Wednesday, February 11, 2026
Home Blog جگر کا سکڑاؤ (Liver Cirrhosis)

جگر کا سکڑاؤ (Liver Cirrhosis)

by admin
جگر کا سکڑاؤ (Liver Cirrhosis)
جگر کا سکڑاؤ (Liver Cirrhosis)
جگر کا سکڑاؤ (Liver Cirrhosis)

جگر کا سکڑاؤ (Liver Cirrhosis): اسباب، علامات اور علاج – قانون مفرد اعضاء اور جدید طبی تحقیقات کا تقابلی جائزہ

تمہید اور ایگزیکٹو خلاصہ

یہ جامع تحقیقی رپورٹ جگر کے سکڑاؤ، جسے طبی اصطلاح میں “سیروسس آف دی لیور” (Liver Cirrhosis) اور اردو میں عام طور پر “جگر کا سکڑنا” کہا جاتا ہے، کا ایک مفصل اور گہرا جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد صرف بیماری کی ظاہری علامات کو بیان کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کے پس پردہ کارفرما پیچیدہ میکانزم، اسباب اور علاج کی حکمت عملیوں کو زیرِ بحث لانا ہے۔ خاص طور پر، یہ رپورٹ جدید طبی سائنس (Western Medicine) کی تحقیقات اور حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی کے مرتب کردہ “قانون مفرد اعضاء” (Qanoon Mufrad Aza) کے اصولوں کے درمیان ایک علمی پل کا کردار ادا کرے گی۔

جدید ہیپاٹولوجی (Hepatology) جگر کے سکڑاؤ کو ایک ناقابلِ واپسی عمل قرار دیتی ہے جو دائمی سوزش اور فائروسس (Fibrosis) کا نتیجہ ہوتا ہے 1۔ اس کے برعکس، قانون مفرد اعضاء اس بیماری کو اعضاء کے مزاج اور افعال میں بگاڑ، خاص طور پر خشکی (Dryness) اور تیزابیت (Acidity) کے غلبے کا نتیجہ قرار دیتا ہے، جس کا علاج ممکن ہے۔ یہ رپورٹ ان دونوں نقطہ نظر کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے تشخیص، اسباب، اور علاج کے لیے ایک مکمل روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔ ہم اس بات کا گہرائی سے تجزیہ کریں گے کہ کس طرح عضلاتی تحریک (Muscular Stimulation) جگر کے غدی نظام (Glandular System) کو دباؤ میں لا کر اس کے حجم کو سکیڑ دیتی ہے اور اس کا علاج کس طرح “تخلیقِ حرارت و رطوبت” کے ذریعے ممکن ہے۔

1 جگر کے سکڑاؤ (Liver Cirrhosis) کا تعارف اور نوعیت

1۔1 مرض کی تعریف اور جدید تصور

جگر کا سکڑاؤ یا سیروسس (Cirrhosis) جگر کی بیماری کا وہ آخری مرحلہ ہے جس میں جگر کے صحت مند ٹشوز (Healthy Tissues) آہستہ آہستہ داغدار ٹشوز (Scar Tissue) میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس عمل کو فائروسس (Fibrosis) کہا جاتا ہے 2۔ جب جگر کو مسلسل نقصان پہنچتا ہے—چاہئے وہ الکحل کے استعمال سے ہو، وائرس (ہیپاٹائٹس بی یا سی) کی وجہ سے ہو، یا چربی جمع ہونے (Fatty Liver) سے—تو جگر اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس عمل کے دوران داغ بنتے ہیں۔ جیسے جیسے یہ داغ بڑھتے ہیں، جگر سخت ہو جاتا ہے اور اس کے کام کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوتی ہے 3۔

طبی لحاظ سے، سیروسس کی تعریف جگر کی ساخت میں بگاڑ اور “ری جنریٹو نوڈولز” (Regenerative Nodules) کے بننے سے کی جاتی ہے۔ یہ نوڈولز جگر کے خلیات کے وہ گچھے ہوتے ہیں جو تباہ شدہ ٹشو کے درمیان دوبارہ اگنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے جگر کی سطح کھردری اور ابھری ہوئی نظر آتی ہے 3۔

1۔2 قانون مفرد اعضاء کا نظریاتی پس منظر

قانون مفرد اعضاء (Qanoon Mufrad Aza) کے بانی حکیم صابر ملتانی کے نزدیک انسانی جسم تین بنیادی ٹشوز یا اعضاء پر مشتمل ہے:

اعصاب (Nerves): جن کا تعلق دماغ سے ہے اور ان کا مزاج سرد-تر (Cold-Moist) ہے۔

عضلات (Muscles): جن کا تعلق دل سے ہے اور ان کا مزاج خشک-گرم (Dry-Hot) ہے۔

غدد (Glands): جن کا تعلق جگر سے ہے اور ان کا مزاج گرم-تر (Hot-Moist) ہے۔

صحت ان تینوں نظاموں کے درمیان توازن کا نام ہے۔ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ان میں سے کسی ایک نظام میں غیر فطری تحریک (Stimulation) پیدا ہو جائے، جس سے باقی دو نظاموں میں تسکین (Sedation) یا تحلیل (Relaxation/Dissolution) واقع ہو جاتی ہے۔

جگر کے سکڑاؤ کا مقام

قانون مفرد اعضاء کے مطابق، جگر “غدد” کا مرکز ہے۔ اس کا طبعی مزاج “گرم-تر” ہے۔ گرمی (Heat) زندگی کی علامت ہے اور رطوبت (Moisture) اس کی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ “سکڑنا” یا “انقباض” ہمیشہ خشکی (Dryness) کی صفت ہے۔ کوئی بھی چیز جب خشک ہوتی ہے تو وہ سکڑ جاتی ہے (جیسے دھوپ میں رکھا ہوا پھل)۔ لہٰذا، جگر کا سکڑاؤ بنیادی طور پر جسم میں خشکی اور تیزابیت (Dryness and Acidity) کے غلبے کا نتیجہ ہے۔

جب جسم میں “عضلاتی تحریک” (Muscular Stimulation) بڑھ جاتی ہے، تو خون میں خشکی اور تیزابی مادے (سوداوی مادے) بڑھ جاتے ہیں۔ یہ خشکی جگر کے غدی ٹشوز کو دبا دیتی ہے، جس سے جگر کے خلیات کو خوراک (خون) کی سپلائی کم ہو جاتی ہے اور وہ سخت ہو کر سکڑنے لگتے ہیں۔ اسے طب کی زبان میں “تہجر” (Induration) بھی کہا جاتا ہے 4۔

2۔ اناٹومی اور فزیالوجی: جدید اور قدیم کا تقابل

2۔1 جگر کا مائیکرو اسٹرکچر اور سیروسس کا عمل

جدید تحقیق کے مطابق، جگر لاکھوں چھوٹے یونٹس پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں “لوبولز” (Lobules) کہتے ہیں۔ ان کے درمیان خون کی نالیاں اور بائل ڈکٹس (Bile Ducts) ہوتی ہیں۔

ہیپاٹک سٹیلیٹ سیلز (Hepatic Stellate Cells – HSCs): یہ جگر کے سکڑاؤ میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ صحت مند جگر میں، یہ خلیات وٹامن اے ذخیرہ کرتے ہیں۔ لیکن جب جگر کو نقصان پہنچتا ہے (مثلاً وائرس یا زہر سے)، تو یہ خلیات اپنی شکل بدل کر “مایو فائبرو بلاسٹس” (Myofibroblasts) بن جاتے ہیں۔ یہ خلیات بڑی مقدار میں کولاجن (Collagen) پیدا کرتے ہیں، جو ایک سخت ریشے دار مادہ ہے۔ یہی کولاجن جگر کو سخت اور داغدار بنا دیتا ہے، جس سے خون کا بہاؤ رک جاتا ہے 3۔

2۔2 قانون مفرد اعضاء کے تحت جگر کا فعل

قانون مفرد اعضاء میں جگر کو جسم کا “باورچی خانہ” اور “حرارتِ غریزیہ” (Vital Heat) کا منبع مانا جاتا ہے۔

خلیات کی غذائیت: جگر صالح خون (Healthy Blood) پیدا کرتا ہے جو جسم کے تمام اعضاء کو غذائیت فراہم کرتا ہے۔

صفرا (Bile) کی پیدائش: جگر کا کام صفرا پیدا کرنا ہے جو نہ صرف ہاضمے میں مدد دیتا ہے بلکہ خون کو پتلا رکھتا ہے تاکہ وہ شریانوں میں آسانی سے گردش کر سکے۔

بگاڑ کا عمل

جب عضلاتی (Muscular) نظام میں تیزی آتی ہے، تو جسم میں “خشک سرد” یا “خشک گرم” کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ خشکی جگر کے خلیات کے گرد ایک دباؤ پیدا کرتی ہے۔ جدید طب جسے “کولاجن” کہتی ہے، قانون مفرد اعضاء اسے “غلیظ سوداوی مادوں کا اجتماع” قرار دیتا ہے۔ چونکہ جسم میں حرارت (Heat) کی کمی ہو جاتی ہے، یہ مادے پگھلنے کے بجائے جم کر سخت ہو جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے موم ٹھنڈا ہونے پر سخت ہو جاتا ہے۔

3۔اسبابِ مرض (Etiology): جگر کیوں سکڑتا ہے؟

اسباب کا تعین علاج کا سب سے اہم حصہ ہے۔ ذیل میں جدید اسباب اور ان کی قانون مفرد اعضاء کے تحت تشریح پیش کی گئی ہے۔

3۔1 دائمی شراب نوشی (Chronic Alcoholism)

جدید تحقیق: شراب نوشی سیروسس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ الکحل جگر میں جا کر “ایسیٹلڈیہائیڈ” (Acetaldehyde) میں تبدیل ہوتا ہے، جو جگر کے خلیات کے لیے زہر ہے۔ یہ سوزش (Inflammation) اور خلیات کی موت (Necrosis) کا باعث بنتا ہے 2۔

قانون مفرد اعضاء کی تشریح: شراب کا مزاج شدید گرم اور خشک (یا بعض صورتوں میں خشک گرم) ہوتا ہے۔ اگرچہ پینے میں یہ گرم لگتی ہے، لیکن اس کا طویل مدتی اثر خشکی اور تیزابیت ہے۔ شراب جسم کی قدرتی رطوبتوں (Fluids) کو جلا دیتی ہے۔ جب جگر کی رطوبت جل جاتی ہے، تو وہ سکڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ “عضلاتی غدی” تحریک کی انتہا ہے جہاں حرارتِ غریزیہ تحلیل ہو کر ختم ہو جاتی ہے۔

3۔2 وائرل ہیپاٹائٹس (Hepatitis B & C)

جدید تحقیق: یہ وائرس جگر میں دائمی انفیکشن پیدا کرتے ہیں۔ جسم کا مدافعتی نظام وائرس کو مارنے کے لیے جگر کے خلیات پر حملہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں سالہا سال کی سوزش کے بعد سیروسس ہو جاتا ہے 1۔

قانون مفرد اعضاء کی تشریح: وائرس کو حکیم صابر ملتانی “بیرونی زہر” (Toxins) یا “تعفن” سے تعبیر کرتے ہیں۔ جب یہ زہر جسم میں داخل ہوتا ہے، تو جسم اس کے خلاف ایک جنگ شروع کرتا ہے جس سے غیر طبعی حرارت یا بخار پیدا ہوتا ہے۔ یہ حالت “غدی عضلاتی” (Hot-Dry) سوزش سے شروع ہو کر، مناسب علاج نہ ہونے پر، “عضلاتی” (Dryness) کیفیت میں بدل جاتی ہے۔ وائرس کا مسلسل حملہ جگر کے خلیات کو جلا کر راکھ (Scarring) کر دیتا ہے۔ اسے طب میں “احتراقِ اخلاط” (Combustion of Humors) کہتے ہیں۔

3۔3 فیٹی لیور (NAFLD / NASH)

جدید تحقیق: موٹاپا اور ذیابیطس کی وجہ سے جگر میں چربی جمع ہو جاتی ہے۔ یہ چربی سوزش کا باعث بنتی ہے جسے NASH کہتے ہیں، جو بالاخر سیروسس میں بدل جاتی ہے 2۔

قانون مفرد اعضاء کی تشریح: چربی کا جمنا “سردی” (Coldness) کی علامت ہے۔ یہ ابتداء میں “اعصابی تحریک” (Nervous Stimulation) ہوتی ہے، جہاں جگر سست ہو جاتا ہے اور چربی (جو کہ بلغم ہے) کو پگھلا نہیں پاتا۔ جب یہ چربی بہت زیادہ جم جاتی ہے تو جگر کا راستہ رک جاتا ہے (سدہ)۔ فطرت اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ردعمل کے طور پر “خشکی” پیدا کرتی ہے تاکہ اسے توڑ سکے۔ اگر یہ خشکی حد سے بڑھ جائے تو جگر سخت ہو جاتا ہے۔ یعنی سفر سردی (Fatty) سے شروع ہو کر خشکی (Cirrhosis) پر ختم ہوتا ہے۔

3۔4 دیگر اسباب (Autoimmune, Metabolic, Drugs)

ولسن ڈیزیز اور ہیموکرومیٹوسز: تانبے یا لوہے کا جمع ہونا 2۔ قانون مفرد اعضاء میں یہ “ارضی” (Earthy) اور خشک عناصر ہیں جو جگر کی لطیف مزاجی کے خلاف ہیں۔

ادویات کا ردعمل: بعض انگریزی ادویات (جیسے میتھوٹریکسیٹ) جگر کے لیے زہریلی ہوتی ہیں۔ یہ ادویات اکثر مزاج میں خشک ہوتی ہیں اور جگر کی رطوبت کو جذب کر لیتی ہیں۔

خلاصہ اسباب۔

تمام اسباب کا نچوڑ یہ ہے کہ جگر کا سکڑاؤ خشکی (Dryness)، تیزابیت (Acidity) اور سدوں (Blockages) کا نتیجہ ہے۔ چاہے وجہ وائرس ہو یا شراب، آخری نتیجہ جگر کے ٹشوز کا سخت اور خشک ہونا ہے۔

۔ پیتھوفیزیالوجی (Pathophysiology): مرض بڑھنے کا میکانزم

اس حصے میں ہم دیکھیں گے کہ مرض اندرونی طور پر کیسے ترقی کرتا ہے۔

4۔1 عضلاتی دباؤ اور دورانِ خون کی رکاوٹ

قانون مفرد اعضاء کے مطابق، جب عضلات (Muscles) میں کھچاؤ (Spasm) یا تحریک پیدا ہوتی ہے، تو خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں۔ جگر، جو کہ خون کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے، اس سکڑاؤ سے شدید متاثر ہوتا ہے۔

پورٹل ہائپرٹینشن (Portal Hypertension): جدید طب اسے جگر میں داغوں کی وجہ سے خون کے بہاؤ میں رکاوٹ کہتی ہے 5۔ قانون مفرد اعضاء کے مطابق، یہ شریانوں کی دیواروں میں خشکی کی وجہ سے تنگی (Vasoconstriction) ہے۔ جب جگر سکڑتا ہے تو خون اس میں سے گزر نہیں پاتا، جس کی وجہ سے پچھلی نالیوں (Portal Vein) میں پریشر بڑھ جاتا ہے۔

4۔2 رطوبت کی کمی اور ٹشوز کی موت

جگر کی زندگی “حرارت اور رطوبت” میں ہے۔ جب عضلاتی تحریک کی وجہ سے جسم میں خشکی بڑھتی ہے (جیسے خشک موسم میں زمین پھٹ جاتی ہے)، تو جگر کے خلیات پانی کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تہجر (Induration): یہ وہ مرحلہ ہے جب جگر پتھر کی طرح سخت ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے پر جگر صفرا پیدا کرنا بند کر دیتا ہے یا بہت کم کر دیتا ہے، جس سے خون گاڑھا (Viscous) ہو جاتا ہے۔

4۔3 جدول: جدید اور قدیم نظریات کا موازنہ

خاصیتجدید طبی نظریہ (Western View)قانون مفرد اعضاء کا نظریہ (QMA View)
بنیادی وجہہیپاٹوسائٹس (Hepatocytes) کی تباہی اور سوزشعضلاتی تحریک (Uzlati Tehreek) اور خشکی کا غلبہ
ٹشو کی تبدیلیکولاجن کا جمنا اور فائروسس (Fibrosis)سوداوی مادوں کا جمنا اور تہجر (Hardening)
خون کا بہاؤپورٹل ہائپرٹینشن (Portal Hypertension)شریانوں کا انقباض (Constriction) اور سدہ
نتائججگر کا فیل ہونا (Liver Failure)غدی نظام کی تسکین اور حرارت کی موت

5۔علامات (Symptomatology): مرض کی پہچان

جگر کے سکڑاؤ کی علامات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ابتدائی اور انتہائی۔ قانون مفرد اعضاء ان علامات کو محض بیماری کے اثرات نہیں بلکہ مزاج کی تبدیلی کے اشارے سمجھتا ہے۔

5۔1 ابتدائی علامات (Compensated Cirrhosis)

اس مرحلے میں جگر کام کر رہا ہوتا ہے لیکن دباؤ میں ہوتا ہے۔

تھکاوٹ اور کمزوری (Fatigue): 1۔ چونکہ جگر حرارت (انرجی) پیدا کرنے کا مرکز ہے، اس کے فعل میں کمی سے جسم ٹھنڈا اور کمزور محسوس ہوتا ہے۔

بھوک کی کمی اور متلی: معدہ اور آنتیں (جو عضلاتی نظام کا حصہ ہیں) خشکی اور تیزابیت کی وجہ سے متاثر ہوتی ہیں۔ مریض کو گوشت یا روغنی غذاؤں سے نفرت ہو سکتی ہے۔

وزن میں کمی: جسم اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے ہی ٹشوز کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔

5۔2 آخری مرحلے کی علامات (Decompensated Cirrhosis)

۔5۔2۔1۔ یرقان (Jaundice / Yaraqan)

علامت: آنکھوں اور جلد کا پیلا ہونا۔

وجہ (جدید): بلیروبین (Bilirubin) کا اخراج نہ ہونا 7۔

وجہ (QMA): یہ جگر کی نالیوں میں سدہ (Blockage) کی علامت ہے۔ صفرا پیدا ہو رہا ہے لیکن راستے بند ہونے کی وجہ سے خون میں شامل ہو رہا ہے۔ اگر رنگ زردی مائل ہے تو یہ “صفراوی” ہے، لیکن اگر سیاہی مائل یا گہرا سبزی مائل ہے، تو یہ “احتراق” (Burning) اور شدید خشکی کی علامت ہے۔

۔5۔2۔2 استسقاء (Ascites – پیٹ میں پانی بھرنا)

علامت: پیٹ کا پھول جانا اور پانی بھر جانا۔

وجہ (جدید): البومن (Albumin) کی کمی اور پورٹل وین میں ہائی پریشر 8۔

وجہ (QMA): یہ ایک پیچیدہ اور خطرناک علامت ہے۔ بظاہر جگر “خشک” ہے لیکن پیٹ میں “پانی” ہے۔

میکانزم: جگر کی سختی کی وجہ سے خون اور سیال مادے جگر سے گزر کر دل کی طرف نہیں جا پاتے۔ یہ سیال مادے چھن کر پیٹ کے خالی حصے (Peritoneal Cavity) میں گر جاتے ہیں۔

مزاجی تجزیہ: چونکہ جگر میں “حرارت” (Heat) ختم ہو چکی ہے جو پانی کو بخارات بنا کر اڑا سکے یا جذب کر سکے، اس لیے پانی جم کر رہ جاتا ہے۔ یہ “حرارت کی کمی اور خشکی کی زیادتی” کا بدترین مظہر ہے۔

۔۔5۔2۔3۔ خون کا بہنا (Bleeding / Coagulopathy)

علامت: ناک سے خون، یا قے میں خون (Variceal Bleeding)۔

وجہ: جگر کا خون جمنے والے پروٹین (Clotting Factors) نہ بنانا اور وریدوں کا پھٹ جانا 1۔

۔QMA:خون میں “تیزابیت” (Acidity) اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ نالیوں کو اندر سے کاٹ دیتی ہے (Corrosion)۔ دوسرا، خون کی رگیں خشکی سے تنی ہوئی ہوتی ہیں، ذرا سا دباؤ انہیں پھاڑ دیتا ہے۔

۔۔5۔2۔4 غشی اور بے ہوشی (Hepatic Encephalopathy)

علامت: ذہنی الجھاؤ، یادداشت کی کمی، بے ہوشی۔

وجہ (جدید): امونیا (Ammonia) کا دماغ تک پہنچنا 8۔

وجہ (QMA): زہریلے بخارات (Toxic Vapors) کا دماغ (اعصاب) کی طرف چڑھنا۔ چونکہ دماغ کا مزاج “تر” ہے اور یہ بخارات “خشک اور زہریلے” ہیں، یہ دماغی افعال کو معطل کر دیتے ہیں۔

۔6۔۔ تشخیص (Diagnosis): جدید اور قدیم طریقے

۔6۔1 جدید تشخیصی ٹیسٹ

مریض کی حالت کا درست اندازہ لگانے کے لیے درج ذیل ٹیسٹ ضروری ہیں:

۔Liver Function Tests (LFTs): ALT اور AST کا بڑھنا جگر کی سوزش ظاہر کرتا ہے۔ Albumin کی کمی جگر کے کمزور فعل کی نشاندہی کرتی ہے 10۔

Ultrasound & Elastography: یہ ٹیسٹ جگر کی سختی (Stiffness) اور ساخت کو دکھاتے ہیں۔ فائبروسکین (Fibroscan) سے پتہ چلتا ہے کہ جگر کتنا سخت ہو چکا ہے 5۔

Endoscopy: اگر خون کی قے ہو رہی ہو تو غذائی نالی کی وریدوں (Varices) کو دیکھنے کے لیے۔

6۔2 قانون مفرد اعضاء کے تشخیصی ذرائع (نبض و قارورہ)

ایک ماہر حکیم لیبارٹری ٹیسٹوں کے علاوہ نبض اور پیشاب سے بھی حتمی تشخیص کرتا ہے۔

6۔2۔1 نبض کی پہچان (Pulse Diagnosis)

جگر کے سکڑاؤ کے مریض کی نبض عموماً “عضلاتی” (Muscular) ہوتی ہے۔

مشرف (Hard/Tense): نبض انگلیوں کے نیچے ایک تنی ہوئی رسی یا تار کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ یہ جسم میں شدید خشکی اور کھچاؤ (Tension) کی نشانی ہے۔

سرعت (Rapid): نبض کی رفتار تیز ہو سکتی ہے جو جسم کی اندرونی بے چینی اور تیزابیت کو ظاہر کرتی ہے۔

نوٹ: اگر مریض کو استسقاء (Ascites) ہو چکا ہو، تو نبض ڈوب سکتی ہے اور بظاہر اعصابی (Nervous) لگ سکتی ہے، لیکن گہرائی میں خشکی موجود ہوتی ہے۔

6۔2۔2 قارورہ (Urine Analysis)

رنگ: پیشاب کا رنگ سرسوں کے تیل جیسا گہرا زرد (Mustard) یا لالی مائل (Reddish) ہوتا ہے۔ اگر مرض بہت بگڑ چکا ہو تو یہ “گوشت کے دھوون” (Meat washings) جیسا سیاہی مائل ہو سکتا ہے۔

مقدار: پیشاب کم مقدار میں آتا ہے (Scanty) کیونکہ گردوں پر دباؤ ہوتا ہے اور پانی پیٹ میں جمع ہو رہا ہوتا ہے 6۔

تشریح: لالی اور زردی حرارت اور خشکی کے غلبے کی دلیل ہے۔

7۔ اصولِ علاج (Treatment Protocols)

قانون مفرد اعضاء میں علاج کا بنیادی اصول “علاج بالضد” (Treatment by Opposite) ہے۔

چونکہ ہم نے تشخیص کیا کہ جگر کا سکڑاؤ خشکی (Dryness)، سردی (بعض صورتوں میں) اور عضلاتی تحریک کا نتیجہ ہے، لہٰذا علاج کا مقصد حرارت (Heat) اور رطوبت (Moisture) پیدا کرنا ہے۔

تھراپی کا ہدف: جگر کے سخت ٹشوز کو نرم کرنا (تحلیل) اور سکڑاؤ کو ختم کر کے پھیلاؤ پیدا کرنا۔

اس کے لیے “غدی اعصابی” (Glandular-Nervous) ادویات اور اغذیہ کا استعمال کیا جاتا ہے جو “گرم تر” (Hot-Moist) تاثیر رکھتی ہیں۔

7۔1 ادویاتی علاج (Pharmacotherapy) – جڑی بوٹیاں

ذیل میں وہ مفرد ادویات بیان کی گئی ہیں جو جگر کے سدے کھولنے اور سکڑاؤ کو دور کرنے میں اکسیر کا درجہ رکھتی ہیں:

ہلدی (Turmeric):

یہ قدرت کا بہترین اینٹی بائیوٹک اور اینٹی انفلیمیٹری ہے۔ یہ جگر کے لیے “محرک” (Stimulant) ہے اور مردہ خلیات کو دوبارہ زندہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کا مزاج گرم ہے۔

کاسنی (Chicory):

جگر کی سوزش اور سدوں کے لیے مشہور ترین دوا۔ یہ پیشاب آور (Diuretic) ہے اور پیٹ سے پانی نکالنے میں مدد دیتی ہے۔ 11 میں لیکسیٹوز کا ذکر ہے، کاسنی قدرتی طور پر فضلات کو خارج کرتی ہے۔

ریوند چینی (Rhubarb Root):

یہ دوا جگر کے سخت ترین سدوں کو گھولنے (Dissolve) کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ جلاب آور بھی ہے اور جگر کی صفائی کرتی ہے۔

اونٹ کٹارہ (Milk Thistle / Echinops):

جدید تحقیق 4 بھی اسے جگر کے لیے بہترین مانتی ہے۔ یہ جگر کے خلیات کی حفاظت کرتا ہے اور فائروسس کو کم کرتا ہے۔ قانون مفرد اعضاء میں یہ جگر میں حرارتِ غریزیہ پیدا کرتا ہے۔

سنڈھ (Dry Ginger):

یہ معدے اور جگر کی اصلاح کرتی ہے اور رطوبت پیدا کر کے خشکی کو ختم کرتی ہے۔

مجرب نسخہ (اصول کے مطابق):

ماہر طبیب عام طور پر ہلدی، سونف، اور ملٹھی کا مرکب استعمال کرواتے ہیں تاکہ جگر میں نرمی پیدا ہو اور سوزش ختم ہو۔ (خود علاج سے گریز کریں، یہ صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہے)۔

7۔2 غذائی علاج (Dietary Therapy) – پرہیز اور انتخاب

قانون مفرد اعضاء میں غذا ہی اصل دوا ہے۔ غلط غذا سے پرہیز کیے بغیر جگر کا ٹھیک ہونا ناممکن ہے۔

7۔2۔1 ممنوعہ غذائیں (Foods to Avoid)

وہ غذائیں جو خشکی (Dryness) اور تیزابیت (Acidity) پیدا کرتی ہیں، انہیں فوراً بند کر دیں:

گوشت: بڑا گوشت (Beef)، مچھلی (Fish)، فارمی مرغی۔

سبزیاں: آلو، گوبھی، بینگن، مٹر، چنے کی دال، مسور کی دال۔ (یہ سب “بادی” اور خشک ہیں)۔

پھل: ترش پھل (کچے انگور، فالسہ، ترش مالٹا)۔

دیگر: چائے، کافی، کولا مشروبات، شراب (مکمل حرام اور زہر)، بیکری کی مصنوعات۔

7۔2۔2 تجویز کردہ غذائیں (Recommended Foods)

وہ غذائیں جو “غدی اعصابی” (گرم تر) ہیں اور جگر کو نرم کرتی ہیں:

سبزیاں: کدو (لوکی)، ٹینڈے، شلجم (سفید اور زرد)، حلوہ کدو، توری، مونگرے۔

پکانے کا طریقہ: ان سبزیوں کو دیسی گھی یا زیتون کے تیل میں پکائیں اور اس میں کالی مرچ، ادرک، اور ہلدی کا وافر استعمال کریں۔

گوشت: بکرے کا گوشت (شوربے والا)۔ شوربہ (Yakhni) انتڑیوں اور جگر کے لیے بہترین موئسچرائزر ہے۔

پھل: خربوزہ (Melon) اور تربوز (Watermelon) – یہ قدرت کا بہترین “ڈائلیسز” ہیں جو پیشاب کے ذریعے گندے مواد کو نکالتے ہیں۔ پپیتا (Papaya)، میٹھے انگور، ناشپاتی۔

مشروبات: سونف اور الائچی کا قہوہ۔ ادرک اور شہد کا قہوہ۔ بکری کا دودھ۔

7۔3 پیچیدگیوں کا انتظام (Management of Complications)

استسقاء (Ascites) کا علاج:

مریض کو پانی کا استعمال کم کر دیں۔ پیاس لگنے پر صرف “لونگ اور دار چینی” کا اُبلا ہوا پانی گھونٹ گھونٹ دیں۔

پیشاب آور ادویات (جیسے کاسنی، سونف) کا استعمال بڑھا دیں تاکہ پیٹ کا پانی گردوں کے راستے خارج ہو۔ جدید ادویات (Diuretics) بھی یہی کام کرتی ہیں 11۔

خون کی قے (Hematemesis):

یہ ایمرجنسسی حالت ہے۔ اس وقت گرم ادویات روک کر ٹھنڈی (اعصابی) ادویات دی جاتی ہیں تاکہ خون رکے۔ فوری طور پر ہسپتال سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ Endoscopic Band Ligation 9 کی جا سکے۔

8۔ نتائج اور مستقبل کا منظرنامہ (Prognosis)

8۔1 کیا جگر کا سکڑاؤ قابلِ علاج ہے؟

جدید نقطہ نظر: جدید طب میں سیروسس کو عموماً “لا علاج” سمجھا جاتا ہے اور آخری حل لیور ٹرانسپلانٹ (Liver Transplant) بتایا جاتا ہے 2۔ تاہم، حالیہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ اگر سبب (جیسے ہیپاٹائٹس سی) کو ختم کر دیا جائے تو جگر کچھ حد تک بہتر ہو سکتا ہے 3۔

قانون مفرد اعضاء کا نقطہ نظر: حکیم صابر ملتانی کا فرمان ہے کہ “جہاں زندگی ہے، وہاں امید ہے۔” اگر جگر مکمل طور پر مردہ نہیں ہوا (Total Necrosis)، تو درست علاج سے اس کے فعال خلیات کو دوبارہ متحرک کیا جا سکتا ہے۔ خشکی کو ختم کر کے اور رطوبت پہنچا کر “تہجر” کو توڑا جا سکتا ہے۔ ابتدائی اور درمیانی مراحل (Compensated) میں مکمل شفا یابی کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ آخری مراحل (Decompensated) میں مریض کی معیارِ زندگی (Quality of Life) کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور ٹرانسپلانٹ کی ضرورت کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔

8۔2 لیور ٹرانسپلانٹ کا مقام

جب جگر مکمل طور پر ناکارہ ہو جائے اور زندگی خطرے میں ہو، تو ٹرانسپلانٹ ہی واحد حل بچتا ہے 12۔ تاہم، قانون مفرد اعضاء کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ٹرانسپلانٹ کے بعد بھی مریض کا جسمانی ماحول (مزاج) تبدیل نہ کیا گیا (یعنی تیزابیت اور خشکی کو ختم نہ کیا گیا)، تو نیا جگر بھی دوبارہ بیماری کا شکار ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، سرجری سے پہلے اور بعد میں غذا اور مزاج کی اصلاح اشد ضروری ہے۔

9۔ خلاصہ بحث اور سفارشات (Conclusion)

جگر کا سکڑاؤ (Jigar Ka Sukrna) ایک جان لیوا مرض ہے جو برسوں کی بد پرہیزی اور غفلت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ہماری تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ:

بنیادی وجہ: یہ مرض صرف وائرس یا شراب سے نہیں، بلکہ جسم میں خشکی اور تیزابیت کے طویل غلبے سے پیدا ہوتا ہے۔

یکجا نقطہ نظر: جدید تشخیصی آلات (Tests) اور قدیم اصولِ علاج (Mizaj Therapy) کو ملا کر بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

علاج: صرف دوائیاں کافی نہیں ہیں۔ مریض کو اپنی غذا مکمل طور پر تبدیل کرنی ہوگی۔ “عضلاتی” (خشک) غذاؤں کو ترک کر کے “غدی اعصابی” (گرم تر) غذاؤں کو اپنانا ہوگا۔

سفارشات:

مریض کو مکمل آرام (Bed Rest) کروائیں تاکہ جگر پر بوجھ کم پڑے۔

پروٹین والی غذاؤں (گوشت وغیرہ) کا استعمال اعتدال میں اور شوربے کی صورت میں کریں۔

ذہنی دباؤ سے بچیں، کیونکہ یہ اعصابی کمزوری اور عضلاتی کھچاؤ کا باعث بنتا ہے۔

کسی ماہر طبیب یا ہیپاٹولوجسٹ کی نگرانی کے بغیر کوئی دوا استعمال نہ کریں۔

قانون مفرد اعضاء مایوسی کے اندھیروں میں امید کی ایک کرن ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ جگر، جو کہ تخلیقِ حیات کا مرکز ہے، اگر اسے اس کا فطری ماحول (حرارت اور رطوبت) فراہم کر دیا جائے، تو وہ دوبارہ جی اٹھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


دستبرداری (Disclaimer): یہ رپورٹ صرف تعلیمی اور تحقیقی مقاصد کے لیے ہے۔ جگر کا سکڑاؤ ایک سنجیدہ طبی مسئلہ ہے۔ مریض کو چاہیے کہ وہ اپنے علاج میں کوئی بھی تبدیلی کرنے سے پہلے اپنے مستند معالج (Doctor/Hakim) سے مشورہ ضرور کرے۔

Works cited

Cirrhosis | Fact Sheets – Yale Medicine, accessed on December 18, 2025, https://www۔yalemedicine۔org/conditions/cirrhosis

Cirrhosis | Conditions and Treatments | Center for Liver Disease & Transplantation | Columbia University Department of Surgery, accessed on December 18, 2025, https://columbiasurgery۔org/conditions-and-treatments/cirrhosis

Cirrhosis and Its Complications | Harrison’s Principles of Internal Medicine, 20e | AccessMedicine, accessed on December 18, 2025, https://accessmedicine۔mhmedical۔com/content۔aspx?bookid=2129§ionid=192283819

CONFERENCE PROCEEDINGS – Hamdard Journal of Pharmacy, accessed on December 18, 2025, https://hjp۔hamdard۔edu۔pk/index۔php/hjp/article/download/77/50/173

Cirrhosis | Clinical Medicine – YouTube, accessed on December 18, 2025, https://www۔youtube۔com/watch?v=R1f1gWCyutA

Hepatic Cirrhosis – StatPearls – NCBI Bookshelf – NIH, accessed on December 18, 2025, https://www۔ncbi۔nlm۔nih۔gov/books/NBK482419/

Symptoms & Causes of Cirrhosis – NIDDK, accessed on December 18, 2025, https://www۔niddk۔nih۔gov/health-information/liver-disease/cirrhosis/symptoms-causes

Cirrhosis of the Liver: Symptoms, Causes & Treatments, accessed on December 18, 2025, https://liverfoundation۔org/liver-diseases/complications-of-liver-disease/cirrhosis/

LIVER CIRRHOSIS, accessed on December 18, 2025, https://www۔chi۔gov۔sa/Style%20Library/IDF_Branding/Indication/204%20-%20Liver%20Cirrhosis-New%20Indication۔pdf

Liver Cirrhosis (SandS, Pathophysiology, Investigations, Management) – YouTube, accessed on December 18, 2025, https://www۔youtube۔com/watch?v=PGB6dN1KlwQ

Cirrhosis – NHS, accessed on December 18, 2025, https://www۔nhs۔uk/conditions/cirrhosis/

Liver Awareness Month: Cirrhosis – American Liver Foundation, accessed on December 18, 2025, https://liverfoundation۔org/resource-center/blog/liver-awareness-month-cirrhosis/

Related Articles

Leave a Comment

Contact Now

Get New Updates to Take Care Your Pet

Discover the art of creating a joyful and nurturing environment for your beloved pet.

Will be used in accordance with our  Privacy Policy

@2025 – All Right Reserved. Designed and Developed by Dilshad Bhai