
چقندر کے غذائی اورطبی فوائد
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
چقندر بہت سارے غذائی اجزاء کی حامل سبزی ہے اس لیے سے بہت سارے طبی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔
بلڈ پریشر کے لیے مفید
چقندر نائٹریٹ سے مالا مال ہوتی ہے جو ہضم ہونے کے دوران نائٹرک آکسائڈ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ نائٹرک آکسائڈ خون کی شریانوں کے پھیلاؤ میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ چقندر کے جوس کا روزانہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کی سطح کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے افراد جن کو ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ لاحق تھا ان کو چار ہفتوں تک اڑھائی سو ملی لیٹر اس سبزی کا جوس استعمال کروایا گیا جس سے ان کے بلڈ پریشر میں واضح کمی آئی۔
- سائنسی اور طبی تشریح (Scientific & Medical Explanation)جدید سائنس کے مطابق بلڈ پریشر کم کرنے میں چقندر کا طریقہ کار درج ذیل مراحل پر مشتمل ہوتا ہے:نائٹریٹ سے نائٹرک آکسائیڈ کا سفر: چقندر میں قدرتی طور پر غیر نامیاتی نائٹریٹ ($NO_3^-$) بھاری مقدار میں پایا جاتا ہے۔ جب ہم چقندر یا اس کا جوس پیتے ہیں، تو منہ میں موجود بیکٹیریا اور معدے کے تیزاب اسے پہلے نائٹرائٹ ($NO_2^-$) اور پھر نائٹرک آکسائیڈ ($NO$) میں تبدیل کر دیتے ہیں۔شریانوں کا پھیلاؤ (Vasodilation): نائٹرک آکسائیڈ ایک طاقتور “ویسوڈیلیٹر” (Vasodilator) ہے۔ یہ خون کی شریانوں کے گرد موجود لچکدار پٹھوں (Smooth Muscles) کو سکون (Relax) پہنچاتا ہے۔ جب یہ پٹھے ریلیکس ہوتے ہیں، تو شریانیں کھل جاتی ہیں (ان کا قطر بڑھ جاتا ہے)۔بلڈ پریشر میں کمی: شریانیں پھیلنے سے خون کے بہاؤ میں مزاحمت (Peripheral Resistance) کم ہو جاتی ہے، جس سے دل کو خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ زور نہیں لگانا پڑتا اور بلڈ پریشر فوری طور پر نیچے آ جاتا ہے۔کلینیکل ریسرچ: متن میں جس 250 ملی لیٹر (تقریباً ایک گلاس) جوس کے 4 ہفتوں کے تجربے کا ذکر ہے، وہ طبی تحقیقی رپورٹس کے بالکل مطابق ہے، جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ اس کا باقاعدہ استعمال سسٹولک اور ڈائسٹولک دونوں طرح کے بلڈ پریشر کو متوازن رکھتا ہے۔2. قانون مفرد اعضاء کے مطابق تشریح (Interpretation according to Qanoon-e-Mufrad-Aza)تحریکِ تجدیدِ طب اور قانون مفرد اعضاء کے اصولوں کے تحت ہر غذا اور دوا کا ایک مخصوص مزاج اور اس کا اثر کسی خاص عضو (Organ) پر ہوتا ہے۔چقندر کا مزاج اور تحریکمزاج: چقندر کا مزاج غدی عضلاتی (گرم خشک) ہوتا ہے (بعض اطباء اس کے گودے کو گرم تر اور چھلکے/پتوں کو گرم خشک بھی شمار کرتے ہیں، مجموعی طور پر یہ غدی تحریک کا حامل ہے)۔عضو پر اثر: یہ جگر اور غددِ ناقلہ (Glands) کو متحرک کرتا ہے۔بلڈ پریشر پر قانون مفرد اعضاء کے تحت کام کا طریقہقانون مفرد اعضاء کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کی بڑی وجہ اکثر عضلاتی غدی (خشک گرم) یا عضلاتی اعصابی (خشک سرد) تحریک ہوتی ہے، جس میں سوداویت، تیزابیت (Acidity) اور شریانوں کا سکڑاؤ (Spasm) پایا جاتا ہے۔ دل اور عضلات کے سخت ہونے سے خون کا دباؤ بڑھتا ہے۔جب چقندر (غدی عضلاتی) استعمال کیا جاتا ہے، تو یہ جسم میں درج ذیل تبدیلیاں لاتا ہے:عضلاتی سکڑاؤ کا خاتمہ: یہ عضلاتی تحریک (خشکی/سکڑاؤ) کو توڑتا ہے۔ جگر کو متحرک کر کے جسم میں صفراء کی پیدائش اور اخراج کو بہتر کرتا ہے، جس سے خون کی نالیوں کی سختی دور ہوتی ہے۔تحلیلِ عضلات (Relaxation of Blood Vessels): قانونِ مفرد اعضاء کا قاعدہ ہے کہ جب غدد (Glands) میں تحریک ہوگی، تو عضلات (Muscles) میں تحلیل (Relaxation) ہوگی۔ چونکہ خون کی شریانیں عضلاتی بافتوں (Muscular tissues) سے بنی ہیں، اس لیے غدی تحریک کے سبب وہ پھیل جاتی ہیں (تحلیل میں چلی جاتی ہیں)۔ یہی وہ عمل ہے جسے جدید سائنس۔ Vasodilation کہتی ہے۔تیزابیت کا خاتمہ: چقندر خون کی تیزابیت اور سوداوی مادوں کو خارج کرتا ہے، جس سے خون پتلا ہوتا ہے اور اس کی حدت و دباؤ نارمل ہو جاتا ہے۔خلاصہ (Conclusion)جدید سائنس چقندر کے جس عمل کو “نائٹرک آکسائیڈ کے ذریعے شریانوں کا پھیلنا” کہتی ہے، قانون مفرد اعضاء اسی عمل کو “غدی تحریک کے نتیجے میں عضلاتِ شریان کا تحلیل ہونا” بیان کرتا ہے۔ دونوں علوم ایک ہی حقیقت کو اپنے اپنے پیرائے میں بیان کر رہے ہیں، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ چقندر عضلاتی بلڈ پریشر (جو خشکی اور نالیوں کے سکڑنے سے ہو) کے لیے ایک بہترین مصفیٰ خون اور دافع دباؤ غذا ہے
جسمانی کارکردگی میں اضافہ
چقندر کا جوس پلازما نائٹریٹ بڑھاتا ہے جس سے جسمانی کارکردگی بڑھتی ہے۔ یہ جوس ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو سائیکلنگ کرتے ہیں یا زیادہ تر پیدل چلتے ہیں۔ اس سے جسم میں آکسیجن کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ جوس جسمانی نشونما کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور
اس سبزی میں اینٹی آکسیڈنٹس وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جو جسم میں موجود فری ریڈیکلز سے پہنچنے والے نقصانات سے بچاتے ہیں اور آکسی ڈیٹو تناؤ بھی کم کرتے ہیں۔ اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کی بنیاد پر یہ سوزش کم کرنے میں بھی مددد دیتا ہے اور ہڈیوں کی بیماریوں کی وجہ سے ہونے والے درد کو بھی کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ چقندر کا جوس فولک ایسڈ اور آئرن سے بھی بھرپور ہوتا ہے جس کی وجہ سے خون کی کمی دور ہوتی ہے۔ یہ جوس جسم میں موجود خون کے خلیوں کو بڑھاتا ہے جو جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن لے جانے کا کام کرتے ہیں۔
حاملہ عورتوں کے لیے مفید
حمل کی وجہ سے اکثر عورتوں میں خون کی کمی واقع ہو جاتی ہے، اس وجہ سے ڈاکٹر حمل کے دوران خواتین کو چقندر استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں کیوں کہ اس میں بڑی تعداد میں آئرن پایا جاتا ہے جو خون کے سرخ خلیات بننے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ - سائنسی اور جدید طبی تشریح (Modern Scientific View)جدید میڈیکل سائنس کے مطابق حمل کے دوران جسم میں خون کی مقدار (Blood Volume) میں تقریباً 50% اضافہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے آئرن اور فولیٹ کی ضرورت بہت بڑھ جاتی ہے۔سرخ خلیات کی پیدائش (Erythropoiesis): چقندر میں آئرن (Iron) اور فولک ایسڈ (Vitamin B9/Folate) وافر مقدار میں ہوتے ہیں۔ فولک ایسڈ نیورل ٹیوب ڈیفیکٹس (بچے کی ریڑھ کی ہڈی اور دماغی نقائص) سے بچاتا ہے، جبکہ آئرن ہیموگلوبن بڑھا کر حاملہ کو اینیمیا (خون کی کمی) سے محفوظ رکھتا ہے۔بلڈ پریشر اور دورانِ خون: چقندر میں قدرتی نائٹریٹس (Nitrates) پائے جاتے ہیں جو جسم میں جا کر نائٹرک آکسائیڈ میں تبدیل ہوتے ہیں۔ یہ خون کی نالیوں کو آرام پہنچا کر بلڈ پریشر کو نارمل رکھتے ہیں اور پلے سینٹا (Placenta) کی طرف خون کے بہاؤ کو بہتر بناتے ہیں۔2. روایتی طبی تشریح (Traditional Unani/Tibb View)قدیم اطباء کے نزدیک چقندر کا مزاج گرم خشک (پہلے درجے میں) یا بعض کے نزدیک معتدل مائل بہ گرمی ہوتا ہے۔صالح خون کی پیدائش: طبِ یونانی کے اصولوں کے مطابق یہ جگر (Liver) کو طاقت دیتا ہے اور جسم میں “دم” (صالح/خالص خون) پیدا کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔سدد کھولنا (Deobstruent): یہ جگر اور تلی (Spleen) کے سدد (رکاوٹیں) کھولتا ہے، جس سے نہ صرف خون بننے کا عمل تیز ہوتا ہے بلکہ حمل کے دوران ہونے والی سستی اور کمزوری کا بھی خاتمہ ہوتا ہے۔3. قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق تشریح (Qanoon-e-Mufrad-Aza)قانونِ مفرد اعضاء (مجددِ طب صابر ملتانیؒ کے نظریہ) کے مطابق انسانی جسم تین بنیادی اعضاء (دل، دماغ، جگر) اور ان کے مخصوص غدود و عضلات کے گرد گھومتا ہے۔چقندر کا کیمیاوی اثر غدی عضلاتی (جگر و غدود کی تیزی/صفراوی اثر) ہوتا ہے، جبکہ بعض حالتوں میں یہ عضلاتی غدی اثرات بھی دکھاتا ہے۔تحریکِ جگر (Liver Stimulation): حمل کے دوران اکثر خواتین کا نظامِ ہضم سست ہو جاتا ہے یا عضلاتی (سوداوی) تحریک کی وجہ سے خون میں گاڑھا پن یا کمی آنے لگتی ہے۔ چقندر جگر اور غدودِ جاذبہ (Lymphatic System) کو متحرک کرتا ہے۔ جگر جب متحرک ہوتا ہے تو صالح خون کی پیدائش (صالح صفراء اور دم) کا عمل خودبخود تیز ہو جاتا ہے۔خون کی کمی (اینیمیا) کا علاج: قانونِ مفرد اعضاء کے تحت خون کی کمی اکثر عضلاتی اعصابی یا عضلاتی غدی (سوداوی) خشکی کی وجہ سے ہوتی ہے جہاں خون کے سرخ خلیات دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ چقندر جگر میں گرمی اور رطوبت کو متوازن کر کے سوداوی اثرات کا خاتمہ کرتا ہے، جس سے تلی اور جگر اپنا کام درست طریقے سے شروع کر دیتے ہیں اور ہیموگلوبن کا گراف تیزی سے اوپر جاتا ہے۔قبض سے نجات: حاملہ خواتین میں عضلاتی تیزی کی وجہ سے جو قبض (Constipation) کی شکایت ہوتی ہے، چقندر اپنے غدی (صفراوی) اثر کی وجہ سے آنتوں کی خشکی کو دور کرتا ہے اور اخراجِ فضلا کو آسان بناتا ہے۔خلاصہ بحوالہ قانونِ مفرد اعضاء: چقندر جگر و غدودِ جاذبہ کو قوت دے کر نیا اور صالح خون پیدا کرنے والی ایک بہترین غدی عضلاتی غذا اور دوا ہے، جو حاملہ کے مدافعتی نظام کو طاقتور رکھتی ہے
قبض کا خاتمہ
عام اندازے کے مطابق ایک کپ چقندر میں ساڑھے تین گرام فائبر پائی جاتی ہے جو قبض سے نجات حاصل کرنے میں نہایت مفید ثابت ہوتی ہے۔ ایسا فائبر جو جلدی سے گھلتا نہیں ہے غذا کو نالی سے تیزی سے گزرنے میں مدد دیتا ہے اور بہت جلد خارج کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ قبض کا شکار افراد میں بواسیر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس طریقے سے چقندر قبض کو ختم کرنے کے بعد بواسیر کے خطرات بھی کم کرتی ہے۔ کچھ تحقیقات کے مطابق کم فائبر والی غذائیں بواسیر کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں جبکہ ایسی غذائیں، جن میں فائبر اچھی مقدار میں پایا جاتا ہو،
بواسیر کے خطرات کو کم کرتی ہیں۔
پھیپھڑوں کی حفاظت
چقندر کا استعمال پھیپھڑوں کے انفیکشن کے خطرات کو کم کرتا ہے۔ اس انفیکشن سے بچنے کے لیے چقندر کو بطور سلاد استعمال کیا جا سکتا ہے جب کہ اس کا جوس بھی نکالا جا سکتا ہے۔ پھیپھڑوں کے انفیکشن کے خطرات کم کر کے یہ سبزی ان کی حفاظت کرتی ہے۔
دماغی طاقت کے لیے
دماغ کو صحت مند رہنے کے لیے زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے دماغ کو آکسیجن کی سپلائی بہتر بنانے کے لیے چقندر کا استعمال یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہ سبزی مسلز کے ساتھ ساتھ دماغ کو بھی زیادہ آکسیجن پہنچاتی ہے اس لیے اسے سلاد یا جوس کی شکل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کینسر سے بچاؤ
تحقیقات کے مطابق چقندر میں ایسے مرکبات پائے جاتے ہیں جن کی مدد سے کینسر میوٹیشن کو روکا جا سکتا ہے۔ ان مرکبات میں ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے چقندر لال اور زرد رنگ کے ہوتے ہیں۔ کینسر کے خطرات کو کم کرنے کے لیے چقندر کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
ذیابیطس سے بچاؤ
چقندر میں ایسا مرکب پایا جاتا ہے جو گلوکوز کی سطح کم کرنے کے ساتھ ساتھ انسولین کی حساسیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ گلوکوز کی سطح کم ہونے اور انسولین کی حساسیت بڑھنے سے ذیابیطس سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔
چقندر (Beetroot) کے ان دونوں فوائد (کینسر اور ذیابیطس سے بچاؤ) کی سائنسی طبی (Modern Science) اور نظریہ قانونِ مفرد اعضاء (Organopathy) کے مطابق تفصیلی تشریح درج ذیل ہے:1. کینسر سے بچاؤ (Cancer Prevention)سائنسی طبی تشریح (Modern Scientific View)بیٹالینز (Betalains): چقندر کو گہرا سرخ یا زرد رنگ دینے والے پگمنٹس کو “بیٹالینز” کہا جاتا ہے۔ یہ انتہائی طاقتور Antioxidants اور Anti-inflammatory مرکبات ہیں۔میوٹیشن کی روک تھام: کینسر کی بنیادی وجہ خلیات (cells) کے DNA میں ہونے والی خرابیاں یا میوٹیشنز (Mutations) ہیں۔ بیٹالینز جسم میں موجود فری ریڈیکلز (آزاد زہریلے ذرات) کو ختم کرتے ہیں، جس سے خلیات کا آکسیڈیٹیو تناؤ (Oxidative Stress) کم ہوتا ہے اور DNA کینسر کی تبدیلیوں سے محفوظ رہتا ہے۔ٹیومر کی افزائش کو روکنا: سائنسی ابحاث کے مطابق یہ مرکبات کینسر کے خلیات کی تقسیم (Cell Proliferation) کو سست کرتے ہیں۔قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق تشریح (Hakim Inqalab’s View)مزاج اور تحریک: چقندر کا مزاج غدی عضلاتی (گرم خشک) ہوتا ہے۔ یہ جسم میں جگر اور غدد (Glands) کو متحرک کرتا ہے اور صفراء (Bile) پیدا کرتا ہے۔کینسر کا سبب اور علاج: قانونِ مفرد اعضاء کے تحت کینسر یا رسولیاں (Tumors) اکثر جسم میں شدید عضلاتی اعصابی یا عضلاتی غدی (خشکی اور سوداویت) کے اجتماع کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، جہاں خلیات انجماد (Stagnation) کا شکار ہو کر غیر طبعی طور پر بڑھنے لگتے ہیں۔مکانزم: چقندر اپنی گرمی اور غدی تحریک کی وجہ سے سودا (خشکی) کا قلع قمع کرتا ہے۔ یہ خون کو صالح پیدا کرتا ہے، سوداوی انجماد کو پگھلاتا ہے اور جگر کو فعال کر کے فاسد مادوں کو جسم سے خارج (Detoxify) کرتا ہے، جس سے کینسر کا سبب بننے والی خلطِ سودا ختم ہوتی ہے۔2. ذیابیطس سے بچاؤ (Diabetes Prevention)سائنسی طبی تشریح (Modern Scientific View)الفا لیپوک ایسڈ (Alpha-Lipoic Acid): چقندر میں یہ طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ پایا جاتا ہے جو خون میں گلوکوز کی سطح کو کم کرنے میں مددگار ہے۔انسولین کی حساسیت (Insulin Sensitivity): یہ مرکب خلیات کو انسولین کے प्रति زیادہ حساس (Responsive) بناتا ہے۔ جب انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے، تو خلیات خون سے شوگر کو آسانی سے جذب کر کے توانائی میں تبدیل کر دیتے ہیں، جس سے خون میں شوگر جمع نہیں ہو پاتی۔نائٹریٹس (Nitrates): چقندر میں موجود نائٹریٹس خون کی نالیوں کو کھولتے ہیں (Vasodilation)، جس سے خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور ذیابیطس کی پیچیدگیوں (جیسے نیوروپیتھی) کا خطرہ کم ہوتا ہے۔قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق تشریح (Hakim Inqalab’s View)ذیابیطس کی اقسام اور چقندر: قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق ذیابیطس زیادہ تر دو اقسام کی ہوتی ہے: اعصابی (سردی کی وجہ سے کثرتِ بول) یا عضلاتی (خشکی اور انسولین کی کمی)۔اعصابی ذیابیطس میں فائدہ: اگر ذیابیطس اعصابی تحریک (سردی-تری) کی وجہ سے ہو، جہاں لبلبہ اور جگر سستی کا شکار ہوں، تو چقندر اپنی غدی عضلاتی (گرم خشک) تحریک سے اعصابی سستی کو دور کرتا ہے۔مکانزم: یہ جگر اور لبلبے کو حرارتِ غریزی (طبعی گرمی) فراہم کرتا ہے۔ حرارت بڑھنے سے لبلبے کا فعل طبعی ہو جاتا ہے، رطوبات کا غیر طبعی اخراج رکتا ہے، اور جسم میں گلوکوز کا میٹابولزم درست ہو کر شوگر کنٹرول میں آتی ہے۔اہم نکتہ (قانونِ مفرد اعضاء کے تحت): چقندر چونکہ غدی عضلاتی (گرم خشک) ہے، اس لیے یہ اعصابی اور عضلاتی مزاج والے مریضوں کے لیے بہترین دوا اور غذا ہے، لیکن اگر کسی مریض کو پہلے سے غدی سوزش (گرمی کی شدت) ہو، تو اسے چقندر کا استعمال احتیاط سے یا معالج کے مشورے سے کرنا چاہیے۔
ہاضمے کی خرابی
یرقان یا کئی دوسری وجوہات کی بنا پر اگر آپ کا نظامِ انہضام خراب ہے یا آپ کو متلی، قے، یا اسہال کی شکایت ہے تو اس سبزی کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ ہاضمے کی خرابی کو دور کرنے کے لیے اس کے رس میں ایک چمچ لیموں کا رس شامل کر کے پئیں۔
داغ دھبوں سے چھٹکارا
چہرے کے داغ دھبے دور کرنے کے لیے
چقندر کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک چقندر کو کاٹ کر پانی میں ابالیں۔ یہ پانی روئی کی مدد سے چہرے پر لگائیں اور پانچ سے سات منٹ بعد دھولیں۔ چہرہ خشک کرنے کے بعد گلاب کا عرق لگا لیں۔ چند دنوں بعد چہرے داغ دھبے کم ہونا شروع ہو جائیں گے۔
چقندر کے مزید طبی فوائد کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے آپ کسی بھی غذائی ماہر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اب کسی بھی غذائی ماہر سے آسانی کے ساتھ رابطہ کرنے کے لیے آپ ہیلتھ وائر کا پلیٹ فارم استعمال کر سکتے ہیں۔
چہرے کے داغ دھبوں کے لیے چقندر (Beetroot) کے اس نسخے کی سائنسی (Medical Science) اور قانونِ مفرد اعضاء (Organopathy / Khaleel-ur-Rehman Model) کے اصولوں کے مطابق تفصیلی تشریح درج ذیل ہے۔
:1. سائنسی اور طبی تشریح (Modern Scientific Perspective)جدید میڈیکل سائنس اور ڈرمیٹالوجی کی رو سے چقندر جلد کے لیے ایک بہترین قدرتی ٹانک ہے، اور اس نسخے کے اثرات کی سائنسی وجوہات یہ ہیں۔
:اینٹی آکسیڈنٹس کی بہتات (Antioxidant Rich):
چقندر میں Beta-cyanins اور Vitamin C وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہ جلد کے خلیات کو فری ریڈیکلز (Free Radicals) کے نقصان سے بچاتے ہیں اور میلانین (Melanin) کی ضرورت سے زیادہ پیداوار کو روکتے ہیں، جس سے ہائپر پگمنٹیشن (داغ دھبے) کم ہوتی ہے۔قدرتی بلیچنگ ایجنٹ (Natural Lightening Agent): چقندر کا پانی جلد کے مردہ خلیات (Dead Skin Cells) کو صاف کرنے میں مدد کرتا ہے، جس سے جلد رنگت میں نکھار آتا ہے۔
سوزش کا خاتمہ (Anti-inflammatory):
اس میں موجود نائٹریٹس اور دیگر مرکبات جلد کی سوزش، سرخی اور ایکنی (کیل مہاسوں) کے بعد بننے والے نشانات کو مدہم کرتے ہیں۔عرقِ گلاب کا کردار (Role of Rose Water): عرقِ گلاب ایک قدرتی Toner اور Astrigent ہے۔
یہ چقندر کے پانی کے بعد جلد کے مساموں (Pores) کو بند کرتا ہے، پی ایچ لیول ($PH\ Level$) کو برقرار رکھتا ہے اور جلد کو ہائیڈریٹ کرتا ہے
۔2. قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق تشریح (Qanoon-e-Mufrad-Aza Perspective)قانونِ مفرد اعضاء کی رو سے چہرے پر داغ دھبے (خواہ وہ جھائیاں ہوں یا ایکنی کے نشانات) عام طور پر عضلاتی غدی (خشک گرم) یا غدی عضلاتی (گرم خشک) تحریک میں خون کی خرابی، جگر و غدد کی سوزش یا خلطِ صفراء/سوداء کی غیر طبعی پیدائش کی وجہ سے ہوتے ہیں۔اس تناظر میں چقندر اور عرقِ گلاب کا اثر درج ذیل ہے:چقندر کا مزاج: چقندر کا مزاج صابر ملتانیؒ کے اصولوں اور طبی کتب کے مطابق غدی اعصابی (گرم تر) سے اعصابی غدی (تر گرم) کی طرف مائل ہوتا ہے۔
تحریک اور تسکین کا اصول:
جب چقندر کا ابلا ہوا پانی (جو کہ رطوبت اور حرارت سے بھرپور ہوتا ہے) جلد پر لگایا جاتا ہے، تو یہ عضلاتی (خشکی) اور غدی (گرمی) کے اثرات کو تسکین دیتا ہے۔یہ جلد کے مقامی خلیات اور غددِ جاذبہ (Absorbent glands) کو متحرک کرتا ہے، جس سے وہاں رکی ہوئی فاسد خلطیں (عفونت) پگھل کر صاف ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
عرقِ گلاب کا مزاج:
عرقِ گلاب اعصابی غدی (تر سرد / تر گرم) اثرات کا حامل ہوتا ہے۔ یہ صفراء کی گرمی اور سدوں کو دور کرتا ہے، جلد کو تسکین (Sedation) دیتا ہے اور وہاں خون کے دوران کو اعتدال پر لاتا ہے۔خلاصہِ تشریح بِمطابق قانونِ مفرد اعضاء:یہ نسخہ چہرے کی مقامی سطح پر “اعصابی غدی” (طبیعی رطوبت) پیدا کرتا ہے۔ یہ رطوبت عضلاتی سوداوی جھائیوں کی خشکی کو ختم کرتی ہے اور غدی صفراوی داغوں کی جلن اور سرخی کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے، جس سے خلیات دوبارہ اپنی اصل طبعی حالت میں آ کر چہرے کو صاف کر دیتے ہیں۔
ایک اہم طبی مشورہ
اگرچہ یہ نسخہ بیرونی طور پر (Locally) داغ دھبوں کو ہلکا کرنے کے لیے بہترین ہے، لیکن اگر خون میں سوداء یا صفراء کا غلبہ اندرونی طور پر زیادہ ہو، تو مستقل فائدے کے لیے اندرونی طور پر بھی مصفیٰ خون (Blood Purifiers) اور جگر کی اصلاح کرنے والی غدی اعصابی یا اعصابی غدی غذاؤں اور ادویات کا استعمال ضروری ہوتا ہے۔
بیرونی استعمال
چقندر (Beetroot) کو صرف کھایا ہی نہیں جاتا، بلکہ اس کا بیرونی استعمال (External Application) بھی سائنسی اور طبی لحاظ سے انتہائی مفید ہے۔ چقندر کا گہرا سرخ رنگ اور اس میں موجود غذائی اجزاء جلد اور بالوں کے لیے ایک بہترین قدرتی ٹانک کا کام کرتے ہیں۔
جدید سائنسی طب اور نظریہ قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق چقندر کے بیرونی استعمال کی تفصیلی تشریح درج ذیل ہے:
- جلد اور خوبصورتی کے لیے بیرونی استعمال
الف) ہونٹوں کا قدرتی گلابی پن
طریقہ استعمال: چقندر کے ٹکڑے کو رات سونے سے پہلے ہونٹوں پر ہلکا سا رگڑیں، یا اس کے رس میں تھوڑی سی ملائی ملا کر ہونٹوں پر لگائیں۔
سائنسی تشریح: چقندر میں موجود بیٹالینز (Betalains) قدرتی پگمنٹ کا کام کرتے ہیں جو ہونٹوں کی سیاہی دور کر کے انہیں قدرتی گلابی رنگت دیتے ہیں۔ اس کے اینٹی آکسیڈنٹس ہونٹوں کی نازک جلد کو بیرونی نقصانات سے بچاتے ہیں۔
قانونِ مفرد اعضاء کی رو سے: ہونٹوں کا کالا یا نیلا ہونا جسم میں عضلاتی سوداوی تحریک (خشکی/سردی) کی علامت ہوتا ہے۔ چقندر کا رس اپنی غدی (گرم) تاثیر کی وجہ سے وہاں خون کی گردش (Blood Circulation) کو تیز کرتا ہے اور خشکی کو دور کر کے طبعی رنگت بحال کرتا ہے۔
ب) رنگت نکھارنے اور جھریوں کے لیے (Face Mask)
طریقہ استعمال: چقندر کے رس میں دہی یا چنے کا آٹا (بیسن) ملا کر چہرے پر لگائیں اور 15 منٹ بعد دھو لیں۔
سائنسی تشریح: یہ وٹامن سی (Vitamin C) اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو جلد میں کولیجن (Collagen) کی مقدار بڑھاتے ہیں، جھریوں کو روکتے ہیں اور پگمنٹیشن (چھائیوں) کو کم کرتے ہیں۔
قانونِ مفرد اعضاء کی رو سے: چہرے کی بے رونقی یا چھائیاں اکثر اعصابی سستی یا عضلاتی انجماد کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ چقندر کا بیرونی لیپ جلد کے مسامات کو کھولتا ہے، وہاں مقامی طور پر حرارت پہنچا کر فاسد مادوں کو تحلیل کرتا ہے اور جلد کو سرخی مائل چمک دیتا ہے۔
ج) ایکنی اور کیل مہاسوں کا علاج
طریقہ استعمال: چقندر کے رس میں چند قطرے لیموں کا رس ملا کر متاثرہ جگہ پر لگائیں۔
سائنسی تشریح: چقندر میں سوزش کو کم کرنے والی ( Anti-inflammatory ) خصوصیات ہوتی ہیں جو جلد پر موجود بیکٹیریا اور سوزش کا خاتمہ کرتی ہیں۔
- بالوں کی صحت کے لیے استعمال
الف) بالوں کا قدرتی رنگ (Natural Dye)
طریقہ استعمال: چقندر کے رس میں تھوڑا سا مہندی کا پاؤڈر یا ناریل کا تیل ملا کر بالوں پر لگائیں اور 1 سے 2 گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں۔
سائنسی تشریح: یہ بالوں کو بغیر کسی کیمیکل کے ایک خوبصورت گہرا سرخ یا برگنڈی (Burgundy) شیڈ دیتا ہے۔
ب) بالوں کا گرنا اور خشکی (Dandruff)
طریقہ استعمال: چقندر کے رس کو بالوں کی جڑوں (Scalp) میں لگا کر ہلکا مساج کریں اور آدھے گھنٹے بعد دھو لیں۔
سائنسی تشریح: چقندر میں موجود نائٹریٹس بالوں کی جڑوں میں خون کے بہاؤ کو بڑھاتے ہیں، جس سے بالوں کو بھرپور غذا ملتی ہے اور ان کا گرنا بند ہوتا ہے۔ اس میں موجود پوٹاشیم اور وٹامنز سر کی جلد کی خشکی دور کرتے ہیں۔
قانونِ مفرد اعضاء کی رو سے: بالوں کا گرنا اور خشکی زیادہ تر عضلاتی خشک مزاج میں سودا کی زیادتی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ چقندر اپنی غدی عضلاتی (گرم خشک) تحریک سے سر کی جلد کو ضروری حرارت فراہم کرتا ہے، جس سے وہاں رکی ہوئی رطوبات متحرک ہوتی ہیں اور بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔
- زخموں اور ورم کے لیے (طبی لیپ)
طریقہ استعمال: چقندر کے پتوں کو ابال کر یا ان کا پیسٹ بنا کر ورم (سوجن) یا پرانے زخموں پر باندھا جاتا ہے۔
سائنسی تشریح: یہ خلیات کی سوزش کو کم کرتا ہے اور اس کے اینٹی سیپٹک اثرات زخم کو جلد بھرنے میں مدد دیتے ہیں۔
قانونِ مفرد اعضاء کی رو سے: اگر ورم اعصابی (سردی یا پانی پڑ جانے) کی وجہ سے ہو، تو چقندر کا گرم لیپ اس رطوبت کو سکھاتا ہے اور ورم کو تحلیل (Dissolve) کر دیتا ہے۔
احتیاطی تدبیر: چقندر کا رس چہرے پر لگانے سے پہلے جلد کے ایک چھوٹے حصے پر Patch Test (تھوڑا سا لگا کر چیک کرنا) ضرور کر لیں، تاکہ اگر آپ کی جلد حساس ہے تو کسی قسم کی الرجی یا چبھن کا اندازہ ہو سکے۔
چقندر (Beetroot) کو جب مختلف جڑی بوٹیوں یا قدرتی اجزاء کے ساتھ ملا کر مرکب (Formulation) کی شکل دی جاتی ہے، تو اس کی افادیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔جدید سائنسی طب اور نظریہ قانونِ مفرد اعضاء (غدی عضلاتی یعنی گرم خشک مزاج) کو مدنظر رکھتے ہوئے، چقندر کے اندرونی اور بیرونی طور پر استعمال ہونے والے بہترین طبی مرکبات درج ذیل ہیں:
- اندرونی طور پر استعمال ہونے والے مرکبات (Internal Formulations)
یہ مرکبات خون کی کمی، جگر کی سستی، اور اعصابی کمزوری کو دور کرنے کے لیے بہترین ہیں۔
الف) سفوفِ چقندر مقوی جگر و خون (خون پیدا کرنے والا پاؤڈر)
اجزاء: چقندر کا خشک سفوف (Beetroot Powder)، سونٹھ (زنجبیل)، نوشادر، اور کالی مرچ۔
طریقہ: تمام اشیاء کو ہم وزن پیس کر سفوف بنا لیں۔
قانونِ مفرد اعضاء کی رو سے: یہ ایک بہترین غدی عضلاتی سے غدی اعصابی مرکب بنتا ہے۔ یہ جگر کو فوری متحرک کرتا ہے، فاسد سودا کا اخراج کرتا ہے اور صالح خون (سرخ خلیات) پیدا کرتا ہے۔
سائنسی فائدہ: یہ آئرن، وٹامن سی اور نائٹریٹس کا خزانہ ہے جو ہیموگلوبن کو تیزی سے بڑھاتا ہے اور بلڈ پریشر کو نارمل رکھتا ہے۔
ب) شربتِ چقندر (Beetroot Syrup)
اجزاء: چقندر کا رس (ایک کلو)، چینی یا شہد (آدھا کلو)، لیموں کا رس (دو چمچ)۔
طریقہ: چقندر کے رس میں چینی یا شہد ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں یہاں تک کہ قوام گاڑھا ہو جائے، آخر میں لیموں کا رس شامل کر دیں۔
قانونِ مفرد اعضاء کی رو سے: یہ مرکب اعصابی عضلاتی (سرد خشک) مزاج والے مریضوں اور شوگر کے ایسے مریض جن کو بار بار پیشاب آتا ہو ، کے لیے بہترین غدی ٹانک ہے۔ یہ لبلبے اور جگر کو طبعی حرارت دیتا ہے۔
سائنسی فائدہ: یہ جسم کو فوری توانائی فراہم کرتا ہے اور جگر کو ڈی ٹاکسیفائی (زہر ربا) کرتا ہے۔
ج) چقندر اور گاجر کا جوشاندہ/سموگھی (Detox Drink)
اجزاء: چقندر کا رس، گاجر کا رس، اور ہلکی سی ادرک۔
طریقہ: ان کو ملا کر صبح نہار منہ پئیں۔طبی فائدہ: یہ مرکب عضلاتی انجماد (کولیسٹرول، یورک ایسڈ اور شریانوں کی سختی) کو تحلیل کرنے کے لیے اکسیر ہے۔
- بیرونی طور پر استعمال ہونے والے مرکبات (External Formulations)
یہ مرکبات جلد کی خوبصورتی، جھریوں کے خاتمے اور بالوں کے امراض کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔
الف) مرہمِ چقندر برائے جلد و ہونٹ (Beetroot Lip & Skin Balm)
اجزاء: چقندر کا گہرا رس (یا خشک پاؤڈر)، دیسی موم (Beeswax)، اور ناریل یا بادام کا تیل۔
طریقہ: ناریل کے تیل اور موم کو ہلکی آنچ پر پگھلائیں، پھر اس میں چقندر کا رس یا پاؤڈر اچھی طرح مکس کر کے ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیں۔ یہ ایک بہترین قدرتی بام بن جائے گا۔
قانونِ مفرد اعضاء کی رو سے: ہونٹوں یا جلد کا کالا پن عضلاتی خشکی کی علامت ہے۔ یہ مرہم اپنی غدی طراوت اور حرارت کی وجہ سے خشکی کا خاتمہ کرتی ہے اور وہاں خون کی گردش بڑھا کر جلد کو سرخی مائل کرتی ہے۔
سائنسی فائدہ: یہ جلد کو گہرائی تک ہائیڈریٹ (Moisturize) کرتا ہے اور بیٹالینز پگمنٹ کی وجہ سے ہونٹوں کو قدرتی گلابی رنگ دیتا ہے۔
ب) غازہِ چقندر برائے چھائیاں و ایکنی (Face Pack)
اجزاء: چقندر کا پاؤڈر، حسنِ یوسف، مٹی ملتانی، اور عرقِ گلاب۔
طریقہ: ان تمام چیزوں کا پیسٹ بنا کر چہرے پر بطور لیپ یا ماسک استعمال کریں۔
طبی فائدہ: یہ چہرے کی چھائیوں (پگمنٹیشن) کو دور کرتا ہے۔ قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق یہ چہرے کی جلد کے نیچے رکے ہوئے فاسد مادوں کو تحلیل کر کے مسامات کو صاف کرتا ہے۔
ج) روغنِ چقندر مقوی شعر (Beetroot Hair Oil)
اجزاء: چقندر کا رس (ایک کپ)، مہندی کے پتے (آدھا کپ)، اور سرسوں یا تِل کا تیل (ایک کپ)۔
طریقہ: تِل یا سرسوں کے تیل میں چقندر کا رس اور مہندی کے پتے ڈال کر ہلکی آنچ پر پکائیں۔ جب رس جل جائے اور صرف تیل بچ جائے تو چھان کر محفوظ کر لیں۔
قانونِ مفرد اعضاء کی رو سے: سر کی خشکی اور بالوں کا گرنا عضلاتی سوداوی تحریک کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ تیل جڑوں کو غدی حرارت پہنچاتا ہے جس سے بال گرنا بند ہو جاتے ہیں۔سائنسی فائدہ: یہ بالوں کو قدرتی چمکدار برگنڈی شیڈ دیتا ہے اور سر کی جلد (Scalp) میں خون کا بہاؤ تیز کر کے بالوں کی نشوونما بڑھاتا ہے۔
طبی مشورہ: اندرونی استعمال کے لیے اگر مریض کا مزاج پہلے ہی شدید گرم (غدی سوزش یا یرقان وغیرہ) ہو، تو چقندر کے گرم مرکبات معالج کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں۔ بیرونی مرکبات عموماً تمام مزاجوں کے لیے محفوظ ہوتے ہیں۔
چقندر خشک کرکے محفوظ کرنا
چقندر کو سائنسی اصولوں اور قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق خشک کرنا، محفوظ کرنا، اور پھر اس خشک سفوف (Beetroot Powder) کو استعمال میں لانا ایک انتہائی مفید اور دیرپا طریقہ ہے۔ چقندر کو خشک کرنے سے اس کی افادیت ضائع نہیں ہوتی، بلکہ اس کا غدی عضلاتی (گرم خشک) مزاج اور زیادہ مستحکم ہو جاتا ہے۔یہاں چقندر کو خشک کرنے، محفوظ کرنے اور اس کے استعمال کے تمام طریقے تفصیل سے درج ہیں:
- چقندر کو خشک کرنے کے طریقے (Dehydration Methods)
خشک کرنے سے پہلے چقندر کو اچھی طرح دھو کر، چھیل لیں اور باریک سلائس (چپس کی طرح) کاٹ لیں یا کدوکش (Grate) کر لیں۔
طریقہ نمبر 1: سولر ڈی ہائیڈریٹر یا اوون (بہترین طریقہ): چقندر کو اگر سولر ڈی ہائیڈریٹر (Solar Dehydrator) یا اوون میں $50^\circ\text{C}$ سے $60^\circ\text{C}$ پر خشک کیا جائے تو اس کا اصل سرخ رنگ (بیٹالینز پگمنٹ) اور غذائی اجزاء پوری طرح محفوظ رہتے ہیں۔
طریقہ نمبر 2: چھاؤں میں خشک کرنا: اگر دھوپ میں سکھانا ہو تو براہِ راست تیز دھوپ کے بجائے کسی باریک کپڑے سے ڈھانپ کر چھاؤں یا ہلکی دھوپ میں سکھائیں۔ تیز اور براہِ راست دھوپ سے اس کے اینٹی آکسیڈنٹس ضائع ہو سکتے ہیں۔جب چقندر بالکل کرسپی (پاپڑ کی طرح) خشک ہو جائے، تو اسے گرائنڈر میں پیس کر باریک سفوف (Powder) بنا لیں۔
- محفوظ کرنے کا طریقہ (Storage)
ہوا بند برتن (Air-tight Container): چقندر کے سفوف کو شیشے کے بالکل خشک اور ہوا بند جار میں محفوظ کریں۔
نمی سے بچاؤ: چقندر میں قدرتی طور پر شوگر ہوتی ہے، اس لیے نمی لگنے سے یہ پاؤڈر پتھر کی طرح سخت ہو سکتا ہے۔ جار میں ایک چھوٹا سلیکا جیل (Silica Gel) کا ساشے رکھ دینا نمی سے بچاؤ کا بہترین حل ہے۔جگہ کا انتخاب: اسے باورچی خانے کی کسی ٹھنڈی اور اندھیری جگہ پر رکھیں (براہِ راست دھوپ اور چولہے کی گرمی سے دور رکھیں)۔ اس طریقے سے یہ پاؤڈر 6 ماہ سے 1 سال تک بالکل ٹھیک رہتا ہے۔
- خشک چقندر (سفوف) کے اندرونی استعمالات
خشک سفوف چونکہ مرتکز (Concentrated) ہوتا ہے، اس لیے اس کی تھوڑی سی مقدار ہی چقندر کے پورے فائدے فراہم کر دیتی ہے۔
صالح خون کی پیدائش کے لیے (مقویِ جگر): روزانہ آدھا چائے کا چمچ چقندر کا پاؤڈر نیم گرم پانی یا دودھ کے ساتھ صبح نہار منہ لیں۔ یہ قانونِ مفرد اعضاء کے تحت جگر کو فوری حرارت دے کر نیا اور سرخ خون پیدا کرتا ہے۔
کمرشل اور گھریلو فوڈ پروڈکٹس (Smothies & Shakes): اسے دودھ، دہی، یا پروٹین شیکس میں ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ہوم میڈ آئس کریم، بیکری آئٹمز (کیک، بسکٹ) اور بچوں کے دلیے (Oats) میں اسے مکس کر کے ان کی غذائیت اور رنگت کو بہترین بنایا جا سکتا ہے۔
قدرتی فوڈ کلر (Natural Food Color): بریانی، قورمہ، چٹنی یا ساس (Sauces) میں مصنوعی کیمیکل والے رنگوں کے بجائے چقندر کا پاؤڈر بطور قدرتی لال رنگ استعمال کریں۔کپسول فارم: اگر اس کا ذائقہ پسند نہ ہو، تو اس پاؤڈر کو خالی کپسولز (500mg) میں بھر کر روزانہ ایک سے دو کپسول بطور نیچرل ہیلتھ سپلیمنٹ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
- خشک چقندر (سفوف) کے بیرونی استعمالات
فیس ماسک برائے نکھار: ایک چمچ چقندر کے پاؤڈر میں ایک چمچ دہی اور چند قطرے عرقِ گلاب ملا کر چہرے پر لگائیں۔ یہ چہرے کے عضلاتی انجماد اور چھائیوں کو دور کر کے فوری سرخی لاتا ہے۔
ہربل لپ ٹنٹ اور بام: چقندر کے پاؤڈر کو دیسی گھی یا ناریل کے تیل میں پگھلی ہوئی موم (Beeswax) کے ساتھ ملا کر فریج میں رکھ دیں۔ یہ ہونٹوں کو گلابی کرنے والا بہترین کیمیکل فری بام بن جائے گا۔
بالوں کے لیے ہربل ڈائی (Hair Pack): مہندی پاؤڈر میں دو چمچ چقندر کا پاؤڈر شامل کر کے بالوں پر لگائیں۔ یہ بالوں کی جڑوں کو مضبوط بھی کرے گا اور انہیں ایک خوبصورت برگنڈی (سرخ مائل) چمک بھی دے گا۔
چقندر کو اس طرح محفوظ کر کے آپ پورا سال اس کی غدی عضلاتی طراوت اور سائنسی فوائد سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خشک کریلا (مزاج: عضلاتی غدی یعنی خشک گرم) اور خشک چقندر (مزاج: غدی عضلاتی یعنی گرم خشک) دونوں ہی طبی لحاظ سے انتہائی طاقتور اور متبادل ادویات کا درجہ رکھتے ہیں۔ جب ان دونوں کو انفرادی طور پر یا دیگر جڑی بوٹیوں کے ساتھ ملا کر مرکب (Formulation) کی شکل دی جاتی ہے، تو یہ جسم سے خشکی، انجماد، اور سردی کے امراض کا خاتمہ کرتے ہیں۔
نظریہ قانونِ مفرد اعضاء اور جدید طبی سائنس کے مطابق خشک کریلا اور خشک چقندر کے 10 بہترین مرکبات اور ان کے استعمالات درج ذیل ہیں:
- اندرونی استعمال کے لیے 5 اہم مرکبات (Internal Use) مرکب 1: سفوفِ شوگر و انسولین بوسٹر (ذیابیطس کے لیے) اجزاء: خشک کریلا (پاؤڈر) 50 گرام، خشک چقندر (پاؤڈر) 50 گرام، جامن کی گٹھلی 50 گرام۔
تیاری و استعمال: تمام اشیاء کا باریک سفوف بنا لیں۔ روزانہ صبح و شام آدھا چائے کا چمچ تازہ پانی کے ساتھ لیں۔
طبی فائدہ: یہ مرکب خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے کم کرتا ہے اور لبلبے کو متحرک کر کے انسولین کی حساسیت (Sensitivity) کو بڑھاتا ہے۔ مرکب 2: کپسولِ مقوی جگر و صالح خون (خون کی کمی کے لیے) اجزاء: خشک چقندر پاؤڈر 60 گرام، خشک کریلا پاؤڈر 20 گرام، نوشادر طبعی 10 گرام۔
تیاری و استعمال: اچھی طرح مکس کر کے 500mg کے خالی کپسول بھر لیں۔ روزانہ ایک کپسول دن میں دو بار پانی کے ساتھ لیں۔
طبی فائدہ: قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق یہ مرکب جگر کو فعال کرتا ہے۔ چقندر خون پیدا کرتا ہے جبکہ کریلا خون کو فاسد مادوں اور فاسٹنگ شوگر سے پاک (Filter) کرتا ہے۔ مرکب 3: معجونِ مصفیٰ خون (خارش اور الرجی کے لیے) اجزاء: خشک کریلا پاؤڈر 30 گرام، خشک چقندر پاؤڈر 30 گرام، چائے کا قوام یا خالص شہد 200 گرام۔
تیاری و استعمال: دونوں پاؤڈرز کو شہد میں ملا کر معجون بنا لیں۔ چوتھائی چائے کا چمچ صبح نہار منہ لیں۔
طبی فائدہ: یہ خون کی خرابی، چہرے کے دانوں (Acne) اور پرانی خارش کے لیے اکسیر ہے۔ یہ جسم سے سوداوی زہروں کو خارج کرتا ہے۔ مرکب 4: ڈی ٹاکس ہربل ٹی (موٹاپا اور چربی پگھلانے کے لیے) اجزاء: خشک کریلے کے چند ٹکڑے، خشک چقندر کا ایک چمچ پاؤڈر، ادرک کا چھوٹا ٹکڑا۔
تیاری و استعمال: ان تمام کو ایک کپ پانی میں ابال کر قہوہ بنا لیں اور لیموں نچوڑ کر پئیں۔
طبی فائدہ: یہ قہوہ عضلاتی انجماد (بڑھے ہوئے کولیسٹرول اور یورک ایسڈ) کو تحلیل کرتا ہے اور پیٹ کی چربی کو تیزی سے ختم کرتا ہے۔ مرکب 5: خشک چقندر و کریلا نیوٹرل سپلیمنٹ (معدے کی سستی کے لیے) اجزاء: خشک چقندر 50 گرام، خشک کریلا 50 گرام، زیرہ سفید 25 گرام۔
تیاری و استعمال: سفوف بنا کر رکھ لیں اور کھانے کے بعد ایک چٹکی لیں۔
طبی فائدہ: یہ معدے اور آنتوں کی سستی کو دور کرتا ہے، بھوک بڑھاتا ہے اور کھایا پیا جزوِ بدن بناتا ہے۔
- بیرونی استعمال کے لیے 5 اہم مرکبات (External Use) مرکب 6: غازہِ حسنِ یوسف و چقندر (چھائیوں اور رنگت کے لیے فیس پیک) اجزاء: خشک چقندر پاؤڈر 1 چمچ، حسنِ یوسف آدھا چمچ، عرقِ گلاب (پیسٹ بنانے کے لیے)۔
تیاری و استعمال: پیسٹ بنا کر چہرے پر لگائیں اور 20 منٹ بعد دھو لیں۔
طبی فائدہ: یہ چہرے کی رنگت کو فوری سرخی مائل نکھار دیتا ہے اور پرانی چھائیوں (Pigmentation) کو جڑ سے ختم کرتا ہے۔ مرکب 7: لیپِ کریلا برائے ورم و داد (Exzema اور سوجن کے لیے) اجزاء: خشک کریلا پاؤڈر 2 چمچ، چقندر کا رس یا عرقِ مکو 2 چمچ۔
تیاری و استعمال: گاڑھا لیپ بنا کر متاثرہ جلد، چمبل، یا گانٹھوں (Tumors) پر لگائیں۔
طبی فائدہ: کریلے کی شدید خشک گرم تاثیر ورم کو تحلیل کرتی ہے اور اینٹی فنگل ہونے کی وجہ سے داد اور چمبل کو ٹھیک کرتی ہے۔
مرکب 8 روغنِ شعر مقوی (بال گرنے اور خشکی کا علاج)
اجزاء: خشک کریلا پاؤڈر 20 گرام، خشک چقندر پاؤڈر 20 گرام، سرسوں یا تِل کا تیل 200 گرام۔
تیاری و استعمال: تیل میں دونوں پاؤڈر ڈال کر ہلکی آنچ پر اتنا پکائیں کہ پاؤڈر جل کر سیاہ ہو جائے، پھر چھان کر سر پر مساج کریں۔
طبی فائدہ: سر کی ضدی خشکی (Dandruff) کا خاتمہ کرتا ہے، بالوں کی جڑوں میں خون کی گردش بڑھاتا ہے جس سے بال گرنا بند ہو جاتے ہیں۔
مرکب 9: ہربل لپ بام (کالے ہونٹوں کو گلابی کرنے کے لیے)
اجزاء: خشک چقندر پاؤڈر 1 چمچ، دیسی موم (Beeswax) 1 چمچ، ناریل کا تیل 2 چمچ۔
تیاری و استعمال: ناریل کے تیل اور موم کو پگھلا کر چقندر کا پاؤڈر مکس کریں اور ٹھنڈا کر کے ہونٹوں پر بطور بام لگائیں۔
طبی فائدہ: ہونٹوں کی سیاہی (جو عضلاتی خشکی سے ہوتی ہے) کو دور کر کے انہیں قدرتی گلابی اور نرم بناتا ہے۔
مرکب 10: اوبٹن برائے مصفیٰ جلد (جسمانی بدبو اور دانوں کے لیے) اجزاء: خشک کریلا پاؤڈر 50 گرام، خشک چقندر پاؤڈر 50 گرام، بیسن 100 گرام۔
تیاری و استعمال: نہانے سے پہلے اس اوبٹن کو پانی میں ملا کر پورے جسم پر رگڑیں (اسکرب کریں)۔
طبی فائدہ: یہ جلد کے مسامات کو کھولتا ہے، جسم کی پٹھوں کی سستی دور کرتا ہے اور پسینے کی بدبو کا خاتمہ کرتا ہے۔ (نوٹ: اگر کسی کا مزاج پہلے ہی شدید غدی سوزش یا گرمی کا شکار ہو، تو کریلے اور چقندر کے اندرونی مرکبات معالج کے مشورے سے استعمال کریں، بیرونی استعمالات عام طور پر ہر مزاج کے لیے محفوظ ہیں) ۔