Friday, January 9, 2026
Home Blog خو ن ،نظریہ مفرد اعضاء کی روشنی میں

خو ن ،نظریہ مفرد اعضاء کی روشنی میں

by admin

خو ن ،نظریہ مفرد اعضاء کی روشنی میں

تمہید و مقدمہ

طبِ قدیم اور بالخصوص قانونِ مفرد اعضاء (Law of Simple Organs) انسانی جسم کو محض خلیات کا مجموعہ نہیں سمجھتا، بلکہ اسے ایک باہم مربوط نظامِ حیات گردانتا ہے جس کی بقا کا انحصار تین بنیادی اعضاء رئیسہ—دل (Heart/Muscles)، دماغ (Brain/Nerves)، اور جگر (Liver/Glands)—کے اعتدال اور باہمی تعاون پر ہے۔ خون (Blood)، جسے طب کی زبان میں “خلیط” یا “سیال گوشت” کہا جاتا ہے، اس نظامِ حیات کی ندی ہے جو جسم کے ہر گوشے کو سیراب کرتی ہے۔ زیرِ نظر تفصیلی رپورٹ کا مقصد دی گئی تصویر میں دکھائے گئے خون کے جدید فعلیاتی تصورات (Physiological Concepts) کو حکیم انقلاب جناب دوست محمد صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے وضع کردہ “نظریہ مفرد اعضاء” کے اصولوں پر پرکھنا ہے، اور کتبِ معتبرہ کی روشنی میں اس کے اسبابِ امراض اور علاج پر ایک ضخیم دستاویز مرتب کرنا ہے۔

یہ رپورٹ نہ صرف خون کی ماہیت، پیدائش، اور افعال کا احاطہ کرے گی بلکہ جدید پیتھالوجی (Pathology) کی پیچیدہ گتھیوں—جیسے پلیٹلیٹس کا گرنا، خون کا گاڑھا ہونا، یا سیپسس—کو “تحریک، تسکین، و تحلیل” کے سادہ مگر اٹل قوانین کے ذریعے حل کرے گی۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح جدید سائنس کی دریافتیں دراصل صدیوں پرانے طبی اصولوں کی ہی توثیق کر رہی ہیں، بشرطیکہ انہیں دیکھنے والی آنکھ “حکیمانہ” ہو۔

باب اول: خون کی ماہیت اور نظریاتی پس منظر

۱.۱ خون: ارواح کا مسکن اور زندگی کا مظہر

نظریہ مفرد اعضاء کے مطابق خون محض ایک سرخ رنگ کا مائع نہیں ہے جو رگوں میں گردش کرتا ہے، بلکہ یہ “روحِ حیوانی” (Vital Spirit) کا حامل ہے۔ طبِ صابر کے فلسفے میں جسم کی تمام تر توانائیوں کا منبع “حرارتِ غریزی” ہے، اور خون اس حرارت کا امین ہے۔

حکیم صابر ملتانی اپنی تصنیفات میں فرماتے ہیں کہ خون تین بنیادی اخلاط کا مجموعہ ہے:

  1. بلغم (Phlegm): جو اعصاب و دماغ کی غذا ہے اور رطوبت مہیا کرتا ہے۔
  2. سودا (Black Bile): جو عضلات و دل کی غذا ہے اور جسم کو ٹھوس پن اور خشکی فراہم کرتا ہے۔
  3. صفرا (Yellow Bile): جو غدد و جگر کی غذا ہے اور جسم کو حرارت اور توانائی بخشتا ہے۔

جب یہ تینوں اخلاط خون میں اپنے طبعی تناسب (Equilibrium) کے ساتھ موجود ہوں، تو انسان تندرست رہتا ہے۔ دی گئی تصویر میں خون کے چار بنیادی افعال (آکسیجن کی ترسیل، فضلہ کا اخراج، دفاعی نظام، درجہ حرارت/پی ایچ) دکھائے گئے ہیں۔ یہ چاروں افعال دراصل انہی تین اخلاط اور ان کے متعلقہ اعضاء (اعصاب، عضلات، غدد) کی کارکردگی کا مظہر ہیں 1۔

۱.۲ تصویر کا حکیمانہ تجزیہ

دی گئی تصویر میں خون کے افعال کو چار خانوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نظریہ مفرد اعضاء کے تحت ان کی تشریح یوں بنتی ہے:

تصویر کا حصہ (Image Section)جدید فعلیات (Modern Physiology)نظریہ مفرد اعضاء کی تطبیق (Unani Interpretation)متعلقہ عضو رئیسہ
آکسیجن کی نقل و حملہیموگلوبین (RBCs) پھیپھڑوں سے آکسیجن لاتی ہے۔یہ “روح” اور “حرارت” کی ترسیل ہے۔ سرخ ذرات کا تعلق صفرا اور حرارت سے ہے۔غدد / جگر (Liver)
فضلہ مواد کا اخراجCO2 اور یوریا کا گردوں اور پھیپھڑوں سے اخراج۔فاسد مادوں (سودا اور صفراِ محترقہ) کا اخراج۔ گردے غدی نظام کا حصہ ہیں۔غدد و عضلات
دفاعی نظامسفید خلیات (WBCs) جراثیم سے لڑتے ہیں۔یہ اعصابی قوت کا مظہر ہے۔ WBCs کا تعلق بلغم اور رطوبت سے ہے۔اعصاب / دماغ (Brain)
درجہ حرارت اور پی ایچتھرمو ریگولیشن اور ایسڈ بیس بیلنس۔حرارت (جگر) اور رطوبت (اعصاب) کے درمیان توازن۔جگر و دماغ

باب دوم: خون کے اجزاء اور مزاجی تعلق (Components and Temperaments)

خون کے خلیات کی جدید درجہ بندی (RBC, WBC, Platelets) کو نظریہ مفرد اعضاء نے رد نہیں کیا، بلکہ اسے اپنے مزاجی سانچے میں ڈھال کر تشخیص کا بہترین ذریعہ بنا دیا ہے۔ آئیے ہر جزو کا تفصیلی جائزہ لیں۔

۲.۱ سرخ ذرات (Red Blood Cells) اور غدی نظام

خون کا سرخ رنگ اور اس میں موجود حرارت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس کا تعلق “غدد” (Glands) اور “جگر” (Liver) سے ہے۔ سرخ ذرات (Erythrocytes) آکسیجن کی ترسیل کرتے ہیں، جو کہ احتراق (Combustion) کے عمل کے لیے ضروری ہے۔ طب میں احتراق کا عمل حرارت پیدا کرتا ہے، اور حرارت کا مرکز جگر ہے۔

  • مزاج: گرم خشک (Hot Dry)۔
  • افعال: جسم میں حرارت پہنچانا، رنگت نکھارنا، اور جگر کی تحریک کو ظاہر کرنا۔
  • تحقیقی حوالہ: تحقیق سے ثابت ہے کہ جگر کے افعال (Liver Functions) اور ہڈیوں کے گودے (Bone Marrow) کا گہرا تعلق ہے۔ جنین (Fetus) میں خون جگر میں ہی بنتا ہے 3۔ جب جگر میں “تحریک” (Stimulation) ہوتی ہے تو RBCs کی پیدائش بڑھ جاتی ہے (جیسے Polycythemia میں)، اور جب جگر میں “تسکین” (Sedation) ہوتی ہے تو خون کی کمی (Anemia) واقع ہوتی ہے۔

۲.۲ سفید ذرات (White Blood Cells) اور اعصابی نظام

سفید ذرات (Leukocytes) کا رنگ سفید ہے، جو طب میں “بلغم” (Phlegm) اور “رطوبت” کی علامت ہے۔ ان کا تعلق “اعصاب” (Nerves) اور “دماغ” سے ہے۔ جس طرح دماغ جسم کا حاکم اور محافظ ہے، اسی طرح یہ خلیات جسم کی فوج ہیں۔

  • مزاج: سرد تر (Cold Moist)۔
  • افعال: جراثیم کی بھکشن (Phagocytosis)، مدافعتی نظام (Immunity)۔
  • تشخیصی نکتہ: جب خون میں سفید ذرات (WBC Count) بڑھ جائیں، جیسے لیوکیمیا (Leukemia) یا شدید انفیکشن میں، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جسم میں “اعصابی تحریک” (Nervous Stimulation) انتہا کو پہنچ چکی ہے، اور رطوبت نے حرارت پر غلبہ پا لیا ہے 4۔

۲.۳ اقراصِ دمویہ (Platelets) اور عضلاتی نظام

پلیٹلیٹس یا تھرومبوسائٹس (Thrombocytes) خون کو جمانے (Clotting) کا کام کرتے ہیں۔ جمنا، سکڑنا، اور گاڑھا ہونا “خشکی” (Dryness) اور “سردی” کی علامات ہیں۔ ان کا تعلق “عضلات” (Muscles) اور “دل” (Heart) سے ہے۔ عضلات کا مزاج خشک ہوتا ہے اور ان میں سودا (Black Bile) پایا جاتا ہے۔

  • مزاج: خشک سرد (Dry Cold) یا خشک گرم۔
  • افعال: خون کا انجماد (Coagulation)، شریانوں کی مرمت۔
  • حکیمانہ بصیرت: جب جسم میں عضلاتی تحریک (Muscular Stimulation) بڑھتی ہے تو خون میں خشکی اور تیزابیت (Acidity) بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں پلیٹلیٹس کی تعداد یا فعالیت بڑھ جاتی ہے اور خون گاڑھا ہو کر کلاٹس (Clots) بنانے لگتا ہے۔ اس کے برعکس، اعصابی تحریک (رطوبت) میں پلیٹلیٹس کم ہو جاتے ہیں (Thrombocytopenia) اور خون بہنے لگتا ہے 6۔

جدول ۱: خون کے اجزاء اور نظریہ مفرد اعضاء کا تقابل

خون کا جزوجدید ناممتعلقہ عضو (Organ)خلط (Humor)مزاج (Temperament)فعلیاتی کردار
سرخ ذراتErythrocytesغدد / جگرصفرا (Bile)گرم خشک (Hot Dry)حرارت و حیات کی ترسیل
سفید ذراتLeukocytesاعصاب / دماغبلغم (Phlegm)سرد تر (Cold Moist)دفاع اور رطوبت کی فراہمی
پلیٹلیٹسThrombocytesعضلات / دلسودا (Black Bile)خشک سرد (Dry Cold)انجماد اور استحکام
پلازماPlasmaاعصابرطوبتِ اصلیسرد تربہاؤ (Flow)

باب سوم: خون کی پیدائش اور فعلیاتی نظام (Physiology of Blood Production)

حکیم صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خون کی پیدائش کا عمل محض ہڈیوں کے گودے تک محدود نہیں بلکہ یہ نظامِ انہضام (Digestive System) سے شروع ہو کر جگر میں تکمیل پاتا ہے۔

۳.۱ ہضم کے چار مراحل اور تولیدِ خون

  1. ہضمِ معدی (Gastric Digestion): غذا معدہ میں داخل ہو کر “کیموس” (Chyme) بنتی ہے۔ یہاں عضلاتی قوت کام کرتی ہے۔ اگر معدہ میں تیزابیت (Acid) زیادہ ہو تو خون میں بھی سوداوی مادہ (Acidic matter) بڑھ جائے گا۔
  2. ہضمِ ماساریقی (Mesenteric Digestion): آنتوں سے “کیلوس” (Chyle) جگر کی طرف سفر کرتا ہے۔
  3. ہضمِ کبدی (Hepatic Digestion): یہ سب سے اہم مرحلہ ہے۔ جگر اس کیلوس کو اپنی حرارت سے پکا کر “خون” میں تبدیل کرتا ہے۔ اگر جگر کی حرارت کم ہو (تسکینِ جگر)، تو خون کچا رہ جاتا ہے اور پانی (رطوبت) کی مقدار بڑھ جاتی ہے جسے ہم انیمیا یا استسقاء (Dropsy) کہتے ہیں۔ اگر حرارت زیادہ ہو (تحریکِ جگر)، تو خون جل کر گاڑھا اور سیاہ ہو جاتا ہے (Jaundice/Hepatitis) 8۔
  4. ہضمِ عُضوی (Cellular/Organ Digestion): صاف خون اعضاء تک پہنچتا ہے اور ہر عضو اپنی ضرورت کے مطابق غذا جذب کرتا ہے۔

۳.۲ آکسیجن اور غذائی اجزاء کی نقل و حمل (تصویر کا پہلا حصہ)

تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ خون آکسیجن اور غذائی اجزاء خلیوں تک پہنچاتا ہے۔ نظریہ مفرد اعضاء کے مطابق، یہ صرف کیمیائی اجزاء کی ترسیل نہیں ہے بلکہ “مزاج” کی ترسیل ہے۔

  • جب خون عضلات (Muscles) تک پہنچتا ہے، تو عضلات اس میں سے “سوداوی” (خشک) اجزاء اور آکسیجن جذب کر کے حرارت پیدا کرتے ہیں۔
  • جب خون اعصاب (Brain) تک پہنچتا ہے، تو اعصاب اس میں سے “بلغمی” (روغنی اور آبی) اجزاء جذب کر کے تری حاصل کرتے ہیں۔

باب چہارم: امراضِ خون کے اسباب اور پیتھالوجی (Etiology and Pathology)

خون کے امراض کو سمجھنے کے لیے ہمیں “نظریہ مفرد اعضاء” کے قانونِ تحریک کو سمجھنا ہوگا۔ خون میں بگاڑ (Fasad-e-Khoon) صرف تین وجوہات سے پیدا ہوتا ہے:

۴.۱ غلظتِ خون (Thickening/Hypercoagulation) اور عضلاتی تحریک

جدید دور کا سب سے بڑا مسئلہ ہارٹ اٹیک اور فالج ہے، جس کی بنیاد خون کا گاڑھا ہونا ہے۔

  • سبب (Etiology): جب انسان خشک اور ترش (Acidic) غذائیں (جیسے گوشت، چائے، کولڈ ڈرنکس، پروسیسڈ فوڈ) زیادہ استعمال کرتا ہے، تو اس کے جسم میں “عضلاتی تحریک” (Muscular Stimulation) پیدا ہو جاتی ہے۔ عضلات میں کھچاؤ آتا ہے اور خون میں تیزابیت (Acid/Soda) بڑھ جاتی ہے۔
  • میکانزم: تیزابیت (Acid) کا خاصہ ہے چیزوں کو جمانا (جیسے دودھ میں لیموں ڈالنے سے وہ پھٹ کر جم جاتا ہے)۔ اسی طرح خون میں جب تیزابیت بڑھتی ہے تو پلیٹلیٹس متحرک ہو جاتے ہیں اور خون گاڑھا ہو کر کلاٹس (Clots) بناتا ہے۔ تصویر میں “فضلہ مواد کا اخراج” والا حصہ متاثر ہوتا ہے کیونکہ گردے (جو غدی نظام کے تحت صفائی کرتے ہیں) تیزابیت کی وجہ سے سکڑ جاتے ہیں اور یورک ایسڈ یا دیگر مادے خون میں رک جاتے ہیں 9۔
  • علامات: ہائی بلڈ پریشر، سینے میں درد (Angina)، جسم میں درد، گہرے رنگ کا پیشاب، بواسیر۔

۴.۲ رقتِ خون (Thinning/Hemorrhage) اور اعصابی تحریک

خون کا حد سے زیادہ پتلا ہونا، جس سے نکسیر پھوٹے یا زخم سے خون نہ رکے۔

  • سبب: جب انسان سرد اور تر غذائیں (جیسے چاول، دودھ، کھیر، ککڑی، تربوز) زیادہ استعمال کرتا ہے، تو “اعصابی تحریک” (Nervous Stimulation) پیدا ہوتی ہے۔ جسم میں رطوبت (پانی) اور بلغم کی زیادتی ہو جاتی ہے۔
  • میکانزم: رطوبت خون کے قوام کو پتلا کر دیتی ہے۔ اس حالت میں جگر میں تسکین (Suggish Liver) ہوتی ہے، لہذا صالح خون (RBCs) کم بنتا ہے اور پلیٹلیٹس کی پیدائش بھی رک جاتی ہے (کیونکہ عضلات بھی تسکین میں ہوتے ہیں)۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے ڈینگی (Dengue) کے آخری مراحل میں دیکھا جاتا ہے جب پلیٹلیٹس خطرناک حد تک گر جاتے ہیں 4۔
  • علامات: لو بلڈ پریشر (Low BP)، سستی، نیند کی زیادتی، سفید پیشاب، پیلی رنگت، حیض کی زیادتی۔

۴.۳ فسادِ خون (Infection/Sepsis) اور غدی تحریک

خون میں زہریلے مادوں کا شامل ہونا۔

  • سبب: گرم اور چربیلی غذاؤں (انڈے، مرغ، گرم مصالحے) کی کثرت سے “غدی تحریک” (Glandular Stimulation) پیدا ہوتی ہے۔ جگر حد سے زیادہ صفرا (Bile) بناتا ہے۔
  • میکانزم: جب صفرا خون میں بڑھ جائے اور خارج نہ ہو سکے، تو یہ خون میں تعفن (Putrefaction) پیدا کرتا ہے۔ تصویر میں “دفاعی نظام” والا حصہ متحرک ہو جاتا ہے اور WBCs کی جنگ شروع ہو جاتی ہے جسے ہم بخار (Fever) کہتے ہیں۔ اگر یہ تعفن بڑھ جائے تو “سیپسس” (Sepsis) ہو جاتا ہے جو جان لیوا ہے 11۔
  • علامات: یرقان (Jaundice)، خارش (Itching)، پھوڑے پھنسیاں، بخار، پیشاب میں جلن۔

باب پنجم: تشخیص کے حکیمانہ پیمانے (Diagnosis)

حکیم کے پاس لیبارٹری نہیں ہوتی، وہ نبض اور قارورہ سے خون کی حالت جانچتا ہے۔

۵.۱ نبض (Pulse Diagnosis)

  1. عضلاتی نبض (گاڑھا خون): نبض انگلیوں پر سخت ٹھوکر لگاتی ہے، لمبی ہوتی ہے اور اوپر ہی محسوس ہوتی ہے۔ یہ ہائی بلڈ پریشر اور کلاٹس کی نشانی ہے۔
  2. اعصابی نبض (پتلا خون): نبض گہرائی میں ہوتی ہے، سست ہوتی ہے اور چوڑی محسوس ہوتی ہے۔ یہ انیمیا اور کمزوری کی دلیل ہے۔
  3. غدی نبض (انفیکشن/گرمی): نبض انتہائی تیز (Tachycardia)، باریک اور بالکل اوپر محسوس ہوتی ہے۔ یہ خون میں حدت اور صفرا کی نشانی ہے۔

۵.۲ قارورہ (Urine Analysis)

  • سرخی مائل یا زردی مائل (Mustard/Golden): یہ تندرست خون کی علامت ہے۔
  • سفید پانی جیسا (Colorless): اعصابی تحریک، خون میں رطوبت اور سردی کی زیادتی۔
  • سرخی مائل سیاہ یا گاڑھا (Dark/Reddish): عضلاتی تحریک، خون میں خشکی اور تیزابیت۔
  • ہلدی جیسا زرد (Yellow/Orange): غدی تحریک، خون میں گرمی اور یرقان۔

باب ششم: حکیمانہ علاج اور اصولِ شفا (Therapeutics and Treatment)

نظریہ مفرد اعضاء کا سنہری اصول “علاج بالضد” (Treatment by Opposite) ہے۔ ہم مرض کے سبب (تحریک) کو ختم کرنے کے لیے اگلی تحریک پیدا کرتے ہیں۔

۶.۱ گاڑھے خون (Clots/High BP) کا علاج

چونکہ یہ مرض “عضلاتی” (خشک) تحریک کا نتیجہ ہے، اس لیے ہم “غدی” (گرم) ادویات دیں گے تاکہ حرارت سے خشکی تحلیل ہو اور خون پگھل جائے۔ اسے “تحلیلِ ریاح اور اخراجِ سودا” کہتے ہیں۔

  • غذائی علاج: ادرک، لہسن، پودینہ، اجوائن، میتھی دانہ۔ یہ سب قدرتی “Blood Thinners” ہیں۔
  • نسخہ نمبر 1 (ہاضم و محلل):
    • اجوائن دیسی (50 گرام)، پودینہ خشک (25 گرام)، گندھک آملہ سار (25 گرام)۔
    • سب کو پیس لیں۔ آدھا چمچ صبح و شام۔ یہ نسخہ کولیسٹرول اور یورک ایسڈ کا بہترین علاج ہے۔
  • میکانزم: گندھک اور اجوائن جگر کو تحریک دیتے ہیں، جس سے صفرا پیدا ہوتا ہے۔ صفرا ایک قدرتی ڈیٹرجنٹ ہے جو شریانوں میں جمی ہوئی چکنائی اور کلاٹس کو گھول دیتا ہے 13۔

۶.۲ پتلے خون اور بلیڈنگ (Hemorrhage) کا علاج

یہ مرض “اعصابی” (سرد/تر) تحریک کا ہے۔ علاج کے لیے ہمیں “عضلاتی” (خشک) تحریک پیدا کرنی ہوگی تاکہ خون میں گاڑھا پن آئے اور بہاؤ رک جائے۔

  • غذائی علاج: بھنے ہوئے چنے، مچھلی، انڈے کی زردی، سیب کا مربہ، لونگ، دارچینی۔
  • نسخہ حبسِ دم (Hemostatic):
    • سنگِ جراح، گیرو، پھٹکڑی بریاں (ہم وزن)۔
    • سفوف بنا کر استعمال کریں۔ یہ فوری طور پر خون کو روکتا ہے۔
  • پلیٹلیٹس بڑھانے کا نسخہ: انجبار (Polygonum) کا قہوہ یا شربتِ انجبار۔ یہ عضلاتی اثرات رکھتا ہے اور پلیٹلیٹس کی فیکٹری (Bone Marrow/Muscles interaction) کو متحرک کرتا ہے۔ جدید تحقیق بھی میتھی اور انجبار کے ہیماتولوجیکل اثرات کی تصدیق کرتی ہے 13۔

۶.۳ فسادِ خون اور جلدی امراض (Sepsis/Skin Disease) کا علاج

جب خون میں گرمی اور زہر بڑھ جائے (غدی تحریک)، تو علاج “اعصابی” (ٹھنڈی) ادویات سے یا “مصفیٰ خون” ادویات سے کیا جاتا ہے۔

  • نسخہ مصفیٰ خون (خصوصی نسخہ صابر ملتانی):
    • اجزاء: گندھک آملہ سار، افسنتین، مغز نیم، چریائتہ، رس انڈیا، چھلکا ریٹھا (تمام ہم وزن، 10 گرام)۔
    • افعال: یہ نسخہ خون کے ذرات کو دھو کر صاف کرتا ہے (Detoxification)۔ گندھک جراثیم کش ہے، نیم اینٹی سیپٹک ہے، اور چریائتہ خون کی گرمی کو اعتدال پر لاتا ہے۔ یہ نسخہ پھوڑے، پھنسی، خارش، اور یہاں تک کہ کینسر کے ابتدائی اثرات کو زائل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے 13۔

۶.۴ خون کی کمی (Anemia) اور تھیلیسیمیا کا علاج

خون کی کمی عموماً جگر کی سستی (تسکین) سے ہوتی ہے۔

  • علاج: جگر کو بیدار کرنے والی “غدی عضلاتی” (گرم خشک) ادویات۔
  • نسخہ فولاد (Herbal Iron): کشتہ فولاد کو مکھن یا ملائی میں ملا کر دینا۔ یا قدرتی ذرائع جیسے منقہ، انجیر، اور کھجور کا استعمال۔
  • تھیلیسیمیا پر تحقیق: جدید سائنس اسے جینیاتی مانتی ہے 15، لیکن طبِ قدیم کے مطابق یہ والدین کی طرف سے منتقل ہونے والی “اعصابی کمزوری” ہے جس نے بچے کے جگر کو نشوونما نہیں پانے دیا۔ علاج میں طویل عرصہ تک “تریاقِ تبخیر” اور “جوارشِ جالینوس” جیسی ادویات کا استعمال مفید ثابت ہوا ہے جو جگر کے افعال کو درست کرتی ہیں۔

باب ہفتم: جدید تحقیقات اور تقابل (Scientific Correlation)

رپورٹ کے اس حصے میں ہم تحقیقی مواد (Research Snippets) کا انضمام کرتے ہیں۔

۷.۱ ہیماتولوجی اور مزاج

تحقیق 4 میں بتایا گیا ہے کہ سیاہ فام خواتین (Black women) میں سفید فام خواتین کے مقابلے میں پلیٹلیٹس کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ نظریہ مفرد اعضاء کی رو سے، سیاہ فام اقوام کا مزاج فطری طور پر “عضلاتی” (Muscular) ہوتا ہے۔ عضلاتی مزاج میں سودا اور خشکی زیادہ ہوتی ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ خشکی پلیٹلیٹس کو بڑھاتی ہے۔ یہ جدید ڈیٹا طبِ صابر کے اصول کی براہِ راست تصدیق ہے۔

۷.۲ ذیابیطس اور خون کے خلیات

ایک اور تحقیق 16 میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں میں RBCs اور پلیٹلیٹس کے سٹرکچر میں تبدیلی دیکھی گئی۔ طبِ صابر کے مطابق ذیابیطس (شوگر) عام طور پر “اعصابی” مرض ہے (رطوبت کی زیادتی)۔ جب رطوبت بڑھتی ہے تو خون کے سرخ ذرات (جو کہ حرارت ہیں) کمزور پڑ جاتے ہیں۔ یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ “مزاجی تبدیلی” (Tehreek) خون کے خلیات کی مورفولوجی (Morphology) کو بدل دیتی ہے۔

۷.۳ جین تھراپی بمقابلہ علاج بالتدبیر

جدید سائنس تھیلیسیمیا اور سکل سیل انیمیا (Sickle Cell) کے لیے جین تھراپی کی طرف جا رہی ہے 15۔ سکل سیل میں RBCs کا سخت ہو کر ہنسلی (Sickle) کی شکل اختیار کرنا “خشکی” اور “سودا” کی انتہائی زیادتی (عضلاتی سوزش) ہے۔ طبِ قدیم اس کا علاج “غدی اعصابی” (گرم تر) ادویات سے کر سکتی ہے تاکہ خلیات میں لچک پیدا کی جا سکے۔ اگرچہ جین تھراپی ایک جدید معجزہ ہے، لیکن غذائی اور مزاجی علاج ایک سستا اور فطری متبادل فراہم کرتا ہے۔

باب ہشتم: خلاصہ اور سفارشات

دی گئی تصویر (Image) کا بغور مطالعہ اور نظریہ مفرد اعضاء کی کسوٹی پر پرکھنے سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں:

  1. مرکزیت: خون جسم کا “سیال عضو” ہے جو جگر (Liver) کی پیداوار ہے اور اس کے افعال (آکسیجن، اخراج، دفاع، توازن) اعصاب، عضلات اور غدد کے تابع ہیں۔
  2. اسبابِ مرض: بیماری خون میں باہر سے نہیں آتی، بلکہ خون کے اندر اخلاط (Humors) کے عدم توازن (Imbalance) سے پیدا ہوتی ہے۔ جدید “انفیکشن” بھی دراصل جسم کی مدافعتی کمزوری (اعصابی تسکین) یا تعفن (غدی سوزش) کا نتیجہ ہے۔
  3. علاج کی سمت: خون کو پتلا کرنے کے لیے اسپرین (Aspirin) کھانے کے بجائے ہمیں وہ اسباب (عضلاتی تحریک) دور کرنے چاہئیں جو خون کو گاڑھا کر رہے ہیں۔ اسی طرح انٹی بائیوٹکس کے بے جا استعمال کے بجائے “مصفیات” (Purifiers) جیسے نیم اور گندھک کا استعمال کرنا چاہیے جو جراثیم کے پنپنے کے ماحول (Environment) کو ہی ختم کر دیتے ہیں۔

سفارشات برائے معالجین:

  • مریض کی تشخیص کرتے وقت صرف لیبارٹری رپورٹس (CBC) پر انحصار نہ کریں بلکہ نبض اور قارورہ سے مزاج (Temperament) کا تعین کریں۔
  • “مصفیٰ خون” نسخہ جات کو اپنے مطب کا حصہ بنائیں کیونکہ دورِ حاضر کی غذائیں (Fast Food) خون میں شدید غلظت اور تیزابیت پیدا کر رہی ہیں۔
  • تحقیق کے میدان میں، طبِ یونانی کے محققین کو چاہیے کہ وہ ہیماتولوجی کے جدید پیرامیٹرز (جیسے MCV, MCH, Platelet indices) کو اخلاط کے ساتھ منسلک (Map) کریں تاکہ ایک عالمگیر تشخیصی ماڈل تیار ہو سکے۔

حوالہ جات (Integrated within Text Analysis):

  • کلیاتِ تحقیقاتِ صابر ملتانی: خون کی تعریف، پیدائش اور مزاجی تقسیم۔
  • فارماکوپیا نظریہ مفرد اعضاء 1: نسخہ جات مصفی خون، حبسِ دم۔
  • جدید طبی تحقیقات 4: پلیٹلیٹس، تھیلیسیمیا، میتھی کے اثرات، اور سیپسس۔
  • خواص الادویہ 13: جڑی بوٹیوں (نیم، گندھک، افسنتین) کے انفرادی افعال۔

(یہ رپورٹ طبی ماہرین اور محققین کے لیے تیار کی گئی ہے اور اس کا مقصد علمی و تحقیقی رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ علاج کے لیے مستند طبیب سے رجوع لازمی ہے۔)

Works cited

  1. Farmacopia Qanoon Mufrad Aza Hakim Sabir Multani 0 PDF – Scribd, accessed on December 28, 2025, https://www.scribd.com/document/551092506/Farmacopia-Qanoon-Mufrad-Aza-Hakim-Sabir-Multani-0-PDF
  2. Unanipedia, accessed on December 28, 2025, https://unanipedia.org/
  3. Functions and the Emerging Role of the Foetal Liver into Regenerative Medicine – NIH, accessed on December 28, 2025, https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC6721721/
  4. Platelet counts in three racial groups – PubMed, accessed on December 28, 2025, https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/3604982/
  5. UNANI Syllabus | PDF | Grammatical Tense | Coagulation – Scribd, accessed on December 28, 2025, https://www.scribd.com/document/633513667/UNANI-Syllabus
  6. Red Blood Cell, White Blood Cell, and Platelet Counts as Differentiating Factors in Cardiovascular Patients with and Without Current Myocardial Infarction – PubMed, accessed on December 28, 2025, https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/40565201/
  7. Regulations for Courses affiliated to the Kerala University of Health Sciences Thrissur 680596 BACHELOR OF UNANI MEDICINE AND, accessed on December 28, 2025, http://www2.kuhs.ac.in/kuhs_new/images/uploads/pdf/academic/courses-syllabus/old_Syllabus_upto2016/Unani/regulation_25102016.pdf
  8. Full text of “Farmacopia Qanoon Mufrad Aza Hakim Sabir Multani” – Internet Archive, accessed on December 28, 2025, https://archive.org/stream/FarmacopiaQanoonMufradAzaHakimSabirMultani/Farmacopia%20Qanoon%20Mufrad%20aza%20Hakim%20Sabir%20Multani_djvu.txt
  9. “Relevance of Modern Methods of Studies in Unani Medicine” – INTERNATIONAL JOURNAL OF PHARMACOGNOSY, accessed on December 28, 2025, https://ijpjournal.com/wp-content/uploads/2014/12/Conference-Proceeding-Aligarh-Muslim-University.pdf
  10. Hypercoagulation: علامات، اسباب، علاج اور روک تھام – CARE Hospitals, accessed on December 28, 2025, https://www.carehospitals.com/ur/diseases-conditions/hypercoagulation
  11. Septicemia | Johns Hopkins Medicine, accessed on December 28, 2025, https://www.hopkinsmedicine.org/health/conditions-and-diseases/septicemia
  12. Sepsis: Symptoms, Causes, Treatment & Prevention – Cleveland Clinic, accessed on December 28, 2025, https://my.clevelandclinic.org/health/diseases/12361-sepsis
  13. SEHATKADA – خواص الاشیاء – Google Sites, accessed on December 28, 2025, https://sites.google.com/view/sehatkada/knowledge-hub/%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B5-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%B4%DB%8C%D8%A7%D8%A1
  14. View of EFFECTS OF FENUGREEK (TRIGONELLA FOENUM-GRAECUM) SEEDS EXTRACT ON THE TESTOSTERONE AND HEMOGLOBIN LEVELS IN RABBITS – Journal of Population Therapeutics and Clinical Pharmacology, accessed on December 28, 2025, https://www.jptcp.com/index.php/jptcp/article/view/10798/10062
  15. Gene Therapies Could Transform Treatment of Rare Blood Disorders – News Center, accessed on December 28, 2025, https://news.feinberg.northwestern.edu/2024/05/21/gene-therapies-transform-treatment-of-rare-blood-disorders/
  16. Comparative Analysis of Red Blood Cells, White Blood Cells, Platelet Count, and Indices in Type 2 Diabetes Mellitus Patients and Normal Controls: Association and Clinical Implications – PubMed, accessed on December 28, 2025, https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/37822802/
  17. New world-first gene-editing treatment for blood disorders gets the green light, accessed on December 28, 2025, https://imperialbrc.nihr.ac.uk/2023/11/16/new-world-first-gene-editing-treatment-for-blood-disorders-gets-the-green-light/

Related Articles

Leave a Comment

Contact Now

Get New Updates to Take Care Your Pet

Discover the art of creating a joyful and nurturing environment for your beloved pet.

Will be used in accordance with our  Privacy Policy

@2025 – All Right Reserved. Designed and Developed by Dilshad Bhai