
:زبدة الحماء حکیم نور احمد نعمانی کے مجربات و مشاہدات
قبلہ حضرت شفاء الملک حکیم فقیر محمد چشتی نظامی مرحوم ہندوستان کے ان چند گنتی کے طبیبوں میں سے تھے جن پر طب قدیم بجاطور پر ناز کر سکتی ہے آپ حاذق الملک حکیم عبد المجید مرحوم دهلوی کے مشہور تلاندہ میں سے تھے چنانچہ پنجاب میں طب قدیم کو آپ کی ذات سے جو فروغ حاصل ہوا وہ ارباب نظر سے پوشیدہ نہیں مغرب زدہ طبقہ میں مشرقی طریقہ علاج کی ہر دلعزیزی بہت حد تک آپ کے دست شفا اور حذاقت کی رہین منت ہے اسی طرح مختلف طبی اداروں کی سرکاری سر پرستی واعانت بھی آپ کی مساعی جمیلہ کا نتیجہ ہے ہمارے حکیم صاحب کو بھی اس بزرگ ہستی کی خدمت میں شرف تلمذ حاصل ہے جب آپ ابتدئی درسیات سے فارغ ہوئے اور طبیہ کالج لاہور سے زبدۃ الحکماء کے آخری امتحان میں نہایت اعزاز کے ساتھ کامیابی
حاصل کر چکے تو آپ نے حضرت شفاء الملک مرحوم کے حلقہ درس میں شامل ہو کر طب کی تکمیل کی اور آپ کے فیض صحبت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی غیر معمولی قابلیت ذہانت اور حصول علم کے شوق کی فراوانی کے باعث آپ اپنے ساتھیوں میں سب سے نمایاں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے چنانچہ حضرت شفاء الملک مرحوم و مغفور آپ قابلیت ذہانت اور مہارت فن کی ہمیشہ

تعریف فرمایا کرتے تھے۔
نیز پنجاب و بیرون پنجاب کے ان امراء ورؤساء اور والیان ریاست کے علاج کے لئے جو لاہور نہ آسکتے تھے ہمیشہ حکیم صاحب کو ہی مقرر فرمایا کرتے تھے حضرت شفاء الملک مرحوم کے بعد آپ ہی کی ذات ان تمام کمالات فن کی شاندار روایت کی علمبردار ہے جو قدرت نے حضرت شفاء الملک مرحوم کو عطا فرمائے تھے آپ کے اور حضرت شفاء الملک مرحوم کے ، طریق تشخیص اور علاج میں سرمو فرق نہیں ہے اور آپ کے نے آپ کے نسخہ جات مجورہ کو دیکھ کر حضرت شفاء الملک مرحوم کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ان خوبیوں اور خصوصیتوں کی وجہ سے ہی حضرت شفاء الملک مرحوم کو دیکھنے والے ان کے بعد آپ ہی کو ان کا صحیح جانشین خیال کرتے ہیں ۔ حضرت شفاء الملک مرحوم کی طرح آپ کا مطلب بھی پرانے اور پیچیدہ امراض کے مریضوں کے لئے چشمہ فیض بنا ہوا ہے جہاں مرضی دور دور سے جوق در جوق علاج کے لئے آتے اور بامر ادواپس جاتے ہیں آپ کا مطلب نہایت کامیابی سے چل رہا ہے اور ہرقسم کے مریضوں کا رجوع بکثرت ہے آپ نہایت خلیق طبیب ہیں اور حضرت استاد مرحوم کی طرح آپ کو بھی شاعری اور فن خوشنویسی سے بہت دلچسپی ہے۔
پنجاب کے مشہور لیڈر آنجہانی لالہ لاجپت رائے ایک دفعہ بیمار ہو گئے اس سلسلہ علالت میں ان کے جگر میں دوروں کے ساتھ درد ہوا کرتا تھا ڈاکٹروں نے علاج میں کوئی کسر نہ اٹھار کبھی مگر جوں جوں دن گزرتے تھے دوروں میں اور زیادہ شہرت اور زیادتی ہوتی تھی، ایکسرے میں کسی چیز کا پتہ نہ چلتا تھا آخر لاہور کے مشہور ڈاکٹروں کے ایک بورڈ نے متفقہ طور پر رائے دی کہ آپ کے جگر میں پتھریاں ہیں اور وہی اس درد کا باعث بن رہی ہیں ان کا علاج آپریشن کے سوا اور کوئی نہیں ہے جب نوبت یہاں تک پہنچی تو جناب استاد مکرم حضرت شفاء الملک حکیم فقیر محمد چشتی نظامی مرحوم و مغفور کو بلایا گیا آپ نے تمام حالات معلوم کئے اور نبض دیکھ کر فرمایا کہ آپ کے جگر یا بتہ وغیرہ میں کوئی پتھری وغیرہ نہیں ہے۔
چونکہ آپ کی عمر کافی ہے اور اس عمر میں آپ کو پچھلوں کا پانی اور دہی بکثرت دیا جا رہا ہے جس سے ریح کی زیادتی ہو گئی ہے اور یہی ریح اس درد کی زیادتی اور دوروں کی شدت کا باعث بن رہی ہے آپ کی اس تشخیص کو سن کر ڈاکٹروں نے کہا کہ آپ نے یہ کیسے فرمادیا کہ جگر میں پتھریاں نہیں ہیں اس پر جناب استاد مکرم نے فرمایا کہ آپ نے کون سی پتھریاں نکال کر رکھ دی ہیں جس سے آپ کی تشخیص کو صحیح مان لیا جائے آپ کی رائے میں پتھریاں ہیں اور ہماری رائے میں دوروں اور درد کا باعث ریح ہے البتہ علاج اس بات کا فیصلہ کر دے گا کہ پتھریاں ہیں یا ریح غلیظ ہے چنانچہ آپ نے علاج میں سب سے پہلے یہ فرمایا کہ دہی اور پھلوں کا پانی بند کر دیا جائے اور غذا میں سوائے شوربے کے اور کوئی چیز نہ دی جائے علاج میں آپ نے مقویات معدہ اور جگر کا استعمال کیا جس سے چند روز میں سب تکالیف جاتی رہیں اور پھر تا عمر لالہ لاجپت رائے کو کبھی بھی تکلیف رونما نہیں ہوئی۔
أستاذ المكرم حضرت شفاء الملک مرحوم نے فرمایا کہ اعلیٰ جماعت کے امتحان سے فارغ ہو کر عملی تعلیم کیلئے حاذق الملک اول جنا حکیم عبد المجید خان صاحب کے مطب میں حاضر ہوئے تو وہاں عجیب و غریب واقعات دیکھنے میں آیا کرتے تھے آپ نے ذکر
کیا کہ ایک دن ہم مطب میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک مبروص حاذق الملک حکیم عبدالمجید خاں صاحب نے نبض دیکھنے کے بعد مریض کے لئے آتشک کا نسخہ لکھوا دیا اس تجویز کو دیکھ کر ہم سب حیران رہ گئے کہ بظاہر تو مریض سرد تر مرض میں مبتلا ہے مگر نسخہ جس مرض کیلئے تجویز کیا گیا ہے وہ گرم اور خشک ہے اس بعد کو دیکھ کر جناب حضرت حاذق الملک مرحوم سے اجازت لے کر ہم اس مریض کی تلاش میں نکلے اور کئی دواخانوں کا چکر کائنے کے بعد ایک جگہ اسے پالیا۔ ہم نے اُس سے دریافت کیا کہ کیا کبھی آپ کو آتشک ہوئی ہے ؟ اس کے جواب میں اُس نے کہا کہ ہاں میں آتشک میں مبتلارہ پچا ہوں مگر اسے بڑا عرصہ ہوا اور اس کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ دوسرے دن جب وہ مریض مطب میں آیا تو ہم نے حکیم عبد المجید خان صاحب سے عرض کیا کہ جناب جس مرض میں یہ شخص مبتلا ہے اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مزاج سرد تر ہے، مگر جناب نے جو نسخہ تجویز فرمایا ہے وہ اس مرض اور مزاج کے بالکل خلاف ہے۔ ہماری اس درخواست پر آپ نے فرمایا کہ اس کی نبض مبروصوں کی سی نہیں ، چنانچہ اس مریض کو ہمیں دکھلا کر فرمایا کہ ایسی نبض آتشک والوں میں پائی جاتی ہے۔
کچھ عرصہ ہوا آپ کو ایک مریض دکھلایا گیا جو سوکھ کر پوست و استخواں کا ڈھانچہ معلوم ہوتا تھا اور جسے دن میں کئی بار غش آیا کرتا تھا اس کے والد نے بتایا کہ یہ بی اے میں پڑھتا ہے اور رات میں دو دو تین تین بار احتلام ہو جاتا ہے جہاں کہیں بھی مجھے کسی طبیب کا پتہ چلا ہے میں نے اس سے اس کا علاج کروایا ہے یہاں تک کہ لکھنو اور دھلی میں بھی ہو آیا ہوں تمام مشہور ڈاکٹروں سے مشورہ لیا ہے مگر کچھ فائیدہ نہیں ہوتا، اور اب حالت حالت یہ یہ ہو ہو گئی ہے۔ آپ نے نبض دیکھی تو باوجود کمزوری و ناتوانی کے ممتلی تھی، یہ حالت دیکھ کر آپ نے خیال ظاہر کیا کہ اس کے آلات انہضام بالکل خراب
ہیں اور ریاح غلیظہ کا اجتماع ہے چونکہ بدن میں حرارت بہت کم ہے اور طبیعت بدل ماتیال کے لئے جو غذا لیتی ہے وہ معتدی کے مشابہ ہونے کی قابلیت نہیں رکھتی اس لئے اسے بذریعہ احتلام خارج کر دیتی ہے ان باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل نسخے تجویز کئے گئے۔
ی پوست ہلیلہ زرد، پوست ہلیلہ ، آملہ مقشر ، ہر ایک ۶ ماشه ، زنجبیل ۱۳ بنائیں۔ ماشه ، دار چینی ۳ ماشه ، فلفل دراز فلفل در از ۳ ماشہ سفوف بنا
تركيب استعمال : کشته خبث الحديد ار رقی سفوف ۶ ماشہ میں ملا کر شیره غز بادام متشرے ، عدد، شیر بادیان ۳ ماشہ، کے ہمراہ صبح کھائیں۔
دواء المسک معتدل جواہر والی ۶ ماشہ ہمراہ عرق گاؤ زبان جوارش جالینوس کھانا کھانے کے بعد ۔
ان ادویہ کے چند روزہ استعمال کے بعد حالات بہتر ہونے شروع ہو گئے جو احتلام رات میں دو دو تین تین بار ہوا کرتا تھا دوسرے تیسرے روز ہو گیا، غشی کے دورے جاتے رہے اور نیند باقاعدہ آنے لگی۔ میں بائیس روز تک یہی سلسلہ جاری رہا اس کے بعد صبح کا سفوف تو بدستور رہنے دیا گیاد و او المسک کھانے کے بعد کر دی گئی اور تیر نے پیر کشتہ قلعی معجون آرد خرما کے ہمراہ شروع کیا گیا اس طرح سے اس کے معدہ، جلر اور قلب درست ہو گئے بھوک با قاعدہ ہو گئی احتلام کی تکلیف جاتی رہی اور بدن از سر نو زندگی کے آثار پیدا ہو گئے۔
جب اس کے معدے کی بالکل اصلاح ہو گئی تو صبح کا سفوف اور دواء المسک ترک کر دیئے گئے اور ان کی جگہ مندرجہ ذیل نسخے تجویز کئے گئے۔
کشتہ خبث الحدید اسرخ کش قلعی ۲ر چاول میخون آرد خرما میں ملا کر صبح کھائیں۔