا ہے 5 |
| ترائب کا مطلب | عورت کا سینہ یا پسلیاں 5 | نچلی پسلیاں (11ویں اور 12ویں) 4 | ترائب کا لفظ پسلیوں کے وسیع علاقے کا احاطہ کرتا ہے 7 |
| ماءِ دافق | صرف مرد کی منی 5 | مرد کی منی اور عورت کا بیضوی مائع (Follicular Fluid) 4 | دونوں مائعات ‘جست’ کرتے ہوئے خارج ہوتے ہیں 4 |
| صلب کی اہمیت | پشت کی ہڈی سے طاقت کا آنا 8 | اعصابی مرکز اور خون کی فراہمی کا مقام 3 | صلب جسم کا مرکز اور اعصابی شاہراہ ہے 8 |
معارف القرآن (مفتی محمد شفیع) کی تشریح کا خلاصہ
پاکستان کے جید عالم دین مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنی تفسیر “معارف القرآن” میں اس آیت پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ان کے مطابق:
- مادہ منویہ کی تخلیق میں انسان کے پورے جسم کا خلاصہ شامل ہوتا ہے، لیکن ریڑھ کی ہڈی اور اس کے اعصاب اس میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں 20۔
- دماغ منی کی تیاری کا اصل مرکز ہے، اور حرام مغز (Spinal Cord) جو صلب کے اندر ہے، اس کا نمائندہ ہے 8۔
- عورت کے حوالے سے “ترائب” کا ذکر اس لیے کیا گیا کیونکہ عورت کے تولیدی نظام کے بعض اہم مراکز سینے کی ہڈیوں کے قریب واقع اعصاب سے جڑے ہوئے ہیں 20۔
- وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قرآن کا مقصد کوئی اناٹومی کا درس دینا نہیں بلکہ انسان کو اس کی تخلیق کی عظمت دکھا کر خالق کی طرف متوجہ کرنا ہے 20۔
متبادل علمی تشریحات
کچھ جدید علماء، جیسے عبدالحلیم اور دیگر، ایک مختلف زاویہ نظر پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک:
- بچے کی پیدائش: آیت 7 میں “یخرج” کا فاعل مادہ منویہ نہیں بلکہ خود “انسان” ہے 3۔ یعنی انسان اپنی ماں کے پیٹ سے نکلتا ہے، جو کہ صلب (کمر) اور ترائب (سامنے کی پسلیوں/بچہ دانی کے علاقے) کے درمیان واقع ہے 3۔
- سیاق و سباق: چونکہ اگلی آیت “اِنَّہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ” (بے شک وہ اسے واپس لانے پر قادر ہے) انسان کی دوبارہ زندگی کی بات کرتی ہے، اس لیے یہاں بھی انسان کی پیدائش کا ذکر زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے 3۔
- لسانی بنیاد: اس تشریح کے مطابق صلب اور ترائب سے مراد وہ پورا دھڑ (Torso) ہے جس کے اندر بچہ دانی موجود ہوتی ہے اور جہاں سے بچہ جنم لیتا ہے 12۔
یہ تشریح سائنسی اعتراضات کو سرے سے ختم کر دیتی ہے کیونکہ یہ مائع کی جگہ انسان کے ‘ظہور’ کی بات کرتی ہے 15۔
اخلاقی اور روحانی نتائج
قرآن مجید جب ان حقائق کو بیان کرتا ہے تو اس کا اصل مقصد انسان کے اندر عاجزی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ سید قطب کے بقول، یہ ایک سادہ خلیہ ہے جس میں کوئی عقل یا ارادہ نہیں ہوتا، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسے آنکھ کہاں بنانی ہے اور دل کہاں دھڑکانا ہے 16۔ یہ خلیات قدرتِ الٰہی کے اس نقشے کی پیروی کرتے ہیں جو صلب اور ترائب کے درمیانی علاقے سے شروع ہوتا ہے اور ایک عظیم ہیکل انسانی کی صورت میں مکمل ہوتا ہے 16۔
اس پورے عمل پر غور کرنے سے چند اہم نکات سامنے آتے ہیں:
- جس رب نے صلب اور ترائب کے ہڈیوں والے سخت مقام سے ایک نرم و نازک زندگی برآمد کی، وہ اسے دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے 1۔
- تخلیقِ انسانی کی پیچیدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کائنات کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک عظیم ڈیزائنر کی تخلیق ہے 16۔
- قرآن کے الفاظ “بین الصلب والترائب” اتنے جامع ہیں کہ وہ 7ویں صدی کے بدو کے لیے بھی قابلِ فہم تھے اور 21ویں صدی کے ایمبریولوجسٹ کے لیے بھی ایک معمہ اور انکشاف ہیں 6۔
خلاصہ بحث
یخرج من بین الصلب والترائب کے مفہوم پر کی جانے والی اس تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ قرآنی جملہ اپنے اندر کئی جہتیں رکھتا ہے۔ حدیث اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں یہ مرد اور عورت کے تولیدی مادے کی اصل اور مرکز کی طرف اشارہ ہے 9۔ طبِ قدیم کے تناظر میں یہ اس دور کے طبی نظریات سے ہم آہنگ ایک بیان تھا جس نے انسان کے جوہر کو اس کے مرکزی ڈھانچے سے جوڑا 12۔ جبکہ جدید میڈیکل سائنس کی روشنی میں یہ جنین کے ارتقاء، خصیوں اور بیضہ دانی کی ابتدائی نشوونما کے مقام () اور ان کی خون و اعصاب کی فراہمی کی بالکل درست نشاندہی کرتا ہے 4۔ چاہے اسے مادہ منویہ کے اخراج کا عصبی نظام مانا جائے یا بچے کی پیدائش کا مقام، ہر صورت میں یہ قرآن کے معجزانہ بیان اور کلامِ الٰہی ہونے پر ایک قوی دلیل فراہم کرتا ہے 3۔
Works cited
- خلق من ماء دافق يخرج من بين الصلب والترائب إنه على رجعه لقادر, accessed on May 5, 2026, https://www.dawateislami.net/quran/surah-at-tariq/ayat-6/translation-2/tafseer
- اردو ترجمہ عرفان القرآن سورہ الطارق – ڈاکٹر محمد طاہرالقادری – Irfan-ul-Quran, accessed on May 5, 2026, https://www.irfan-ul-quran.com/urdu/Surah-at-Tariq-with-urdu-translation
- Why does the Quran state that semen originates from a spot between the backbone and ribs? – Quora, accessed on May 5, 2026, https://www.quora.com/Why-does-the-Quran-state-that-semen-originates-from-a-spot-between-the-backbone-and-ribs
- Sperma originated from tests, according to genetics. The Quran says it originated from a backbone and ribs. What is the difference? – Quora, accessed on May 5, 2026, https://www.quora.com/Sperma-originated-from-tests-according-to-genetics-The-Quran-says-it-originated-from-a-backbone-and-ribs-What-is-the-difference
- Commentary on the verse “He is created from a water gushing forth, Proceeding from between the back-bone and the ribs” [at-Taariq 86:6-7] – Islam Question & Answer, accessed on May 5, 2026, https://islamqa.info/en/answers/118879
- I’ve a question about the Quran. Allah says: ”yakhruju min baini sulbi wa taraaib” What do you say about this? – Muslim Converts, accessed on May 5, 2026, https://muslimconverts.com/islam-and-science/FAQ-13.htm
- Where does the Quranic idea that sperm comes from between “the backbone and the ribs” come from? : r/AcademicQuran – Reddit, accessed on May 5, 2026, https://www.reddit.com/r/AcademicQuran/comments/19colbi/where_does_the_quranic_idea_that_sperm_comes_from/
- سورة الطارق – آیت 7 – مکتبہ شاملہ (اردو), accessed on May 5, 2026, https://shamilaurdu.com/quran/tarjumah-fahm-ul-quran/tafseer-tayseer-ul-quran/6022/
- تفسیر سورہ الطارق – 7 – Quran.com, accessed on May 5, 2026, https://quran.com/ur/86:7/tafsirs/ar-tafseer-al-qurtubi
- Surah tariq Ayat 7 Urdu tafseer | سورہ طارق کی آیت نمبر 7 کی تفسیر, accessed on May 5, 2026, https://surahquran.com/tafsir-Urdu-aya-7-sora-86.html
- القرآن الكريم – تفسير ابن كثير – تفسير سورة الطارق – الآية 7 – المصحف الإلكتروني, accessed on May 5, 2026, https://quran.ksu.edu.sa/tafseer/katheer/sura86-aya7.html
- Did early Muslims believe “semen” is from the backbone and the ribs? As opposed to modern apologetic interpretations : r/AcademicQuran – Reddit, accessed on May 5, 2026, https://www.reddit.com/r/AcademicQuran/comments/1pwsoxh/did_early_muslims_believe_semen_is_from_the/
- Between the Backbone and the Ribs: A Medical Phenomenon Revealed in the Qur’an Islamic Perspective – Semantic Scholar, accessed on May 5, 2026, https://pdfs.semanticscholar.org/8658/ce8be6bd645475b3fd98dbba504579d7786c.pdf
- On Scientific Miracles in the Qur’an Guest Editorial – Semantic Scholar, accessed on May 5, 2026, https://pdfs.semanticscholar.org/62ba/1bbb352a1787317726fcd89e6c8aa6e81009.pdf
- Need your help with 86:7 ! : r/progressive_islam – Reddit, accessed on May 5, 2026, https://www.reddit.com/r/progressive_islam/comments/110ga28/need_your_help_with_867/
- تفسیر سورہ الطارق – 7 – Quran.com, accessed on May 5, 2026, https://quran.com/ur/86:7/tafsirs/tafsir-fe-zalul-quran-syed-qatab
- Concept about Fertilization in Unani System of Medicine – International Journal of Health Sciences and Research, accessed on May 5, 2026, https://www.ijhsr.org/IJHSR_Vol.14_Issue.1_Jan2024/IJHSR20.pdf
- Unani medicine | Ancient Healing Practices & Benefits – Britannica, accessed on May 5, 2026, https://www.britannica.com/science/Unani-medicine
- (PDF) Functional explanation of reproductive organs in perspective of Unani Medicine, accessed on May 5, 2026, https://www.researchgate.net/publication/385343590_Functional_explanation_of_reproductive_organs_in_perspective_of_Unani_Medicine
- Tafsir Surah At-Tariq – 7 – Quran.com, accessed on May 5, 2026, https://quran.com/86:7/tafsirs/en-tafsir-maarif-ul-quran
- Anatomy, Abdomen and Pelvis, Splanchnic Nerves – StatPearls – NCBI Bookshelf – NIH, accessed on May 5, 2026, https://www.ncbi.nlm.nih.gov/books/NBK560504/
- Anatomy and physiology of chronic scrotal pain – Translational Andrology and Urology, accessed on May 5, 2026, https://tau.amegroups.org/article/view/14984/html
- Reproductive fluids mentioned in 86:5-7 | Topics from The Book (Al-Kitab), accessed on May 5, 2026, https://topicsfromquran.com/2018/01/08/reproductive-fluids-mentioned-in-865-7/
- Does the Qur’ān make a mistake on where semen or sperm is produced? – Sapience Institute, accessed on May 5, 2026, https://www.sapienceinstitute.org/does-the-quran-make-a-mistake-on-where-semen-or-sperm-is-produced/
- خلق من ماء دافق يخرج من بين الصلب والترائب إنه على رجعه لقادر – Dawateislami, accessed on May 5, 2026, https://www.dawateislami.net/quran/surah-at-tariq/ayat-7/translation-2/tafseer
- The Quran and Modern Science – Dr. Maurice Bucaille, accessed on May 5, 2026, https://archive.org/download/TheQuranAndModernScience-Dr.MauriceBucaille/en_The_Quran_and_Modern_Science_colored_text.pdf
- The Emergence of the Semen Between Backbone and the Ribs: Review of the Scholars’ Interpretation of Surah At-Tariq Verse 7, accessed on May 5, 2026, https://oarep.usim.edu.my/bitstreams/77b8c388-20cb-44fd-a903-48504e4f4c1f/download
- The Bible, The Qur’an and Science | Al-Islam.org, accessed on May 5, 2026, https://al-islam.org/bible-quran-and-science-maurice-bucaille