
بیاض کبیر ۔اول۔دوم۔سوم
دہلی کا مطلب اردو میں
بیاض کبیر کارف پہلے مصر وطلب الاہی حرارت میں ہے اور دو در یہ جیکر شائع ہو
چکا ہے جسمانی دونوں سے دولی کے کلیات اسلام اسلامی ، شروع ہی سے دور میں شائع مطلب کو فارسی میں رکھنے کی وجہ سوامی کے امین تک ہمارے ملک کے اکثر انبالے فارسی میں لکھنے کے عادی ہیں اور مارے کالی کے ہوائی مطب میں ہمیں بھی کی جارہی ہیں کا رواج ہے جب کہ یہ تقریم دستور سواری ہے اس وقت تک بھی مناسب ہے کہ بجائے مطلب اسی کایا کوئی زیر نظر رکھیں اور محمود مطلب منتصر بات کو اسی فارسی ترکیب کیا اور یاد کریں بلکہ نسور نویسی کے ذلت کیوں کی معمولی فارسی سے طبیقی تھال میں گھر جو نکہ جب مذہب کے نام شعبے اور سارے فنون را کاما سو نہیں رہتے ہیں اور یہ ممالک تر یک تک میں بہت تیری سے پھیل رہی ہے، اس نے اب وہ زمانہ تو یادہ دور نہیں ہے جبکہ اما درمی یک دی تھی توان میں ہوتے اسے اس کی مت ماری کے ہم یوم اللہ لیا ابھی لاو میالات کیسا تھاتی میری همان زمانی میں نسخہ کے ضروری ہدایات لکھ کر جا اور مریضوں تک پہنچائیں۔ مسالہ
اس وقت میں ملک میں ایسے دانے خیالی آز پر مشکل نفرات موجود ہیں جو اس وقت هستند پر پا طرف دائم عمل پیرا ہیں اور اس کو ایک خفیہ تحریک سمجھ کر اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ بہر حال یہ ہریانہ ہو نگر سے بالکل سچ ہے کہ اب تک میں ایسے جلیا کا ایک گروہ موجود ہے کی یاد میں دوسری زبانوں کی مہارت کے فارسی زبان سے سراسر بے مہر و ہے اور وہ صرف باری سے استلا کر سکتا ہے محاصل کر سب کا مطمح نظر ہے ۔
نا ہی مطلب سے مقابلہ کرنے کے بعد سیا در فایلی خورد میں رش ہوا کہ اسی کے مطلب کو صرف ترجمہ کا لباس میں نہیں بنایا گیا ہے بلکہ میں اولاد کے طب میں امن ہے انیال علی اضا فہ کر دیئے گئے ہیں اور ہمیں نہیں ترمیم و اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ تاکہ سیا طب پہلے سے زیادہ مفید اور بہتر ہو جاتے ہو تم
محمد کبیر الدین