
انداز علاج بدلو۔علاج آسان بنائو۔
خشک سبزیوں سے علاج اپنائو۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے،بے شمار نعمتوں میں تازہ سبزیاں اور فروٹ صحت کے لئے سب سے اہم ہیں،ہمیں ہر چیز قدرت نے وافر مقدار میں عطاء کی ہے،اس لئے ان کی قدر نہ پہچان سکےجنہیں میسر نہیں ان سے پوچھیں ۔
انسانی زندگی کا دارومدار صحت مند غذا ۔آب وہوا۔بدل مایتحلل،نظام ہضم ونظام اخراج پر مشتمل ہے ۔بہترین خوراک صحت مند ماحول انسانی زندگی میں جینے کا مزہ دیتے ہیں۔
دنیا پھر میں علاج و معالجہ کی بے شمار اقسام رائج ہیں ۔کچھ بین الاقوامی طورپر رائج کردئے گئے ہیں جیسے ہومیو پیتھی ۔ایلو پیتھی دیسی طب۔وغیرہ۔ایسی طرح مقامی طورپر کچھ طریق ہائے علاج رائج ہیں جیسے ہندی طب۔جاپانی طب۔چینی طب وغیرہ۔

سب کا نچوڑ نکالا جائے تو بات غذا و خوراک پر ختم ہوتی ہے۔کوئی بھی طریقہ علاج ہو ،اس میں غذا کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔دیسی علاجوں میں تو سب سے پہلے غذا پر توجہ دی جاتی ہے۔تمام طریق ہائے علاجوں کے نمائیندے معالجین غذا و خوراک کو اہمیت دیتے ہوئے پھلوں اور سبزیوں کی ترتیب لگاتے ہیں ۔ان کے مزاج۔ان کے خواص،معلوم کرکے امراض میں تجویز کرکے علاج و معالجہ

میں معاونت لی جاتی ہے۔
باقاعدہ غذائی فہرستیں تیار کی جاتی ہیں۔
ماہرین نے اپنے اپنے انداز سے غذا کو ترتیب دیا ہے۔کچھ لوگ پھلوں اور سبزیوں کے پانی(جوسز)تو کچھ لوگ سالم حالت میں کھانے کے لئے تجویز کرتے ہیں۔اس مضمون پر ایچ کے باکھرو کی کتب دیکھی جاسکتی ہیں۔البتہ۔دیسی طب میں زیادہ بکھیڑوں سے بچتے ہوئے ایسے غذائی چارٹ پیش کے لئے ہیں کہ دستیاب پھل اور سبزیوں کو تجویز کیا جاتا ہے۔اس بارہ میں قانون مفرد اعضاء والوں نے خصوصی توجہ دی ہے۔
قانون مفرد اعضاء کے بانی حضرت مجددؒ طب صابر ملتانی نے اس کا احیاء کیاجسے آج دنیا بھر میں قبولیت حاصل ہوچکی ہے۔ ہر وقت ہر قسم کا پھل اور تمام سبزیاں دستیاب نہیں ہوسکتیں۔
اس لئے سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کے ماہرین نے سبزیوں اور پھلوں کو سولر ڈیہائیڈریٹر سے خشک کرکے محفوظ کرکےانہیں بطور غذاو دوا کام لانے کے لئے تجربات کا سلسلہ جاری کیا ہے۔حیرت انگیز طورپر فوائد سامنے آئے ہیں۔
جب ہم نے مریضوں کو دوائوں کے ساتھ ساتھ غذائی چارٹ مہیا کئے تو حسب عادت انہوں نے ناک منہ چڑھائے کہ ہمیں فلاں سبزی پسند نہیں ۔فلاں پھل اچھا نہیں لگتا ۔فلاں چیز تو میں نے کبھی کھائی نہیں ۔وغیرہ باتیں سننے کو ملیں۔
پھر سولر ڈیہائیڈریٹر سے خشک سدہ پھلوں اور سبزیوں کو بطور دوا ۔استعمال کرایا گیا۔انہیں یہ سفوف دوا کی شکل میں دیا گیا ۔گولیاں، سفوف۔کیپسول۔قہوہ۔پھکی وغیرہ شکل میں استعمال کرائی گئیں۔
اس طریقہ سے حسب ضرورت خوش کُن نتائج ملے۔
دیسی اودیات کا حجم اور خوراکی مقدار زیادہ ہوتی ہے،مریض اس بارہ میں نازک مزاجی کا تاثر دیتے ہیں۔پھرمطلوبہ پھل یا سبزی ہر کسی کو بروقت میسر آئے یہ بھی ایک مسئلہ ہے ۔ جبکہ ایلو پیتھی اور ہومیو پیٹھی کی ادویاتی مقدار کم ہوتی ہے اس کی شکل و صورت بھی دلکش ہوتی ہے ۔ مریض لوگ خوشی خوشی کھالیتے ہیں۔
موسمی پھل یا سبزی میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ۔اس لئے اس کی خوراکی مقدار خاص حد سے زیادہ نہیں ہوتی۔لیکن اگر اسے خشک کرلیا جائے تو اس کے غذائی و دوا ئی اثرات بہت زیادہ ہوجاتے ہیں،حجم کم ہوجاتا ہے۔ذیل میں ایک جدول دی جارہی ہے۔
۔۔
اگر آپ “ایک چمچ = ایک پورا کریلا + ایک پورا ٹماٹر” کا تصور پیش کرنا چاہتے ہیں تو پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ ایک اوسط کریلا اور ایک اوسط ٹماٹر کا تازہ وزن کتنا ہے۔
فرض کریں:
• ایک درمیانہ کریلا = 120 گرام
• ایک درمیانہ ٹماٹر = 100 گرام
کل تازہ وزن = 220 گرام
خشک ہونے کے بعد:
• 120 گرام کریلا → تقریباً 12 سے 15 گرام پاؤڈر
• 100 گرام ٹماٹر → تقریباً 5 سے 7 گرام پاؤڈر
یعنی ایک پورے کریلے اور ایک پورے ٹماٹر سے تقریباً 18 سے 22 گرام خشک پاؤڈر حاصل ہوگا۔
لہٰذا:
• اگر ایک کھانے کا چمچ سفوف 8 گرام ہے تو ایک چمچ میں پورا کریلا + پورا ٹماٹر شامل نہیں ہو سکتے۔
• اس کے لیے تقریباً 2.5 سے 3 کھانے کے چمچ سفوف درکار ہوں گے۔
زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں آپ یہ کہ سکتے ہیں:
ہر 3 کھانے کے چمچ میں تقریباً ایک درمیانے کریلے اور ایک درمیانے ٹماٹر کے مساوی خشک اجزاء موجود ہیں۔”
یا”100 گرام سفوف میں تقریباً 5 سے 6 کریلوں اور 8 سے 10 ٹماٹروں کے خشک غذائی اجزاء شامل ہیں۔”
یہ دعویٰ سائنسی اور قابلِ دفاع ہوگا۔
اگر 100 گرام سفوف صرف کریلا اور ٹماٹر سے بنائیں
50% کریلا + 50% ٹماٹر:
• 50 گرام کریلا پاؤڈر = تقریباً 4 کلو تازہ کریلا
• 50 گرام ٹماٹر پاؤڈر = تقریباً 800 گرام تا 1 کلو تازہ ٹماٹر
اس صورت میں 100 گرام پیک پر آپ لکھ سکتے ہیں:
یہ 100 گرام سفوف تقریباً 4 کلو تازہ کریلے اور 1 کلو تازہ ٹماٹروں سے تیار کیا گیا ہے۔”
یہ مارکیٹنگ کے لحاظ سے زیادہ مؤثر اور حقیقت کے قریب دعویٰ ہوگا۔
یعنی خشک شدہ پھلوں یا سبزیوں کو دوا کے طورپر استعمال کرکے ۔رائج الوقت دیسی ادویات کی جگہ کام میں لایا جاسکتا ہے۔امید ہے اگر اطباء و معالجین نے اس طرف توجہ فرمائی تو مطب میں کڑوی کسیلے سفوف اور نسخہ کے اجزائی ترکیبی کی جگہ سبزیوں اور پھلوں کے خشک شدہ اجزاء کو بطور دوا ۔کام میں لایا جائے گا۔پھلوں اور سبزیوں کو خشک کرکے مارکیٹ کرنے کا رجھان دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ان کی دستیابی اتنا بڑا مسلہ نہیں رہے گا۔ہر پھل یا سبزی کا خشک سفوف کسی بھی بڑے سٹور یا آن لائن کہیں بھی کسی وقت بھی دستیاب ہوگا۔گوکہ اس وقت ڈیمانڈ ایبل پھلوں یا سبزیوں کو خشک کیا جارہا ہے ۔جب اطباء اس طرف توجہ دیں گے تو پھر پنساریوں کے پاس جڑی بوٹیوں کی جگہ خشک پھلوں اور خشک سبزیوں کا ذخائر دیکھنے کو ملیں گے ۔اور دستیابی ہمہ وقت ممکن ہوسکے گی۔