منی کا تجزیہ (Semen Analysis): مردانہ زرخیزی کی جانچ کے لیے یہ سب سے عام اور پہلا ٹیسٹ ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے اسپرمز (Sperms) کی صحت کا اندازہ لگایا جاتا ہے جس میں مندرجہ ذیل چیزیں شامل ہیں: اسپرم کی تعداد (Sperm Count): منی میں اسپرمز کی مقدار کتنی ہے۔ حرکت (Motility): اسپرمز کی حرکت کی رفتار کیسی ہے، آیا وہ سست ہیں یا تیز۔ شکل (Morphology): اسپرمز کی ساخت یا شکل میں کوئی غیر معمولی تبدیلی تو نہیں ہے۔
ہارمونل ٹیسٹ (Hormonal Tests): اگر منی کے تجزیے میں کوئی مسئلہ ہو تو ہارمونز کی سطح جانچنے کے لیے خون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، جن میں “پرولیکٹن ٹیسٹ” (Prolactin Test) بہت اہم ہے۔ پرولیکٹن کی زیادتی: مردوں میں پرولیکٹن ہارمون کی زیادتی (Hyperprolactinemia) جنسی خواہش (Libido) میں کمی، عضو تناسل کے مسائل (Erectile Dysfunction) اور اسپرمز کی پیداوار میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ پرولیکٹن کی کمی: پرولیکٹن کی بہت کم سطح (Hypoprolactinemia) بھی مردانہ بانجھ پن کا سبب بن سکتی ہے، جس سے اسپرم کی تعداد میں کمی (Oligozoospermia) اور کمزوری (Asthenospermia) ہو سکتی ہے۔ دیگر ہارمونز: ٹیسٹوسٹیرون (Testosterone) اور دیگر ہارمونز کا عدم توازن بھی زرخیزی کو متاثر کرتا ہے، اس لیے ان کی جانچ بھی کی جا سکتی ہے۔
جینیاتی اسکریننگ (Genetic Screening): کچھ حالات میں صحت کے دیگر مسائل کو مسترد کرنے کے لیے جینیاتی ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں تاکہ موروثی یا پیدائشی نقائص کا پتہ چل سکے۔
قانونِ مفرد اعضاء میں تشخیص کے نظام کا انحصار “تشخیصی تکون” پر ہے، جس میں تشخیص کے تین بنیادی ذرائع شامل ہیں: نبض، قارورہ (پیشاب) اور علامات ۔ اس نظام میں ان تینوں کی ہم آہنگی کو تشخیص کا سنہری معیار (Golden Standard) سمجھا جاتا ہے۔ ان تینوں ذرائع کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
نبض شناسی (Pulse Diagnosis): یہ اس نظام کا سب سے اہم اور بنیادی تشخیصی آلہ ہے۔ قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق نبض جسم کی اندرونی حالت اور اعضائے رئیسہ (دل، دماغ، جگر) کی کارکردگی کا براہِ راست پتہ دیتی ہے۔\ ماہر معالج صرف کلائی کی شریان کو محسوس کر کے یہ تعین کرتا ہے کہ کون سا عضو “تحریک” (Overactive) کی حالت میں ہے۔ اس نظام میں چھ مخصوص نبضیں مقرر ہیں جو چھ مختلف فعلی حالتوں (تحریکات) کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان نبضوں کو ان کی گہرائی، رفتار، حجم اور تناؤ (سختی/نرمی) کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔
قارورہ شناسی (Urine Analysis): نبض کے بعد تشخیص کا دوسرا اہم ترین ذریعہ پیشاب (قارورہ) کا معائنہ ہے، جو نبض سے کی گئی تشخیص کی تصدیق کرتا ہے۔ اس میں پیشاب کا رنگ، مقدار، اور قوام (Consistency) دیکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، اعصابی تحریک میں پیشاب سفید اور زیادہ مقدار میں ہوتا ہے، جبکہ غدی (گرم) تحریک میں یہ زرد اور کم مقدار میں ہوتا ہے۔ قانونِ مفرد اعضاء میں پیشاب کے کیمیائی تجزیے (pH Level) کو بھی اہمیت دی جاتی ہے (مثلاً اعصابی تحریک میں pH کا الکلائن ہونا اور عضلاتی تحریک میں تیزابی ہونا) تاکہ تشخیص کو مزید سائنسی اور معروضی بنایا جا سکے۔
علامات (Symptoms): تشخیص کا تیسرا ذریعہ مریض کی بیان کردہ جسمانی اور نفسیاتی علامات ہیں۔ معالج مریض کی ظاہری حالت اور تکالیف (جیسے درد، جلن، ٹھنڈک، یا نیند کی کمی) کو سن کر یہ طے کرتا ہے کہ یہ کس عضو کی خرابی کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ علامات کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: اعصابی علامات (جیسے ٹھنڈک، بلغم)، عضلاتی علامات (جیسے خشکی، گیس، درد)، اور غدی علامات (جیسے جلن، ہائی بلڈ پریشر)۔ تشخیصی تکون (Diagnostic Triangle): جب نبض، قارورہ اور علامات تینوں ایک ہی نتیجے (تحریک) کی طرف اشارہ کریں، تو تشخیص کو “یقینی اور بے خطا” سمجھا جاتا ہے۔ اس اصول کا مقصد تشخیص میں شک و شبہ کو ختم کرنا ہے،۔