
جن طالب علم کا واقعہ
مرتب کردہ حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو سعد ورچوئل سکلزپاکستان
علامہ کمال الدین الدمیری لکھتے ہیں ا کہ ایک طالب ۔حصول علم کے لئے گھر سے نکلا راستہ میں اس کا پالاایک جن سے پڑا ۔سفر میں ساتھ ساتھ رہے۔جب بچھڑنے لگے تو جن کہنے لگا ہم سفر میں ایک ساتھ رہے ہیں اس بناپر میرا تم پر کچھ حق ہے۔جب تم فلاں جگہ جاؤگے تو وہاں مرغیاں چگ رہی ہونگی ان میں سفید مرغا ہے تم اس کامالک تلاش کرکے خرید کر زبح کرڈالنا۔میں ہاں کرلی۔ساتھ میں نے کہا میرا بھی تم پر حق ہے۔یہ بتاؤ اگر کسی کو جنات تنگ کریں اس کا علاج کیا ہے؟

جن کہنے لگا ایک ہاتھ کی یمحور کی تانت لینا اسے مریض کے انگوٹھے سے باندھ دینا۔پھرسنداب بری کے تیل کے چند قطرے مریض کی ناک میں ٹپکا دینا۔آسیب ہلاک ہوجائےگا۔میں نے مرغ زبح کیا ہی تھا کہ کچھ لوگ دوڑے ہوئے میرے پاس آئے اور جادو گر جادوگر کہہ کر مجھے مارنے لگے ۔میں نے کہا بات کیا میں جادوگر نہیں ہوں۔وہ کہنے لگے

جب سے تم نے اس مرغے کو زبح کیا ہے ہماری جوان لڑکی پر ایک جن سوار ہوگیا ہے وہ کسی طرح اس کی جان نہیں چھوڑ رہا۔میں نے کہا میں اس کا علاج کرتا ہوں ۔تم لوگ یمحور کی تانت اور سنداب بری کا تیل لے آؤ۔وہ جن چلا کر کہنے لگا میں نے تجھے اس لئے علاج بتلایا تھا کہ میری جان کے در پے ہو۔اصل میں لڑکی پر اس کا ساتھی جن تھا ۔طالب علم نے ایک نہ سنی” یمحور” سے اس کا انگوٹھا باندھا اور سنداب بری کا تیل اس کی ناک میں ٹپکادیا۔لڑکی اسی وقت بھلی چنگی ہوگئی۔الحیوٰۃ الحیوان للدمیری عنوان “یمحور[الحیوٰۃ الحیوان الدمیری38/2]”