
انسانی صحت کا دارومدار اس غذا پر نہیں ہے جو وہ کھاتا ہے، بلکہ اس غذا پر ہے جو اس کے جسم کا حصہ بنتی ہے۔ نظام ہضم کی کارکردگی میں خوراک کے جذب ہونے کا عمل یعنی ’امتصاص‘ (Absorption) وہ کلیدی مرحلہ ہے جہاں سے زندگی کی توانائی کشید کی جاتی ہے۔ قانون مفرد اعضاء، جسے حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی نے وضع کیا، اس نظریے پر قائم ہے کہ انسانی جسم تین بنیادی اعضاء یعنی دماغ (اعصاب)، دل (عضلات) اور جگر (غدد) کے باہمی اشتراک اور توازن سے چلتا ہے 1۔ جب ان اعضاء کے افعال میں غیر فطری تبدیلی آتی ہے، جسے تحریک (Stimulation)، تسکین (Sedation) یا تحلیل (Dissolution) کہا جاتا ہے، تو خوراک کے ہضم و جذب کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ خوراک کے کم جذب ہونے یا ’مال ایبزارپشن‘ (Malabsorption) کو قانون مفرد اعضاء محض ایک علامت نہیں بلکہ جسمانی کیمیا اور میکانیت میں پیدا ہونے والے اس عمیق بگاڑ کا نتیجہ قرار دیتا ہے جو کسی خاص عضو میں ضرورت سے زیادہ تحریک پیدا ہونے سے جنم لیتا ہے 3۔
قانون مفرد اعضاء کی روشنی میں نظام ہضم کی فزیالوجی
نظام ہضم کو سمجھنے کے لیے قانون مفرد اعضاء خلیاتی سطح پر مطالعہ پیش کرتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، نظام ہضم تینوں مفرد اعضاء کے افعال کا مجموعہ ہے۔ معدہ اور آنتوں کی ساخت میں اعصابی پردے (Nervous Linings)، عضلاتی دیواریں (Muscular Walls) اور غدی غدو

د (Glandular System) شامل ہیں 1۔
ہضم کے مراحل اور اعضاء کا کردار
خوراک کے جذب ہونے کے عمل میں تینوں اعضاء کا اپنا مخصوص کردار ہے جس کی تفصیل درج ذیل جدول میں دی گئی ہے:
| عضو | متعلقہ ٹشو (بافت) | ہاضمے میں کردار | جذب (Absorption) پر اثر |
| دماغ (اعصاب) | اعصابی بافتیں | رطوباتِ ہضم (Enzymes) کا اخراج اور احساسِ لذت | خوراک کو نرم کرنا اور تحلیل کے لیے تیار کرنا 2 |
| دل (عضلات) | عضلاتی بافتیں | حرکاتِ معدہ و امعاء (Peristalsis) | خوراک کو آگے دھکیلنا اور میکانیکی توڑ پھوڑ 7 |
| جگر (غدد) | غدی بافتیں | صفرا (Bile) کی پیدائش اور کیمیائی تبدیلی | چکنائیوں کا جذب ہونا اور خون کی تیاری 5 |
جب ان میں سے کسی ایک عضو میں ’تحریک‘ (شدید کام) پیدا ہوتی ہے تو وہ اپنے مخصوص کام کو تو تیز کر دیتا ہے لیکن توازن بگڑنے کی وجہ سے جذب کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ مثلاً، اگر عضلات میں تحریک ہو تو آنتوں کی حرکت اتنی تیز یا اتنی سخت ہو جاتی ہے کہ غذا کو جذب ہونے کا وقت ہی نہیں ملتا 7۔
خوراک کے کم جذب ہونے (Malabsorption) کے اسباب

قانون مفرد اعضاء کے مطابق مال ایبزارپشن کے اسباب کو تین بڑے زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جو تحریک کے بدلتے ہوئے رخ کو ظاہر کرتے ہیں۔
اعصابی اسباب: رطوبات کی زیادتی اور سردی
جب دماغ اور اعصاب میں تحریک ضرورت سے زیادہ بڑھ جاتی ہے، تو جسم میں رطوبات اور سردی کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت میں ہاضمے کے خامرے (Enzymes) اتنے پتلے ہو جاتے ہیں کہ وہ غذا کی کیمیائی تحلیل نہیں کر پاتے۔ اسہال کی وہ قسم جس میں کھانا جوں کا توں نکل جاتا ہے، اسی اعصابی تحریک کا نتیجہ ہوتی ہے 2۔ اس حالت میں جذب کرنے والے غدود (Villi) سست ہو جاتے ہیں اور غذائیت خون میں شامل ہونے کی بجائے خارج ہو جاتی ہے۔
عضلاتی اسباب: خشکی اور تیزابیت
عضلاتی تحریک میں جسم کے اندر خشکی اور سوداوی مادوں کی زیادتی ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے آنتوں کے اندرونی پردے سخت ہو جاتے ہیں اور ان کی جذب کرنے کی صلاحیت (Permeability) کم ہو جاتی ہے۔ گیسٹروپیریسس (Gastroparesis) جیسی حالتیں، جہاں معدہ خالی ہونے میں تاخیر کرتا ہے، اکثر عضلاتی سوزش یا خشکی کا نتیجہ ہوتی ہیں 7۔ خشکی کی وجہ سے آنتوں کے خلیات سکڑ جاتے ہیں، جس سے غذائی اجزاء کے گزرنے کے راستے بند ہو جاتے ہیں۔
غدی اسباب: حرارت اور سوزش

غدی تحریک میں جگر اور غدود میں سوزش پیدا ہوتی ہے جس سے جسم میں حرارت اور صفرا (Bile) بڑھ جاتا ہے۔ یہ مال ایبزارپشن کی سب سے عام وجہ ہے جسے طبِ قدیم میں ’سنگرہنی‘ بھی کہا جاتا ہے 5۔ جب آنتوں میں صفرا کی زیادتی ہوتی ہے تو وہ آنتوں کے استر کو جلا دیتی ہے یا وہاں سوزش پیدا کر دیتی ہے، جس سے خوراک تیزی سے پھسل جاتی ہے اور جسم اسے جذب نہیں کر پاتا۔
جدید طبی وجوہات کا قانون مفرد اعضاء سے تقابل
جدید طب جن وجوہات کو مال ایبزارپشن کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے، قانون مفرد اعضاء ان کی تشریح اپنے مزاجی نظریے کے تحت کرتا ہے:
- بیکٹیریل اور وائرل انفیکشن: تپ دق، کولائٹس اور گیسٹرو اینٹرائٹس غدی عضلاتی سوزش کی علامات ہیں جہاں حرارت کی وجہ سے بافتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہیں 11۔
- وٹامن بی 12 اور ڈی کی کمی: یہ جگر (غدد) کی اس کمزوری کو ظاہر کرتی ہے جہاں وہ مخصوص چکنائیوں اور وٹامنز کو میٹابولائز نہیں کر پاتا 13۔
- ادویات کے اثرات: اینٹی بائیوٹکس اور سٹیرائڈز جسم میں غیر فطری خشکی (عضلاتی تحریک) پیدا کرتے ہیں، جو آنتوں کے قدرتی مائیکرو فلورا کو تباہ کر دیتے ہیں 11۔
- سیلیک بیماری (Celiac Disease): یہ گلوٹین کے خلاف جسم کا وہ شدید ردعمل ہے جو عضلاتی غدی تحریک میں شدت اختیار کر جاتا ہے، جہاں جسم کا مدافعتی نظام اپنی ہی آنتوں کے جذب کرنے والے حصوں پر حملہ آور ہوتا ہے 9۔
مال ایبزارپشن کی علامات اور تشخیص
قانون مفرد اعضاء میں تشخیص کے لیے محض لیبارٹری ٹیسٹ کافی نہیں، بلکہ مریض کے پورے وجود کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
نبض کے ذریعے تشخیص
نبض وہ آلہ ہے جس سے معالج براہ راست جسم کی اندرونی تحریک کو بھانپ لیتا ہے 2۔
| تحریک کا نام | نبض کی کیفیت | مال ایبزارپشن کی نوعیت |
| اعصابی غدی | سست، گہری اور رطوبت بھری | رطوبات کی زیادتی سے خوراک کا بہہ جانا 2 |
| عضلاتی غدی | تیز، اوپر اٹھی ہوئی اور سخت | خشکی اور گیس کی وجہ سے جذب میں رکاوٹ 2 |
| غدی عضلاتی | بھرپور، گرم اور متواتر | حرارت اور صفرا کی وجہ سے غذا کا جل جانا یا تیزی سے گزرنا 2 |
جسمانی و طبی علامات
مال ایبزارپشن کی صورت میں جسم میں درج ذیل تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں:
- وزن میں غیر ارادی کمی: یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ہضمِ عضوی (Cellular Digestion) ناکام ہو رہا ہے 9۔
- اپھارہ اور پیٹ کا پھولنا: ادھوری ہضم شدہ خوراک جب آنتوں میں سڑتی ہے تو کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین گیس پیدا ہوتی ہے 8۔
- تھکاوٹ اور نیند کی کمی: آنتوں کا تعلق براہ راست سیروٹونن کی پیدائش سے ہے، جذب کی کمی موڈ اور نیند کو متاثر کرتی ہے 9۔
- جلد کی الرجی اور ایکزیما: جب زہریلے مادے جذب ہو کر خون میں شامل ہوتے ہیں تو وہ جلد کے راستے خارج ہونے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے سوزش پیدا ہوتی ہے 9۔
خوراک کے کم جذب ہونے کا حل: قانون مفرد اعضاء کے اصولِ علاج
علاج کا بنیادی اصول ’علاج بالضد‘ ہے، یعنی جس تحریک کی وجہ سے مرض پیدا ہوا ہے، اس کے مخالف تحریک پیدا کر کے توازن بحال کیا جائے 3۔
علاج کے تین ستون
- علاج بالغذء (Dietotherapy): خوراک میں ایسی تبدیلیاں لانا جو بگڑے ہوئے مزاج کو ٹھیک کریں 6۔
- علاج بالدوا (Pharmacotherapy): قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ادویات جو مخصوص اعضاء کو متحرک یا پرسکون کریں 1۔
- علاج بالتدبیر (Regimenal Therapy): طرز زندگی، ورزش اور صفائی کے طریقوں سے جذب کے عمل کو سہارا دینا 6۔
مزاج کے مطابق غذائی و دوائی حل
قانون مفرد اعضاء کے چھ غذائی چارٹ اس سلسلے میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں 1۔
غدی عضلاتی تحریک (گرمی خشکی) کا حل
اگر جذب کی کمی حرارت کی وجہ سے ہے (جیسا کہ سنگرہنی میں ہوتا ہے)، تو علاج کا مقصد جگر کی سوزش کو کم کرنا اور رطوبت فراہم کرنا ہے:
- مفید غذائیں: کدو، توری، ٹینڈا، لوکی، اور دودھ 17۔
- پھل: کیلا، میٹھا سیب، گرما، اور سردا 20۔
- پرہیز: سرخ مرچ، انڈا، بڑا گوشت، اور تیز مسالحہ جات 17۔
- گھریلو نسخہ: چھاچھ میں کالا نمک اور زیرہ ڈال کر استعمال کرنا ہاضمے کو ٹھنڈا کرتا ہے 17۔
عضلاتی غدی تحریک (خشکی گرمی) کا حل
اگر مسئلہ آنتوں کی خشکی اور سست روی کا ہے:
- مفید غذائیں: کریلے، پالک، میتھی، ادرک، اور پپیتا 5۔
- اناج: دلیہ، گندم کی روٹی، اور باجرہ 21۔
- پرہیز: چاول، دہی، اور ٹھنڈے مشروبات 16۔
- گھریلو نسخہ: ادرک کا قہوہ یا سونٹھ کا استعمال جگر کے افعال کو تیز کر کے جذب کو بہتر بناتا ہے 5۔
اعصابی غدی تحریک (ترمی گرمی) کا حل
اگر رطوبات کی زیادتی سے خوراک ضائع ہو رہی ہے:
- مفید غذائیں: بھنا ہوا گوشت، چنے، منقہ، اور کھجور 23۔
- قہوہ: لونگ اور دار چینی کا قہوہ جسم سے فالتو رطوبات کو خشک کرتا ہے 6۔
طرز زندگی اور جذب کو بہتر بنانے کے عملی طریقے
تحقیق یہ بتاتی ہے کہ صرف صحیح غذا کھانا کافی نہیں، بلکہ اسے کھانے کا طریقہ بھی جذب کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے 8۔
کھانے کے آداب اور میکانیت
- اچھی طرح چبانا: لعاب دہن میں موجود انزائمز کاربوہائیڈریٹس کے جذب ہونے کا پہلا مرحلہ ہیں 8۔
- پانی کا درست استعمال: کھانے سے پہلے یا بعد میں زیادہ پانی پینا ’ہضم کی آگ‘ کو کم کر دیتا ہے۔ نیم گرم پانی پینا قبض اور جذب کی کمی میں مددگار ہوتا ہے 16۔
- چھوٹے وقفوں سے کھانا: ایک ساتھ زیادہ کھانے کی بجائے تھوڑی تھوڑی مقدار میں کئی بار کھانا معدے پر بوجھ کم کرتا ہے اور جذب کی شرح بڑھاتا ہے 7۔
- ذہنی سکون: تناؤ کی حالت میں جسم ’لڑو یا بھاگو‘ (Fight or Flight) کی کیفیت میں ہوتا ہے، جس سے خون کا بہاؤ آنتوں سے ہٹ کر پٹھوں کی طرف چلا جاتا ہے، یوں جذب کا عمل رک جاتا ہے 8۔
قدرتی سپلیمنٹس اور ان کا کردار
قانون مفرد اعضاء مصنوعی وٹامنز کی بجائے قدرتی ذرائع پر زور دیتا ہے:
- وٹامن بی 12 کے لیے: کلیجی، انڈا، اور مچھلی کا استعمال (اگر مزاج اجازت دے) 15۔
- وٹامن ڈی کے لیے: صبح کی دھوپ اور مکھن کا استعمال 14۔
- پروبائیوٹکس: دہی اور خمیر شدہ غذائیں آنتوں کے ’دوستانہ‘ بیکٹیریا کو بحال کرتی ہیں جو جذب کے عمل میں مددگار ہیں 8۔
مخصوص امراضِ ہضم اور ان کی تفصیلی مینجمنٹ
مال ایبزارپشن اکثر کچھ مخصوص امراض کے ساتھ منسلک ہوتی ہے جن کا علاج قانون مفرد اعضاء میں انتہائی کامیابی سے کیا جاتا ہے۔
سنگرہنی (IBS/Chronic Diarrhea)
سنگرہنی میں غذا ہضم ہوئے بغیر دستوں کی صورت میں نکل جاتی ہے۔ حکیم صابر ملتانی اسے غدی تحریک قرار دیتے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ عضلاتی تحریک پیدا کی جائے تاکہ آنتوں میں قابض اثر پیدا ہو اور غذا کو رکنے کا وقت ملے 1۔ اس کے لیے انار کا چھلکا، بیل گری اور موچرس جیسی ادویات مستعمل ہیں۔
گیسٹروپیریسس (معدے کی سستی)
اس میں معدے کے عضلات کام چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کا علاج عضلاتی تحریک کو متحرک کر کے کیا جاتا ہے تاکہ خوراک آگے بڑھے۔ ادرک اور پودینہ اس کے لیے بہترین قدرتی محرک ہیں 5۔
| مرض | مزاجی کیفیت | تجویز کردہ حل |
| سنگرہنی | غدی عضلاتی (گرم خشک) | عضلاتی اعصابی غذا (خشک سرد) 5 |
| بدہضمی (Dyspepsia) | اعصابی غدی (ترمی گرمی) | عضلاتی غدی غذا (خشک گرم) 8 |
| تیزابیت (Acid Reflux) | عضلاتی غدی (خشک گرم) | غدی اعصابی غذا (گرم تر) 12 |
علمی و تحقیقی نتائج
قانون مفرد اعضاء کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خوراک کے کم جذب ہونے کا مسئلہ محض معدے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے انسانی نظام کی کیمیائی اور میکانی توازن کی خرابی ہے۔ جب تک معالج مریض کی نبض کے ذریعے اس کی تحریک کا درست تعین نہیں کرے گا، جذب کا عمل مستقل طور پر ٹھیک نہیں ہو سکتا 2۔
- تحریک کی منتقلی: اگر جذب کی کمی اعصابی ہے تو اسے عضلاتی کی طرف، اگر عضلاتی ہے تو غدی کی طرف، اور اگر غدی ہے تو اعصابی کی طرف منتقل کرنا ہی اصل علاج ہے۔
- غذا کی فوقیت: دوا صرف تحریک پیدا کرنے کے لیے ہے، لیکن مستقل بنیادوں پر جسم کی تعمیر صرف اس غذا سے ہو سکتی ہے جو جذب ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو 6۔
- مجموعی صحت: آنتوں کی صحت کا براہ راست اثر دماغی صحت، جلد اور مدافعتی نظام پر پڑتا ہے، لہذا مال ایبزارپشن کا علاج مجموعی صحت کا ضامن ہے 9۔
مال ایبزارپشن کے اسباب اور ان کے حل پر مبنی یہ جامع رپورٹ اس بات کی تائید کرتی ہے کہ فطری قوانین کے مطابق زندگی گزارنا اور مزاج کے مطابق غذا کا انتخاب کرنا ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے انسانی جسم اپنی ضرورت کی غذائیت بھرپور طریقے سے جذب کر سکتا ہے۔ حکیم صابر ملتانی کا نظریہ مفرد اعضاء آج بھی ان پیچیدہ امراض کے حل کے لیے ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتا ہے جن کا جدید طب میں صرف علامتی علاج موجود ہے