Friday, February 13, 2026
Home Blog اسلام اور جدید طب حفظان صحت کے اصول

اسلام اور جدید طب حفظان صحت کے اصول

by admin
اسلام اور جدید طب حفظان صحت کے اصول
اسلام اور جدید طب حفظان صحت کے اصول
اسلام اور جدید طب حفظان صحت کے اصول

اسلام اور جدید طب حفظان صحت کے اصول
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

اسلامی نظامِ حیات میں پاکیزگی اور صفائی کو محض ایک عارضی ضرورت یا سماجی روایت کے طور پر نہیں دیکھا گیا، بلکہ اسے ایمان کے ایک ناگزیر اور بنیادی جزو کی حیثیت دی گئی ہے۔ یہ ایک ایسی جامع اخلاقی اور طبی کائنات کی تشکیل کرتا ہے جہاں انسانی جسم، روح، اور اس کے گرد و پیش کا ماحول ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں رہتے ہیں۔ دورِ حاضر میں جب عالمی برادری ماحولیاتی آلودگی، وبائی امراض اور حفظانِ صحت کے بحرانوں سے نبرد آزما ہے، اسلامی تعلیمات کے چودہ سو سالہ قدیم اصولوں کی سائنسی توثیق ان کی حقانیت اور ابدیت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے۔ وقائی طب (Preventive Medicine) کے جدید تصورات، جن کا سنگِ بنیاد جراثیمی علم (Bacteriology) اور خوردبین (Microscope) کی ایجاد کے بعد رکھا گیا، درحقیقت انہی نبوی ہدایات کی بازگشت ہیں جو ساتویں صدی عیسوی میں ایک ایسے معاشرے میں دی گئی تھیں جہاں بیماریوں کو محض اتفاق یا مافوق الفطرت اسباب سے منسوب کیا جاتا تھا 1۔
آلودگی کا جدید تصور اور وقائی طب کی ارتقائی تاریخ
آلودگی کی سائنسی تفہیم انسانی تاریخ کے ایک طویل سفر کا نتیجہ ہے۔ سترہویں صدی سے پہلے، اطباء بیماریوں کے پھیلاؤ کے بارے میں محض قیاس آرائیوں اور “میاسما” (Miasma) جیسے نظریات پر تکیہ کرتے تھے، جن کے مطابق بدبو دار ہوا امراض کا سبب بنتی تھی۔ اس علمی خلا کو پر کرنے میں 1670 کی دہائی میں ڈچ سائنسدان اینٹونی وان لیوینہوک کی خوردبین کی ایجاد نے کلیدی کردار ادا کیا، جس نے پہلی بار خوردبینی جانداروں (Microorganisms) کا مشاہدہ کیا 1۔ اس کے بعد رابرٹ ہک، لوئی پاسچر اور رابرٹ کوک جیسے سائنسدانوں نے جراثیمی نظریے (Germ Theory) کو مستحکم کیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ امراض کا اصل سبب وہ غیر مرئی جراثیم اور طفیلیات ہیں جو پانی، ہوا، خوراک اور انسانی جسم پر پرورش پاتے ہیں 3۔
تاہم، اس سائنسی انقلاب سے صدیوں قبل نبی کریم ﷺ نے آلودگی کے ان ذرائع اور ان سے بچاؤ کے طریقے واضح فرما دیے تھے جن تک رسائی کے لیے جدید سائنس کو خوردبین کا محتاج ہونا پڑا۔ اسلام نے نہ صرف آلودگی کے جسمانی اثرات سے خبردار کیا بلکہ اسے “خبث” اور “نجاست” قرار دے کر اس سے اجتناب کو عبادت کی قبولیت کی شرط بنا دیا 4۔ جدید وقائی طب آج جس “پرائمری پریوینشن” (Primary Prevention) پر زور دیتی ہے، وہ اسلامی فقہ کے بابِ طہارت میں ایک مکمل ضابطے کی صورت میں موجود ہے، جہاں وضو، غسل، اور لباس کی صفائی کو روزانہ کی بنیاد پر لازمی قرار دیا گیا ہے 5۔
انفرادی نظافت: جسمانی طہارت اور جراثیمی دفاع
اسلام میں نظافت کا آغاز انفرادی سطح سے ہوتا ہے۔ جسم کی صفائی کو “فطرت” (Fitrah) کا حصہ قرار دیا گیا ہے، جو انسانی جبلت اور صحت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیرِ ناف بال صاف کرنا، ناخن کاٹنا، بغلوں کے بال صاف کرنا اور مونچھیں تراشنا 8۔ طبی نقطہ نظر سے، یہ تمام اعضاء وہ مقامات ہیں جہاں پسینہ، گرد و غبار اور جراثیم باآسانی جمع ہو سکتے ہیں، اور ان کی باقاعدہ صفائی انفیکشن کے خطرات کو کم کرتی ہے 9۔
وضو کی طبی اور جراثیمی اہمیت

وضو ایک ایسا عمل ہے جو دن میں پانچ مرتبہ انسانی جسم کے ان حصوں کو دھونے پر مجبور کرتا ہے جو بیرونی ماحول سے براہِ راست رابطے

میں رہتے ہیں۔ جدید مائیکرو بائیولوجی کے مطابق، ہاتھ، چہرہ، ناک اور پیر وہ بنیادی راستے ہیں جن کے ذریعے جراثیم انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ وضو کے دوران ان اعضاء کی بار بار صفائی نہ صرف مٹی اور آلودگی کو دور کرتی ہے بلکہ جلد پر موجود جراثیم کے بوجھ (Bacterial Load) کو بھی نمایاں طور پر کم کرتی ہے 11۔
تحقیقی مطالعہ جات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وضو کے دوران ناک میں پانی ڈالنا (استنشاق) مائیکروبیل امراض سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے، کیونکہ یہ سانس کے راستے میں پھنسے ہوئے گرد و غبار اور الرجی پیدا کرنے والے عناصر کو صاف کرتا ہے 12۔ اسی طرح، چہرہ دھونے سے جلد کی لچک برقرار رہتی ہے اور آنکھوں کے غدود کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے، جو اندھے پن جیسی بیماریوں سے بچاؤ میں معاون ثابت ہو سکتی ہے 12۔

وضو کے مراحل طبی فوائد اور سائنسی توثیق متعلقہ جراثیم جن کا خاتمہ ہوتا ہے
ہاتھوں کا دھونا 40% سے زائد متعدی امراض کے پھیلاؤ میں کمی 11 E coli, Staphylococcus aureus
کلی کرنا (غرغرہ) حلق اور مسوڑھوں کی سوزش (Tonsillitis) سے بچاؤ 14 Streptococcus mutans
ناک کی صفائی تنفس کی نالیوں سے جراثیم اور الرجنز کا اخراج 12 Respiratory pathogens
چہرہ دھونا جلد کی تروتازگی اور ذہنی تھکن کا خاتمہ 12 Skin flora pathogens
پیروں کا دھونا فنگل انفیکشن اور پیروں کی بدبو سے نجات 15 Tinea pedis (Fungus)
جدول 1: وضو کے مراحل اور ان کے طبی و جراثیمی اثرات کا خلاصہ 11
جدید تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ وضو کے بعد منہ کے اندرونی بیکٹیریا کی نوعیت تبدیل ہو جاتی ہے۔ گرام-نیگیٹو بیکٹیریا، جو اکثر بیماریوں کا سبب بنتے ہیں، ان کی تعداد میں کمی آتی ہے، جبکہ گرام-پازیٹو بیکٹیریا، جو کہ جسم کے نارمل فلورا کا حصہ ہیں، ان کا تناسب بہتر ہوتا ہے 13۔ یہ تبدیلی جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
غسل: مکمل جسمانی تطہیر
اسلام نے مخصوص حالات میں (جیسے جنابت، جمعہ کا دن، یا عیدین) پورے جسم کو دھونے (غسل) کو واجب یا مستحب قرار دیا ہے۔ غسل محض صفائی نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جو خون کی گردش (Blood Circulation) کو تیز کرتا ہے اور جسم کے اعصابی تناؤ کو کم کرتا ہے 10۔ طبی ماہرین کے مطابق، جلد کے وہ حصے جہاں پسینہ زیادہ آتا ہے (جیسے بغلیں اور جوڑ)، وہاں جراثیم اور فنگس کی افزائش کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ غسل ان جراثیموں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے اور جلد کے مسامات کو کھول کر اسے سانس لینے کے قابل بناتا ہے 10۔
زبانی صحت اور مسواک: ایک قدیم جراثیم کش معجزہ
منہ کی صفائی اسلامی حفظانِ صحت کا ایک درخشاں پہلو ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مسواک کے استعمال پر اس قدر زور دیا کہ فرمایا: “اگر مجھے اپنی امت پر بوجھ بننے کا خوف نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا” 8۔ جدید دندان سازی (Dentistry) کے شعبے میں ہونے والی تحقیق نے مسواک (Salvadora persica) کے کیمیائی اور مکینیکل فوائد کو ٹوتھ برش سے بہتر یا اس کے برابر تسلیم کیا ہے 17۔
مسواک کے ریشوں میں قدرتی طور پر ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو اینٹی بیکٹیریل، اینٹی فنگل اور اینٹی وائرل خصوصیات کے حامل ہیں۔ سائنسی تجزیے کے مطابق، مسواک میں سلفر، وٹامن سی، فلورائڈ، اور سوڈیم بائی کاربونیٹ جیسے عناصر موجود ہوتے ہیں جو دانتوں کی چمک برقرار رکھنے اور مسوڑھوں کی بیماریوں کو روکنے میں مدد دیتے ہیں 11۔

مسواک کے اجزاء سائنسی اثرات اور طبی افادیت
سلفر (Sulphur) طاقتور جراثیم کش اثر اور انفیکشن سے بچاؤ 11
ٹرائیمیتھائل امین (Trimethylamine) مسوڑھوں کی سوزش میں کمی 17
فلورائڈ (Fluoride) دانتوں کے کیڑے (Caries) کے خلاف مدافعت 17
ٹیننز (Tannins) خون روکنے (Anticoagulant) اور مسوڑھوں کو مضبوط کرنے کی خاصیت 17
سیلیکا (Silica) دانتوں کی قدرتی سفیدی اور پلاک (Plaque) کا خاتمہ 17
جدول 2: مسواک کے کیمیائی اجزاء اور ان کے سائنسی اثرات 11
تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ مسواک کا عرق (Extract) ان جراثیموں کے خلاف انتہائی مؤثر ہے جو دانتوں کے گرنے اور مسوڑھوں کی سوزش (Periodontitis) کا سبب بنتے ہیں، جیسے کہ Streptococcus mutans اور Porphyromonas gingivalis 17۔ مسواک کا استعمال لعابِ دہن (Saliva) کی پی ایچ (pH) کو بھی متوازن رکھتا ہے، جس سے منہ میں تیزابیت پیدا نہیں ہوتی اور دانت محفوظ رہتے ہیں 17۔
آبی آلودگی سے بچاؤ اور آبی وسائل کا تحفظ
پانی زندگی کا مرکز ہے، اور اسلام نے اسے ایک امانت کے طور پر سنبھالنے کی تلقین کی ہے۔ قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے: “اور ہم نے آسمان سے ایک متعین مقدار میں پانی نازل کیا اور اسے زمین میں ٹھہرایا” 19۔ پانی کو آلودگی سے بچانے کے لیے نبوی ہدایات اتنی مفصل ہیں کہ وہ جدید ہائیڈرولوجی اور ماحولیاتی سائنس کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
کھڑے پانی کی ممانعت
نبی کریم ﷺ نے کھڑے پانی (Stagnant Water) میں پیشاب کرنے یا غسل کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے 19۔ جدید وقائی طب کی رو سے کھڑا پانی جراثیم، مچھروں اور طفیلیات کی افزائش کے لیے آئیڈیل جگہ ہے۔ پیشاب کے ذریعے پھیلنے والے امراض جیسے ٹائیفائیڈ، ہیضہ، اور شسٹوسومیاسس (Schistosomiasis) پانی کے ان ذخائر کو آلودہ کر سکتے ہیں، جس سے پوری آبادی متاثر ہو سکتی ہے 20۔ اسلام نے ان آبی ذرائع کو “حمیٰ” (محفوظ علاقے) قرار دے کر ان کے گرد آلودگی پھیلانے والے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا ہے 22۔
پانی کے استعمال میں اعتدال اور تحفظ
پانی کی قلت آج ایک عالمی مسئلہ ہے، لیکن اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی اس کے ضیاع (Israf) کو گناہ قرار دے دیا تھا۔ ایک مشہور حدیث کے مطابق، نبی کریم ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو وضو کے دوران ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کرنے پر ٹوکا اور فرمایا کہ “اسراف نہ کرو، خواہ تم بہتی ہوئی نہر پر ہی کیوں نہ ہو” 19۔
سائنسی نقطہ نظر سے، پانی کا بے جا استعمال نہ صرف زیرِ زمین ذخائر کو کم کرتا ہے بلکہ سیوریج کے نظام پر بوجھ بڑھا کر آبی آلودگی کا باعث بھی بنتا ہے 20۔ نبوی طریقہ کار کے مطابق، وضو کے لیے صرف ایک “مد” (تقریباً 0 5 سے 0 6 لیٹر) پانی کافی ہے، جو جدید دور کے واٹر کنزرویشن پروٹوکولز سے کہیں زیادہ کارآمد ہے 19۔
ماحولیاتی نظافت: زمین، ہوا اور عوامی مقامات
اسلامی تعلیمات میں ماحول کی صفائی کو انفرادی عبادت سے بڑھ کر ایک سماجی فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ “راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا صدقہ ہے” 8۔ یہ اصول نہ صرف سماجی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے بلکہ شہروں کی صفائی اور حادثات سے بچاؤ کا ایک مکمل ڈھانچہ فراہم کرتا ہے 24۔
عوامی مقامات کی حرمت
آپ ﷺ نے تین چیزوں سے بچنے کی تاکید فرمائی جو لوگوں کی بددعا اور لعنت کا سبب بنتی ہیں: پانی کے گھاٹ، راستے کے درمیان، اور سائے دار جگہوں پر رفع حاجت کرنا 8۔ جدید مائیکرو بائیولوجی ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی فضلہ مٹی اور ہوا کے ذریعے جراثیم منتقل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ سائے دار جگہوں یا راستوں پر فضلہ چھوڑنا وبائی امراض جیسے کہ پولیو، ہیپاٹائٹس اے اور انتڑیوں کے کیڑوں کے پھیلاؤ کا باعث بنتا ہے 6۔
شجرکاری اور حیاتیاتی تنوع
اسلام نے درختوں کو کاٹنے سے منع فرمایا اور شجرکاری کو “صدقہ جاریہ” قرار دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تمہارے ہاتھ میں ایک پودا ہو، تو اسے لگا دو” 23۔ درخت نہ صرف ہوا کو صاف کرتے ہیں بلکہ ماحول کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی آلودگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں 26۔ اسلام نے جنگی حالات میں بھی پھل دار درختوں کو کاٹنے سے منع کیا، جو کہ “گرین وارفیئر” (Green Warfare) اور ماحولیاتی اخلاقیات کا پہلا باقاعدہ ضابطہ تھا 22۔
وبائی امراض کا کنٹرول اور قرنطینہ کے نبوی اصول
وبائی امراض کی تاریخ گواہ ہے کہ جب تک جراثیم کے پھیلاؤ کا نظام سمجھ میں نہیں آیا، انسانیت کروڑوں کی تعداد میں لقمہ اجل بنتی رہی۔ تاہم، نبی کریم ﷺ نے وبائی امراض (جیسے طاعون) کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے وہ اصول وضع کیے جو آج عالمی ادارہ صحت (WHO) کے بنیادی پروٹوکولز ہیں 11۔
سفری پابندیاں اور آئسولیشن
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جب تم کسی زمین میں طاعون (وباء) کے بارے میں سنو تو وہاں نہ جاؤ، اور اگر وہ وہاں پھیل جائے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو” 27۔ یہ حدیث قرنطینہ (Quarantine) کے تصور کی سب سے قدیم اور مستند بنیاد ہے۔ اس کا مقصد انفیکشن کے مرکز کو محدود کرنا ہے تاکہ وباء دیگر علاقوں تک نہ پہنچے 27۔
تاریخی طور پر، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے شام کے سفر کے دوران جب وباء کی خبر سنی تو اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے واپسی کا فیصلہ کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اللہ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں، تو انہوں نے بصیرت افروز جواب دیا: “میں اللہ کی ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف جا رہا ہوں” 27۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلام میں توکل کا مفہوم وقائی تدابیر کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ ان پر عمل کرنا ہے 27۔
سماجی دوری اور تنفسی نظافت
نبی کریم ﷺ نے متعدی امراض (Contagious Diseases) کے مریضوں سے فاصلہ رکھنے کی ہدایت فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “مریض اونٹوں کو تندرست اونٹوں کے ساتھ نہ رکھا جائے” اور جذامی شخص سے اس طرح دور رہنے کی تلقین کی جیسے شیر سے بھاگا جاتا ہے 30۔ یہ تعلیمات جدید “سوشل ڈسٹنسنگ” کی بنیاد فراہم کرتی ہیں 11۔
مزید برآں، چھینکنے کے آداب کے بارے میں مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ چھینکتے وقت اپنے چہرے کو ہاتھ یا کپڑے سے ڈھانپ لیتے تھے 30۔ یہ عمل جراثیم بھرے قطروں (Droplets) کو فضا میں پھیلنے سے روکتا ہے، جو کہ کووڈ-19 جیسی وباؤں کے دوران ماسک کے استعمال کی سائنسی منطق ہے 9۔

وبائی امراض کی روک تھام کا اصول اسلامی حکم / حدیث جدید طب کا مساوی تصور
نقل و حمل کی پابندی وباء زدہ علاقے میں داخلے اور خروج کی ممانعت قرنطینہ (Quarantine) 27
علیحدگی مریض اور تندرست کو الگ رکھنا آئسولیشن (Isolation) 31
تنفسی آداب چھینکتے وقت منہ ڈھانپنا ماسک اور ہائجین پروٹوکول 30
فاصلہ برقرار رکھنا جذامی سے دوری کا حکم سماجی دوری (Social Distancing) 30
جدول 3: وبائی امراض کے کنٹرول کے اسلامی اصول بمقابلہ جدید طبی تصورات 27
غذائی نظافت اور برتنوں کی حفاظت
خوراک اور مشروبات کے ذریعے جراثیم کی منتقلی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اسلام نے اس حوالے سے ایسی ہدایات دی ہیں جو “فوڈ سیفٹی” (Food Safety) کے جدید معیارات کے عین مطابق ہیں۔
برتنوں کو ڈھانپنا اور پانی پینے کے آداب
نبی کریم ﷺ نے رات کے وقت برتنوں کو ڈھانپنے اور مشکیزوں کے منہ بند کرنے کا حکم دیا 19۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سال میں ایک ایسی رات ہوتی ہے جس میں وباء نازل ہوتی ہے اور وہ ہر اس برتن میں گرتی ہے جو ڈھکا ہوا نہ ہو 19۔ سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بہت سے کیڑے مکوڑے اور مکھیاں رات کے وقت متحرک ہوتی ہیں اور کھلے برتنوں میں جراثیم منتقل کر سکتی ہیں 6۔
پانی پینے کے دوران برتن میں سانس لینا یا پھونک مارنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے 20۔ جدید مائیکرو بائیولوجی بتاتی ہے کہ انسانی منہ اور ناک کے فلورا میں ایسے بیکٹیریا ہو سکتے ہیں جو پانی میں شامل ہو کر اسے آلودہ کر دیتے ہیں۔ برتن میں سانس لینے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھ سکتی ہے جو پانی کی کیمسٹری کو متاثر کر سکتی ہے 9۔
ہاتھ دھونے کی اہمیت اور دائیں ہاتھ کا استعمال
اسلام نے کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے کو برکت اور صحت کا ذریعہ قرار دیا ہے 4۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ صرف ہاتھ دھونے کے عمل سے پیٹ کی بیماریوں اور تنفس کے انفیکشن میں 40 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے 11۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ دائیں ہاتھ سے کھانے کی تلقین فرمائی۔ اس کی ایک طبی حکمت یہ ہے کہ انسانی معاشروں میں بایاں ہاتھ صفائی اور استنجاء (Istinja) کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس پر جراثیم اور طفیلیات کے رہنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، لہٰذا دائیں ہاتھ سے کھانا حفظانِ صحت کے اصولوں کے زیادہ قریب ہے 9۔
ویسٹ مینجمنٹ اور شہری صفائی: ایک تاریخی تناظر
اسلامی تہذیب نے قرونِ وسطیٰ میں شہری صفائی کے وہ نمونے پیش کیے جن کا تصور یورپ میں صدیوں بعد پیدا ہوا۔ آٹھویں صدی عیسوی کے بغداد اور اندلس کے شہروں میں زیرِ زمین سیوریج کا نظام، عوامی حمام، اور کچرے کو ٹھکانے لگانے کے منظم طریقے موجود تھے 32۔
فضلہ کی تلفی اور ری سائیکلنگ
اسلامی فقہ میں فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے تفصیلی قوانین موجود ہیں۔ “استنجاء” اور “استجمار” (پتھروں سے صفائی) کے احکامات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ انسانی نجاست ماحول کو آلودہ نہ کرے 32۔ قدیم اسلامی شہروں میں نامیاتی فضلے (Organic Waste) کو زراعت میں کھاد کے طور پر استعمال کرنے کا ایک مربوط نظام موجود تھا، جو آج کے “سرکولر اکانومی” (Circular Economy) کے تصور سے مماثلت رکھتا ہے 32۔
جدید دور میں “اسلامک ویسٹ بینک” کا تصور، جو کہ انڈونیشیا میں کامیابی سے چل رہا ہے، انہی اصولوں کی تجدید ہے۔ یہ نظام لوگوں کو کچرا جمع کرنے اور اسے ری سائیکل کرنے پر مالی مراعات دیتا ہے، جس کی بنیاد اسلامی تصورِ نیابت (Stewardship) اور اسراف کی ممانعت پر ہے 26۔
نظامِ حسبہ: عوامی صحت کی ریاستی نگرانی
اسلامی ریاست میں عوامی صحت کا تحفظ صرف انفرادی فعل نہیں بلکہ حکومتی ذمہ داری تھی۔ “حسبہ” کا ادارہ اس کا ضامن تھا کہ بازاروں میں صفائی کے اعلیٰ معیار برقرار رکھے جائیں 6۔ محتسب (اوورسیئر) نانبائیوں، قصابوں اور حلوائیوں کی دکانوں کا معائنہ کرتا تھا۔ نانبائیوں کو پابند کیا جاتا تھا کہ وہ آٹا گوندھتے وقت ماتھے پر سفید پٹی باندھیں تاکہ پسینہ آٹے میں نہ گرے، اور وہ مکھیوں سے بچاؤ کے لیے جالی دار کپڑے کا استعمال کریں 6۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ اسلامی نظام میں “پبلک ہیلتھ انسپکشن” کا تصور کتنا گہرا اور قدیم تھا 6۔
آلودگی سے بچاؤ اور پائیدار ترقی: مستقبل کا وژن
آج کی دنیا جب ماحولیاتی تبدیلیوں (Climate Change) اور وسائل کی بے جا بردگی کے دہانے پر کھڑی ہے، اسلامی اصولِ توازن (Mizan) ایک پائیدار حل پیش کرتے ہیں۔ اسلام کے مطابق، انسان زمین کا مالک نہیں بلکہ ایک مینیجر یا خلیفہ ہے، جس کا کام وسائل کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا ہے 22۔
پائیدار ویسٹ مینجمنٹ کے لیے “3Rs” (Reduce, Reuse, Recycle) کا تصور اسلامی اخلاقیات میں درج ذیل صورتوں میں پایا جاتا ہے:
1 Reduce (کمی لانا): اسراف اور تبذیر کی ممانعت 25۔
2 Reuse (دوبارہ استعمال): اشیاء کی قدر کرنا اور انہیں ضائع کرنے کے بجائے ضرورت مندوں کو دینا 33۔
3 Recycle (دوبارہ کارآمد بنانا): فضلے کو کھاد یا توانائی میں تبدیل کرنا، جیسے تاریخی طور پر جانوروں کے فضلے کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا گیا 32۔
تالیف اور علمی نتائج
اسلام اور حفظانِ صحت کے درمیان گہرا ربط اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ دینِ اسلام محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو انسانی بقاء اور فلاح کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے۔ آلودگی سے بچاؤ اور نظافت کے حوالے سے نبوی تعلیمات کا خوردبین کی ایجاد سے صدیوں پہلے آنا بذاتِ خود ایک سائنسی معجزہ ہے 9۔
اسلامی نظامِ صحت کے بنیادی نتائج درج ذیل ہیں:
● بیماری سے بچاؤ علاج سے بہتر ہے: وضو اور غسل کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر جراثیم کا خاتمہ وقائی طب کا سنہری اصول ہے 5۔
● ماحول ایک امانت ہے: آبی وسائل، درختوں اور عوامی مقامات کی صفائی کو عبادت کا درجہ دینا ماحولیاتی تحفظ کا بہترین طریقہ ہے 23۔
● وبائی امراض کا سدِ باب: قرنطینہ اور آئسولیشن کے نبوی اصول جدید وبائیات کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں 27۔
● توازن اور اعتدال: خوراک، پانی اور وسائل کے استعمال میں اعتدال نہ صرف بیماریوں سے بچاتا ہے بلکہ عالمی ماحولیاتی توازن کو بھی برقرار رکھتا ہے 11۔
جدید سائنسی ترقی نے ان تمام دعووں کی توثیق کر دی ہے جو چودہ سو سال پہلے ایک امّی نبی ﷺ کی زبانِ مبارک سے ادا ہوئے تھے۔ آج کی انسانیت کو اگر آلودگی اور وبائی امراض کے چنگل سے نکلنا ہے، تو اسے انہی ابدی اصولوں کی طرف لوٹنا ہوگا جو فطرت کے عین مطابق اور سائنسی طور پر مسلمہ ہیں 7۔ اسلامی طرزِ زندگی کو اپنانا نہ صرف اخروی نجات کا ذریعہ ہے بلکہ دنیاوی زندگی کو بھی بیماریوں اور آلودگی سے پاک کرنے کا واحد پائیدار راستہ ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تعلیمات کو جدید سائنسی پیرائے میں عام کیا جائے تاکہ نسلِ نو اپنی دینی وراثت پر فخر کرتے ہوئے ایک صحت مند اور پاکیزہ معاشرے کی بنیاد رکھ سکے 9۔

Related Articles

Leave a Comment

Contact Now

Get New Updates to Take Care Your Pet

Discover the art of creating a joyful and nurturing environment for your beloved pet.

Will be used in accordance with our  Privacy Policy

@2025 – All Right Reserved. Designed and Developed by Dilshad Bhai