
گنج شائیگاں
انگریزی زبان کے مشہورعلمی مقولر ایک پیس از دی مردان آل مانی امینی بهتر به ام العلوم ہے، کے مطالب و معانی پر جتنا غور کرینگے ۔ اسی قدر اس کی صداقت و وسعت نمایاں ہوتی جائیگی ۔ اور جن خوش نصیب انسانوں کے دماغ بصیرت و عرفان کی روشنی سے بہرہ مند ہیں ۔ وہ اس حقیقت پر بھی غور کرینگے۔ کہ تجربات رمان انسانی میں احساس و شعر اور فہم و ادراک پیدا کرنے کا مفید و موثر ذریعہ ہیں۔ معلومات سے ذہن روشن اور بلیغ ضرور ہو جاتا ہے۔ لیکن جب تک علی تجربات سے تواسے ذہن اور دماغ کی ضروری پرورش اور تہذیب کا حق ادا نہ کیا جائے۔ اس بصیرت و احساس سے بخوبی فائدہ اٹھا لینا مشکل ہے۔
جوں جوں ہم فکر و نظر کےدائرہ کو وسیع کرنے جائینگے ہم پر یہ حقیقت زیادہ صاف اور نمایاں طریق پر منکشف ہوئی جائیگی۔ کہ تجربہ ام العلوم ہے ۔
دنیا کے تمام نظری و علی علوم و معارف اپنے کلیات و مسائل کی تشکیل و ترتیب میں تجربہ کے منون و مرمون ہیں۔ مذاہب و ادیان کی تعلیمات سے قطع نظر کہ وہ تومستقلا دعوت منجر بہ عمل به
گنج شائیگان
تمام ملی تحقیقی معاشی اور اقتصادی علوم وفنون کی خشت اساس میں تجربات ہیں۔ ممکن ہے کہ بعض نظرین اس مسائل کی عمیق و دقیقی کیفیتوں سے کما حقہ آگاہی نہ رکھتے ہوں، اور نہیں محرہ فوق سطور کے مطلب سمجھنے میں وقت ہو لیکن گروہ اس مختصر ہی تمہید کے بعد صرف علم طلب پر ہی غور و تعمق سے نظر ڈا ئینگے تو وہ نمایت ما نے الباب کو منایت آسانی سے سمجھ لینگے۔ اور انہیں صاف نظر آئے گا۔ کتاب کے ایسے عظیم الشان تصمیم الفت علم کا قصر یہ بھی تجربات کی بنیاد حکم پر استوار پایا ہے۔
یان به حقیت وال و وانی کی حال میں اب موجودہ بات ہے۔ اسی طرح ہے۔ نظر یہ ہی اپنی صداقت کے اعتبار سے قابل تردید نہیں کر دیا کے تمام ملی و نظری علوم کا سنگ بنیاد تجربہ ہے۔ مجھے فاضل گیلانی کا یعنی آخرین قول بہت لطف دیتا ہے۔ کہ علوم و معارف نبی آدم کی انسانیت کی تنذیب و تکمیل اور روحانیت کے ارتقاء و استخلاص کا ذریعہ وسیلہ میں اور چونکہ ان کی افادیت روح انسانی کے ان سے متاثر مستعمل ہونے پر موقوف ہے ۔ اور روح انسانی محض نظری چیزوں سے متاثرنہیں ہوتی یا گرمای نوین ایران دبی و امان کی مرضی پوری کرنے ے سے کان نہیں ہوتی اس کاحقیقی تار و افعال مشادات و تجربات سے متعلق ہے لیکن عوام ماری ایک دنیا کے قریبا تمام شہری کیفیات روی انسانی پرتقال پر ڈالتے ہیں۔ ہند ظاہر ہئے ۔ کہ ان اسب کی بنیاد تجربات پر ہے ۔
گرچه به علی محبت سب کچھ قابل توضیح استدلال ہے۔ لیکن اس منفرتوں میں اتنی تفسیر واطناب کی گنجائش نہیں۔ اور مکن ہے بعض طبال پر بے شک فلاسفی ناگوار گزرے۔ صرف و شارات پر ہی اکتفا کرتا ہوں کی رمز شناس کہ ہر نکتہ والے دارد
اس میں شبہ نہیں کہ طب کا دوسرا اور بڑی حدتک صحیح نام تجربہ ہے۔ فن طب کی تعریف میں یہ فقرہ بہت متداول اور شہور ہے الطلب هو القياس الذي يودي على التجريب اور کی تحقیقت طلب قیاس میں اور تجربہ مل کے باہمی التصاق و ارتباط کی پیداوار ہے اگر ایک طرف طب قدیم یا جدید کے کلیات و مسائل نظری اعتبار سے فلسفہ کلام متعلق بہشت رامینی اور طبعیات وغیرہ کے علی افکار و نظریات کے سرمایہ دارہیں۔ جن کی لمانوں نے شیخ الرئیس )