جدید کیمیاوی ادویات کی ہلاکت خیزیاں اور طبِ نبوی و دیسی علاج کی آفاقیت

: اعضائے رئیسہ پر پڑنے والے اثرات کا تقابلی جائزہ
مرتب کردہ: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو، سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی 1
تعارف: اعضائے رئیسہ اور انسانی بقا کا حیاتیاتی نظام
انسانی جسم کی تخلیق اور اس کی بقا کا دارومدار چند مخصوص اور انتہائی حساس اعضاء پر ہے جنہیں طبی اصطلاح میں “اعضائے رئیسہ” (Vital Organs) کہا جاتا ہے.2 ان اعضاء میں دماغ، دل، جگر، اور گردے شامل ہیں.2 دماغ پورے جسمانی و اعصابی نظام کو کنٹرول کرتا ہے 2؛ دل خون کی مسلسل فراہمی کے ذریعے زندگی کی لہر کو برقرار رکھتا ہے 3؛ جگر زہریلے مادوں کو صاف کرنے اور میٹابولک توازن برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہے 4؛ جبکہ گردے خون کو فلٹر کر کے فضلات کو جسم سے خارج کرتے ہیں اور نمکیات و پانی کا توازن برقرار رکھتے ہیں.4 ان اعضاء میں سے کسی ایک کی بھی کارکردگی میں تعطل یا خرابی براہِ راست موت کا پیش خیمہ بن سکتی ہے.2
موجودہ دور میں جدید کیمیائی ادویات (Allopathy) کا بے جا اور اندھا دھند استعمال اعضائے رئیسہ کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے.3 جدید مادی طب جہاں علامات کو فوری دبانے کا دعویٰ کرتی ہے، وہاں وہ ان اعضاء کے بافتی ڈھانچے (Tissue Structure) اور ان کے طبعی افعال کو شدید نقصان پہنچاتی ہے.5 اس کے برعکس، طبِ نبوی اور روایتی دیسی طب کا معالجاتی فلسفہ اعضائے رئیسہ کی حفاظت، تقویت اور ان کے طبعی مزاج کی بحالی پر قائم ہے، جس کا کوئی مضر اثر (Side Effect) نہیں ہوتا.7
انسانی جسم بطور تجربہ گاہ: جدید کیمیائی ادویات کا تاریخی المیہ

جدید فارماسیوٹیکل صنعت کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ “کیا زندہ انسانوں کے جسم محض ایک تجربہ گاہ بن چکے ہیں؟” اور “کیا ہم صرف تجرباتی چوہوں کی طرح استعمال ہو رہے ہیں؟” جدید طب کے تحت تیار کی جانے والی ہزاروں ادویات کو پہلے مارکیٹ میں لایا جاتا ہے، انہیں “معجزاتی دوا” بنا کر پیش کیا جاتا ہے، اور جب دہائیوں کے استعمال کے بعد لاکھوں انسانوں کے اعضائے رئیسہ تباہ ہو جاتے ہیں، تو ان ادویات پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے یا ان کا استعمال محدود کر دیا جاتا ہے.6
یہ آزمائشی معالجہ (Trial and Error) انسانی زندگیوں کے ساتھ ایک سنگین کھلواڑ ہے. اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے ذیل کے تفصیلی جدول میں ان ادویات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے جو مارکیٹ میں لائی گئیں، برسوں استعمال ہوئیں، اور بعد میں اعضائے رئیسہ بالخصوص گردوں اور جگر کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہونے پر بند یا محدود کر دی گئیں:
| نمبر شمار | دوا کا نام (جینرک / برانڈ) | مارکیٹ میں آمد کا سال | اعضائے رئیسہ پر پڑنے والے مضر اثرات اور طبی نقصانات |
| 1 | پیراسیٹامول (Paracetamol / Acetaminophen) | 1955 | زیادہ مقدار اور طویل استعمال سے جگر (Hepatotoxicity) اور گردے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ 4 |
| 2 | بروفین (Brufen / Ibuprofen) | 1969 | طویل مدتی استعمال سے گردوں کے فلٹریشن سسٹم کو دباؤ میں لا کر ان کی کارکردگی کو مستقل متاثر کرتی ہے۔ 4 |
| 3 | پونسٹان (Ponstan / Mefenamic Acid) | 1964 | اگرچہ درد کے لیے مفید قرار دی گئی، لیکن یہ گردوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہے۔ 5 |
| 4 | ڈائیکلوفینک (Diclofenac) | 1974 | دنیا کے کئی ممالک میں محدود؛ گردوں کے اچانک فیل ہونے (Acute Renal Failure) اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ 4 |
| 5 | کیپٹوپرل (Captopril) | 1977 | بعض مریضوں میں گردوں کی شریانوں کو سکیڑ کر ان کی کارکردگی کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ 6 |
| 6 | انڈومیتھاسین (Indomethacin) | 1963 | کئی ممالک میں ممنوع یا محدود؛ گردوں کو خون کی فراہمی کم کر کے ان کے خلیات کو مردہ کر دیتی ہے۔ 6 |
| 7 | سیلیبریکس (Celebrex / Celecoxib) | 1998 | طویل استعمال سے گردوں کے اندرونی توازن کو بگاڑ کر انہیں ناکارہ بنا سکتی ہے۔ 6 |
| 8 | وائیوکس (Vioxx / Rofecoxib) | 1999 | دل کے دورے (Myocardial Infarction) اور فالج کے شدید خطرات سامنے آنے پر سال 2004 میں مارکیٹ سے مکمل طور پر اٹھا لی گئی۔ |
| 9 | نیورونٹن (Neurontin / Gabapentin) | 1993 | اعصابی درد کے لیے مستعمل؛ کثرتِ استعمال سے گردوں پر بوجھ بڑھتا ہے اور پھیپھڑوں کے افعال متاثر ہوتے ہیں۔ |
| 10 | لیتھیم (Lithium Carbonate) | 1949 | گردوں کے فلٹر کرنے کے نظام کو مستقل طور پر مفلوج کر کے دائمی گردوی امراض (CKD) کا باعث بنتی ہے۔ 10 |
| 11 | وینکو مائیسن (Vancomycin) | 1958 | یہ تیز اثر اینٹی بائیوٹک زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے گردوں میں زہر گھول دیتی ہے (Severe Nephrotoxicity)۔ 5 |
| 12 | ایمفوٹیریسن بی (Amphotericin B) | 1959 | فنگل انفیکشن کے لیے مستعمل؛ گردوں کی نالیوں کو شدید نقصان پہنچا کر انہیں ناکارہ بنانے کی شہرت رکھتی ہے۔ 6 |
| 13 | سائیکلو اسپورین (Cyclosporine) | 1983 | طویل مدتی استعمال سے گردوں کی شریانوں میں تشنج (Spasm) پیدا کرتی ہے اور بلڈ پریشر میں خطرناک اضافہ کرتی ہے۔ 6 |
| 14 | ٹیکرولیمس (Tacrolimus) | 1994 | گردوں کے فلٹرنگ ٹشوز پر زہریلا اثر ڈالتی ہے، ہائی بلڈ پریشر اور شدید سر درد پیدا کرتی ہے۔ |
| 15 | ٹینوفوویر (Tenofovir) | 2001 | طویل مدتی استعمال سے گردوں کو ناکارہ بنانے کے ساتھ ساتھ ہڈیوں کی کثافت کم کر کے انہیں انتہائی کمزور کر دیتا ہے۔ |
| 16 | ایڈافوویر (Adefovir) | 2002 | جگر کی کارکردگی کو بگاڑتی ہے، اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے، گردے فیل کرنے کا باعث بنتی ہے اور متلی و شدید نقاہت لاتی ہے۔ |
اعصابی نظام کو مفلوج کرنے والی جدید ادویات کا المیہ
انسانی جسم میں دماغ اعضائے رئیسہ کا سردار ہے.2 جدید سکن آور، درد کش، اور اعصابی ادویات کس طرح خاموشی سے دماغ اور اعصابی نظام کو اپاہج بنا رہی ہیں، اس کا اندازہ ذیل کی ادویات کے سائنسی مطالعے سے لگایا جا سکتا ہے:
- امی ٹریپٹالین (Amitriptyline – 1961): یہ دوا طویل عرصے تک استعمال کرنے سے دل کی دھڑکن کو غیر متوازن کرتی ہے، دماغ پر مسلسل دھندلاہٹ طاری رکھتی ہے، اور انسان کو گہرے اعصابی دباؤ (Depression) میں دھکیل دیتی ہے.
- ڈایازیپام (Diazepam – 1963): سکون آور اور نیند کے لیے بکثرت استعمال ہونے والی یہ دوا دماغ کی یادداشت محفوظ کرنے کی صلاحیت کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتی ہے اور ذہنی کمزوری کا باعث بنتی ہے.2
- فینی ٹوئن (Phenytoin – 1952): مرگی اور اعصابی دوروں کے لیے دی جانے والی یہ دوا دماغ کے خلیات کے باہمی رابطے کو سست کر دیتی ہے، جس سے چکر آنا، ذہنی دھندلاہٹ اور نیند کا غائب ہو جانا جیسے عوارض جنم لیتے ہیں.
- ٹراماڈول (Tramadol – 1977): اس شدید درد کش دوا کا کثرت سے استعمال مرگی جیسے دوروں کا سبب بنتا ہے، غنودگی طاری رکھتا ہے، اور انسان کو ذہنی و اعصابی طور پر مفلوج کر دیتا ہے.
- کلورپرومازین (Chlorpromazine – 1952): ذہنی تناؤ کو کم کرنے کے نام پر یہ دوا دماغ کی قدرتی تحریک کو اس حد تک دبا دیتی ہے کہ مریض سستی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس میں پارکن سن (رعشہ) جیسی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں.
دیسی طب اور طبِ نبوی کا معالجاتی فلسفہ: اعضائے رئیسہ کا تحفظ
جدید کیمیاوی علاج کے برعکس، طبِ نبوی اور روایتی دیسی طب کا کمال یہ ہے کہ یہ جسم کے طبعی مدافعتی نظام (Immune System) کو مضبوط کرتی ہے اور اعضائے رئیسہ کو زہریلے اثرات سے پاک کرتی ہے.7 دیسی جڑی بوٹیوں میں موجود فعال اجزاء (Active Compounds) اپنی قدرتی حالت میں ہوتے ہیں، جہاں ان کے مضر اثرات کو زائل کرنے والے دیگر مددگار عناصر بھی قدرت نے اسی پودے میں یکجا کر رکھے ہوتے ہیں.
مغلیہ دور کے عظیم ہندوستانی اطباء نے انسانی مزاج اور نزاکتِ طبع کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایسے خوش ذائقہ معجون تیار کیے جنہیں “خمیرہ جات” کہا جاتا ہے.8 خمیرہ جات خصوصاً قلب و دماغ (اعضائے رئیسہ) کو غیر معمولی طاقت بخشتے ہیں، روح میں فرحت پیدا کرتے ہیں اور طبیعت کی لطافت کو بحال کرتے ہیں.8
اسی طرح، “حب عنبر مومیائی” دیسی طب کا ایک مایہ ناز شاہکار ہے.7 اس میں شامل مشک، عنبر، مومیائی، جدوار خطائی اور مصطگی رومی جیسے اجزاء نہ صرف قوتِ مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ دل، دماغ اور جگر کو براہِ راست تقویت پہنچا کر اعصابی نقاہت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتے ہیں.7 مروارید (سچے موتی) کا استعمال جسم کو حیاتیاتی طور پر قابلِ جذب کیلشیم فراہم کرتا ہے جو ہڈیوں اور اعصاب کو مضبوط بناتا ہے.7
سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی، جس کی علمی و معالجاتی قیادت حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو فرما رہے ہیں، اسی آفاقی اور بے ضرر طریقہ علاج کو عام کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہے تاکہ بنی نوع انسان کو کیمیاوی ادویات کے ہلاکت خیز طوفان سے بچایا جا سکے.1
کیمیائی طب بمقابلہ دیسی و نبوی طب: اصولی موازنہ
| معالجاتی معیار | جدید کیمیائی طب (Allopathy) | طبِ نبوی و دیسی طب (Tibb) |
| بنیادی مقصد | صرف بیماری کی علامات کو عارضی طور پر دبانا۔ 3 | بیماری کے اصل سبب کا خاتمہ اور اعضائے رئیسہ کی تقویت۔ 7 |
| گردوں پر بوجھ | نان اسٹیرائڈل ادویات (NSAIDs) پروستاگلینڈنز کو روک کر گردوں کے خلیات کو مردہ کرتی ہیں۔ 6 | قدرتی مائع اور جڑی بوٹیاں گردوں کی سوزش رفع کرتی ہیں اور اخراجِ پیشاب کو نارمل بناتی ہیں۔ 5 |
| جگر پر بوجھ | جگر کے میٹابولک راستوں کو تبدیل کر کے اسے شدید سوزش اور ہیپاٹائٹس میں مبتلا کرتی ہیں۔ 4 | جگر کو زہروں سے پاک (Detoxify) کرتی ہیں اور اس کی صفرا بنانے کی صلاحیت کو نکھارتی ہیں۔ 7 |
| اعصابی نظام پر اثر | اعصاب کو سن (Numby) کر کے وقتی ریلیف دیتی ہیں مگر طویل مدت میں یادداشت اور اعصاب تباہ کرتی ہیں۔ 2 | دماغ اور اعصاب کو قدرتی طور پر پرسکون بناتی ہیں اور ان کے بافتوں کی مرمت کرتی ہیں۔ 7 |
| حفاظتی معیار | تجرباتی بنیادوں پر تیار کردہ، جس کے طویل مدتی سائیڈ ایفیکٹس برسوں بعد سامنے آتے ہیں۔ 6 | صدیوں سے آزمودہ، وحی الٰہی اور فطری جڑی بوٹیوں پر مبنی محفوظ ترین معالجہ۔ 1 |
اہم معالجاتی سفارشات اور لائحہ عمل
انسانی جسم کو جدید کیمیائی تجربہ گاہ بننے سے بچانے اور اعضائے رئیسہ کو مستقل معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے ذیل کے اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہونا ضروری ہے:
- خود ادویاتی نسخہ سازی (Self-Medication) سے مکمل گریز: معمولی سردرد، بخار یا جسمانی درد کی صورت میں فوری طور پر پیراسیٹامول یا بروفین جیسی ادویات خود سے استعمال کرنے کی عادت ترک کریں.4 یہ ادویات عارضی سکون تو دے سکتی ہیں لیکن اندرونی طور پر گردوں اور جگر کو چاٹ جاتی ہیں.4
- ادویات کے مضر اثرات (Side Effects) کا مطالعہ: کوئی بھی دوا استعمال کرنے سے پہلے اس کے لیفلٹ پر لکھے ہوئے سائیڈ ایفیکٹس کا بغور مطالعہ کریں اور معلوم کریں کہ وہ آپ کے گردوں، دل یا اعصاب کے لیے کس حد تک نقصان دہ ہے.
- قدرتی اور نبوی معالجے کو ترجیح دینا: روزمرہ کے چھوٹے بڑے عوارض میں کلونجی، شہد، انجیر، اسپغول، اور دیسی جڑی بوٹیوں پر مشتمل مفردات کو ترجیح دیں جن کی تاثیر مسلم اور اعضائے رئیسہ کے لیے سراسر شفاء ہے.1
- مستند معالج سے مشورہ: کسی بھی دوا، چاہے وہ کیمیاوی ہو یا دیسی، کے استعمال سے پہلے مستند ڈاکٹر یا ماہر حکیم سے اپنے مزاج اور جسمانی حالت کے مطابق ضرور مشورہ کریں تاکہ کسی بھی غیر متوقع نقصان سے بچا جا سکے.
- آگاہی مہم کا فروغ: اس پیغام کو دوسروں تک پہنچانا ہر فرد کا اخلاقی اور انسانی فرض ہے تاکہ عام لوگ بھی ان جدید زہروں کے مضر اثرات سے آگاہ ہو کر اپنے اور اپنے خاندان کے اعضائے رئیسہ کی حفاظت کو یقینی بنا سکیں.