
کلمۂ حق، ارادۂ باطل
تحریر: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک نہایت بلیغ اور بصیرت افروز قول ہے:
كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ
یعنی: “بات تو حق ہے، مگر اس سے ارادہ باطل کا کیا گیا ہے۔”
یہ جملہ حضرت علیؓ نے خوارج کے اس نعرے کے جواب میں فرمایا تھا: “لَا حُكْمَ إِلَّا لِلّٰهِ” یعنی حکم صرف اللہ کا ہے۔ بلاشبہ یہ جملہ اپنی اصل میں بالکل درست تھا، لیکن خوارج اسے اپنے غلط نظریات، بغاوت اور مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ الفاظ سچے تھے، مگر مقصد درست نہ تھا۔ نعرہ دینی تھا، لیکن اس کے پردے میں ایک خطرناک سیاسی اور سماجی فساد چھپا ہوا تھا۔
حضرت علیؓ کا یہ قول صرف ایک تاریخی واقعے کی وضاحت نہیں، بلکہ ہر دور کے دینی، سیاسی اور سماجی رویوں کو پرکھنے کے لیے ایک مستقل اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارے عہد میں بھی بہت سے افراد اور گروہ حق، انصاف، دین، جمہوریت، قوم، غیرت، خدمت اور اصلاح جیسے خوب صورت الفاظ استعمال کرتے ہیں، لیکن ان کے پسِ پردہ مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں۔
باطل ہمیشہ ننگا ہو کر سامنے نہیں آتا۔ وہ اکثر حق کا لباس پہن کر آتا ہے۔ جھوٹ اگر صاف اور واضح ہو تو عام آدمی بھی اسے پہچان لیتا ہے، لیکن جب جھوٹ میں تھوڑا سا سچ ملا دیا جائے، جب ذاتی مفاد کو دینی عنوان دے دیا جائے اور جب ظلم کو قومی یا اجتماعی مصلحت کہا جانے لگے تو اس کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے۔
قرآن کریم نے اسی لیے فرمایا:
وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ
یعنی حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور جانتے بوجھتے حق کو نہ چھپاؤ۔
سورۃ البقرۃ، آیت 42
آج ہماری دینی، سیاسی اور معاشرتی زندگی کا ایک بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم مکمل حق بیان کرنے کے بجائے اپنے مطلب کا حق بیان کرتے ہیں۔ جو بات ہمارے فائدے میں ہو، اسے نمایاں کر دیتے ہیں، اور جو حقیقت ہماری ذات، جماعت، خاندان یا سیاسی وابستگی کے خلاف ہو، اسے چھپا لیتے ہیں۔
دین کا نام اور ذاتی مفاد
دین انسان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی، سچائی، عدل، رحم، دیانت اور تزکیۂ نفس کی تعلیم دیتا ہے۔ مگر جب دین کو شہرت، دولت، اقتدار، جماعتی غلبے یا مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کیا جائے تو مذہبی الفاظ اپنی حقیقی روح کھو دیتے ہیں۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ہر عالم، خطیب، مدرس، پیر یا دینی کارکن پر الزام لگانا سراسر ناانصافی ہے۔ امت میں ہر دور میں ایسے جید اور مخلص علماء موجود رہے ہیں جنہوں نے حق کی خاطر حکمرانوں، مال داروں اور اپنے قریبی لوگوں کے سامنے بھی آواز بلند کی۔ اصل مسئلہ دینی طبقہ نہیں، بلکہ دین کو مفاد کا ذریعہ بنانے والا طرزِ فکر ہے۔
بعض لوگوں کے ہاں دین کا معیار بھی افراد اور جماعتوں کے ساتھ بدل جاتا ہے۔ ایک کام مخالف کرے تو حرام، ظلم اور دین دشمنی بن جاتا ہے، لیکن وہی کام اپنا پسندیدہ رہنما یا جماعت کرے تو اس کے لیے حکمت، مصلحت اور مجبوری کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔
اپنے مخالف کی معمولی غلطی پر منبر و محراب سے سخت ترین زبان استعمال کرنا اور اپنے حمایتی کی بڑی زیادتی پر خاموش رہنا دینی دیانت نہیں۔ قرآن کریم کا حکم ہے کہ عدل کی گواہی اپنے خلاف، والدین کے خلاف اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف بھی دینی پڑے تو دی جائے۔
اسی طرح قرآن کہتا ہے کہ کسی قوم یا گروہ کی دشمنی تمہیں انصاف چھوڑنے پر آمادہ نہ کرے۔ عدل کرو، کیونکہ عدل تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔
حقیقی عالم اور داعی وہ ہے جو دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنے حلقے، جماعت اور پسندیدہ شخصیات کی غلطیوں کی بھی نشان دہی کرے۔ جو دینی اصول صرف مخالفین کے خلاف استعمال ہو، وہ اصول نہیں رہتا بلکہ سیاسی ہتھیار بن جاتا ہے۔
فتوے، مقدس الفاظ اور گروہی ضرورت
کبھی ذاتی پسند کو حلال اور ذاتی ناپسند کو حرام قرار دے دیا جاتا ہے۔ بعض معاشرتی رسموں، خاندانی روایات اور جماعتی فیصلوں کو بھی دین کا حتمی حکم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ حلال و حرام کا اختیار کسی فرد، خاندان یا جماعت کو حاصل نہیں۔
فتویٰ کوئی عام سیاسی بیان نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی ترجمانی کی عظیم ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے وسیع علم، تقویٰ، نصوص کا گہرا فہم اور حالات سے آگاہی ضروری ہے۔ اگر فتویٰ کسی حکمران، جماعت، مالی فائدے یا عوامی مقبولیت کو سامنے رکھ کر دیا جائے تو الفاظ دینی ہونے کے باوجود مقصد مشتبہ ہو جاتا ہے۔
اسی طرح مذہبی جذبات کو چندہ جمع کرنے، اپنی شہرت بڑھانے یا شخصی اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے استعمال کرنا بھی قابلِ احتساب ہے۔ مسجد، مدرسہ، رفاہی ادارہ یا کسی مظلوم کی امداد کا نام مقدس ہو سکتا ہے، لیکن اس نام پر جمع ہونے والی رقم کا حساب دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
مقدس عنوان کسی شخص یا ادارے کو مالی شفافیت سے مستثنیٰ نہیں کر دیتا۔
رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی جو علم اور قرآن اس لیے حاصل کرے کہ لوگ اسے عالم اور قاری کہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر دینی خدمت بھی اگر شہرت اور مفاد کے لیے ہو تو انسان کی نجات کے بجائے اس کی گرفت کا سبب بن سکتی ہے۔
سیاست اور خوب صورت نعرے
سیاست بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں۔ اجتماعی زندگی، قانون، امن، ریاستی نظم اور عوامی حقوق کی حفاظت سیاست ہی کے ذریعے ہوتی ہے۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب سیاست اصولوں کے بجائے نعروں، جھوٹ اور مذہبی استحصال پر قائم ہو جائے۔
ہمارے ہاں ہر سیاسی جماعت عدل، جمہوریت، ریاستِ مدینہ، اسلامی نظام، عوامی خدمت، قومی سلامتی اور قانون کی بالادستی کی بات کرتی ہے۔ یہ تمام باتیں اپنی جگہ حق ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان نعروں کے پیچھے ارادہ کیا ہے؟
کیا واقعی عوام کی خدمت مطلوب ہے یا صرف ووٹ اور اقتدار؟
کیا قانون کی بالادستی سب کے لیے ہے یا صرف مخالفین کے لیے؟
کیا احتساب اپنے لوگوں کا بھی ہوگا یا صرف سیاسی دشمنوں کا؟
کیا آزادیِ اظہار کا حق سب کو حاصل ہوگا یا صرف اس وقت تک جب تک ہم حزبِ اختلاف میں ہیں؟
ہمارے سیاسی رویوں کا المیہ یہ ہے کہ حزبِ اختلاف میں جو چیز ظلم قرار پاتی ہے، اقتدار میں آکر وہی چیز ریاستی ضرورت بن جاتی ہے۔ مخالف حکومت قرض لے تو قومی تباہی، اپنی حکومت قرض لے تو معاشی مجبوری۔ مخالف اپنے کارکنوں کو عہدے دے تو اقربا پروری، اپنے لوگوں کو نوازا جائے تو اعتماد اور اہلیت۔
یہ دوہرا معیار اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ ہمیں اصول سے زیادہ اپنی جماعت اور شخصیت عزیز ہے۔
قرآن کریم نے فرمایا کہ تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ ہے کہ انسان کہے کچھ اور کرے کچھ۔سیاسی دیانت تقریروں سے نہیں بلکہ اقتدار میں کردار سے معلوم ہوتی ہے۔ جو شخص اپنے مخالف کے لیے سخت احتساب چاہتا ہو، اسے اپنے ساتھیوں کا احتساب بھی قبول کرنا چاہیے۔
قومی مفاد کے نام پر ناانصافی
قومی سلامتی، ریاستی مفاد، جمہوریت کی بقا اور امن و امان اہم تصورات ہیں، لیکن ان الفاظ کو ہر ظلم، جبر اور غیر قانونی اقدام کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
بعض اوقات اختلافِ رائے رکھنے والے ہر شخص کو غدار، ملک دشمن یا بیرونی ایجنٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔ کسی پالیسی پر تنقید کو ریاست سے دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ ریاست، حکومت اور حکمران ایک چیز نہیں ہوتے۔
حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، لیکن ریاست اور قوم باقی رہتی ہے۔ کسی حکومت کی غلط پالیسی پر تنقید کرنا لازماً وطن دشمنی نہیں۔ بعض اوقات سچی تنقید ہی حقیقی خیر خواہی ہوتی ہے۔
قومی مفاد کا تعین کسی ایک شخص، جماعت یا ادارے کی خواہش سے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ آئین، قانون، مشاورت، شفافیت اور عوام کے بنیادی حقوق کے مطابق ہونا چاہیے۔
سماجی زندگی میں حق کا غلط استعمال
یہ خرابی صرف علماء اور سیاست دانوں تک محدود نہیں۔ عام معاشرتی زندگی میں بھی ہم حق کے الفاظ کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
بعض خاندان اپنی ثقافتی روایات، ذات پات، جہیز، شادی بیاہ کی غیر ضروری پابندیوں اور خاندانی برتری کو دین کا نام دے دیتے ہیں۔ جب کسی رسم سے بڑوں کا فائدہ ہو تو اسے آباؤ اجداد کی روایت کہا جاتا ہے، لیکن جب نوجوان اس پر سوال اٹھائیں تو فوراً اسے دینی حکم قرار دے دیا جاتا ہے۔
اسی طرح عزت، غیرت اور خاندان کی نیک نامی جیسے خوب صورت الفاظ کے نام پر کمزوروں کے حقوق دبائے جاتے ہیں۔ بیٹی کو وراثت سے محروم کرنا، پسند کی شادی پر تشدد کرنا یا خاندان کے طاقت ور فرد کی زیادتی چھپانا غیرت نہیں بلکہ ظلم ہے۔
حقیقی غیرت اپنے نفس کو گناہ سے روکنے، دوسروں کی عزت کی حفاظت اور کمزوروں کے حقوق ادا کرنے کا نام ہے۔ جو غیرت صرف کمزوروں پر استعمال ہو، لیکن طاقت وروں کی غلطیوں پر خاموش رہے، وہ غیرت نہیں، دوہرا معیار ہے۔
خدمت اور خیرات کی نمائش
غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد بڑی نیکی ہے، لیکن کسی مجبور انسان کی تصاویر، غربت اور بے بسی کو اپنی تشہیر کے لیے استعمال کرنا نیکی کی روح کے خلاف ہے۔
مدد کا مقصد ضرورت مند کی عزت بحال کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ مدد کرنے والے کے نام اور چہرے کو نمایاں کرنا۔ آج بعض فلاحی کام بھی خدمت سے زیادہ سوشل میڈیا مواد بن گئے ہیں۔
ایک راشن کا تھیلا دیا جاتا ہے اور اس کے بدلے مستحق شخص کی درجنوں تصاویر اور ویڈیوز بنائی جاتی ہیں۔ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہماری مدد سے غریب کی ضرورت پوری ہو رہی ہے یا ہماری شہرت؟
سوشل میڈیا اور آدھا سچ
موجودہ زمانے میں حضرت علیؓ کے اس قول کی سب سے نمایاں مثال سوشل میڈیا پر دیکھی جا سکتی ہے۔ کسی طویل گفتگو سے چند سیکنڈ کا کلپ نکال کر ایسا تاثر پیدا کیا جاتا ہے جو پوری تقریر کے برعکس ہوتا ہے۔ پرانی تصویر کو نئے واقعے سے جوڑ دیا جاتا ہے، یا کسی عالم اور سیاست دان کے الفاظ کا ایک حصہ پیش کرکے باقی وضاحت چھپا لی جاتی ہے۔
یہ آدھا سچ پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ عام آدمی اسے درست سمجھ کر آگے پھیلا دیتا ہے۔
قرآن کریم نے خبر کی تحقیق کا حکم دیا ہے، تاکہ نادانی میں کسی فرد یا قوم کو نقصان پہنچانے کے بعد پشیمانی نہ ہو۔
افسوس یہ ہے کہ ہم خبر کی سچائی اس بنیاد پر پرکھتے ہیں کہ وہ ہمارے پسندیدہ موقف کے مطابق ہے یا نہیں۔ جو خبر اپنے مخالف کے خلاف ہو، ہم اسے بغیر تحقیق کے آگے پھیلا دیتے ہیں۔ اگر وہی خبر اپنے پسندیدہ شخص کے خلاف ہو تو فوراً ثبوت اور تحقیق کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں۔
پہچان کا معیار
حق کے نام پر باطل مقصد کی پہچان کے لیے چند سوالات ہمیشہ سامنے رکھنے چاہییں:
کیا مکمل حقیقت بیان کی جا رہی ہے یا صرف اپنے مطلب کا حصہ؟
کیا ایک ہی اصول دوست اور دشمن دونوں پر لاگو کیا جا رہا ہے؟
کیا قول اور عمل میں مطابقت ہے؟
کیا سوال کرنے اور اختلاف کرنے کی اجازت ہے؟
کیا اس نعرے کا فائدہ واقعی عوام کو پہنچ رہا ہے یا چند افراد کو؟
کیا اس طرزِ عمل سے معاشرے میں عدل پیدا ہو رہا ہے یا نفرت، انتشار اور فساد؟
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر غلطی دانستہ فریب نہیں ہوتی۔ انسان کم علمی اور غلط فہمی سے بھی غلطی کر سکتا ہے۔ مخلص انسان کی علامت یہ ہے کہ دلیل سامنے آنے پر اپنی اصلاح کر لیتا ہے، جبکہ مفاد پرست انسان حقیقت واضح ہونے کے باوجود اپنی غلطی ماننے کے بجائے نئی تاویلیں پیش کرتا ہے۔

ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا
حضرت علیؓ کا یہ قول صرف دوسروں پر چسپاں کرنے کے لیے نہیں۔ ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا۔ ہم میں سے ہر شخص کو خود سے پوچھنا چاہیے:
کیا میں حق اس لیے بیان کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو، یا اس لیے کہ میری بات اور میری جماعت غالب آئے؟
کیا میں وہی بات اپنے خلاف بھی قبول کر سکتا ہوں جو مخالف کے خلاف کہتا ہوں؟
کیا میں مکمل حقیقت بیان کرتا ہوں یا صرف اپنے مفاد کا حصہ؟
کیا میری مذہبی، سیاسی اور سماجی وابستگی مجھے انصاف سے دور تو نہیں کر رہی؟
اصلاح صرف دوسروں کی غلطیاں گنوانے سے نہیں ہوگی۔ اصلاح اس دن شروع ہوگی جب ہم شخصیتوں کے بجائے اصول، نعروں کے بجائے کردار اور جماعتی وابستگی کے بجائے عدل کو معیار بنائیں گے۔
حق صرف وہ نہیں جو ہمارے حق میں ہو۔ حقیقی حق وہ ہے جسے ہم اپنے خلاف بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ مختصر جملہ آج بھی ہمارے مذہبی خطابات، سیاسی نعروں، سماجی رسومات اور سوشل میڈیا کے شور میں

گونج رہا ہے:
كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ
بات حق ہو سکتی ہے، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ اس کے پیچھے نیت، مقصد اور نتیجہ کیا ہے۔
حوالہ جات
صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ، خوارج کے بیان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول۔
القرآن، سورۃ البقرۃ: 42۔
القرآن، سورۃ النساء: 135۔
القرآن، سورۃ المائدۃ: 8۔
القرآن، سورۃ التوبۃ: 34۔
القرآن، سورۃ النحل: 116۔
القرآن، سورۃ الحجرات: 6۔
القرآن، سورۃ الصف: 2 تا 3۔
صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، حدیثِ اخلاص و ریا۔