
جسم دوا کےری ایکشن کی حقیقت
(یہ اقتباس
ہماری کتاب ادویہ سازی قدیم و جدید سے ہے۔اس وقت سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ۔۔سعد ورچوئل سکلز پاکستان کی طرف سے آن لائن کلاسز جاری ہیں۔عنوان ہے:قانون مفرد اعضاء اور جدید آے آئی کا سبگم ہے،اسبابق طلبہ کو بھیج دئے جاتے ہیں۔۔حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو)
تمام طر ق علاج میں ری ایکشن یا دوا کا موافق نہ آنا اور دوا کا جسم میں جاکر رد عمل ظاہر کرنا پایا جاتا ہے۔دیسی طریق علاج بھی اس سے مستثنی نہیں ہے البتہ ایلو پیٹھی والے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں کیونکہ دیسی لوگ دوا کے ساتھ غذا کی طرف خصوصی توجہ دیتے ہیں جب کہ ایلو پیٹھی میں پرہیز کا کوئی خاص طریقہ موجود نہیں ہے ۔معالج کا کہنا ہوتا ہے جو چیز نقع و نقصان نہ دے کھائی جاسکتی ہے۔لیکن دیسی انداز علاج میں کھانے پینے اور خوراک خصوصی کا دھیان رکھاجاتا ہے اور اس طرف بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔جب کوئی دوا ری ایکٹ کرتی ہے جو مریض کی جان پر بن آتی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے ؟اس کا جواب سادہ سا ہے یہ سب کام مزاج و اخلاط کی پروانہ کرنے کا نتیجہ ہوتا ہے ۔مریض کے وجود میں ایک خلط خواہ کوئی بھی ہو جمع ہے اس کی بہتات مرض کا سبب بنی ہوئی ہے۔ اگر مریض کو اسی مزاج کی دوا دیں گے تو طبیعت بگڑ جائے گی مثلاََ ایک بلغی مریض کو جو بلغم کی کثرت کی وجہ سے پہلے ہی پریشان ہے جب مزید بلغم پیدا کرنے والی چیز دیدی جائے تو طبیعت اسے براداشت نہیں کرسکے گی اور بے ہوشی اور ٹھنڈے پسینے اور ہاتھ پاؤں میں جھٹکے لگنا شروع ہوجائیں گے۔یہی ری ایکشن ہے۔یہی بات تینوں تحریکوں میں پیش آسکتی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ری ایکشن (Reaction) کی جو تشریح پیش کی ہے، وہ طبِ یونانی اور نظریہ مفرد اعضا کے تناظر میں نہایت جامع اور منطقی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب دوا جسم کے موجودہ مزاج یا تحریک کے برعکس کام کرنے کے بجائے اسی میں شدت پیدا کر دے، تو جسم اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے، تحریک امراض اور علاج ازحکیم قاری …
جسے ہم ‘ری ایکشن’ کہتے ہیں۔
ری ایکشن کی اصل وجہ: مزاجی تصادم
طبِ مشرق کے مطابق، انسانی جسم چار اخلاط (خون، بلغم، صفرا، سودا) کے توازن کا نام ہے۔ ری

ایکشن تب ہوتا ہے جب معالج مرض کی تشخیص میں غلطی کرے:
غلط خلط کا اضافہ: اگر جسم میں پہلے ہی 'گرمی' (صفرا) بڑھی ہوئی ہے اور دوا بھی گرم مزاج کی دے دی جائے، تو یہ "آگ پر تیل" کا کام کرے گی۔
طبیعت کی مدافعت: انسانی طبیعت (Immunity) جب دیکھتی ہے کہ آنے والی دوا اسے ٹھیک کرنے کے بجائے بگاڑ کی طرف لے جا رہی ہے، تو وہ اسے باہر نکالنے کی کوشش کرتی ہے، جس سے پسینے، جھٹکے یا بے ہوشی کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
ایلوپیتھی اور دیسی طریقہ علاج کا فرق
آپ نے ایک بہت اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ایلوپیتھی میں ری ایکشن زیادہ کیوں محسوس ہوتے ہیں:
| پہلو | ایلو پیتھک طریقہ علاج | دیسی/یونانی طریقہ علاج |
| | بنیاد | علامات کو دبانا (Symptomatic) | مزاج کی اصلاح (Constitutional) |
| پرہیز (غذا) | عام طور پر کوئی خاص قید نہیں ہوتی۔ | غذا کو ‘دوا’ کے برابر اہمیت دی جاتی ہے۔ |
| ردِ عمل | کیمیائی اجزاء کا فوری اثر اور سائیڈ ایفیکٹ۔ | اگر مزاج کے مطابق ہو تو شفاء، ورنہ سست ردِ عمل۔ |
تین تحریکیں اور ری ایکشن کا نظام
جیسا کہ آپ نے ذکر کیا، ری ایکشن کا تعلق تینوں تحریکوں (اعصابی، عضلاتی، غدی) سے ہو سکتا ہے:
- اعصابی (Phlegmatic): اگر رطوبت پہلے ہی زیادہ ہے اور مزید سرد دوا دی جائے تو جسم منجمد ہونے لگتا ہے (ٹھنڈے پسینے آنا)۔
- عضلاتی (Dry/Acidic): اگر خشکی کے مریض کو خشک دوا دی جائے تو قبض، بے چینی اور دل کی دھڑکن بڑھ سکتی ہے۔
- غدی (Bilious/Hot): اگر گرمی کے مریض کو گرم دوا دی جائے تو بلڈ پریشر کا بڑھنا یا جلد پر خارش جیسے ردِ عمل سامنے آتے ہیں۔
نکتہ: دیسی علاج میں “پرہیز” دراصل دوا کے اثر کو جسم کے مزاج کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا نام ہے تاکہ دوا بوجھ نہ بنے۔
آپ کا یہ تجزیہ معالجین کے لیے ایک بہترین یاد دہانی ہے کہ “علاج بالضد” (اپوزٹ مزاج سے علاج) ہی اصل شفاء ہے، نہ کہ مرض کی کیفیت میں مزید اضافہ کرنا۔