
کڑل، پٹھوں کا کھچاؤ
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
نسخہ کے اجزاء:
“حب السلاطین مدبر: 5 گرام”
شنگرف مدبر: 10 گرام”
کچلہ مدبر: 20 گرام”
“رائی عمدہ: 50 گرام”
ترکیب و تیاری:
- اول حب السلاطین اور شنگرف کو کھرل کریں، یہ لئی (پیسٹ) بن جائے گا۔
- اس کے بعد رائی اور کچلہ کو الگ الگ پیس لیں۔
- اب سب کو مکس کر کے اچھی طرح کھرل کریں تاکہ یکجان ہو جائیں۔
- ایک ایک قطرہ سادہ پانی ڈال کر کھرل کرتے جائیں۔ جب گولیاں بنانے کے قابل ہو جائیں تو اس میں دو چمچ سرسوں کا خالص تیل مکس کریں۔
- ایک دودھ والی شاپر کو بھی سرسوں کے تیل سے تر کر کے اس میں یہ سفوف ڈال کر اچھی طرح گوندھ لیں۔
- اس کے بعد سیاہ مرچ کے برابر گولیاں بنا لیں۔ مقدارِ خوراک:
ایک سے دو گولی رات کو سوتے وقت عرقِ سونف یا عرقِ اجوائن کے ساتھ استعمال کرائیں۔آپ کا

فراہم کردہ نسخہ نظریہ مفرد اعضاء کے اصولوں کے مطابق ایک انتہائی طاقتور محرک اور مقوی نسخہ معلوم ہوتا ہے۔ اس میں شامل اجزاء اعصابی دردوں اور عضلاتی کمزوری کے لیے بہت شہرت رکھتے ہیں۔
ذیل میں اس نسخہ کے مفصل فوائد، اجزاء کی انفرادی خصوصیات اور ضروری احتیاطی تدابیر درج ہیں:
نسخہ کے مجموعی فوائد
یہ نسخہ جسم میں حرارت پیدا کرتا ہے اور خون کی گردش کو ان اعضاء کی طرف موڑتا ہے جہاں سردی یا خشکی کی وجہ سے انجماد (Rigor) پیدا ہو چکا ہو۔

عضلاتی کھچاؤ (Muscle Cramps): ٹانگوں کے کڑل (Cramps) اور پٹھوں کی سختی کو ختم کرتا ہے۔
اعصابی امراض: فالج، لقوہ اور رعشہ جیسے امراض میں اعصاب کو تحریک دے کر انہیں دوبارہ فعال کرنے میں مدد دیتا ہے۔
جوڑوں کا درد: گٹھیا (Gout)، جوڑوں کی سوزش اور مہروں کے درد کے لیے مفید ہے۔
عرق النساء (Sciatica): کولہے سے پاؤں تک جانے والے درد میں فوری ریلیف فراہم کرتا ہے۔
مقویِ باہ: یہ نسخہ اعصابی کمزوری کو دور کر کے جسمانی قوت میں اضافہ کرتا ہے۔

اجزاء کے الگ الگ فوائد
1. حب السلاطین مدبر (Jamalgota - Purified)
فائدہ: یہ ایک شدید مسہل (Laxative) ہے۔ مدبر حالت میں یہ آنتوں کے زہریلے مادوں کو خارج کرتا ہے اور جگر کو متحرک کرتا ہے۔ یہ خون کے دباؤ کو اعصاب سے ہٹا کر عضلات کی طرف منتقل کرنے میں مدد دیتا ہے۔
2. شنگرف مدبر (Cinnabar - Purified)
فائدہ: شنگرف پارہ اور گندھک کا مرکب ہے۔ یہ حرارتِ غریزی کو ابھارتا ہے، خون پیدا کرتا ہے اور بدن میں طاقت بھر دیتا ہے۔ یہ خاص طور پر فالج اور اعصابی کمزوری کے مریضوں کے لیے اکسیر" کا درجہ رکھتا ہے۔
3. کچلہ مدبر (Nux Vomica - Purified)
فائدہ: کچلہ نظامِ عصبی (Nervous System) کا سب سے بڑا محرک ہے۔ یہ سست پڑے ہوئے پٹھوں میں جان ڈالتا ہے اور مہروں کے درد کو ختم کرتا ہے۔ اس کا استعمال پٹھوں کی گرفت (Grip) کو مضبوط بناتا ہے۔
4. رائی عمدہ (Mustard Seeds)
فائدہ: رائی جاذب اور محللِ ورم (Anti-inflammatory) ہے۔ یہ جسم سے فاسد ریاح (گیس) کو خارج کرتی ہے اور خون کی نالیوں کو کھول کر دورانِ خون بہتر بناتی ہے۔
احتیاطی تدابیر (انتہائی اہم)
یہ نسخہ جتنا مفید ہے، بے احتیاطی کی صورت میں اتنا ہی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے:
- زہریلے اجزاء: کچلہ، شنگرف اور حب السلاطین تینوں زہریلے (Poisonous) اثرات رکھتے ہیں۔ اگر ان کی صفائی (مدبر کرنے کا عمل) درست نہ ہو تو یہ الٹی، اسہال، اور شدید بے چینی کا سبب بن سکتے ہیں۔
- خالی پیٹ استعمال نہ کریں: ان گولیوں کو ہمیشہ کھانا کھانے کے بعد یا دودھ/عرق کے ساتھ لیں، کبھی بھی خالی پیٹ استعمال نہ کریں۔
- بلڈ پریشر اور گرم مزاج: جن لوگوں کا بلڈ پریشر بہت زیادہ ہائی رہتا ہو یا جن کا مزاج شدید گرم (صفراوی) ہو، وہ اسے ہرگز استعمال نہ کریں۔
- حمل اور دودھ پلانے والی خواتین: ایسی خواتین کے لیے یہ نسخہ ممنوع ہے۔
- پانی کا زیادہ استعمال: ان ادویات کے استعمال کے دوران پانی، دودھ یا عرقِ سونف کا استعمال زیادہ رکھیں تاکہ جسم میں خشکی پیدا نہ ہو۔
مرتب کردہ:
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو سعد طبیہ کالج – سعد ورچوئل سکلز پاکستان
- اجزاء کو مدبر (Purify) کرنے کے طریقےحب السلاطین (جمال گوٹا) کو مدبر کرنا: اس کے بیجوں کو چھیل کر اندر سے سفید مغز نکال لیا جاتا ہے۔ اس مغز کے درمیان ایک باریک سا پتا (Embryo) ہوتا ہے جسے نکالنا لازمی ہے کیونکہ وہی اصل زہر ہے۔ اس کے بعد مغز کو ململ کے کپڑے میں باندھ کر پوٹلی بنا لیں اور اسے دودھ میں لٹکا کر (Dola Yantra) ابالیں، یہاں تک کہ اس کا تیل نکل جائے اور وہ مصلح ہو جائے۔شنگرف کو مدبر کرنا: شنگرف کو عام طور پر “ادرک کے پانی” یا “لیموں کے رس” میں کھرل کیا جاتا ہے۔ اسے کئی گھنٹوں تک مسلسل کھرل کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ بالکل باریک غبار کی طرح ہو جائے اور اس کی چمک ختم ہو جائے۔کچلہ کو مدبر کرنا: کچلہ کے بیجوں کو سات دن تک تازہ دودھ یا پانی میں بھگو کر رکھا جاتا ہے (روزانہ دودھ/پانی بدلا جاتا ہے)۔ جب وہ نرم ہو جائیں تو ان کا چھلکا اتار کر اندر سے باریک پتا نکال دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے دیسی گھی میں ہلکا براؤن (بریاں) کیا جاتا ہے تاکہ وہ پسنے کے قابل ہو جائے۔2. دورانِ علاج ضروری پرہیز (Dietary Precautions)چونکہ یہ نسخہ مزاجاً گرم اور خشک ہے، اس لیے اس کے استعمال کے دوران خوراک کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے:ان چیزوں سے بچیں:ترش اور کھٹی اشیاء (اچار، دہی، لیموں، املی)۔بادی اور ثقیل غذائیں (بڑا گوشت، چاول، دال ماش، آلو، گوبھی)۔انتہائی ٹھنڈا پانی یا برف کا استعمال۔ان چیزوں کا استعمال بڑھائیں:دیسی گھی اور مکھن (تاکہ جسم میں خشکی نہ ہو)۔بکری یا مرغی کی یخنی۔نیم گرم دودھ (رات کو سونے سے پہلے)۔مربہ ہریڑ یا مربہ بہی۔3. مرتب کردہحکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو سعد طبیہ کالج – سعد ورچوئل سکلز پاکستان