
شاہی نسخے سلطان الادويہ
جس میں ان نسخوں کا ذکر ہے ۔ جو بادشاہوں، راجوں، مہاراجوں اور نوابوں کے کے لئے تیار کئے گئے اور سو فیصدی مفید ثابت ہوئے
مرتبہ ۔مولوی عبدالواحد عبد الجيد خام سواری
ہم اللہ الرحمن الرحیم
دباچہ
حمدہ و نصلی علیرسولہ الکریم
وہ اس کتاب کی تدوین و تالیف سے ہماری یہ مراد نہیں کہ اس میں وہ گراں قیمت بیش قرار و عسیر الحصول نسخے جمع کر دیئے جائیں جن کی تیاری میں سچ مچ شاہی خزانے ہی خرچ کرنے پڑیں ۔ شاہی نسخوں سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ وہ دوائیں جو وقتاً فوقتاً شہنشاہوں بادشاہوں راجوں مہاراجوں شہزادوں اور نوابوں کیلئے ترغیب دی گئیں اور ان کے استعمال میں آئیں۔ یا خود ان مرتبہ بہیتوں نے مرتب فرمائیں، ان کو ایک جو جمع کرکے اُن کی فضیلت و اہمیت کو واضح کیا جائے ۔
جسطرح کلام الملوک کو ملوک الکلام کا درجہ حاصل ہوا ہے اور یہ سلطانی کو اگر سلطان الادویہ کہدیا جائے تو بیجا نہ ہوگا اور یہ تو ڈھکی چھپی بات نہیں کہ جو دوائیں شاہوں کے ہاں پسندیدہ اور لائق اعتبار ہوں ۔ انکی افادیت اور نفع رسانی میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی ہیں یہ کتاب اس لحاظ سے بھی نہایت اہم و فاضل مرتبہ کی حامل ہے۔ کہ نسخے اس کے تمام نیچے سلطانی وقار و اقتدار حاصل کر چکے ہیں در اور
مریضوں کو نفع تمام پنچا کر شہرت و وام پا چکے ہیں۔ ایک زبان تھا کہ بعض معمولی دواؤں کے حاصل کرنے میں بھی شاہی خزا نے خالی کرتے پڑتے تھے ۔