Thursday, January 22, 2026
Home Pharmacology/علم نباتات مفرد دوا اور اس کے جواہر کا فرق

مفرد دوا اور اس کے جواہر کا فرق

by admin
مفرد دوا اور اس کے جواہر کا فرق
مفرد دوا اور اس کے جواہر کا فرق
مفرد دوا اور اس کے جواہر کا فرق

مفرد دوا اور اس کے جواہر کا فرق
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
عام طور پر یہ ایک غلطی پائی جاتی ہے کہ دواء کا جو خلاصہ، ست یا جوہر نکالا جاتا ہے وہ اس دواء کا موثرہ مادہ ہوتا ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ دوا کی یہ مختلف صورتیں اس کے مختلف عناصر کا اظہار کرتی ہیں۔ ان کو کل دواء موثرہ مادہ خیال نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ ان کے اکثر اثرات و افعال میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے، کسی دوا کے خلاصہ کے اثرات اس کے ست اور جوہر سے بہت حد تک جدا ہوتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ان کے بنیادی اثرات بہت حد تک ملتے جلتے ہیں۔ لیکن فعلی اور کیمیاوی افعال و اثرات میں بہت کچھ اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔

مثلاً دوا کے کسی جز میں حموضت نمایاں ہو جاتا ہے کسی جز میں کھار کا اثر غالب رہتا ہے۔ اسی طرح کسی چیز میں چونا یا فولاد کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح ان اجزاء میں گرمی و سردی اور خشکی و رطوبت کی زیادتی ہو جاتی ہے اور بعض میں دخانی اثر بڑھ جاتا ہے۔ جیسے دودھ کی مثال ہماری روزانہ زندگی میں ہمارے سامنے پائی جاتی ہے۔ یعنی معالج کبھی دہی کا استعمال کرتا ہے، کبھی دہی کا پانی مفید سمجھتا ہے، اسی طرح کبھی مکھن کبھی گھی اور کبھی دودھ کا پانی استعمال کرانا پڑتا ہے۔ یہی صورت پنیر کی بھی ہے۔ اسی طرح دودھ کا سفوف بھی ایک علیحدہ جزو ہے۔ اس کو خالص دودھ نہیں کہنا چاہئے۔ کیونکہ اس کے خشک کرنے سے پانی کے ساتھ اس کے بہت سے نمک بخارات کے ساتھ اڑ جاتے ہیں اور بہت حد تک انتہائی قسم کا خشک مواد بن کر رہ جاتا ہے۔ یورپ اور امریکہ سے جو خشک دودھ آتا ہے اس کو خالص دودھ نہ سمجھ لینا چاہئے۔ اس میں روغنی اجزاء اور ہاضم نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے اور اس میں چونا اپنی مناسبت سے بڑھ جاتا ہے۔ اس لئے اس کے استعمال سے جسم میں بدہضمی اور خشکی پیدا ہو جاتی ہے۔ چھوٹے بچوں کو تو بہت نقصان دیتا ہے اس لئے اس کو بچوں سے دور رکھنا چاہئے۔ البتہ جن مریضوں میں کیلشیم (چونا) کی کمی ہو تو اس کو استعمال کر سکتے ہیں۔

ادویہ اور ان کے اجزاء کا استعمال:

مفرد ادویات تو جس صورت میں چاہیں استعمال کر سکتے ہیں، یعنی سفوف، محلول اور حبوب جس شکل میں چاہیں استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن مفرد دوا کے اجزاء کو جن صورتوں میں جدا کیا گیا ہے ان کو انہی صورتوں میں استعمال کرائیں۔ ان کو اگر کسی اور صورت میں استعمال کیا تو ان کے افعال و اثر بدل جائیں گے۔ ان کے استعمال میں اس فرق کو بھی مدنظر رکھیں مفرد دوا میں اس کے کئی موثر جوہر اس کے دیگر عناصر اور مواد کے اس طرح جذب اور شامل ہوتے ہیں کہ ان کے افعال و اثرات میں تیزی پیدا نہیں ہوتی۔ اور نقصان کا خطرہ نہیں رہتا۔ کیونکہ ان کے مصلح اثرات بھی ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ لیکن موثرہ جز اور جوہر ہر ایک اپنی جگہ تیز ہوتا ہے ان کے غلط استعمال سے نقصان ہو جانے کا خدشہ ہے۔ علاج بالمفردات کا قدیم طبوں میں یہ شعبہ بھی اپنے اندر کمالات فن رکھتا ہے۔ جس کا عشر عشیر بھی فرنگی طب میں نہیں پایا جاتا ہے۔ یہ قدیم طبوں کی فوقیت ہے۔

اس جگہ جدید سائنسی اصولوں (Pharmacognosy اور Chemistry) کی آمیزش بھی کی گئی ہے تاکہ موضوع کی اہمیت اور افادیت کو مزید اجاگر کیا جا سکے، جبکہ اصل مواد اور نظریات کو من و عن برقرار رکھا گیا ہے۔

مفرد دوا اور اس کے جوہر کا فرق: ایک طبی و سائنسی جائزہ
طب اور فارمیسی کی دنیا میں یہ بحث ہمیشہ اہمیت کی حامل رہی ہے کہ آیا “مکمل مفرد دوا” (Whole Drug) زیادہ بہتر ہے یا اس سے نکالا گیا “جوہر/ست” (Active Principle/Extract)۔ عام مشاہدے میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ دوا کا خلاصہ یا ست ہی اصل دوا ہے اور باقی فضلہ ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کی تحقیق کے مطابق، دوا اور اس کا جوہر دو الگ الگ تاثیرات کی حامل اشیاء ہیں۔
ذیل میں اس فلسفے کی تفصیلی وضاحت دی جا رہی ہے:

  1. دوا اور جوہر: بنیادی فرق اور غلط فہمی کا ازالہ

عمومی تاثر یہ ہے کہ اگر کسی جڑی بوٹی یا دوا کا ست (Extract) نکال لیا جائے تو وہ اس دوا کا “موثر ترین حصہ” ہوتا ہے۔ یہ خیال تکنیکی اعتبار سے غلط ہے۔
مفرد دوا (Whole Drug): یہ قدرت کا تیار کردہ ایک متوازن مرکب ہوتا ہے جس میں موثر اجزاء کے ساتھ ساتھ معاون اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں۔
جوہر یا ست (Isolated Extract): یہ دوا کا صرف ایک پہلو یا ایک کیمیائی جزو ہوتا ہے۔
جب ہم کسی دوا کا جوہر نکالتے ہیں تو ہم دراصل اس کے مختلف عناصر کی تقسیم کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ دوا کے خلاصے کے بنیادی اثرات اصل دوا سے ملتے جلتے ہوں، لیکن ان کے فعلی (Functional) اور کیمیاوی (Chemical) اثرات میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔

جدید سائنس کی تائید:

جدید کیمیا (Chemistry) بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جب کسی چیز کو پروسیس (Process) کیا جاتا ہے تو اس کی پی ایچ (pH) ویلیو بدل سکتی ہے۔
کسی جزو میں حموضت (Acidity) نمایاں ہو جاتی ہے۔
کسی میں کھار (Alkalinity) کا غلبہ ہو جاتا ہے۔
کچھ اجزاء میں معدنیات جیسے چونا (Calcium) یا فولاد (Iron) مرکوز ہو جاتے ہیں۔

  1. مزاج اور تاثیر میں تبدیلی
    طبِ قدیم میں “مزاج” کی بہت اہمیت ہے۔ دوا کا ست نکالنے سے اس کے مزاج میں بھی تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔
    اصل دوا شاید معتدل ہو، لیکن اس کا جوہر شدید گرم یا شدید خشک ہو سکتا ہے۔
    بعض اجزاء میں دخانی (Smoky/Volatile) اثرات بڑھ جاتے ہیں جو اصل دوا میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔
    1. دودھ کی مثال: ایک بہترین کیس اسٹڈی
      اس فلسفے کو سمجھنے کے لیے “دودھ” کی مثال روزمرہ زندگی سے بہترین انتخاب ہے۔ اگرچہ ماخذ ایک ہی ہے (یعنی دودھ)، لیکن اس سے بننے والی ہر چیز کا طبی اثر اور استعمال جداگانہ ہے:
      |
      دودھ کا جزو | طبی اثرات اور استعمال |
      |
      دہی (Yogurt) | اس کا مزاج اور ہاضمے پر اثر دودھ سے مختلف ہے۔ |
      | دہی کا پانی (Whey) | یہ ہلکا ہوتا ہے اور مخصوص امراض میں بطور دوا پلایا جاتا ہے۔ |
      | مکھن اور گھی | یہ روغنیات ہیں، ان کا استعمال خشکی دور کرنے اور طاقت کے لیے ہوتا ہے۔ |
      | پنیر (Cheese) | یہ غذائیت میں بھاری اور دیر ہضم ہو سکتا ہے۔ |
    خشک دودھ (Powdered Milk) کی حقیقت

عبارت میں خشک دودھ کے حوالے سے ایک اہم نکتہ اٹھایا گیا ہے۔ یورپ اور امریکہ سے آنے والے خشک دودھ کو “خالص دودھ” نہیں سمجھنا چاہیے۔
کیمیائی تبدیلی: خشک کرنے کے عمل (Evaporation) کے دوران پانی کے ساتھ ساتھ بہت سے ضروری لطیف نمکیات بھی بخارات بن کر اڑ جاتے ہیں۔
غذائی عدم توازن: اس میں روغنی اجزاء اور ہاضم نمکیات کم ہو جاتے ہیں، جبکہ چونے (Calcium) کی مقدار ارتکاز کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے۔
نقصانات: یہی وجہ ہے کہ یہ مواد “انتہائی خشک” ہو جاتا ہے۔ اس کا استعمال بچوں میں بدہضمی اور خشکی پیدا کرتا ہے۔ البتہ، یہ صرف ان مریضوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے جن میں کیلشیم کی شدید کمی ہو، عام افراد بالخصوص بچوں کے لیے یہ تازہ دودھ کا متبادل نہیں ہے۔

  1. سیفٹی اور مصلح اثرات (Synergy vs. Toxicity)
    علاج بالمفردات کا ایک سنہری اصول یہ ہے کہ دوا کو اسی حالت میں استعمال کیا جائے جس میں وہ محفوظ ہو۔
    مفرد دوا کی حفاظت:
    قدرتی شکل میں موجود دوا میں “موثر جوہر” کے ساتھ ساتھ دیگر عناصر بھی ہوتے ہیں جو اس کی تیزی کو توڑتے ہیں۔ طب کی زبان میں اسے مصلح” کہا جاتا ہے۔ جدید سائنس اسے “Entourage Effect” یا Synergy کہتی ہے، یعنی دوا کے تمام اجزاء مل کر ایک دوسرے کے مضر اثرات کو زائل کرتے ہیں اور فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اسی لیے مفرد دوا کے استعمال میں نقصان کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
    جوہر/ست کے خطرات:
    اس کے برعکس، جب دوا کا جوہر (Active Compound) الگ کر لیا جائے:
  2. وہ اپنی تاثیر میں انتہائی تیز (Potent) ہو جاتا ہے۔
  3. اس میں وہ قدرتی مصلح (Buffer) موجود نہیں ہوتا جو اس کے سائڈ ایفیکٹس کو روک سکے۔
  4. اس کا غلط استعمال جسم کو فوری نقصان پہنچا سکتا ہے۔
  5. ادویہ کے استعمال کا اصول
    حکیم محمد یونس شاہد میو نے ایک اہم ہدایت بیان کی ہے:

مفرد ادویات تو جس صورت میں چاہیں (سفوف، محلول، حبوب) استعمال کریں، لیکن مفرد دوا کے اجزاء (جوہر/ست) کو جن صورتوں میں جدا کیا گیا ہے ان کو انہی صورتوں میں استعمال کرائیں۔”

اگر جوہر کو اس کی مخصوص شکل یا ترکیب سے ہٹ کر استعمال کیا گیا تو اس کے کیمیائی و فعلی اثرات بدل جائیں گے جو فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔

خلاصہ کلام

یہ تحریر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دوا کا “ست” یا “کیمیکل نچوڑ” ہمیشہ پوری دوا کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ قدیم طب کا یہ امتیاز ہے کہ وہ دوا کے صرف ایک جزو کو نہیں بلکہ اس کے پورے وجود، مزاج اور اس میں شامل قدرتی مصلح اجزاء کو مدنظر رکھ کر علاج تجویز کرتی ہے۔ یہ وہ باریک بینی اور کمالِ فن ہے جس کا عشر عشیر بھی مغربی طب (فرنگی طب) میں نظر نہیں آتا، کیونکہ وہاں سارا زور صرف “Active Ingredient” کو الگ کرنے پر دیا جاتا ہے، جو بسا اوقات فطرت کے توازن کو بگاڑنے کے مترادف ہے۔

Related Articles

Leave a Comment

Contact Now

Get New Updates to Take Care Your Pet

Discover the art of creating a joyful and nurturing environment for your beloved pet.

Will be used in accordance with our  Privacy Policy

@2025 – All Right Reserved. Designed and Developed by Dilshad Bhai