Sunday, February 22, 2026
Home قران و حدیث جنات اور فرشتوں کو ہم کیوں نہیں دیکھ سکتے؟

جنات اور فرشتوں کو ہم کیوں نہیں دیکھ سکتے؟

by admin
جنات اور فرشتوں کو ہم کیوں نہیں دیکھ سکتے؟
جنات اور فرشتوں کو ہم کیوں نہیں دیکھ سکتے؟
جنات اور فرشتوں کو ہم کیوں نہیں دیکھ سکتے؟

جنات اور فرشتوں کو ہم کیوں نہیں دیکھ سکتے؟

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
راقم الحروف ایک معالج و عامل بھی ہے۔عرصہ تین دیہائیوں تک عملیات کے میدان میں آبلہ پائی کا تلخ تجربہ ہے۔یہ ایک طویل داستان ہے لیکن کچھ مشاہدات و تجربات کبھی کبھار قلم کی روانی میں بے اختیار بہہ جاتے ہیں۔
جنات و شیاطین۔فروشتے۔آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں ضروری نہیں جو چیز دکھائی نہ دے اس کا وجود بھی مشکوک ہو۔ہر چیز کی حدود مقرر ہیں۔جو چیزیں قران و حدیث میں بیان کی گئی ہیں ان کا وجود ہے،
یہ مضمون اتنا طویل ہے جس کا احاطہ کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
اس سلسلہ میں راقم الحروف کی کئی کتب قارئین کی تشنہ لبی دور کرچکی ہین
۔جیسے جادو کی تاریخ۔
جادو اور جنات کا طبی علاج
جادو کے تور کے بنیادی قوانین اور ان کا توڑ
عرب و عجم کے مجربات
میرے عملیاتی مجربات۔
آپ کی ضروریات اور ان کا حل
قدماء کے مجربات وغیرہ ۔۔لیکن ہر وقت انسان سیکھتا رہتا ہے۔
کونیاتی مشاہدہ اور مابعد الطبیعیاتی حقائق: جنات، فرشتوں اور حیوانی بصارت کی شرعی و سائنسی تحقیق
انسانی شعور کی تاریخ میں مابعد الطبیعیاتی وجود اور عالمِ غیب ہمیشہ سے ہی فکر و دانش کا محور رہے ہیں۔ مذہب اور سائنس، اگرچہ بظاہر دو الگ الگ مناہجِ فکر معلوم ہوتے ہیں، لیکن کائنات کے اسرار و رموز کو سمجھنے کی تگ و دو میں اکثر ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ اسلامی الہیات میں جنات اور فرشتوں کا تصور محض توہم پرستی نہیں بلکہ ایک ٹھوس ایمانی اور کونیاتی حقیقت ہے جس کی بنیاد وحی الٰہی پر استوار ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ میں ان نادیدہ مخلوقات کے بارے میں جو تفصیلات فراہم کی گئی ہیں، وہ نہ صرف انسانی اخلاقیات اور روحانیت کی تعمیر کرتی ہیں بلکہ جدید بصریات (Optics) اور حیاتیاتی طبیعیات (Biophysics) کے لیے بھی تحقیق کے نئے در وا کرتی ہیں۔ یہ رپورٹ جنات کی حقیقت، انسانی بصارت کی حدود، اور مخصوص جانوروں (مرغ اور گدھے) کی غیر معمولی بصری صلاحیتوں کا شرعی اور سائنسی تناظر میں ایک جامع اور عمیق جائزہ پیش کرتی ہے۔


عالمِ غیب کی حقیقت اور اسلامی الہیات میں جنات کا مقام
اسلامی عقیدے میں غیب (Unseen) پر ایمان لانا ایک بنیادی شرط ہے، جس کا ذکر سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات میں متقین کی صفت کے طور پر کیا گیا ہے 1۔ غیب سے مراد وہ تمام حقائق ہیں جو انسانی حواسِ خمسہ کی رسائی سے باہر ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ذریعے ان کی خبر دی ہے 3۔ اسی نادیدہ دنیا کا ایک اہم حصہ “جنات” ہیں۔ لفظ “جن” عربی زبان کے مادے “ج-ن-ن” سے مشتق ہے، جس کے لغوی معنی چھپنے، پوشیدہ ہونے یا ڈھانپنے کے ہیں۔ اسی مناسبت سے جنات کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ انسانی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔
جنات کی تخلیق کے حوالے سے قرآنِ کریم واضح طور پر بیان فرماتا ہے کہ انہیں “مارج من نار” یعنی آگ کے شعلے یا بے دھواں آگ سے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ مادہ انسان کی مٹی (طین) سے تخلیق کے بالکل برعکس ہے، جو جنات کو ایک لطیف اور توانائی پر مبنی وجود عطا کرتا ہے جنات بھی انسانوں کی طرح صاحبِ ارادہ مخلوق ہیں، جن میں مومن اور کافر، نیک اور بد، دونوں گروہ پائے جاتے ہیں 4۔ ان کی زندگی کے معاملات جیسے کھانا پینا، نکاح، اور موت و زندگی کے مراحل بھی انسانی زندگی سے مماثلت رکھتے ہیں، مگر ان کی کیفیات اور جہتیں مختلف ہیں
جنات کے بارے میں یہ تصور کہ وہ مافوق الفطرت طاقتوں کے مالک ہیں یا غیب کا علم رکھتے ہیں، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں درست نہیں ہے قرآنِ کریم نے واضح کیا ہے کہ غیب کا مطلق علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور جنات بھی اپنی حدود میں مقید ہیں
تاہم، ان کی لطافت اور تیز رفتاری انہیں بعض ایسے کاموں کی قدرت دیتی ہے جو انسانوں کے لیے ناممکن ہیں، لیکن یہ سب اللہ کے اذن اور کونیاتی قوانین کے تابع ہے 10۔


انسانی بصارت کی حدود اور نادیدہ دنیا کا پردہ

یہ سوال کہ “جنات انسانوں کو نظر کیوں نہیں آتے؟” ایک گہرا علمی اور سائنسی سوال ہے۔ اس کا جواب انسانی آنکھ کی ساخت اور برقی مقناطیسی طیف (Electromagnetic Spectrum) کی حدود میں پوشیدہ ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے، انسانی آنکھ صرف ایک بہت ہی محدود بصری پٹی (Visible Spectrum) کو دیکھ سکتی ہے، جو تقریباً 400 سے 700 نینو میٹر (nm) کے درمیان ہوتی ہے 11۔ اس حد سے باہر موجود تمام شعاعیں، جیسے انفراریڈ (Infrared)، الٹرا وائلٹ (Ultraviolet)، ایکس ریز (X-rays)، اور ریڈیو لہریں، انسانی آنکھ کے لیے غیر مرئی ہیں 13۔
اعداد و شمار کے مطابق، انسان پوری کائنات میں موجود برقی مقناطیسی طیف کا صرف 0.0035 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتا ہے، جبکہ 99.9965 فیصد حقیقت ہماری نظروں سے پوشیدہ رہتی ہے 13۔ جنات چونکہ “بے دھواں آگ” سے پیدا کیے گئے ہیں، اس لیے ان کی توانائی کی فریکوئنسی انسانی بصارت کی حد سے باہر واقع ہوتی ہے 6۔ آگ اور تپش کا تعلق براہِ راست انفراریڈ شعاعوں سے ہے، جن کی لہریں طویل ہوتی ہیں اور انسانی ریٹینا (Retina) کے فوٹو ریسیپٹرز (Photoreceptors) انہیں جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے 13۔
انسانی ریٹینا اور بصری میکانزم
انسانی آنکھ میں دو طرح کے خلیات ہوتے ہیں: راڈز (Rods) اور کونز (Cones)۔ کونز رنگوں کی پہچان کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ راڈز کم روشنی میں دیکھنے میں مدد دیتے ہیں 16۔ انسانوں میں تین طرح کے کونز پائے جاتے ہیں جو سرخ، سبز اور نیلے رنگوں کے لیے حساس ہوتے ہیں 17۔ چونکہ جنات اور فرشتوں کا وجود ان لہروں پر مشتمل ہے جن کے لیے ہمارے پاس کوئی مخصوص کون (Cone) موجود نہیں ہے، اس لیے وہ ہمارے سامنے موجود ہونے کے باوجود ہمیں نظر نہیں آتے 13۔ یہ ایک طرح کا حیاتیاتی پردہ ہے جسے قرآن نے “حجاب” یا “برزخ” سے تعبیر کیا ہے، جو ہمیں اس وقت تک ان مخلوقات کے براہِ راست مشاہدے سے روکتا ہے جب تک کہ کوئی معجزاتی تبدیلی نہ ہو یا موت کے بعد بصارت کی حدیں تبدیل نہ کر دی جائیں 19۔
ذیل میں دیا گیا جدول انسانی بصارت اور برقی مقناطیسی لہروں کے درمیان تعلق کو واضح کرتا ہے:
لہروں کی قسم طولِ موج (Wavelength) انسانی بصارت کا درجہ ممکنہ مابعد الطبیعیاتی ربط
الٹرا وائلٹ (UV) < 400 nm غیر مرئی فرشتوں کا وجود (نور) مرئی روشنی (Visible) 400 – 700 nm مکمل مرئی مادی دنیا اور انسان انفراریڈ (IR) > 750 nm غیر مرئی جنات کا وجود (نار)
ایکس ریز / گاما ریز انتہائی مختصر غیر مرئی تابکار توانائیاں
مرغ اور فرشتوں کا مشاہدہ:https://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D9%85%D8%B1%D8%BA-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%A7%D9%86%DA%AF-%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D9%88%D8%AC%DB%81-%D9%81%D8%B1%D8%B4%D8%AA%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7-%DB%81%DB%92/27-03-2019 ایک سائنسی و شرعی تجزیہ


بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو، کیونکہ اس نے فرشتے کو دیکھا ہے” 15۔ یہ فرمانِ نبوی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مرغ کے بصری نظام میں کچھ ایسی خصوصیات موجود ہیں جو اسے فرشتوں کی نورانی تجلیات کو دیکھنے کے قابل بناتی ہیں۔
فرشتے “نور” سے پیدا کیے گئے ہیں 4۔ جدید طبیعیات میں نور یا روشنی کی وہ لہریں جو سب سے زیادہ توانائی کی حامل ہوتی ہیں، الٹرا وائلٹ (UV) طیف میں آتی ہیں 13۔ انسانی آنکھ ان شعاعوں کو نہیں دیکھ سکتی، لیکن مرغ (اور دیگر پرندے) اپنی آنکھ کی مخصوص ساخت کی وجہ سے ان کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں 16۔
مرغ کی آنکھ کی انوکھی ساخت
سائنسی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ مرغ “ٹیٹرا کرومیٹک” (Tetrachromatic) ہوتے ہیں، یعنی ان کی آنکھ میں چار طرح کے کونز (Cones) پائے جاتے ہیں، جبکہ انسانوں میں صرف تین ہوتے ہیں 22۔ یہ چوتھا کون خاص طور پر الٹرا وائلٹ شعاعوں کو محسوس کرنے کے لیے ہوتا ہے 17۔ اس کے علاوہ، مرغ کی آنکھ میں رنگین تیل کے قطرے (Oil Droplets) ہوتے ہیں جو فلٹر کا کام کرتے ہیں اور انہیں رنگوں کے ایسے شیڈز دکھاتے ہیں جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا 17۔
مرغ کا بانگ دینا محض ایک بے معنی آواز نہیں ہے، بلکہ اس کے حیاتیاتی نظام کا ایک ردِعمل ہے جو الٹرا وائلٹ فریکوئنسی میں آنے والی تبدیلیوں کو محسوس کرتا ہے 23۔ چونکہ فرشتے نورانی وجود رکھتے ہیں اور ان کی فریکوئنسی الٹرا وائلٹ رینج میں واقع ہو سکتی ہے، اس لیے مرغ انہیں دیکھ کر آواز نکالتا ہے 20۔ شریعت نے اس وقت دعا کی ترغیب اس لیے دی ہے کہ فرشتوں کی موجودگی میں رحمتِ الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور دعاؤں کی قبولیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں 20۔
مرغ کی بصری صلاحیتوں کا انسانی آنکھ سے موازنہ درج ذیل ہے:
خصوصیت انسانی آنکھ مرغ کی آنکھ
بصری خلیات (Cones) 3 اقسام 4 اقسام
الٹرا وائلٹ حساسیت نہیں ہاں (UV-A)
بصری فیلڈ 180 ڈگری 300 ڈگری
رنگوں کا تنوع محدود (Trichromatic) وسیع (Tetrachromatic)
حرکت کا ادراک نارمل انتہائی تیز (Double Cones کی وجہ سے)
گدھے اور شیاطین کا مشاہدہ: انفراریڈ اور تھرمل بصارت
حدیثِ نبوی کے مطابق: “جب تم گدھے کے رینگنے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے” 15۔ اس حدیث کی سائنسی توضیح جنات کی تخلیقی بنیاد “آگ” (Heat/Energy) میں تلاش کی جا سکتی ہے۔ شیاطین، جو کہ سرکش جنات ہیں، اپنی فطرت میں حرارتی توانائی کے حامل ہوتے ہیں، اور یہ توانائی انفراریڈ (Infrared) شعاعوں کی شکل میں خارج ہوتی ہے 13۔
گدھے کا بصری نظام انسانوں سے مختلف ہے اور اس میں رات کے وقت دیکھنے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے 25۔ گدھے کی آنکھ میں راڈ ٹشوز (Rod Tissues) کی تعداد انسانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اندھیرے میں بھی باریک ترین سائے اور حرارتی لہروں کو محسوس کر سکتا ہے 25۔
ڈاکٹر ہشام احمد طاہا کی تحقیق
مصری طبیب ڈاکٹر ہشام احمد طاہا کی تحقیق کے مطابق، گدھا اور کتا ان جانوروں کی فہرست میں شامل ہیں جو انفراریڈ شعاعوں کو دیکھ سکتے ہیں 15۔ انفراریڈ لہریں 750 نینو میٹر سے لے کر 1 ملی میٹر تک کے طولِ موج پر مشتمل ہوتی ہیں 15۔ چونکہ شیاطین کی مادی بنیاد حرارت ہے، اس لیے ان کی موجودگی سے اردگرد کے ماحول میں انفراریڈ لہروں کا ارتکاز بڑھ جاتا ہے 13۔ گدھا ان لہروں کو دیکھ کر خوفزدہ ہوتا ہے اور بے چینی میں آواز نکالتا ہے 15۔
اس لمحے اللہ کی پناہ مانگنا اس لیے ضروری ہے کہ شیطان کا مشاہدہ انسان کے لیے پریشانی یا برے اثرات کا باعث بن سکتا ہے 15۔ سائنسی طور پر یہ بھی ثابت ہے کہ گدھے کی آنکھیں “مونو ویژن” اور “بائی نوکولر ویژن” دونوں کا امتزاج ہیں، جس کی وجہ سے وہ بیک وقت مختلف سمتوں میں حرکات کو بھانپ لیتا ہے 16۔
گدھے اور گھوڑے کے بصری نظام کی اہم خصوصیات درج ذیل جدول میں دیکھی جا سکتی ہیں:
عنصر انسانی نظام گدھے کا نظام
راڈز اور کونز کا تناسب 9:1 20:1
انفراریڈ حساسیت محدود (صرف مخصوص حالات میں) زیادہ (ثابت شدہ تھرمل حساسیت)
رات کی بصارت کمزور انتہائی طاقتور (Scoptopic Vision)
رنگوں کی پہچان 3 بنیادی رنگ 2 رنگ (بلیو اور یلو-گرین)
حرکت کا سراغ اوسط انتہائی حساس (تیز رفتار ردِعمل)
بصارت کا پردہ اور “برزخ” کی مابعد الطبیعیاتی حکمت
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کیا ہے، اور اس کے لیے ایک مخصوص ماحول فراہم کیا ہے 1۔ اگر انسان کے لیے نادیدہ دنیا کے تمام پردے اٹھا دیے جاتے، تو اس کی زندگی ایک مسلسل اضطراب اور خوف کا شکار ہو جاتی 18۔ سورہ اعراف کی آیت 27 میں بیان کیا گیا ہے کہ شیطان اور اس کا قبیلہ ہمیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے 7۔ یہ ایک طرفہ بصارت (Asymmetrical Vision) انسان کے لیے ایک امتحان بھی ہے اور تحفظ بھی 1۔
شرعی اعتبار سے، یہ “حجاب” یا پردہ اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے 18۔ اگر ہمیں ہر وقت اپنے گرد موجود لاکھوں جنات اور فرشتے نظر آتے، تو انسانی حواس اس بوجھ کو برداشت نہ کر سکتے 18۔ حیاتیاتی طور پر، یہ حجاب ہمارے ریٹینا کی لہروں کو جذب کرنے کی محدود صلاحیت کے طور پر ظاہر ہوتا ہے 13۔ صوفیاء اور علماء کے نزدیک، جب انسان ذکر و اذکار اور روحانی صفائی کے ذریعے “احسان” کے درجے پر فائز ہوتا ہے، تو بعض اوقات اس کے لیے بصارت کے یہ پردے لطیف ہو جاتے ہیں، اور وہ ان حقائق کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے جنہیں عام انسان نہیں دیکھ سکتے 19۔
ٹو-فوٹون وژن (Two-Photon Vision) کا سائنسی نظریہ
جدید سائنس نے ایک حیرت انگیز دریافت یہ کی ہے کہ انسانی آنکھ، اگرچہ براہِ راست انفراریڈ کو نہیں دیکھ سکتی، لیکن خاص حالات میں جب انفراریڈ لیزر کے دو فوٹونز ایک ساتھ ریٹینا کے پگمنٹ سے ٹکراتے ہیں، تو آنکھ کو “روشنی” کا احساس ہوتا ہے 12۔ اسے “ٹو-فوٹون وژن” کہا جاتا ہے 12۔ یہ سائنسی حقیقت اس بات کا امکان ظاہر کرتی ہے کہ اگر کسی نادیدہ وجود (جیسے جن) کی توانائی کی شدت بہت زیادہ ہو جائے، تو وہ انسانی آنکھ کے بصری نظام میں ایک لمحاتی ردِعمل پیدا کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کو کوئی سایہ یا روشنی نظر آتی ہے 13۔
جنات اور انسانی بصارت کے درمیان سائنسی و شرعی تطبیق
جنات کا انسانی آنکھ سے اوجھل ہونا ان کی مادی ساخت (آگ/توانائی) اور انسان کی بصری حدود (محدود طیف) کا لازمی نتیجہ ہے 7۔ شریعت نے ہمیں ان نادیدہ مخلوقات سے ڈرنے کے بجائے اللہ کی پناہ میں آنے کی تعلیم دی ہے 9۔ جنات کے بارے میں مختلف افکار پائے جاتے ہیں، لیکن معتبر رائے یہی ہے کہ وہ ایک مستقل مخلوق ہیں جن کا اپنا ایک جہان ہے 4۔
مرغ کا فرشتوں کو دیکھنا اور گدھے کا شیطان کو دیکھنا اب محض “عقیدہ” نہیں رہا، بلکہ جدید بصریات اور بائیو فزکس کے اصولوں کے عین مطابق ہے 15۔ جانوروں کے بصری نظام کی وسعت (Ultraviolet اور Infrared sensitivity) ثابت کرتی ہے کہ کائنات کا ایک بہت بڑا حصہ وہ ہے جسے ہم دیکھ نہیں سکتے لیکن دوسرے جاندار اسے دیکھ رہے ہیں 15۔
جامع تقابلی جائزہ
درج ذیل جدول میں جنات، فرشتوں اور انسانی بصارت کے فرق کو جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے:
مخلوق مادہِ تخلیق بصری طیف (فرضی) انسانی تعلق حیوانی مشاہدہ
انسان مٹی (مادہ) 400 – 700 nm مرئی اور ٹھوس عام مشاہدہ
جنات آگ (توانائی) انفراریڈ رینج غیر مرئی (پردہ) گدھا، کتا
فرشتے نور (روشنی) الٹرا وائلٹ رینج غیر مرئی (حجاب) مرغ
مستقبل کے تناظر اور سائنسی امکانات
جیسے جیسے سائنس ترقی کر رہی ہے، نادیدہ دنیا کے اسرار کھلتے جا رہے ہیں۔ آج ہم نائٹ ویژن گوگلز (Night Vision Goggles) اور تھرمل کیمروں کے ذریعے وہ دنیا دیکھ سکتے ہیں جو گدھے اور کتے کو نظر آتی ہے 11۔ الٹرا وائلٹ کیمروں کے ذریعے ہم وہ دنیا دیکھ سکتے ہیں جو مرغ کو نظر آتی ہے 17۔ یہ ایجادات دراصل ان احادیث کی عملی سائنسی تصدیق ہیں جو چودہ سو سال پہلے بیان کی گئی تھیں 15۔
مستقبل میں شاید ایسی ٹیکنالوجی عام ہو جائے جو انسانی بصارت کو انفراریڈ اور الٹرا وائلٹ طیف تک پھیلا دے، لیکن اس کے باوجود مابعد الطبیعیاتی وجود کی حقیقت اپنی جگہ قائم رہے گی، کیونکہ روح اور نورانی لطافت کے تمام پہلو صرف طبیعیاتی قوانین کے محتاج نہیں ہیں 18۔ انسان کے لیے اصل کامیابی اس نادیدہ دنیا کے مشاہدے میں نہیں، بلکہ اس غیب کے رب پر ایمان لانے اور اس کی مخلوقات کے شر سے پناہ مانگنے میں ہے 1۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جنات اور فرشتوں کا وجود ایک مسلمہ حقیقت ہے جس کی جڑیں قرآن و سنت میں پیوست ہیں 4۔ انسانی بصارت کی محدودیت اللہ کی حکمت ہے، جبکہ مخصوص جانوروں کی غیر معمولی بصارت اس کائنات کی وسعت اور تنوع کا ثبوت ہے 15۔ سائنس اور دین کا یہ سنگم ہمیں اس عظیم خالق کی طرف لے جاتا ہے جس نے کائنات کی ہر شے کو ایک تناسب اور ترتیب کے ساتھ پیدا کیا ہے 2۔

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
راقم الحروف ایک معالج و عامل بھی ہے۔عرصہ تین دیہائیوں تک عملیات کے میدان میں آبلہ پائی کا تلخ تجربہ ہے۔یہ ایک طویل داستان ہے لیکن کچھ مشاہدات و تجربات کبھی کبھار قلم کی روانی میں بے اختیار بہہ جاتے ہیں۔
جنات و شیاطین۔فروشتے۔آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں ضروری نہیں جو چیز دکھائی نہ دے اس کا وجود بھی مشکوک ہو۔ہر چیز کی حدود مقرر ہیں۔جو چیزیں قران و حدیث میں بیان کی گئی ہیں ان کا وجود ہے،
یہ مضمون اتنا طویل ہے جس کا احاطہ کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
اس سلسلہ میں راقم الحروف کی کئی کتب قارئین کی تشنہ لبی دور کرچکی ہین
۔جیسے جادو کی تاریخ۔
جادو اور جنات کا طبی علاج
جادو کے تور کے بنیادی قوانین اور ان کا توڑ
عرب و عجم کے مجربات
میرے عملیاتی مجربات۔
آپ کی ضروریات اور ان کا حل
قدماء کے مجربات وغیرہ ۔۔لیکن ہر وقت انسان سیکھتا رہتا ہے۔
کونیاتی مشاہدہ اور مابعد الطبیعیاتی حقائق: جنات، فرشتوں اور حیوانی بصارت کی شرعی و سائنسی تحقیق
انسانی شعور کی تاریخ میں مابعد الطبیعیاتی وجود اور عالمِ غیب ہمیشہ سے ہی فکر و دانش کا محور رہے ہیں۔ مذہب اور سائنس، اگرچہ بظاہر دو الگ الگ مناہجِ فکر معلوم ہوتے ہیں، لیکن کائنات کے اسرار و رموز کو سمجھنے کی تگ و دو میں اکثر ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔ اسلامی الہیات میں جنات اور فرشتوں کا تصور محض توہم پرستی نہیں بلکہ ایک ٹھوس ایمانی اور کونیاتی حقیقت ہے جس کی بنیاد وحی الٰہی پر استوار ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ میں ان نادیدہ مخلوقات کے بارے میں جو تفصیلات فراہم کی گئی ہیں، وہ نہ صرف انسانی اخلاقیات اور روحانیت کی تعمیر کرتی ہیں بلکہ جدید بصریات (Optics) اور حیاتیاتی طبیعیات (Biophysics) کے لیے بھی تحقیق کے نئے در وا کرتی ہیں۔ یہ رپورٹ جنات کی حقیقت، انسانی بصارت کی حدود، اور مخصوص جانوروں (مرغ اور گدھے) کی غیر معمولی بصری صلاحیتوں کا شرعی اور سائنسی تناظر میں ایک جامع اور عمیق جائزہ پیش کرتی ہے۔
عالمِ غیب کی حقیقت اور اسلامی الہیات میں جنات کا مقام
اسلامی عقیدے میں غیب (Unseen) پر ایمان لانا ایک بنیادی شرط ہے، جس کا ذکر سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات میں متقین کی صفت کے طور پر کیا گیا ہے 1۔ غیب سے مراد وہ تمام حقائق ہیں جو انسانی حواسِ خمسہ کی رسائی سے باہر ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ذریعے ان کی خبر دی ہے 3۔ اسی نادیدہ دنیا کا ایک اہم حصہ “جنات” ہیں۔ لفظ “جن” عربی زبان کے مادے “ج-ن-ن” سے مشتق ہے، جس کے لغوی معنی چھپنے، پوشیدہ ہونے یا ڈھانپنے کے ہیں۔ اسی مناسبت سے جنات کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ انسانی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔
جنات کی تخلیق کے حوالے سے قرآنِ کریم واضح طور پر بیان فرماتا ہے کہ انہیں “مارج من نار” یعنی آگ کے شعلے یا بے دھواں آگ سے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ مادہ انسان کی مٹی (طین) سے تخلیق کے بالکل برعکس ہے، جو جنات کو ایک لطیف اور توانائی پر مبنی وجود عطا کرتا ہے جنات بھی انسانوں کی طرح صاحبِ ارادہ مخلوق ہیں، جن میں مومن اور کافر، نیک اور بد، دونوں گروہ پائے جاتے ہیں 4۔ ان کی زندگی کے معاملات جیسے کھانا پینا، نکاح، اور موت و زندگی کے مراحل بھی انسانی زندگی سے مماثلت رکھتے ہیں، مگر ان کی کیفیات اور جہتیں مختلف ہیں
جنات کے بارے میں یہ تصور کہ وہ مافوق الفطرت طاقتوں کے مالک ہیں یا غیب کا علم رکھتے ہیں، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں درست نہیں ہے قرآنِ کریم نے واضح کیا ہے کہ غیب کا مطلق علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور جنات بھی اپنی حدود میں مقید ہیں
تاہم، ان کی لطافت اور تیز رفتاری انہیں بعض ایسے کاموں کی قدرت دیتی ہے جو انسانوں کے لیے ناممکن ہیں، لیکن یہ سب اللہ کے اذن اور کونیاتی قوانین کے تابع ہے 10۔
انسانی بصارت کی حدود اور نادیدہ دنیا کا پردہ
یہ سوال کہ “جنات انسانوں کو نظر کیوں نہیں آتے؟” ایک گہرا علمی اور سائنسی سوال ہے۔ اس کا جواب انسانی آنکھ کی ساخت اور برقی مقناطیسی طیف (Electromagnetic Spectrum) کی حدود میں پوشیدہ ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے، انسانی آنکھ صرف ایک بہت ہی محدود بصری پٹی (Visible Spectrum) کو دیکھ سکتی ہے، جو تقریباً 400 سے 700 نینو میٹر (nm) کے درمیان ہوتی ہے 11۔ اس حد سے باہر موجود تمام شعاعیں، جیسے انفراریڈ (Infrared)، الٹرا وائلٹ (Ultraviolet)، ایکس ریز (X-rays)، اور ریڈیو لہریں، انسانی آنکھ کے لیے غیر مرئی ہیں 13۔
اعداد و شمار کے مطابق، انسان پوری کائنات میں موجود برقی مقناطیسی طیف کا صرف 0.0035 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتا ہے، جبکہ 99.9965 فیصد حقیقت ہماری نظروں سے پوشیدہ رہتی ہے 13۔ جنات چونکہ “بے دھواں آگ” سے پیدا کیے گئے ہیں، اس لیے ان کی توانائی کی فریکوئنسی انسانی بصارت کی حد سے باہر واقع ہوتی ہے 6۔ آگ اور تپش کا تعلق براہِ راست انفراریڈ شعاعوں سے ہے، جن کی لہریں طویل ہوتی ہیں اور انسانی ریٹینا (Retina) کے فوٹو ریسیپٹرز (Photoreceptors) انہیں جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے 13۔
انسانی ریٹینا اور بصری میکانزم
انسانی آنکھ میں دو طرح کے خلیات ہوتے ہیں: راڈز (Rods) اور کونز (Cones)۔ کونز رنگوں کی پہچان کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ راڈز کم روشنی میں دیکھنے میں مدد دیتے ہیں 16۔ انسانوں میں تین طرح کے کونز پائے جاتے ہیں جو سرخ، سبز اور نیلے رنگوں کے لیے حساس ہوتے ہیں 17۔ چونکہ جنات اور فرشتوں کا وجود ان لہروں پر مشتمل ہے جن کے لیے ہمارے پاس کوئی مخصوص کون (Cone) موجود نہیں ہے، اس لیے وہ ہمارے سامنے موجود ہونے کے باوجود ہمیں نظر نہیں آتے 13۔ یہ ایک طرح کا حیاتیاتی پردہ ہے جسے قرآن نے “حجاب” یا “برزخ” سے تعبیر کیا ہے، جو ہمیں اس وقت تک ان مخلوقات کے براہِ راست مشاہدے سے روکتا ہے جب تک کہ کوئی معجزاتی تبدیلی نہ ہو یا موت کے بعد بصارت کی حدیں تبدیل نہ کر دی جائیں ۔
ذیل میں دیا گیا جدول انسانی بصارت اور برقی مقناطیسی لہروں کے درمیان تعلق کو واضح کرتا ہے:
لہروں کی قسم طولِ موج (Wavelength) انسانی بصارت کا درجہ ممکنہ مابعد الطبیعیاتی ربط
الٹرا وائلٹ (UV) < 400 nm غیر مرئی فرشتوں کا وجود (نور) مرئی روشنی (Visible) 400 – 700 nm مکمل مرئی مادی دنیا اور انسان انفراریڈ (IR) > 750 nm غیر مرئی جنات کا وجود (نار)
ایکس ریز / گاما ریز انتہائی مختصر غیر مرئی تابکار توانائیاں
مرغ اور فرشتوں کا مشاہدہ: ایک سائنسی و شرعی تجزیہ
بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو، کیونکہ اس نے فرشتے کو دیکھا ہے” 15۔ یہ فرمانِ نبوی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مرغ کے بصری نظام میں کچھ ایسی خصوصیات موجود ہیں جو اسے فرشتوں کی نورانی تجلیات کو دیکھنے کے قابل بناتی ہیں۔
فرشتے “نور” سے پیدا کیے گئے ہیں 4۔ جدید طبیعیات میں نور یا روشنی کی وہ لہریں جو سب سے زیادہ توانائی کی حامل ہوتی ہیں، الٹرا وائلٹ (UV) طیف میں آتی ہیں 13۔ انسانی آنکھ ان شعاعوں کو نہیں دیکھ سکتی، لیکن مرغ (اور دیگر پرندے) اپنی آنکھ کی مخصوص ساخت کی وجہ سے ان کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں 16۔
مرغ کی آنکھ کی انوکھی ساخت
سائنسی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ مرغ “ٹیٹرا کرومیٹک” (Tetrachromatic) ہوتے ہیں، یعنی ان کی آنکھ میں چار طرح کے کونز (Cones) پائے جاتے ہیں، جبکہ انسانوں میں صرف تین ہوتے ہیں 22۔ یہ چوتھا کون خاص طور پر الٹرا وائلٹ شعاعوں کو محسوس کرنے کے لیے ہوتا ہے 17۔ اس کے علاوہ، مرغ کی آنکھ میں رنگین تیل کے قطرے (Oil Droplets) ہوتے ہیں جو فلٹر کا کام کرتے ہیں اور انہیں رنگوں کے ایسے شیڈز دکھاتے ہیں جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا 17۔
مرغ کا بانگ دینا محض ایک بے معنی آواز نہیں ہے، بلکہ اس کے حیاتیاتی نظام کا ایک ردِعمل ہے جو الٹرا وائلٹ فریکوئنسی میں آنے والی تبدیلیوں کو محسوس کرتا ہے 23۔ چونکہ فرشتے نورانی وجود رکھتے ہیں اور ان کی فریکوئنسی الٹرا وائلٹ رینج میں واقع ہو سکتی ہے، اس لیے مرغ انہیں دیکھ کر آواز نکالتا ہے 20۔ شریعت نے اس وقت دعا کی ترغیب اس لیے دی ہے کہ فرشتوں کی موجودگی میں رحمتِ الٰہی کا نزول ہوتا ہے اور دعاؤں کی قبولیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں 20۔
مرغ کی بصری صلاحیتوں کا انسانی آنکھ سے موازنہ درج ذیل ہے:
خصوصیت انسانی آنکھ مرغ کی آنکھ
بصری خلیات (Cones) 3 اقسام 4 اقسام
الٹرا وائلٹ حساسیت نہیں ہاں (UV-A)
بصری فیلڈ 180 ڈگری 300 ڈگری
رنگوں کا تنوع محدود (Trichromatic) وسیع (Tetrachromatic)
حرکت کا ادراک نارمل انتہائی تیز (Double Cones کی وجہ سے)
گدھے اور شیاطین کا مشاہدہ: انفراریڈ اور تھرمل بصارت
حدیثِ نبوی کے مطابق: “جب تم گدھے کے رینگنے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے” 15۔ اس حدیث کی سائنسی توضیح جنات کی تخلیقی بنیاد “آگ” (Heat/Energy) میں تلاش کی جا سکتی ہے۔ شیاطین، جو کہ سرکش جنات ہیں، اپنی فطرت میں حرارتی توانائی کے حامل ہوتے ہیں، اور یہ توانائی انفراریڈ (Infrared) شعاعوں کی شکل میں خارج ہوتی ہے 13۔
گدھے کا بصری نظام انسانوں سے مختلف ہے اور اس میں رات کے وقت دیکھنے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے 25۔ گدھے کی آنکھ میں راڈ ٹشوز (Rod Tissues) کی تعداد انسانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اندھیرے میں بھی باریک ترین سائے اور حرارتی لہروں کو محسوس کر سکتا ہے 25۔
ڈاکٹر ہشام احمد طاہا کی تحقیق
مصری طبیب ڈاکٹر ہشام احمد طاہا کی تحقیق کے مطابق، گدھا اور کتا ان جانوروں کی فہرست میں شامل ہیں جو انفراریڈ شعاعوں کو دیکھ سکتے ہیں 15۔ انفراریڈ لہریں 750 نینو میٹر سے لے کر 1 ملی میٹر تک کے طولِ موج پر مشتمل ہوتی ہیں 15۔ چونکہ شیاطین کی مادی بنیاد حرارت ہے، اس لیے ان کی موجودگی سے اردگرد کے ماحول میں انفراریڈ لہروں کا ارتکاز بڑھ جاتا ہے 13۔ گدھا ان لہروں کو دیکھ کر خوفزدہ ہوتا ہے اور بے چینی میں آواز نکالتا ہے 15۔
اس لمحے اللہ کی پناہ مانگنا اس لیے ضروری ہے کہ شیطان کا مشاہدہ انسان کے لیے پریشانی یا برے اثرات کا باعث بن سکتا ہے 15۔ سائنسی طور پر یہ بھی ثابت ہے کہ گدھے کی آنکھیں “مونو ویژن” اور “بائی نوکولر ویژن” دونوں کا امتزاج ہیں، جس کی وجہ سے وہ بیک وقت مختلف سمتوں میں حرکات کو بھانپ لیتا ہے 16۔
گدھے اور گھوڑے کے بصری نظام کی اہم خصوصیات درج ذیل جدول میں دیکھی جا سکتی ہیں:
عنصر انسانی نظام گدھے کا نظام
راڈز اور کونز کا تناسب 9:1 20:1
انفراریڈ حساسیت محدود (صرف مخصوص حالات میں) زیادہ (ثابت شدہ تھرمل حساسیت)
رات کی بصارت کمزور انتہائی طاقتور (Scoptopic Vision)
رنگوں کی پہچان 3 بنیادی رنگ 2 رنگ (بلیو اور یلو-گرین)
حرکت کا سراغ اوسط انتہائی حساس (تیز رفتار ردِعمل)
بصارت کا پردہ اور “برزخ” کی مابعد الطبیعیاتی حکمت
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کیا ہے، اور اس کے لیے ایک مخصوص ماحول فراہم کیا ہے 1۔ اگر انسان کے لیے نادیدہ دنیا کے تمام پردے اٹھا دیے جاتے، تو اس کی زندگی ایک مسلسل اضطراب اور خوف کا شکار ہو جاتی 18۔ سورہ اعراف کی آیت 27 میں بیان کیا گیا ہے کہ شیطان اور اس کا قبیلہ ہمیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے 7۔ یہ ایک طرفہ بصارت (Asymmetrical Vision) انسان کے لیے ایک امتحان بھی ہے اور تحفظ بھی 1۔
شرعی اعتبار سے، یہ “حجاب” یا پردہ اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے 18۔ اگر ہمیں ہر وقت اپنے گرد موجود لاکھوں جنات اور فرشتے نظر آتے، تو انسانی حواس اس بوجھ کو برداشت نہ کر سکتے 18۔ حیاتیاتی طور پر، یہ حجاب ہمارے ریٹینا کی لہروں کو جذب کرنے کی محدود صلاحیت کے طور پر ظاہر ہوتا ہے 13۔ صوفیاء اور علماء کے نزدیک، جب انسان ذکر و اذکار اور روحانی صفائی کے ذریعے “احسان” کے درجے پر فائز ہوتا ہے، تو بعض اوقات اس کے لیے بصارت کے یہ پردے لطیف ہو جاتے ہیں، اور وہ ان حقائق کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے جنہیں عام انسان نہیں دیکھ سکتے 19۔
ٹو-فوٹون وژن (Two-Photon Vision) کا سائنسی نظریہ
جدید سائنس نے ایک حیرت انگیز دریافت یہ کی ہے کہ انسانی آنکھ، اگرچہ براہِ راست انفراریڈ کو نہیں دیکھ سکتی، لیکن خاص حالات میں جب انفراریڈ لیزر کے دو فوٹونز ایک ساتھ ریٹینا کے پگمنٹ سے ٹکراتے ہیں، تو آنکھ کو “روشنی” کا احساس ہوتا ہے 12۔ اسے “ٹو-فوٹون وژن” کہا جاتا ہے 12۔ یہ سائنسی حقیقت اس بات کا امکان ظاہر کرتی ہے کہ اگر کسی نادیدہ وجود (جیسے جن) کی توانائی کی شدت بہت زیادہ ہو جائے، تو وہ انسانی آنکھ کے بصری نظام میں ایک لمحاتی ردِعمل پیدا کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کو کوئی سایہ یا روشنی نظر آتی ہے 13۔
جنات اور انسانی بصارت کے درمیان سائنسی و شرعی تطبیق
جنات کا انسانی آنکھ سے اوجھل ہونا ان کی مادی ساخت (آگ/توانائی) اور انسان کی بصری حدود (محدود طیف) کا لازمی نتیجہ ہے 7۔ شریعت نے ہمیں ان نادیدہ مخلوقات سے ڈرنے کے بجائے اللہ کی پناہ میں آنے کی تعلیم دی ہے 9۔ جنات کے بارے میں مختلف افکار پائے جاتے ہیں، لیکن معتبر رائے یہی ہے کہ وہ ایک مستقل مخلوق ہیں جن کا اپنا ایک جہان ہے 4۔
مرغ کا فرشتوں کو دیکھنا اور گدھے کا شیطان کو دیکھنا اب محض “عقیدہ” نہیں رہا، بلکہ جدید بصریات اور بائیو فزکس کے اصولوں کے عین مطابق ہے 15۔ جانوروں کے بصری نظام کی وسعت (Ultraviolet اور Infrared sensitivity) ثابت کرتی ہے کہ کائنات کا ایک بہت بڑا حصہ وہ ہے جسے ہم دیکھ نہیں سکتے لیکن دوسرے جاندار اسے دیکھ رہے ہیں 15۔
جامع تقابلی جائزہ
درج ذیل جدول میں جنات، فرشتوں اور انسانی بصارت کے فرق کو جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے:
مخلوق مادہِ تخلیق بصری طیف (فرضی) انسانی تعلق حیوانی مشاہدہ
انسان مٹی (مادہ) 400 – 700 nm مرئی اور ٹھوس عام مشاہدہ
جنات آگ (توانائی) انفراریڈ رینج غیر مرئی (پردہ) گدھا، کتا
فرشتے نور (روشنی) الٹرا وائلٹ رینج غیر مرئی (حجاب) مرغ
مستقبل کے تناظر اور سائنسی امکانات
جیسے جیسے سائنس ترقی کر رہی ہے، نادیدہ دنیا کے اسرار کھلتے جا رہے ہیں۔ آج ہم نائٹ ویژن گوگلز (Night Vision Goggles) اور تھرمل کیمروں کے ذریعے وہ دنیا دیکھ سکتے ہیں جو گدھے اور کتے کو نظر آتی ہے 11۔ الٹرا وائلٹ کیمروں کے ذریعے ہم وہ دنیا دیکھ سکتے ہیں جو مرغ کو نظر آتی ہے 17۔ یہ ایجادات دراصل ان احادیث کی عملی سائنسی تصدیق ہیں جو چودہ سو سال پہلے بیان کی گئی تھیں 15۔
مستقبل میں شاید ایسی ٹیکنالوجی عام ہو جائے جو انسانی بصارت کو انفراریڈ اور الٹرا وائلٹ طیف تک پھیلا دے، لیکن اس کے باوجود مابعد الطبیعیاتی وجود کی حقیقت اپنی جگہ قائم رہے گی، کیونکہ روح اور نورانی لطافت کے تمام پہلو صرف طبیعیاتی قوانین کے محتاج نہیں ہیں 18۔ انسان کے لیے اصل کامیابی اس نادیدہ دنیا کے مشاہدے میں نہیں، بلکہ اس غیب کے رب پر ایمان لانے اور اس کی مخلوقات کے شر سے پناہ مانگنے میں ہے 1۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جنات اور فرشتوں کا وجود ایک مسلمہ حقیقت ہے جس کی جڑیں قرآن و سنت میں پیوست ہیں 4۔ انسانی بصارت کی محدودیت اللہ کی حکمت ہے، جبکہ مخصوص جانوروں کی غیر معمولی بصارت اس کائنات کی وسعت اور تنوع کا ثبوت ہے 15۔ سائنس اور دین کا یہ سنگم ہمیں اس عظیم خالق کی طرف لے جاتا ہے جس نے کائنات کی ہر شے کو ایک تناسب اور ترتیب کے ساتھ پیدا کیا ہے 2۔

Related Articles

Leave a Comment

Contact Now

Get New Updates to Take Care Your Pet

Discover the art of creating a joyful and nurturing environment for your beloved pet.

Will be used in accordance with our  Privacy Policy

@2025 – All Right Reserved. Designed and Developed by Dilshad Bhai