
رطوبتِ غریزی اور حرارتِ غریزی
انسانی صحت اور زندگی کی بنیادیں
تحریر: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
(سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبویﷺ)
علم طب میں انسانی زندگی کی بقا اور صحت کا دارومدار دو بنیادی عناصر پر ہے: رطوبتِ غریزhttps://tibbilife.com/ی اور حرارتِ غریزی۔ حکماء متقدمین ان دو قوتوں کو جسمِ انسانی کے لیے ایندھن اور روشنی کی مانند قرار دیتے ہیں۔ ذیل میں ان دونوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
حصہ اول: رطوبتِ غریزی (Innate Moisture)
رطوبتِ غریزی، جسے حکماء “رطوبتِ اصلیہ” بھی کہتے ہیں، وہ بنیادی مائع ہے جو بوقتِ تخلیق نطفہ میں قائم ہوتا ہے۔
پیدائش اور وظائف:
طبی نقطہ نظر سے، یہ رطوبت چوتھے ہضم کے بعد جسم میں بنتی اور جذب ہوتی ہے۔ یہ اعضاء کی تخلیق اور ان کی غذا بننے کے لیے تیار ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ جسم کے تمام اعضاء کی بنیادی خوراک ہے۔ جسم کی خوبصورتی، شادابی اور جوانی کا مکمل انحصار اسی رطوبت کے اعتدال پر ہے۔ اگر یہ معتدل رہے تو انسان جوان اور صحت مند رہتا ہے، اور اس کی کمی بیشی سے بڑھاپے کے اثرات جلد نمودار ہونے لگتے ہیں۔
رطوبتِ غریزی اور بلغم کا تعلق:
علم وفن طب کی رو سے، خون کی وہ رطوبت جو خون کے قوام کو اعتدال پر رکھتی ہے، حقیقت میں بلغم ہے، اور اسی کو رطوبتِ غریزی کہا جاتا ہے۔ یہ بدن کی نشوونما کرتی ہے اور اسی میں خرچ ہوتی ہے۔ جب یہ وافر مقدار میں ہو تو قد کے بڑھنے کا سبب بنتی ہے۔
رطوبتِ غریزی اور عمر کی حد:
ایک اہم سوال یہ ہے کہ یہ رطوبت کب تک وافر مقدار میں بنتی ہے؟
جواب یہ ہے کہ رطوبتِ غریزی پیدائش سے لے کر 25 سال کی عمر تک وافر مقدار میں بنتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کا قد صرف 25 سال کی عمر تک بڑھتا ہے۔ 25 سال کے بعد یہ بننا تو جاری رہتی ہے لیکن صرف بدن کی ضرورت کے مطابق، وافر مقدار میں نہیں تشنیک، لہٰذا قد بڑھنا رک جاتا ہے۔
رطوبتِ غریزی اور نظامِ اعصاب:
اس رطوبت کا دماغ اور اعصاب سے گہرا تعلق ہے۔ یہ اعصاب اور دماغ کی غذا ہے اور دماغ و اعصاب کی تیزی سے پیدا ہوتی ہے۔
خصوصیات اور غیر طبعی حالات:
اس کی سب سے بڑی خصوصیت خون کے قوام کو پتلا اور معتدل رکھنا ہے۔
- رطوبت کی زیادتی: اگر یہ ضرورت سے زیادہ پیدا ہونے لگے تو خون حد سے زیادہ پتلا ہو جاتا ہے۔ اس سے دل اور عضلات میں سستی و تسکین (Relaxation) پیدا ہوتی ہے، جو بدن کے کسی حرکتی عضو کو حرکت سے معذور کر سکتی ہے۔ نتیجتاً دورانِ خون سست پڑ جاتا ہے، بدن کو آکسیجن کم ملتی ہے اور دم کشی (سانس پھولنا) کی شکایت ہوتی ہے، جسے طبی اصطلاح میں اعصابی دمہ کہتے ہیں۔
- رطوبت کی کمی (علامات و علاج): رطوبت کم ہونے کا سادہ مطلب خون میں پانی کی کمی ہے۔ جدید طب میں ڈاکٹر ایسے موقع پر فوری گلوکوز کی ڈرپ لگاتے ہیں، جو عارضی طور پر خون کو پتلا اور دورانِ خون کو رواں کر کے مریض کو سکون دیتی ہے۔ لیکن یہ حل عارضی ہے (ایک دو دن میں پانی پیشاب کے ذریعے نکل جاتا ہے)۔
مستقل حل: طبِ یونانی (قانونِ مفرد اعضاء) کے مطابق، اس کے مستقل حل کے لیے اعصابی غدی غذائیں اور دوائیں استعمال کرائی جاتی ہیں جو کیمیائی طور پر خون میں رطوبات بڑھاتی ہیں۔
کمی کی نشانیاں:
- منہ کا شدید خشک ہونا۔
- رات کو سوتے وقت ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں کا خشک ہونا (مریض انہیں پانی یا تھوک سے تر کرنے پر مجبور ہوتا ہے)۔
- جوڑوں میں روغنی اجزاء (Lubrication) کی کمی، جس سے خشکی یا ریاحی دردیں شروع ہو جاتی ہیں۔
ایسے مریضوں کو جب اعصابی غدی غذا (مثلاً ہڈی کی یخنی) دی جاتی ہے تو چند دنوں میں رطوبات پوری ہو جاتی ہیں، خشکی ختم ہوتی ہے اور تمام غیر طبعی علامات دور ہو جاتی ہیں۔
حصہ دوم: حرارتِ غریزی (Innate Heat)
رطوبتِ غریزی کے ساتھ ساتھ حرارتِ غریزی کا معتدل ہونا بھی زندگی کے لیے لازمی ہے۔ جب تک یہ دونوں وافر اور معتدل رہیں، جوشِ جوانی اور صحت بحال رہتی ہے۔
استادِ محترم صابر ملتانیؒ کی تشریح:
حرارتِ غریزی اور رطوبتِ غریزی کے تعلق کو سمجھنے کے لیے استاد محترم صابر ملتانیؒ نے چراغ اور بتی کی مثال دی ہے۔ انسانی زندگی کا چراغ بھی بتی اور تیل (حرارت اور رطوبت) سے روشن ہے۔
- چراغ کی مثال: حرارتِ غریزی گویا چراغ کی بتی ہے (جو بجلی کی لہر کی مانند ہے) اور رطوبتِ غریزی وہ خاص کیمیاوی تیل ہے جس کے بغیر بتی نہیں جل سکتی۔
- بیٹری اور انجن کی مثال: حرارتِ غریزی اس بجلی کی مانند ہے جو موٹر یا ریل کی بیٹری میں محفوظ ہوتی ہے اور ضرورت کے وقت بتیاں روشن کرتی یا انجن چلاتی ہے۔ اس بیٹری میں ایک خاص دھات اور تیزاب ملا پانی ہوتا ہے جسے ڈائنمو کے ذریعے بجلی فراہم کر کے چارج کیا جاتا ہے۔
- یہ محفوظ بجلی = حرارتِ غریزی (انسانی زندگی کی بتی) ہے۔
- وہ تیزاب ملا پانی جس میں بجلی محفوظ ہے = رطوبتِ غریزی ہے۔
جس طرح بجلی کی لہر تیزابی پانی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی، اسی طرح حرارتِ غریزی، رطوبتِ غریزی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔
ماہیت اور اعتدال:
سادہ لفظوں میں، دل و عضلات کی حرکات اور دورانِ خون کی گردش سے جو حرارت پیدا ہوتی ہے، وہی حرارتِ غریزی کہلاتی ہے۔
- طبعی درجہ حرارت: انسانی جسم کا طبعی درجہ حرارت 98.5 فارن ہائیٹ ہے۔ یہ اعتدال جوانی اور تندرستی کی علامت ہے۔
- حرارتِ غریبی (بخار): اگر درجہ حرارت 98.5 سے بڑھ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی غیر طبعی حرارت (حرارتِ غریبی) شامل ہو گئی ہے۔ علاج کے ذریعے اس فاضل حرارت کو ختم کر کے درجہ حرارت کو اعتدال پر لایا جاتا ہے۔
- کمی (سردی): اگر ٹمپریچر گر جائے تو جسم میں سردی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ علاج کے ذریعے سردی کو ختم کر کے حرارت کو پورا کیا جاتا ہے تاکہ صحت بحال ہو۔
حاصلِ کلام:
قانونِ مفرد اعضاء کے فارماکوپیا کے مطابق:
- غدی عضلاتی نسخہ جات جسم میں حرارتِ غریزی کو پیدا اور برقرار رکھتے ہیں۔
- اعصابی غدی غذائیں اور دوائیں رطوبتِ غریزی کو بحال رکھتی ہیں۔
انسانی بقا کے لیے ان دونوں قوتوں کو اعتدال پر رکھنا ہی سب سے اہم سوال اور اصل طب ہے۔