
ھوالشافی
سردی میں سانس کی تنگی (دمہ/استھما) کا کامیاب علاج
(قانون مفرد اعضاء کی روشنی میں)
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
موسمِ سرما میں اکثر احباب کو سانس لینے میں دشواری، سینے میں جکڑن اور چلنے پھرنے سے سانس پھولنے کی شکایت ہو جاتی ہے۔ قانون مفرد اعضاء کے مطابق سردی میں خون کے قوام میں گاڑھا پن (انجماد) پیدا ہوتا ہے اور عضلات میں سکڑاؤ (کساؤ) آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے پھیپھڑوں کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور سانس کی آمد و رفت مشکل ہو جاتی ہے۔
ذیل میں اس مرض کے اسباب، علامات اور مجرب نسخہ جات درج کیے جا رہے ہیں۔
1. اسباب (Causes)
قانون مفرد اعضاء کی رو سے یہ مرض عضلاتی اعصابی (خشک سرد) یا عضلاتی غدی (خشک گرم) تحریک میں ہوتا ہے۔ سردی کے موسم میں درج ذیل اسباب اہم ہیں:
سرد ہوا کا براہِ راست پھیپھڑوں پر اثر انداز ہونا۔
خشک اور سرد غذاؤں کا کثرت سے استعمال (مثلاً دہی، چاول، ٹھنڈے مشروبات، بڑا گوشت)۔
جسم میں خشکی اور تیزابیت کا بڑھ جانا جس سے ہوائی نالیوں میں سکیڑ پیدا ہوتا ہے۔
ریاح (Gas) کا دباؤ جو ڈایافرام کو اوپر کی طرف دھکیلتا ہے اور پھیپھڑوں کو پھیلنے کی جگہ نہیں ملتی۔
2. علامات (Symptoms)
سانس لینے میں دقت، خاص طور پر رات کے وقت یا ٹھنڈی ہوا میں۔
سینے سے سیٹی کی آواز (Wheezing) آنا۔
خشک کھانسی یا پھر بلغم کا بہت مشکل سے اخراج ہونا۔
چلنے پھرنے یا سیڑھیاں چڑھنے سے سانس کا پھول جانا۔
ہاتھ پاؤں کا ٹھنڈا رہنا اور پیاس کی کمی۔
3. اصولِ علاج اور پرہیز
علاج کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جسم سے خشکی اور سردی کا خاتمہ کیا جائے اور حرارت (گرمی) پیدا کی جائے۔ جب جگر میں حرارت پیدا ہوگی تو دورانِ خون تیز ہوگا، نالیوں کا سکیڑ ختم ہوگا اور بلغم پگھل کر خارج ہو جائے گی۔

پرہیز:
چاول، دہی، لسی، آلو، گوبھی، بینگن، بڑا گوشت اور تمام کھٹی چیزوں سے مکمل پرہیز کریں۔
ٹھنڈے پانی سے وضو یا غسل کرنے سے بچیں۔
غذا:
بکری کا گوشت (شوربے والا)، دیسی مرغی، پرندوں کا گوشت، انڈے، کھجور، شہد، میوہ جات (اخروٹ، پستہ) کا استعمال کریں۔
4. مجرب نسخہ جات (Prescriptions)
سردی کی وجہ سے ہونے والی سانس کی تنگی کے لیے درج ذیل نسخہ جات “اکسیر” کا درجہ رکھتے ہیں:
نسخہ نمبر 1: قہوہ برائے فوری سکون
یہ قہوہ پھیپھڑوں کی نالیوں کو کھولتا ہے اور فوری حرارت پہنچاتا ہے۔
اجزاء:
دار چینی: 1 چھوٹا ٹکڑا
لونگ: 2 عدد
منقیٰ: 3 دانے (بیج نکال کر)
ترکیب: ایک کپ پانی میں ان اجزاء کو اچھی طرح ابالیں۔ چھان کر حسبِ ذائقہ شہد ملا کر گرم گرم نوش کریں۔ دن میں 3 بار استعمال کریں۔
نسخہ نمبر 2: سفوفِ دمہ (غدی عضلاتی)
یہ نسخہ جگر کو تیز کرتا ہے اور رکی ہوئی بلغم اور سکیڑ کو ختم کرتا ہے۔
اجزاء:
اجوائن دیسی: 50 گرام
تیز پات: 50 گرام
رائی (سرخ): 50 گرام
نمک سیاہ: 10 گرام (آپشنل، اگر بلڈ پریشر ہائی نہ ہو)
ترکیب: تمام ادویات کو باریک پیس کر سفوف بنا لیں۔
مقدار خوراک: آدھا چمچ (چائے والا) دن میں 3 بار کھانے کے بعد نیم گرم پانی یا لونگ دار چینی کے قہوہ کے ساتھ لیں۔
نسخہ نمبر 3: (بچوں اور بوڑھوں کے لیے)
اگر کھانسی اور دمہ شدید ہو تو:
اجزاء: سہاگہ بریاں (توے پر بھنا ہوا) اور ملٹھی۔
ترکیب: دونوں کو ہم وزن پیس لیں۔
مقدار خوراک: دو رتی سے چار رتی تک دن میں تین بار شہد میں ملا کر چٹائیں۔ یہ سینے کو فوری صاف کرتا ہے۔
دعا گو:
اللہ تعالیٰ تمام مریضوں کو شفائے کاملہ عطا فرمائے۔
غذائی چارٹ (ڈائٹ پلان) برائے مریضِ دمہ و سانس کی تنگی
(قانون مفرد اعضاء: علاج بالغذا)
سانس کی تنگی اور پھیپھڑوں کے سکیڑ کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مریض کے جسم میں “حرارت” (Heat) پیدا کی جائے۔ جب تک غذا

میں تبدیلی نہیں ہوگی، صرف دوائی اثر نہیں کرے گی۔ سردی کے موسم میں درج ذیل “غدی عضلاتی” (گرم خشک) سے “غدی اعصابی” (گرم تر) غذائیں استعمال کریں۔
یہ چارٹ خاص طور پر ان مریضوں کے لیے ہے جنہیں سرد ہوا لگنے سے یا ٹھنڈی چیز کھانے سے سانس چڑھتا ہے۔
1. ناشتہ (Breakfast)
صبح کا آغاز جسم کو گرمی پہنچانے سے کریں۔
انڈہ: 2 عدد دیسی انڈے (ہاف فرائی یا آملیٹ) دیسی گھی میں بنے ہوئے۔ اس پر کالی مرچ اور نمک چھڑک کر کھائیں۔
ڈبل روٹی/روٹی: گندم کی روٹی یا ٹوسٹ ہلکا سا دیسی گھی لگا کر۔
میوہ جات: 5 عدد بادام، 2 عدد اخروٹ اور 3 عدد کھجوریں۔
مشروب: ایک کپ نیم گرم دودھ جس میں شہد اور تھوڑی سی سونف ملی ہو۔ یا پھر لونگ دار چینی کا قہوہ۔
2. دوپہر اور رات کا کھانا (Lunch & Dinner)
کھانے میں شوربے والے سالن کو ترجیح دیں کیونکہ خشکی دمہ کی دشمن ہے۔
گوشت: بکرے کا گوشت (شوربے والا)، دیسی مرغی، بٹیر، تیتر یا کبوتر کا گوشت بہترین ہے۔ مچھلی (تلی ہوئی یا شوربہ) ہفتے میں دو بار ضرور کھائیں۔
سبزیاں: کریلے، میتھی، ساگ (سرسوں کا)، دیسی ٹینڈے، لہسن کی چٹنی۔ سبزیوں میں ادرک اور لہسن کا تڑکا زیادہ لگائیں۔
روٹی: گندم کی روٹی کھائیں (خمیری روٹی سے پرہیز کریں)۔ اگر ہوسکے تو باجرے کی روٹی بھی کھا سکتے ہیں، یہ بہت گرم ہوتی ہے۔
3. پھل اور دیگر اشیاء (Fruits & Snacks)
پھل: پپیتا، خربوزہ (اگر دستیاب ہو)، شہتوت، میٹھے انگور، آم۔
خشک میوہ جات (سردیوں کی سوغات): انجیر (3 دانے روزانہ)، چلغوزہ، پستہ، اور کشمش۔ انجیر سینے سے پرانی بلغم اکھاڑنے کے لیے بہترین ہے۔
4. ممنوعہ غذائیں (سخت پرہیز)
ان چیزوں کو زہر سمجھ کر چھوڑ دیں، ورنہ سانس بحال نہیں ہوگا:
اناج: چاول (ہر قسم)، مکئی۔
سبزیاں: آلو، گوبھی، بھنڈی، بینگن، اروی۔
ڈیری: دہی، لسی، ٹھنڈا دودھ، آئس کریم۔
دیگر: کولڈ ڈرنکس، بازار کے جوس، کھٹے پھل (مالٹا، کینو وغیرہ اگر گلا خراب ہو تو منع ہیں)، بڑا گوشت (Beef)۔
خصوصی ہدایت:
پانی ہمیشہ نیم گرم پئیں۔ ٹھنڈا پانی پینا دمہ کے مریض کے لیے خودکشی کے مترادف ہے۔
رات کا کھانا سونے سے کم از کم 3 گھنٹے پہلے کھا لیں تاکہ معدے پر بوجھ نہ بنے اور سانس نہ پھولے۔
سینے کی جکڑن اور سانس کی تنگی کے لیے “جادوئی تیل” (روغنِ سکون)
(مجربِ خاص حکیم المیوات)
سردی کے موسم میں جب بلغم سینے میں جم جائے، پسلیوں میں درد ہو اور سانس اکھڑ رہا ہو، تو صرف دوا کافی نہیں ہوتی۔ بیرونی طور پر حرارت پہنچانا ضروری ہوتا ہے۔ یہ تیل قانون مفرد اعضاء کے اصولوں کے مطابق “غدی عضلاتی” (گرم خشک) تاثیر رکھتا ہے، جو مساموں کے ذریعے جذب ہو کر پھیپھڑوں کے سکیڑ کو فوراً کھولتا ہے۔
ذیل میں اس خاص تیل کو بنانے اور استعمال کرنے کا طریقہ درج ہے:
اجزاء (Ingredients)
- سرسوں کا تیل (یا تِلوں کا تیل): ایک پاؤ (250 گرام) – تِلوں کا تیل زیادہ بہتر ہے، نہ ملے تو سرسوں کا لے لیں۔
- لہسن (دیسی): ایک پوری گانٹھ (چھیل کر کچل لیں)۔
- اجوائن دیسی: 2 بڑے چمچ۔
- لونگ: 10 عدد۔
- دار چینی: 2 انچ کے دو ٹکڑے۔
تیاری کا طریقہ (Preparation Method)
- ایک لوہے کی کڑاہی یا برتن میں تیل ڈال کر ہلکی آنچ پر گرم کریں۔
- جب تیل گرم ہو جائے تو اس میں لہسن، اجوائن، لونگ اور دار چینی ڈال دیں۔
- آنچ دھیمی رکھیں اور ان چیزوں کو تیل میں جلنے دیں۔
- جب تمام اجزاء جل کر بالکل سیاہ (کوئلہ) ہو جائیں، تو چولہا بند کر دیں۔
- تیل کو ٹھنڈا ہونے دیں، پھر کسی ململ کے کپڑے سے چھان کر شیشی میں محفوظ کر لیں۔
طریقہ استعمال (How to Apply)
وقت: بہترین وقت رات کو سونے سے پہلے ہے۔
طریقہ: تیل کو ہلکا سا نیم گرم (کوسا) کریں۔ مریض کی چھاتی (سینے) اور پشت (کمر پر دونوں کندھوں کے درمیان) پر نرم ہاتھوں سے 10 سے 15 منٹ مالش کریں۔
مالش اس طرح کریں کہ تیل جلد میں جذب ہو جائے۔
اہم ترین احتیاط: مالش کے فوراً بعد پرانی روئی (Cotton) گرم کر کے سینے پر رکھیں یا گرم بنیان/جرسی پہنا دیں۔ مریض کو ہوا بالکل نہیں لگنی چاہیے۔
فوائد:
یہ تیل پھیپھڑوں کی نالیوں کو نرم کرتا ہے۔
جمی ہوئی بلغم کو پتلا کر کے خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔
پسلی کے چلنے (نمونیہ جیسی کیفیت) میں فوری سکون دیتا ہے۔
دعا گو:
اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو اپنی امان میں رکھے۔
منجانب:
حکیم المیوات قاری محمود یونس شاہد میو