
طبِ فطرت کا پیغام: صحت، حکمت اور خدمتِ خلق
تحریر: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
میرے عزیز ہم وطنو اور طالبانِ علم!
تندرستی ہزار نعمت ہے، اور اس نعمت کی حفاظت کا علم حاصل کرنا “طب” کہلاتا ہے۔ آج کے اس پُرآشوب دور میں جہاں کیمیکلز اور مصنوعی ادویات نے انسانی جسم کو کھوکھلا کر دیا ہے، وہیں “سعد طبیہ کالج” اور “سعد ورچوئل سکلز” آپ کے لیے فطرت کی طرف واپسی کا ایک نایاب تحفہ لے کر آئے ہیں۔
جو نقشہ (چارٹ) آپ کی نظروں کے سامنے ہے، یہ محض چند لکیریں یا الفاظ نہیں، بلکہ انسانی صحت کا وہ گمشدہ راز ہے جسے سمجھ کر آپ نہ صرف اپنی بلکہ پوری انسانیت کی خدمت کر سکتے ہیں۔
امراض کی جڑ: اخلاط اور مزاج کا بگاڑ
میرے پیارے عزیزوں! یاد رکھو، انسانی جسم چار ستونوں پر کھڑا ہے جنہیں ہم “اخلاطِ اربعہ” کہتے ہیں۔ جیسا کہ آپ چارٹ نمبر 1 میں دیکھ سکتے ہیں:
1 خون (گرم تر): جس کی زیادتی سے سرخی اور جوش پیدا ہوتا ہے۔
2 بلغم (سرد تر): جو سستی اور نزلہ زکام کا باعث ہے۔
3 صفرا (گرم خشک): جو جلن اور غصہ لاتا ہے۔

4 سودا (سرد خشک): جو خوف اور وسوسوں کا گھر ہے۔
ایک حاذق حکیم کی نظر جب ان اخلاط کے توازن پر ہوتی ہے، تب ہی وہ نبض شناس بنتا ہے۔
اعضاء بولتے ہیں!
چارٹ نمبر 2 میں ہم نے واضح کیا ہے کہ بیماری آسمان سے نہیں ٹپکتی، یہ اعضاء کی کمزوری کا نام ہے۔
اگر دماغ کمزور ہو تو بھول اور بے خوابی گھیر لیتی ہے۔
معدہ بگڑ جائے تو گیس اور بدہضمی جینا حرام کر دیتی ہے۔
جگر سست ہو تو چہرے کی رونق پیلاہٹ میں بدل جاتی ہے۔
اور دل کی کمزوری گھبراہٹ کا سبب بنتی ہے۔
ہمارا اصول، جو کہ “قانون مفرد اعضاء” کی روح ہے، یہی سکھاتا ہے کہ بیماری محض خلط کا نام نہیں بلکہ عضو کی کمزوری یا تحریک کا نام ہے۔ جب تک تشخیص درست نہیں ہوگی، علاج تیر تُکے کے سوا کچھ نہیں۔
طبی اصول: دوا سے پہلے غذا
ہمارے ادارے کا نصب العین صاف ہے اور یہی طلبا کے لیے ہمارا سنہری نوٹ بھی ہے: “صحت جسمانی، ذہنی اور روحانی اعتدال کا نام ہے۔”
ہم اپنے شاگردوں کو رٹہ نہیں لگواتے بلکہ یہ اصول سکھاتے ہیں کہ:
دوا سے پہلے غذا کے ذریعے علاج کرو۔
غذا کھانے سے پہلے پرہیز کرنا سیکھو۔
اور یاد رکھو! تشخیص کے بغیر علاج کرنا انسانی جان سے کھیلنے کے مترادف اور خطرناک ہے۔
ایڈوانس کورس: تین ماہ میں حکیم بننے کا سفر
نوجوانوں! اگر آپ اس فن کو سیکھنا چاہتے ہیں تو ہم نے آپ کے لیے 3 ماہ کا ڈپلومہ کورس ترتیب دیا ہے، جو ایک مکمل روڈ میپ ہے:
پہلا ماہ (تشخیص کی گہرائی): اس میں ہم آپ کو قانون مفرد اعضاء مکمل پڑھائیں گے اور اعضاء کا عملی تجزیہ کرنا سکھائیں گے تاکہ آپ نبض اور چہرہ دیکھ کر مرض پہچان سکیں۔
دوسرا ماہ (علاج اور غذا): اس میں معدہ، جگر اور دماغ کے امراض کا تفصیلی مطالعہ ہوگا اور سب سے اہم "غذا بطور دوا" کا استعمال سکھایا جائے گا۔
تیسرا ماہ (کلینیکل پریکٹس): یہ آخری مرحلہ ہے جہاں مرکبات کا تعارف، مریض کو سنبھالنے کا طریقہ (Patient Management) اور عملی کیس اسٹڈی کروائی جائے گی۔
آئیے! “سعد طبیہ کالج” کے ساتھ جڑ کر اس عظیم فن کو سیکھیں اور دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھیں۔ یہ علم ایک صدقہ جاریہ ہے اور رزقِ حلال کا بہترین ذریعہ بھی۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
فقط، دعا گو:
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو