
4
تعارف
علمائے ربانی کی تعلیمات کا حاصل
جواہر حکمت و معرفت کتاب امت کی صالح شخصیتوں، اکابر بزرگوں اور ممتاز اہل دانش کی تعلیمات اور نظر کے مجموعہ پر مشتمل ہے، جو ہماری تمہیں سالہ ذاتی ڈائریوں میں تحریر شدہ مواد سے ماخوذ ہے۔
اس مواد کو از سر نو ترتیب دینے اور ذیلی سرخیاں لگانے اور بزرگوں کے بیان کردہ نکات کی تشریح کی بھی ضرورت تھی، تاکہ قارئین کے لئے کتاب سے پوری طرح استفادہ کی صورت پیدا ہو سکے، ہم نے کوشش کی ہے کہ بزرگوں کے بیان کردہ مشکل نکات سیل زبان میں اس طرح پیش ہوں کہ الفاظ کی مشکل ان کی تعلیمات کے فہم کی راہ میں حائل نہ ہو سکے۔ جدید نسل کے افراد، عام طور پر بزرگان دین کی اسلوب تھر کی مشکلات کی وجہ سے ان کی گھر سے استفادہ سے محروم رہتے ہیں۔ ہمیں اس کا تجربہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی تعلیمات کو سیل کر کے پیش کرنے کے وقت ہوا کہ ملک کے بعض ممتاز اہل علم نے کہا کہ ہم زندگی بھر مولانا تھانوی کی کتابوں کے خون سے اس لئے بے بہرہ رہے کہ ان کی زبان کا قیم ہمارے لئے مشکل تھا، اب پہلی بار آپ کی تسہیل کردو ان کی ملفوظات کی کتابوں کے مسلسل مطالعہ سے اندازہ ہوا کہ ان کی گھر کتنی بڑی نعمت ہے اور وہ ہمارے اس دور کی تھی مجھے ضرورت ہے۔
آج مادی زندگی اور مادی حسن کے عمومی مناظر و مظاہر کی وجہ سے ہماری زندگی کی بیشتر جدوجہد، بلکہ ہماری ساری ذاتی چھلی توانائیاں مادی زندگی کو بہتر کامیاب اور خوشحال سے خوشحال تر بنانے میں صرف ہونے لگئی ہیں۔ اس میں جدید دور کے مادہ پرست سرمائیدار کی طرف سے زندگی کو مشکل اور حسین سے حسین تر