یونانی طب کا تعارف اور اس کی حقیقت//Introduction to Greek medicine and its reality حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو یونانی طب، جسے عموماً قدیم یونان کی طبی علم کا حصہ سمجھا جاتا ہے، ایک قدیم اور تاریخی نظام ہے جس کا آغاز تقریباً پانچویں صدی قبل مسیح میں ہوا۔ یہ نظام انسان کی صحت، بیماریوں کی تشخیص، اور علاج کے طریقوں پر مبنی تھا، اور اس نے بعد میں مغربی طب کی بنیاد رکھی۔
یونانی طب کا تعارف:
اس کا بنیادی نظریہ “چار عناصر” پر تھا: خون، بلغم، پیپسا، اور یرقان، جن کے توازن سے انسان کی صحت یا بیماری کا تعین کیا جاتا تھا۔
ہیپوکریٹس، جسے “طب کا باپ” بھی کہا جاتا ہے، نے اس نظام کو منظم کیا اور اس کے اصول و قواعد مرتب کیے۔
یونانی طب میں جسمانی علامات کے علاوہ ذہنی اور روحانی امور کو بھی اہمیت دی جاتی تھی۔
علاج میں قدرتی اجزاء، غذائی تدابیر، اور جسمانی مشقیں استعمال ہوتی تھیں۔
حقیقت:
یونانی طب کا اثر تاریخ میں بہت گہرا ہے، اور اس نے بعد میں رومی، عرب، اور یورپی طب کو متاثر کیا۔
یہ نظام ایک سائنسی بنیاد پر مبنی نہیں تھا جیسے آج کی طب ہے، بلکہ زیادہ تر نظریاتی اور تجرباتی اصولوں پر تھا۔
اس کے باوجود، اس کی تصورات اور طریقے بہت حد تک جدید طب کے اصولوں سے مختلف نہیں ہیں، اور بعض روایتی علاج آج بھی استعمال ہوتے ہیں۔
موجودہ دور میں، یونانی طب کو زیادہ تر تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن اس کے اصول اور نظریات آج بھی طب کے میدان میں ایک اہم تاریخی ورثہ ہیں۔