
طبِ قدیم اور جدید تحقیقات کا سنگم
قانون مفرد اعضاء کی روشنی میں اعضائے رئیسہ
(دل، دماغ، جگر) کے مزاج، افعال اور علاج کا انسائیکلوپیڈیا
مصنف: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
موضوع: تشخیصی و معالجاتی گائیڈ (قانون مفرد اعضاء)
مقدمہ: تخلیق انسانی اور توازنِ صحت کا فلسفہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم۔
انسانی وجود کائنات کا وہ سربستہ راز ہے جس کی تفہیم کے لیے صدیاں بیت گئیں لیکن آج بھی عقلِ انسانی اس کے مکمل ادراک سے قاصر ہے۔ تاہم، طبِ قدیم اور بالخصوص ہمارے اسلاف نے، جنہیں آسمانی ہدایت اور نبوی علوم کی روشنی میسر تھی، انسانی جسم کو محض گوشت پوست کا مجموعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک چھوٹی کائنات (Microcosm) قرار دیا۔ اس کائنات کا نظام اللہ رب العزت نے تین بنیادی ستونوں پر استوار کیا ہے، جنہیں ہم اعضائے رئیسہ کہتے ہیں: دل، دماغ اور جگر۔
بحیثیت ایک خادمِ طب اور طالب علم، جب میں اپنی تصنیفات جیسے “تحریک، امراض اور علاج” 1 میں ان حقائق کو قلمبند کرتا ہوں، تو میرا مقصد محض نسخہ نویسی نہیں ہوتا بلکہ اس فلسفے کو اجاگر کرنا ہوتا ہے جو بیماری کی جڑ تک پہنچتا ہے۔ آج کی اس تفصیلی تحریر میں، جو کہ ایک طویل تحقیق کا نچوڑ ہے، ہم ان تینوں اعضاء کے مزاج، ان کے افعال (فوائد)، اور ان سے وابستہ امراض کا ایسا گہرا تجزیہ پیش کریں گے جو نہ صرف طبیبوں کے لیے مشعلِ راہ ہو بلکہ عام آدمی بھی اپنی صحت کا خود محافظ بن سکے۔
صحت کیا ہے؟ صحت دراصل اعتدال کا نام ہے۔ ہمارے جسم میں تین طرح کی کیفیات ہر وقت برسرپیکار رہتی ہیں: حرارت، رطوبت اور خشکی۔ جب تک یہ تینوں اپنے مرکز پر قائم رہیں، انسان تندرست رہتا ہے۔ جب ان میں سے کوئی ایک حد سے بڑھ جائے (جسے ہم اپنی اصطلاح میں “تحریک” کہتے ہیں) تو باقی دو متاثر ہوتی ہیں، ایک میں تسکین (Sensation loss/weakness) اور دوسرے میں تحلیل (Dissolution) واقع ہوتی ہے۔ یہی بیماری کا نقطہ آغاز ہے۔

آئیے اب ان تینوں اعضاء کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ فطرت نے ان میں کیا راز پنہاں رکھے ہیں۔
باب اول: دماغ اور اعصاب (The Brain & Nervous System) – مرکزِ رطوبت و شعور
دماغ انسانی جسم کا بادشاہ ہے، لیکن یہ بادشاہ اپنی رعایا (جسم) پر حکومت کرنے کے لیے “اعصاب” (Nerves) کا محتاج ہے۔ طب یونانی میں دماغ کو “اعصابی نظام” کا مرکز مانا جاتا ہے۔
1. دماغ کا مزاج (Temperament of the Brain)
دماغ کا فطری مزاج “سرد تر” (Cold and Moist) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ٹھنڈا اور تر اس لیے بنایا تاکہ یہ متواتر کام کرنے کے باوجود تھکے نہیں اور جسم سے اٹھنے والے بخارات اور حرارت کو جذب کر سکے۔ اس کا تعلق کائنات کے عنصر “پانی” سے ہے۔
- کیفیت: تری (رطوبت) اور سردی۔
- خلط: بلغم (Phlegm)۔
- ذائقہ: پھیکا۔
2. دماغ کے فوائد اور افعال (Functions & Benefits)
دماغ کے وجود کے بغیر انسانی زندگی محض ایک نباتاتی (Vegetative) وجود رہ جاتی ہے۔ اس کے چند اہم فوائد درج ذیل ہیں:
- احساس اور شعور: یہ حواسِ خمسہ (دیکھنا، سننا، سونگھنا، چکھنا، چھونا) کا مرکز ہے۔
- رطوبت کی فراہمی: یہ جسم کے تمام جوڑوں اور اعضاء کو رطوبت (Lubrication) فراہم کرتا ہے تاکہ رگڑ پیدا نہ ہو۔
- تحفظ: یہ جسم میں آنے والی خشکی اور گرمی کا مقابلہ اپنی تری سے کرتا ہے۔
- نیند اور سکون: گہری نیند اور ذہنی سکون دماغ کی رطوبت کے مرہونِ منت ہے۔
3. امراض اور علامات (Diseases & Symptoms)
جب دماغ میں “تحریک” پیدا ہوتی ہے (یعنی اس کی اپنی رطوبت اور سردی حد سے بڑھ جاتی ہے)، تو جسم میں “اعصابی تحریک” جنم لیتی ہے۔ اس کی علامات انتہائی واضح ہوتی ہیں، جیسا کہ ہماری کلینیکل پریکٹس اور دستیاب تحقیقی مواد 2 میں مشاہدہ کیا گیا ہے:
- خوف اور دہشت (Fear and Terror): دماغی رطوبت کی زیادتی انسان کو بزدل بنا دیتی ہے۔ مریض ہر وقت خوفزدہ رہتا ہے۔ تحقیق 2 میں واضح کیا گیا ہے کہ “خوف اور دہشت دل اور دماغ پر مسلط ہو جاتی ہے”۔ یہ خوف محض خیالی نہیں ہوتا بلکہ مریض سوتے میں بھی ڈراؤنے خواب دیکھتا ہے۔
- خوابوں کی حقیقت: جیسا کہ حوالہ 2 میں درج ہے، جو کچھ مریض خواب میں دیکھتا ہے، وہی بیداری میں بھی محسوس ہوتا ہے۔ یہ اعصابی کمزوری کی انتہا ہے کہ انسان کا لاشعور اس پر حاوی ہو جاتا ہے۔
- زیادہ نیند اور سستی: جسم میں نقاہت، کام کاج کو دل نہ کرنا۔
- حافظہ کی کمزوری: جیسا کہ ایک کیس اسٹڈی 2 میں دیکھا گیا، مریض کا ذہن اتنا کمزور ہو جاتا ہے کہ وہ لکھنا پڑھنا بھول جاتا ہے اور کوئی چیز یاد نہیں رہتی۔ یہ دماغ میں رطوبت کے جم جانے (Inertia) کی علامت ہے۔
- پیشاب کی کثرت: چونکہ جسم میں پانی (تری) زیادہ ہے، اس لیے گردے بار بار سفید رنگ کا پیشاب خارج کرتے ہیں۔
4. اعصابی مریض کے لیے مناسب غذائیں اور علاج
ایسے مریض جن کا مزاج ٹھنڈا پڑ چکا ہو، انہیں ایسی چیزیں درکار ہیں جو جسم میں “خشکی” اور “حرارت” پیدا کریں۔
اصول: “علاج بالضد” – سردی کا علاج گرمی سے، اور تری کا علاج خشکی سے۔
| غذائی گروپ | مناسب غذائیں (تجویز کردہ) | پرہیز (ممنوعہ) | وجہ/حکمت |
| گوشت | بڑا گوشت (گائے/بھینس)، مچھلی (فرائی)، پرندوں کا گوشت | بکرے کا گوشت (شوربے والا) | بڑا گوشت عضلات (دل) کو طاقت دیتا ہے جو دماغ کی تری کو خشک کرتا ہے۔ |
| سبزیاں | کریلے، بینگن، میتھی، چنے کی دال، پالک، سرسوں کا ساگ | کدو، ٹینڈے، بھینڈی، عربی | کریلے اور میتھی میں خشکی ہے جو اعصابی رطوبت کو جذب کرتی ہے۔ |
| پھل | جاپانی پھل، آڑو، منقہ، خشک کھجور، انجیر | تربوز، گرما، کیلا، ناشپاتی | کھجور اور انجیر جسم کو حرارت مہیا کرتے ہیں۔ |
| مشروبات | لونگ اور دارچینی کا قہوہ، چائے (تیز پتی) | دودھ، لسی، شربت، ٹھنڈا پانی | لونگ اعصاب میں تحریک پیدا کرنے کی بجائے عضلات کو متحرک کرتا ہے۔ |
باب دوم: دل اور عضلات (The Heart & Muscular System) – مرکزِ حرکت و قوت
دل صرف خون پمپ کرنے والی مشین نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی ارادے، عزم اور حرکت کا مظہر ہے۔ طبِ یونانی میں دل کا تعلق “نظامِ عضلات” (Muscular System) سے ہے۔
1. دل کا مزاج (Temperament of the Heart)
دل کا مزاج “خشک گرم” (Dry and Hot) ہے۔ اس کا بنیادی عنصر “خشکی” ہے جو “مٹی” سے مناسبت رکھتا ہے۔ خشکی ہی چیزوں کو جوڑے رکھتی ہے اور ان میں سختی پیدا کرتی ہے۔
- کیفیت: خشکی اور گرمی۔
- خلط: سودا (Black Bile)۔
- ذائقہ: ترش (کھٹا)۔
2. دل کے فوائد اور افعال
- حرکت: جسم کی تمام حرکات (چلنا، پھرنا، پکڑنا) عضلات کے کھنچاؤ اور پھیلائو سے ہوتی ہیں، جس کا مرکز دل ہے۔
- دلیری اور بہادری: ایک مضبوط دل والا انسان نڈر ہوتا ہے۔
- خون کی گردش: یہ روحِ حیوانی کو پورے بدن میں پہنچاتا ہے۔
- مدافعت: جسم کی سختی اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت عضلاتی نظام کی مضبوطی پر منحصر ہے۔
3. امراض اور علامات
جب دل میں غیر معمولی “تحریک” (خشکی) بڑھ جائے، تو جسم “عضلاتی مزاج” کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کی علامات انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہیں:
- درد اور کڑول: خشکی کی وجہ سے پٹھے کھنچ جاتے ہیں اور جسم دکھتا ہے۔
- خفقان (Palpitation): دل کا ڈوبنا یا بہت تیز دھڑکنا۔
- جوڑوں کا درد: تحقیق 2 میں ایک اہم کیس کا ذکر ہے جہاں جگر کے علاج کے بعد مریض کے ٹخنوں میں شدید درد شروع ہو گیا۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ مرض “گرمی” (جگر) سے نکل کر “خشکی” (دل/عضلات) میں منتقل ہو گیا۔ جب جسم میں خشکی بڑھتی ہے تو جوڑوں کے درمیان موجود رطوبت خشک ہو جاتی ہے اور ہڈیاں رگڑ کھاتی ہیں۔
- قبض: آنتوں میں خشکی کی وجہ سے فضلہ خارج نہیں ہوتا۔
- نفسیاتی اثرات: وہم، وسوسے، اور ہر وقت اپنی بیماری کے بارے میں سوچنا۔
4. عضلاتی مریض کے لیے مناسب غذائیں اور علاج
دل کے مریض (خشکی والے) کو ایسی غذا چاہیے جو “حرارت” کے ساتھ “چکنائی” بھی مہیا کرے تاکہ خشکی ختم ہو سکے۔
اصول: خشکی کا توڑ “حرارت” اور “رطوبت” ہے۔
- بہترین دوا: دیسی گھی، ادرک، اور اجوائن۔
- مناسب غذائیں:
- گوشت: بکرے کا گوشت (شوربے والا)، دیسی مرغی، بٹیر، تیتری۔
- سبزیاں: کدو (گوشت میں پکا ہوا)، شلجم (زرد)، ادرک، لہسن، پودینہ۔
- میوہ جات: اخروٹ، بادام، پستہ (یہ تیل سے بھرپور ہوتے ہیں)۔
- پھل: آم، خربوزہ، گرما، پپیتا، انگور شیریں، شہتوت۔
- خاص نسخہ: اجوائن اور پودینہ کا قہوہ دن میں تین بار استعمال کریں۔ یہ پیٹ کی گیس خارج کرتا ہے اور دل کا بوجھ ہلکا کرتا ہے۔
باب سوم: جگر اور غدد (The Liver & Glandular System) – مرکزِ حرارت و تغذیہ
جگر انسانی بدن کا باورچی خانہ (Kitchen) ہے۔ ہم جو کچھ کھاتے ہیں، اسے جزوِ بدن بنانا جگر کا کام ہے۔ یہ “نظامِ غدد” (Glands) کا بادشاہ ہے۔
1. جگر کا مزاج (Temperament of the Liver)
جگر کا مزاج “گرم خشک” (Hot and Dry) ہے۔ اس میں “حرارت” کا غلبہ ہوتا ہے۔ اس کا تعلق عنصر “آگ” سے ہے۔ آگ ہی چیزوں کو پکاتی ہے، اسی طرح جگر غذا کو پکا کر خون بناتا ہے۔
- کیفیت: گرمی اور خشکی۔
- خلط: صفرا (Yellow Bile)۔
- ذائقہ: نمکین اور چرپرا۔
2. جگر کے فوائد اور افعال
- خون کی پیدائش: صالح خون پیدا کرنا جگر کا بنیادی فعل ہے۔
- حرارتِ غریزی: جسم کو گرم رکھنا، تاکہ زندگی کا پہیہ چلتا رہے۔
- ہاضمہ: صفرا پیدا کرنا جو چکنائی کو ہضم کرتا ہے۔
- جرات اور غصہ: جذباتی سطح پر جگر “غصہ” (Aggression) کا ذمہ دار ہے، جو دفاع کے لیے ضروری ہے۔
3. امراض اور علامات
جگر کے امراض آج کل بہت عام ہیں۔ جب جگر میں “تحریک” (سوزش) ہو جائے تو جسم بھٹی کی طرح تپنے لگتا ہے۔ دستیاب تحقیقی مواد 2 میں اس کی بہترین عکاسی ملتی ہے:
- شدید غصہ اور چڑچڑا پن: جیسا کہ کیس اسٹڈی میں بتایا گیا، مریض “بے حد غصہ” کرتا ہے، “چڑچڑا پن” بہت زیادہ ہوتا ہے، اور “ہنستا بالکل نہیں” 2۔ یہ جگر کی شدید گرمی (صفرا کی زیادتی) کی علامت ہے جو دماغ تک پہنچ کر اسے متاثر کر رہی ہے۔
- ورم اور سوزش (Inflammation): جگر کا اپنی جسامت سے بڑھ جانا۔ تحقیق میں ذکر ہے کہ “بھائی کے جگر پر ورم آ گیا تھا” 2۔
- یرقان (Jaundice): آنکھوں اور پیشاب کا پیلا زرد ہونا۔
- ہاتھ پاؤں کی جلن: مریض کو لگتا ہے جیسے جسم سے آگ نکل رہی ہے۔
- بلڈ پریشر: جگر کی گرمی سے خون میں جوش پیدا ہوتا ہے جس سے بلڈ پریشر ہائی ہوتا ہے۔
4. جگر کے مریض کے لیے مناسب غذائیں اور علاج
جگر کے مریض (گرمی والے) کو “ٹھنڈک” اور “تری” کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ گرم چیزیں ان کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔
اصول: گرمی کا توڑ “سردی” ہے۔
- مناسب غذائیں:
- سبزیاں: کدو، توری، ٹینڈے، پیٹھا، مولی، گاجر، کھیرا، سلاد کے پتے۔
- پھل: تربوز (بہترین علاج)، انار، ناشپاتی، کینو، مالٹا، گنے کا رس (قدرتی ڈرپ)۔
- مشروبات: کچی لسی (دودھ اور پانی)، دودھ سوڈا، شربتِ صندل، شربتِ بزوری، شربتِ الائچی۔
- دوا: سونف، الائچی اور زیرہ سفید کا قہوہ۔
- سخت پرہیز: انڈا، مچھلی، بڑا گوشت، کریلا، بینگن، پکوڑے، سموسے، اور تمام تلی ہوئی اشیاء۔ لال مرچ کا استعمال بند کر دیں۔

باب چہارم: کلینیکل مشاہدات اور “مادے کی منتقلی” کا نظریہ (Case Study Analysis)
طب کی دنیا میں صرف کتابی علم کافی نہیں، بلکہ کلینیکل مشاہدہ اصل کسوٹی ہے۔ ہمیں دستیاب دستاویزات میں ایک انتہائی دلچسپ اور پیچیدہ کیس 2 ملتا ہے جو “قانون مفرد اعضاء” کی صداقت پر مہر ثبت کرتا ہے۔ اس کیس کا گہرا تجزیہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ بیماری جسم میں سفر کیسے کرتی ہے۔
کیس کی تفصیل:
ایک مریض کے جگر پر ورم (Liver Inflammation) تھا، جو بظاہر ٹھیک ہوگیا۔ لیکن اس کے دو یا تین سال بعد اس کے جسم کے ٹخنوں کی ہڈیوں میں درد شروع ہوگیا، جو لاعلاج محسوس ہونے لگا۔ اس کے ساتھ ہی مریض کا ذہن کمزور ہوگیا، بھولنے کی بیماری لاحق ہوگئی، اور غصہ و چڑچڑا پن بڑھ گیا 2۔
حکیمانہ تجزیہ (Physiological Interpretation):
یہ کیس اس بات کی بہترین مثال ہے کہ ہم انسانی جسم کو الگ الگ حصوں میں نہیں بانٹ سکتے۔
- مرحلہ اول: جگر کا ورم (The Stage of Heat):
ابتدا میں مریض “غدی تحریک” (Heat/Inflammation) کا شکار تھا۔ جگر سوزش زدہ تھا۔ اس کا علاج غالباً تسکین (Sedation) یا ٹھنڈی ادویات سے کیا گیا۔ جب سوزش کم ہوئی تو علامت غائب ہو گئی، لیکن کیا مادہ (Matter) ختم ہوا؟ نہیں۔ - مرحلہ دوم: ٹخنوں کا درد (The Shift to Dryness):
قانونِ فطرت ہے کہ جب حرارت (Heat) کم ہوتی ہے اور رطوبت (Moisture) نہ دی جائے، تو وہاں خشکی (Dryness) پیدا ہوتی ہے۔ جگر کے ورم کے دبنے سے جو فاسد مادہ خون میں موجود تھا، وہ “عضلات” (Muscular System) کی طرف منتقل ہوگیا۔ ٹخنے اور جوڑ “عضلات” کے زیرِ اثر آتے ہیں۔ وہاں خشکی اور تیزابیت (Uric Acid type matter) جمنے لگی، جس نے شدید درد کی شکل اختیار کر لی۔ یہ درد اس بات کا اعلان ہے کہ اب مریض “عضلاتی تحریک” میں مبتلا ہے۔ - مرحلہ سوم: ذہنی زوال (The Impact on Brain):
مریض کا ذہن کمزور ہونا اور بھول جانا اس بات کی علامت ہے کہ دماغ کو “خونِ صالح” نہیں مل رہا۔ چونکہ جگر (خون بنانے والا) پہلے ہی کمزور تھا اور اب دل/عضلات (خون پہنچانے والے) خشکی کی وجہ سے سکڑ گئے ہیں، لہٰذا دماغ “تغذیہ کی کمی” (Malnutrition of neurons) کا شکار ہے۔ غصہ اور چڑچڑا پن اس بات کی گواہی ہے کہ “صفرا” (Bile) کی تیزی ابھی بھی کہیں نہ کہیں موجود ہے جو اعصاب کو جلا رہی ہے۔

علاج کی حکمت عملی (Suggested Treatment Strategy):
اس پیچیدہ صورتحال میں، ایک اناڑی طبیب صرف درد کی گولیاں دے گا جو معدہ کو مزید خشک اور دماغ کو مزید سن کر دیں گی۔ لیکن ایک ماہر طبیب کی نظر “جگر کی بحالی” پر ہوگی۔
- تجویز: اس مریض کو “غدی اعصابی” (Glandi-Asabi) یعنی گرم تر دوائیں اور غذائیں دی جائیں۔
- وجہ: “حرارت” جگر کو فعال کرے گی اور “تری” (رطوبت) اس خشکی کو تحلیل کرے گی جو جوڑوں میں جمی ہوئی ہے۔ جب خشکی پگھلے گی تو درد ختم ہوگا، اور جب نیا اور صاف خون بنے گا تو دماغ کی یادداشت واپس آئے گی۔
- غذا: ادرک کا قہوہ (شہد ملا کر)، دیسی مرغ کی یخنی، خربوزہ، اور انجیر۔
باب پنجم: علم و ادب اور طب کا باہمی تعلق
میری دیگر تحریروں، جیسا کہ “علامہ اقبال کا نظریہ شعر و ادب” اور “کشمیر کی سیاسی بیداری” 3، میں بھی یہی پیغام پنہاں ہے کہ ایک بیدار مغز اور صحت مند جسم ہی ایک بیدار قوم کی ضمانت ہے۔ علامہ اقبالؒ کے کلام میں جن اصطلاحات کا ذکر ہے (جیسے صوفی، فقیہہ، مردِ مومن)، ان کا تعلق بھی بالواسطہ انسانی نفسیات اور مزاج سے ہے۔
اقبالؒ کا “مردِ مومن” وہ ہے جس کا دل قوی ہو (عضلاتی مضبوطی)، جس کا جگر حرارتِ ایمانی سے سرشار ہو (غدی فعالیت)، اور جس کا دماغ حکمت و دانش کا گہوارہ ہو (اعصابی اعتدال)۔ جب ان تینوں میں توازن ہوتا ہے تو “خودی” تعمیر ہوتی ہے۔ بیماری صرف جراثیم کا نام نہیں، بلکہ اس توازن کے بگڑنے کا نام ہے جو انسان کو اس کے اصل مقصد (عبادت اور خلافت) سے دور کر دیتی ہے۔ خوف (جو اعصابی کمزوری ہے) انسان کو غلام بناتا ہے، جبکہ جنون (جو غدی حرارت ہے) انسان کو فاتح بناتا ہے۔ لہٰذا، طبِ نبوی اور قانون مفرد اعضاء کا مقصد انسان کو اس کے شرفِ تخلیق تک واپس لانا ہے۔
خاتمہ: صحت کا سنہری اصول
میرے عزیز قارئین! ان تمام تفصیلات کا نچوڑ یہ ہے کہ آپ اپنی صحت کے خود طبیب بنیں۔ اپنے جسم کی زبان سمجھیں۔
- اگر آپ کو ٹھنڈک، سستی اور ڈر محسوس ہو، تو جان لیں کہ آپ کا دماغ حد سے زیادہ کام کر رہا ہے اور جگر سویا ہوا ہے۔ فوراً گرم اور خشک غذائیں (لونگ، گوشت) شروع کریں۔
- اگر آپ کو جلن، غصہ اور ہائی بلڈ پریشر ہو، تو سمجھ جائیں کہ آپ کا جگر آگ اگل رہا ہے۔ اسے ٹھنڈی سبزیوں (کدو، کھیرا) اور شربتوں سے بجھائیں۔
- اگر آپ کو گیس، قبض اور جوڑوں کا درد ہو، تو یہ دل/عضلات کی خشکی کا شور ہے۔ اسے دیسی گھی، ادرک اور چکنائی سے نرم کریں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور ہمیں دین و دنیا کی بھلائیاں سمیٹنے کی توفیق دے۔ یہ حقیر کوشش ان تمام دکھی انسانیت کے لیے ہے جو پیچیدہ علاجوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ شفاء منجانب اللہ ہے۔
وما علینا الا البلاغ المبین
قلمکار:
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
(محقق قانون مفرد اعضاء و طبِ یونانی) 1
Works cited
- Unanipedia, accessed on January 17, 2026, https://www.unanipedia.org/
- Roohani Daak (1) – KSARS, accessed on January 17, 2026, https://www.ksars.org/filemanager/files/shares/roohani_daak_1_roman.pdf
- پروفیسر محمد یونس میو, accessed on January 17, 2026, https://alsharia.org/younas-mew