
مختصر قانون مفرد اعضاء
این کتاب از آسمانی دیگر است
محقق طب حکیم محمد صدیق شاہین تلميذ خاص
حضرت مجدد طب حکیم انقلاب المعالج صابر ملتانی رحمہ الله تعالى
بنظر مثالث و اضافات مفیده
استاذ الحکماء حکیم محمد رفیق شاہین حفظه الله ورعاه
اس رسالہ میں صحت بخش اور صحت نواز نظریہ مفرد اعضاء کو انتہائی اختصار مگر جامعیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
66 تعارف و ابتدائیہ مختصر قانون مفرد اعضاء
از : استاذ الحکماء حکیم محمد رفیق شاہین حفظہ اللہ
طب قدیم و یونانی کی تخلیق انسانی سے لے کر آخرت تک حقانیت و افادیت کو ثابت کرنے اور اسے جراثیمی و سٹیرائی، علاماتی، علاجی طب ایلو پیتھی) کے مقابلے میں نافع ترین اور فطرتی اصول علاج ثابت کرنے کے لیے مجدد طب حکیم انقلاب صابر ملتانی نے اپنے دور تحقیق (1925ء تا 30 جون 1972ء تک) میں اپنی تقاریر و تحریرات کی صورت میں اور معلم کی حیثیت سے خوب کام کیا اور عملی طور پر 10 عیسی سٹریٹ، فیض باغ ، لاہور میں 1934 ء میں “مطب حکیم انقلاب” کے نام سے مطلب شروع کیا، اور تاحیات اس فطری اصول شفاء یعنی طب قدیم اور طب قدیم کی موجودہ حالات کے مطابق تجدید شده صورت قانون مفرد اعضاء کے اصولوں کے مطابق تقریبا 39 سال تک اپنے پاس آنے والے کتنے ہی محیر العقول امراض میں بتلاء مریضوں کے کامیاب علاج کر کے نمونہ پیش کرتے رہے ، ان مرضاء میں
سے پڑھے لکھے لوگوں میں سے کتنے ہی لوگ محترم حکیم انقلاب صابر ملتانی کے
ساتھی اور ہم نوا بنے، ان کے ماہناموں ” مداوا اور پھر ” رجسٹریشن
فرنٹ کے سالانہ خریدار بھی بنتے رہے ، کبھی اپنے اپنے علاقوں میں محترم
حکیم مرحوم و مغفور کو طبی کیمپس لگواتے اور وہاں حکیم انقلاب، طب قدیم کے
فطری شفائی اصولوں کی ترویج و پر چار بھی کرتے رہے ، اُس وقت کے نام نہاد
حکماء نے محترم و مکرم حکیم انقلاب کی، مخالفت بھی کی آپ کے شاگردوں نے
بھی خوب محنت کی اور اپنے حلقہ و علاقوں میں یا جہاں صابر ملتانی نے کسی کو جس
علاقے میں جا کر طب قدیم کی تجدید شدہ اور ترقی یافتہ صورت قانون مفرد اعضاء کو
ترویج و ترقی دینے کے لیے ڈیوٹی لگائی ، انہوں نے اپنی ذمہ داری نبھائی محترم
حکیم انقلاب کے انہی شاگردوں میں سے ایک ہونہار اور شاہین مزاج شاگرد
استاذی محترم و مکرم حکیم محمد صدیق شاہین بھی تھے ، جن کی ڈیوٹی پہلے فیصل آباد
کے مختلف علاقوں میں لگائی گئی اور پھر کراچی بھی گئے ، جہاں پر آپ اطباء کو اس
فطری قانون شفاء قانون مفرد اعضاء کی افادیت سے روشناس کرانے کی
کوشش کرتے رہے ، حلقہ جات بنائے ، کئی دانشور اطباء اس فطری اصول
علاج کو سمجھ کر محترم و مکرم حکیم انقلاب کے حلقہ حق پرست میں شامل ہوئے
، ان میں سے اکثر آج اس دنیا میں موجود نہیں اللہ رب العزت ان سب کی مغفرت فرمائے (آمین)
محترم حکیم انقلاب کو اپنے مطب اور ماہنامے کے لیے علمی وفنی، تحقیق و تدقیق اور تطبیق کا کام کرنے کی وجہ سے بہت کم فراغت ملتی تھی ، اس لیے نئے معالجین اور شاگردوں کی صحیح تربیت نہ ہو سکی آپ کی وفات کے بعد آپ کا دریافت کردہ فطری قانون شفاء (جس کو انہوں نے اس وقت نظریہ مفرد اعضاء کا نام دیا تھا) چیستان بن کے رہ گیا اور آج بھی قانون مفرد اعضاء کا ہر شارح اپنی اپنی علمی بساط کے مطابق اس کی توجیہات کر کے تضادات کی بھر مار پیدا کر کے کنفیوژن (شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے ۔ اور جو قانون مفرد اعضاء کے بنیادی تصورات و مبادیات ہی سے متصادم بھی ہیں ، اور اس فیلڈ میں آنے والے طلبا و حکماء کے لیے دماغی پریشانی کا باعث بھی بن رہی ہیں اور ان میں بعض احباب نے قانون مفرد اعضاء کی وضاحت کے لیے قابل قدر طباعتی
خدمات بھی سر انجام دی ہیں جو قابل قدر ہیں ۔
محترم حکیم انقلاب کے شاگردوں میں سے طویل المدت قریب رہنے والے یب رہنے والے یما اور ماہناموں کی کتابت کروانے و پریس میں لے جانے لانے کی ذمہ داری
نبھانے والے شاہین صفت کا رکن اور ہونہار شاگرد استاذی محترم حکیم محمد صدیق شاہین بھی تھے ، جنہوں نے سب سے پہلے 1973 میں حکیم انقلاب کی وفات کے دو سال بعد لفظ نظریہ مفرد اعضاء کو قانون مفرد اعضاء کے الفاظ سے پکارا اور تحریری صورت میں مختصر قانون مفرد اعضاء “ کے نام سے 74 صفحات کا کتابچہ لکھا، اسکے بعد دیگر شاگرادان و شارحان و مؤلفان نے بھی قانون مفرد اعضاء کہنا اور لکھنا شروع کر دیا۔
یہ کتابچہ مختصر قانون مفرد اعضاء استاذی محترم حکیم محمد صدیق شاہین کا ترتیب و تالیف اور تصنیف شدہ ہے ، جو انہوں نے اپنے فاضل دوست محترم حکیم محمد عظیم قاسمی کی فرمائش پر اپنے استاد محترم حکیم انقلاب کی وفات کے ایک سال بعد 1973ء میں لکھا تھا۔ اس وقت کتابت ہاتھ سے کی جاتی تھی ، کاتب نے اس کا مسودہ ، ماہ تک اپنے پاس رکھا اور ٹال مٹول سے وقت گزار تا گیا ، پھر حکیم صاحب نے کاتب (نام یاد نہیں) جو کہ سیالکوٹ سے تعلق رکھتے تھے کو اپنے پاس (مزار سائیں چراغ شاہ نزد موضع سجپال ، کینٹ لاہور ، جہاں پر ان دنوں محترم حکیم محمد صدیق شاہین کی عارضی رہائش تھی) بلا کر کتابت کروائی ، ایک ماہ صرف ہوا، اور کتابت شدہ مسودہ محترم حکیم غلام نبی
ایم اے اور حکیم محمد عظیم قاسمی اور محترم و مکرم حکیم مسلم ناصر صاحب کو پڑھنے کیلئے باری باری دیا ، اس پر محترم حکیم غلام نبی ایم ، اسے اور حکیم محمد عظیم قاسمی نے تبصرہ بھی لکھا ، اس طرح تقریباً 2 ماہ کا مزید وقت گزر گیا ، اور تقریباً 10 ماہ کے بعد 1974ء میں کتابی صورت میں چھپ کر منظر عام پر آیا تھا۔
یہ رسالہ اس لئے لکھا گیا تاکہ طلباء و حکماء کرام نظریہ مفرد اعضاء کو صحیحطور پر سمجھ کر اس کو عملی طور پر اپنا کر شفائی علاج کر کے عوام الناس اور اہل علم و دانش کو دکھایا جا سکے اور فن طب کو اختیار کرنے والے طلباء کو بنیادی قاعدہ طب کے ابتدائی مبادیات و اصول و ضابطے بیان کرنے والا ) کا کردار ادا کر سکے ۔ فن طب کے نو آموز طلباء بلکہ عام معالجین و اطباء کے لیے بھی یہ مفید اور مختصر کتابچہ ہے اس کی افادیت کے پیش نظر اسے فنی طبی حس اور معالجاتی ذوق رکھنے والے شفاء الدھر کے قارئین کے لیے ماہنامہ ہذا میں پیش کیا جا رہا ہے لہذا چاہیے کہ اسے غور سے پڑھیں سمجھیں اور کامیاب ماہر نباض اور معالج بنیں ۔ انشاء اللہ – قسط وارا بتداء ماہنامہ شفاء الدھر 2017-01)