Sunday, April 26, 2026
Home عملیات طب،نفسیات۔جذبات

طب،نفسیات۔جذبات

by admin
طب،نفسیات۔جذبات
طب،نفسیات۔جذبات
طب،نفسیات۔جذبات

طب،نفسیات۔جذبات
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
(یہ ہماری کتاب جادو اور جنات کا طبی علاج ۔سے اقتباس ہے۔جسے نظر ثانی اور مزید پندرہ سالہ تجربات اس کتاب کا حصہ بنادئے گئے ہیں
طب اور نفسیات
جذبات و نفسیات کو ہم انہی چھ تحریکات میں ضم کرسکتے ہیں کیونکہ یہ اعضائے رئیسہ کی مختلف تحریکوں سے پیدا ہوتے ہیںمثلاَ َ (1)غصہ(2)غم (3) ندامت(4) خوف (5) لذت (6) مسرت ۔ یہ سب چھ تحریکوں سے پیدا ہوتے ہیں اور ہر ایک عضو رئیس دو دو جذبات سے متأثر ہوتا ہے۔
(1)جگر کی غدی عضلاتی تحریک میں غصہ پیدا ہوتاہے ۔غصہ و طیش کی حالت میں چہرہ اور آنکھیں سرخ۔بھوئیں تنی ہوئی ہونٹ کانپتے ہوئے ذہن پر قابو نہ ہونے کی وجہ سے سوچ سمجھ کر بات نہیں ہوپاتی۔طیش غصہ سے بھی شدید حالت ہے ،اس لئے چہرہ کے تأثرات مزید شدید اور فرد کو نتائج سے بے پروا کردیتے ہیں


(2) غدی اعصابی تحریک میں غم پیدا ہوتا ہے(حدیث میں ہے غم انسان میںبیماری پیدا کرتاہے’’ ابو نعیم فی الطب240/1) ۔شک کی بیماری بھی اسی تحریک میں پیدا ہوتی ہے۔
(3)دماغ کی اعصابی غدی تحریک میں ندامت ۔جن کی طبیعت میں خوف،ندامت اور غم کے جذبات زیادہ ہوں وہ حسن کی لذت سے اول تو لطف اندوز ہوتے ہی نہیں اور اگر ہوں بھی تو بہت کم ،ادویات سے اس قسم کے جذبات پیدا کئے جاسکتے ہیں ، ختم بھی کئے جاسکتے ہیں،رنج و ملال اور افسوس کی حالت میں جسمانی افعال۔غیر کلوی ہارمونز کی وجہ سے مندرجہ ذیل عضویاتی تبدیلیاں دیکھنے میں آسکتی ہیں
(1)دل و پھپھڑوں کی حرکت آہستہ ہوجاتی ہے
(2)آنسوؤں کے غدود زیادہ تیزی سے کام کرنا شروع کردیتے ہیں
(3)کبھی فرد روتا ، پیٹتا چیختا چلاتا بین کرتا ہے ،لیکن ہوش مندی والے کام کرنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے
(4)دماغ میں تناؤ واقع ہوجاتا ہے
(5)فرد بہکی بہکی باتیں کرتا اور انہیں دوہراتا چلاجاتا ہے
(6)نیند بھوک تھکان کا احساس مٹ جاتا ہے
(7)اگر خود اختیاری نظام عصبی میں گڑ بڑ پیدا ہوجا ئے تو ہیجانات ختم ہوجاتے ہیں اکثر لوگ بے حسی کا شکار ہوکر خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوجاتی ہے اور سکتہ کی یہ کیفیت زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے ۔
(4) اعصابی عضلاتی میں خوف کا غلبہ ہوتا ہے۔ ڈر اور خوف اعصابی عضلاتی میں انسان کا رنگ سفید ہوجاتا ہے رد عمل بخار ہوجاتا ہے، جس کا علاج عضلات کو تحریک دیناہے۔ علاوہ ازیں بال کھڑے ،منہ کھلا دماغی فعلیت مختلف ہوجاتی ہے کبھی فرد بھاگ اٹھتا ہے اور اپنی طاقت زیادہ جمع کرکے خطرے کے مہیج کے مقابلہ پر اتر آتاہے، کبھی اس کی تمام قوت سلب ہوجاتی ہے اور فرط دہشت سے بے ہوش ہوجاتا ہے ۔
خوف کے ہیجانات کے دوران جسمانی اور عضویاتی تبدیلیاں:
خوف کی حالت میں غیر کلوی رطوبت تخفیفی نظام عصبی کے تحت کام کرنے لگتا ہے جس سے غیر کلوی رطوبت کی مقدار تبدیل ہوجاتی ہے عضوی طور پر اس قسم کی تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں (1)نبض سست پڑ جاتی ہے
(2)دل پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے
(3)دل کی رفتار کم ہوکر دل ڈوبنے لگتا ہے
(4)قوت ہاضمہ متأثر ہوتی ہے اکثر اوقات معدہ کام نہیں کرتا یا کم کرتا ہے
(5)بھوک کا احساس کم ہوجاتا ہے دماغ ان وظائف کو قابو کرنے لگتا ہے
(6)جسمانی طاقت سلب ہوجاتی ہے، فرط جذبات سے بے ہوشی تک نوبت پہنچ جاتی ہے (7)آوز بند حلق خشک ہوجاتا ہے
(8) کبھی خطرہ سے حفاظت کے لئے زائد طاقت آجاتی ہے جس سے انسان فراری عمل برق رفتاری کا مظاہرہ کرتا ہے
(9) ہنگامی صورت میں محرکات توانائی دہندہ ہوتے ہیں۔
(5) قلب اپنی عضلاتی اعصابی میں لذت ۔حسن کی دلکشی سے وہی دماغ متاثر ہوتے ہیں جن میں لذت اور مسرت کا زیادہ احساس ہوتا ہے۔
(6) عضلاتی غدی میں مسرت کا اظہار کرتاہے۔ خوشی کی حالت میں چہرے پر اطمنان آنکھوں میں چمک چہرے،پتلیوں،ہونٹوں کے کناروںمیں کشادگی و پھیلاؤ آجا تا ہے ، ہنسی قہقہے اور شدید حالت میں ناچنے کودنے کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ خوشی سکون اور مسرت میں اندرونی تبدیلیاں۔کلوی رطوبتوں کے اخراج میں تیزی آجاتی ہے اندونی طور پر یہ تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں(1)جسم فعال ہوجاتا ہے ہر کام بخوشی تیزی اور کامیابی سے تکمیل کو پہنچتا ہے (2)معدہ معمول سے زیادہ کام کرنے لگتا ہے، بھوک خوب کھل کر لگتی ہے (3)خون کی گردش،دل کی دھڑکن کے بڑھ جانے کے باعث تیز ہوجاتی ہے (4)چہرہ کھل اٹھتا ہے دماغ کے اعصاب میں تناؤ کم ہوکر سکونی کیفیت زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے (5)فرد بات بات پر خوشی کا اظہار کرتا ہے ۔لوگوں کو لطیفے کہانیاں سناسنا کر ہنسا تا اور جان محفل بن جاتا ہے (6)جنسی و شہوانی ہیجانات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔چھ قسم کے جذبات انسان کو متأثر کرتے ہیں ۔آج کل زیادہ تر لوگوں کو ذہنی تناؤ کا سامنا ہے ہم ایسے نسخہ جات سے مستفید ہوسکتے ہیں جو اُن کی تحریک بدل کر مسرت و شادمانی کی کیفیات کو جنم دے سکیںان نسخہ جات کو مناسب مواقع کی مناسبت سے کام میں لا سکتے ہیں .
جذبات کی زیادتی
جذبات کی شدت نہ صرف جسم میں امراض پیدا کرتی ہے بلکہ جسم کوکثرت سے تحلیل کرتی ہے ،زیادہ کثرت زیادہ تحلیل کا باعث ہے ،زیادہ غصہ و غم سے دل میں زیادہ تحلیل پیدا ہوتی ہے غصہ کی حالت میں فوراََ پانی پینا چاہئے یا لیٹ جانا چاہئے ۔حدیث پاک میں بھی اس کا یہی علاج تجویز فرمایا گیا ہے۔غم کی حالت میں مسرت کے قیام اور خدائے رحیم کی رحمت کا تصور ذہن میں تازہ کرنا چاہئے۔خوف کی حالت میں اعصاب تحلیل ہوتے ہیں اور بعض اوقات بے ہوشی طاری ہوجاتی ہے ایسے وقت میں خوف ذدہ آدمی میں غصہ پیدا کرنا چاہئے تاکہ خوف رفع ہوجائے ۔ مسرت و لذت کے جذبات کی کثرت سے ضعف جگرپیدا ہوتا ہے اور بعض اوقات جگر اس قدر تحلیل ہوجاتا ہے کہ صحت خطرے میں پڑجاتی ہے، اعتدال سے زیادہ لذت و مسرت میں گرفتار نہیں رہنا چاہئے، زیادہ قہقہے نہیں مارنے چاہئیں اس سے بھی جسم میں اکثر تحلیل کی صورت پیدا ہوجاتی ہے بموجب حدیث دل مردہ ہوتا ہے(سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 1073 ) عمومی طورپر جب انسانی طبیعت میں غم و فکر زیادہ ہوجائے عاملین اس کیفیت کو جادو و جنات سے منسوب کرتے ہیں۔احادیث مبارکہ میں انسانی طبیعت پر ہونے والی کیفیات کو بیان فرمایا اور کچھ کا علاج بھی بتادیا کہ(إِنَّ التَّلْبِينَةَ تُجِمُّ فُؤَادَ المَرِيضِ، وَتَذْهَبُ بِبَعْضِ الحُزْنِ.صحيح البخاري (7/ 124)یعنی تلبینہ دل کی مضبوطی اور غم کو دور کرنے کا سبب ہے۔طبی نکتہ یہ کہ جب انسانی کیفیات بدل جاتی ہیں تو سوچ اور نظریات بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Comment

Contact Now

Get New Updates to Take Care Your Pet

Discover the art of creating a joyful and nurturing environment for your beloved pet.

Will be used in accordance with our  Privacy Policy

@2025 – All Right Reserved. Designed and Developed by Dilshad Bhai